Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13
” نہیں کیا کرلیں گے آپ بتائیں مجھے…..!!!!” مونا غراتی ہوئی بولی تھی
” تم اپنا منہ بند رکھو تو زیادہ بہتر ہوگا ….ورنہ ” جاذب نے با مشکل اپنے آپ کو کنٹرول کیا تھا
” کیا ہوگیا ہے میر جاذب…..کیوں گھر کا ماحول خراب کرنے پہ تلے ہوئے ہو ….سیال کا دل تھا تو بسا لیا…دل بھر گیا تو اتار دیا”
نغمہ بیگم کو شدید غصہ آیا تھا
جاذب سر جھٹکتے ہوئے چلے گئے تھے جو کرنا تھا انہوں نے خود ہی کرنا تھا
” نغمہ….سیال نے بہت جلدی کی” میر برفت کچھ سوچ کے بولے تھے
” اسے کیا معلوم تھا اور اس گھنی نے بھی تو پتہ نہیں لگنے دیا “
نغمہ بیگم کوفت سے بولیں انہیں سیال کے بچے سے کوئی دلچسپی نہ تھی
“ہم پتہ کرواتے ہیں سمعیہ کہاں ہے ہمیں اپنا وارث چاہئیے”
میر برفت اٹل انداز میں کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے تھے
اپنے خاندان کے وارث کو وہ یوں نہیں چھوڑ سکتے تھے
_____________________________________
” سمعیہ….کیسی ہو”
جاذب نے اس کی فائل بند کرتے ہوئے کہا
ایک ہفتہ ہوگیا تھا سمعیہ اسپتال میں ہی تھی اس نے اپنے گھر بتانے سے منع کیا تھا اور اسکی حالت دیکھتے ہوئے جاذب بھی رک گئے تھے
” بابا….آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں”
جاذب نے بتایا
” کیوں….” سمعیہ حیران ہوئی
” انہیں اپنا وارث چاہئیے”
جاذب نے اسکے سر پہ دھماکہ کیا تھا
” نہیں یہ بچہ میرا ہے صرف میرا…..یہی میری جینے کی وجہ ہے میری زندگی کا دارومدار اسی پہ ہے”
سمعیہ کو رونا آنے لگا تھا
” تم گھبراؤ مت….ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ تم یہاں ہو”
جاذب نے اسے تسلی دی تھی
” آپ سفیر بھائی کو بلادیں مجھے یہاں نہیں رہنا….”
سمعیہ نے سوچا
” تم سب سے زیادہ محفوظ یہاں ہو….سمعیہ وہاں سے وہ تمہیں فورا ڈھونڈ نکالیں گے ….کیوں کہ انہیں معلوم ہوگا کہ اب تم وہیں جاؤگی اور تم ہو بھی عدت میں “
جاذب نے کہا تو سمعیہ کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا تھا چادر کھینچ کے اور آگے سرکا لی تھی
جاذب اس سے تھوڑی دیر کیلئے تسلی دینے کیلئے آتے تھے تو سمعیہ پردے میں ہی ان کے سامنے آتی تھی
حالات نے کہاں لا کے کھڑا کردیا تھا اسے
پھر سمعیہ یہاں مہرماہ کی ولادت تک رہی تھی سفیر کو اس نے مہرماہ کی ولادت کے بعد بلایا تھا عالیہ کے ساتھ جو سمعیہ کو یوں دیکھ کے شاکڈ رہ گیا تھا اتنے عرصے میں اسکا کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اس نے اسے
” سمعیہ…یہ سب کیا ہے …کیا ہوا”
سفیر حیران ہوا تھا
” چاند کو چھونے کی تمنا میں ہاتھ جھلس ہی جاتے ہیں بھائی میرے ساتھ بھی یہی ہوا “
سمعیہ نے دو لفظوں میں اپنی کتھا مکمل کی تھی
” میں پوچھوں گا سیال سے آخر کیوں کیا اس نے ایسا”
کیا سوچا تھا اس نے سیال کے بارے میں اور کیا نکلا وہ
” تم ہمارے پاس کیوں نہیں آئیں ….”
” گھر والے اسے ڈھونڈ رہے تھے ….انہیں اپنا وارث چاہئیے …اور اب تو جب کہ بیٹی ہے ابا کسی صورت میں اسے نہیں چھوڑیں گے کہ یہ ہمارے گھرانے کی پہلی لڑکی ہے”
میر جاذب تفصیل سے بولے تھے
” سمعیہ چلو گھر چلتے ہیں ابا اماں ویسے ہی بہت پریشان ہیں “
سفیر نے سنجیدگی سے کہا تھا اب بہن کے ساتھ بھانجی کی بھی ذمہ داری تھی
سمعیہ واپس آگئی تھی ابا اماں کو دھچکا لگا تھا اسے دیکھ کے ابا تو یہ صدمہ برداشت ہی نہ کرپائے اور اس دنیا سے رخصت ہوگئے
” مجھے معاف کردیں اماں….میں آپکے سہاگ کو بھی کھا گئی”
سمعیہ عورتوں کی باتیں سن کے نڈھال ہوکے بلک پڑی تھی
عالیہ نے اسے اپنی شفیق بانہوں میں لے لیا تھا سمعیہ کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی
عالیہ ہی اب ننھی مہرماہ کو سنبھالتی تھی یہ نام میر جاذب نے بہت پیار سے رکھا تھا جسے سمعیہ نے قبول کرلیا تھا
انس کو تو جیسے کھیلنے کیلئے ننھی گڑیا مل گئی تھی مہر ماہ کی پیدائش کے دو ماہ بعد نیہا کی پیدائش ہوئی تھی تب بھی انس کے لگاؤ میں کوئی کمی نہیں آئی تھی وہ اسے اٹھاتا فیڈر پلانے کی کوشش کرتا اور جب مہرماہ روتی تو بے چین ہو کے اسے چپ کرانے کی کوشش کرتا تھا
_____________________________________
” میر صاحب….جاذب صاحب کو سب خبر ہے وہ آپکی بہو کے گھر جاتے رہیں ہیں”
انکے مخبر نے اطلاع کی تھی نہ جانے کہاں میر جاذب سے چوک ہوگئی تھی
” لیکن انہیں تو خود علم نہیں تھا ….” میر برفت حیران ہوئے تھے
” میر جاذب سب جانتے ہیں”
اندر آتے میر جاذب چونک گئے تھے وہی ہوا جس کا ڈر تھا اس سے پہلے کہ میر برفت وہاں پہنچتے میر جاذب سفیر کے پاس پہنچ گئے تھے
” اگر تم چاہتے ہو مہرماہ سمعیہ کے پاس رہے تو اسے یہاں سے لے جاؤ کہیں دور”
“مگر اچانک کہاں جائیں….”
سفیر پریشان ہوئے تھے
” سنو سفیر ….اس سے پہلے کے مہرماہ کے ساتھ ساتھ تمہارے بچے بھی تم سے چھن جائیں ….یہاں سے جاؤ ایسا کرو کینیڈا کے ویزے مل رہے ہیں وہاں چلے جاؤ”
جاذب نے مشورہ دیا
” مگر اس میں بھی وقت لگے گا….اور پوری فیملی کو میں کیسے لے جاسکتا ہوں”
سفیر نے کہا
” ایک کام کرو….یہاں سے کراچی نکل جاؤ وہ ویسے بھی انسانوں کا جنگل ہے اور یہاں سب سے کہہ دو کہ تم کینیڈا جا رہے ہو ریسرچ کیلئے…میں بھی بابا جان سے یہی کہوں گا وہ تمہیں وہاں ہی ڈھونڈتے رہیں گے “
میر جاذب کو یہی آئیڈیا بہتر لگا تھا
سفیر بھی متفق ہوگیا تھا بہن کیلئے وہ سب ہرسکتا تھا اسلئے سب کو اس نے کینیڈا کا کہہ کے کراچی کی تیاری کی اور یہاں آکے بس گیا تھا میر جاذب سے پھر اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا
سمعیہ نے کراچی آنے کے بعد اسکول میں جاب کرلی تھی مہرماہ کیلئے
…..وہ اب بڑی ہورہی تھی کراچی آنے کے سال بھر بعد اماں گزر گئیں تھیں اب سمعیہ کو اللّه کے بعد بھائی کا سہارا تھا
____________________________________,
” ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہمارا بیٹا ہی ہمارا دشمن نکلے گا” میر برفت میر جاذب پہ دھاڑے
” میں نے کیا کیا ہے “
” تم نے سمعیہ کو ہم سب سے چھپایا اور ہمارے وارث کو بھی”.
” کتنا اچھا لگے گا نا جب آپکو یہ پتہ چلے گا کہ وہ وارث آپکی پوتی ہے….ہمارے خاندان کی اس گھر کی اکلوتی بیٹی …”
میر جاذب نے دھماکہ کیا تھا انکی کوئی بیٹی نہ تھی اور نہ ہمدان کی
” تم یہ بھی جانتے ہو …..نیاز نے صحیح کہا تھا ….بتاؤ کہاں ہے وہ …ہمیں اپنی پوتی چاہئیے “
میر برفت انتہا کے جذباتی ہوگئے تھے پوتی کا سن کے
” وہ اب آپکو وہاں نہیں ملیں گے….”
” کہیں بھی ہوں ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے “
” ٹھیک ہے پھر کینیڈا میں ڈھونڈ لیں اگر ڈھونڈ سکیں آپکا راج اس گھر میں چل سکتا ہے اس ملک میں چل سکتا ہے مگر پرائے دیس میں نہیں….”
میر جاذب نے تنفر نے کہا تھا
” تم نے بہت بڑی غلطی کی میر جاذب ہم تمہیں اسکیلئے کبھی معاف نہیں کریں گے”
میر برفت کی بے بسی کوئی دیکھتا
” مجھے معافی چاہئیے بھی نہیں….میں نے جو کیا ٹھیک کیا….” میر جاذب اٹل تھے
” سنتے ہو میر سیال تم باپ بن گئے ہو وہ بھی ایک بیٹی کے…..مگر تم اسے دیکھ نہیں سکتے مل نہیں سکتے کیا بدنصیبی ہے تمہاری “
میر جاذب نے اسے مخاطب کر کے کہا تھا
میر سیال سن سا ہوگیا تھا
” ضروری تو نہیں وہ میری ہی ہے….”
” بکواس مت کرو….سیال….جب وہ اس گھر سے گئی تھی تب ہی تخلیق کے مرحلے سے گزر رہی تھی اور اسکا ایک ایک نقش تمہاری طرح ہے سوائے ان آنکھوں کے وہ بھی بالکل اسکی ماں کے جیسی ہیں….کالی رات کی ساری چمک لئے….میر سیال کیا کھو دیا تم نے تمہیں خبر ہی نہیں…..”
میر جاذب نے اسے آئینہ دکھایا تھا جس میں اسکی شکل بہت بھیانک تھی
واقعی کیا پایا تھا اس نے!!!!!!
اور کیا کھویا تھا اس نے !!!!!!
پایا اس نے کم ہی تھا اپنے زعم کے ہاتھوں کھویا اس نے زیادہ تھا
اب نہ جانے پچھتاوا تھا یہ اپنی انا کے ٹوٹ جانے یا ہارنے کا دکھ تھا
اپنے غم کو مٹانے کیلئے اس نے ام الخبائث کا سہارا لیا تھا اور ریش ڈرائیونگ کرتا وہ جب گھر آرہا تھا اسے ہر جگہ سمعیہ کی یاد آرہی تھی ….سمعیہ….سمعیہ…اسکی زندگی اسکی محبت….اسکی ضد وہ سب ہار گیا تھا
یہاں تک کے اپنی زندگی کی بازی بھی
میر سیال زندگی سے بھی ہار گیا تھا…….!!!!!
میر برفت ڈھے سے گئے تھے میر جاذب ایک بار پھر قصور وار ٹھرے تھے مگر اسے کوئی پچھتاوا نہ تھا
ننھا ہالار گھر کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ رہا تھا اور یہ اسکے لئے اچھا نہ تھا اس لئے ہالار کو میر جاذب نے کراچی بھیج دیاتھا وہ اب صرف چھٹیوں میں گھر آتا تھا
میر برفت آج تک یہ بات نہ بھولے تھے انہوں نے سمعیہ اور اسکی بیٹی کو بہت ڈھونڈا تھا مگر وہ انہیں کہیں نہیں ملیں تھیں کینیڈا ….امریکہ وہ وہاں ہوتیں تو ملتیں نا…..
_____________________________________
” سمعیہ…..کھانا کھا لو ….کھانا کیوں نہیں کھا رہیں” عالیہ نے اس سے کہا جو گم صم بیٹھی تھی
” بھابھی ….دل نہیں کررہا…”
” مہر ماہ کیلئے کھا لو….”
” اسی کیلئے تو جی رہی ہوں اب تک….”
سمعیہ اداسی سے بولی تھی
” آج کیا ہوا ہے سمعیہ….تم کچھ زیادہ اداس ہو …”
عالیہ نے پیار سے پوچھا
” آپ نے آجکا اخبار نہیں پڑھا…..”
سمعیہ نے پوچھا….
” کوئی خاص خبر…..بچوں میں لگ کے تو وقت ہی نہیں ملتا”
” مشہور انڈسٹریلیسٹ…..میر برفت کے بیٹے میر سیال کار ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ….”
سمعیہ نے رٹے رٹائے انداز میں خبر سنائی تھی
” اوہ….” عالیہ کو دکھ ہوا تھا
” آج میری بیٹی یتیم بھی ہوگئی بھابھی …”
سمعیہ سسکی
” پلیز سمعیہ…سفیر ہیں ہم ہیں…تم فکر نہ کرو ہم کبھی اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیں گے”
عالیہ نے اسے تسلی دی تھی
سمعیہ پھیکا سا مسکرائی تھی
تو زندگی اب یوں اس نہج پہ گزرنی تھی
_____________________________________
“ماما…..میں یتیم ہوں….” مہرماہ نے اسکا دوپٹہ تھامتے ہوئے کہا
” کیا…آپ سے یہ سب کس نے کہا” سمعیہ پریشانی سے بولی تھی
” ماما آج انس بھائی جب مجھے لنچ کرا رہے تھے تو نیہا کی فرینڈ نے کہا کہ وہ مجھے کیوں اسے کیوں نہیں لنچ کرارہے….پھر نیہا نے کہا کہ میرے پاپا نہیں ہیں اس لئے وہ سب میرا خیال کرتے ہیں….ماما آپ بتائیں نا میں یتیم ہوں….میرے پاپا کہاں ہیں…”
مہرماہ اب بڑی ہورہی تھی اب اسے یہ سوال کرنے تھے
سمعیہ کا دل پھٹنے لگا تھا
” ماہ…بیٹا…آپکے ماموں تو ہیں نا”
” پر پاپا تو نہیں ہیں….میرے پاپا کہاں ہیں…”
مہرماہ نے پوچھا
” پلیز ماہ….آپکے پاپا یہاں نہیں ہیں وہ اللّه کے پاس چلے گئے ہیں…میں ہوں نا آپ کے پاس…آپ آئندہ ماما کو پریشان نہیں کرنا اوکے” سمعیہ نے اسے سمجھایا اسے رونا آرہا تھا
مہرماہ نے اپنی سیاہ آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا عرصہ ہوا سمعیہ کی سیاہ رات جیسی آنکھوں کی جوت بجھ چکی تھی
مہر ماہ کے دماغ میں تب سے یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اپنے غم اپنے اندر ہی رکھنے ہیں
” کیا بات ہے پارٹنر….اداس ہو”
انس اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
” کچھ نہیں بھائی….”
مہرماہ جھولے پہ بیٹھی تھی اداس چپ چاپ
” سنو کوئی تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے…” انس نے بتایا
” کون…”
” بس کوئی ہے….اور اچھی لڑکی میں چاہتا ہوں جب وہ تمہیں کچھ کہے تو تم بھی اسے معاف کردو یہی اچھی بات ہے”
انس نے اسے سمجھایا
“سوری…. ماہ میں نے تمہیں ہرٹ کیا….آئی سوئیر میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی…”
نیہا نے بے چارگی سے کہا
وہ دونوں ساڑھے پانچ سال کی تھیں مگر مہرماہ کو وقت نے پہلے سے ہی سمجھدار کردیا تھا
” اٹس اوکے….” مہرماہ نے اسے ہاتھ سے پکڑ کے جھولے پہ بٹھا لیا تھا نیہا نے سچ ہی تو کہا تھا کہ وہ یتیم تھی جس پہ انس نے اسے سمجھایا تھا اور عالیہ نے ڈانٹا تھا
” چلو اب چاکلیٹ کھاتے ہیں پھر دادو سے اسٹوری سنیں گے مزے کی….”
انس نے انہیں چاکلیٹ دیتے ہوئے کہا تھا
_____________________________________
وقت آگے مزید کچھ سرکا تھا مہرماہ ساتویں سال میں تھی کہ ایک روز سمعیہ سوئی تو اٹھ ہی نہ سکی سفیر کو اور پورے گھر کو دھکا لگا تھا
ایسا تو کسی نے سوچا بھی نہ تھا
مہرماہ کی زندگی میں اداسی کے رنگ اور گہرے ہوچلے تھے وہ پہلے بھی نہیں بولتی تھی اب تو اور خاموش رہنے لگی تھی
ایسے میں انس اس کا سایہ بن گیا تھا وہ اسے پورا پورا وقت دیتا تھا
اسکے ساتھ کھیلنا باتیں کرنا اسے ہنسانے کی کوشش کرتا مہرماہ انکے لئے مسکرانا سیکھ گئی تھی مگر اکیلے میں وہ جب بھی جھولے پہ بیٹھتی تو وہ ساری دنیا سے اکیلی دکھتی تھی اداس ….تنہا
اور جب ہم اندر سے بہت اکیلے اور تنہا ہوتے ہیں تو ہمیں ایک soul mate کی تلاش ہوتی ہے جو ہمیں بن کہے سمجھ لے ….اسکا احساس اسکا ساتھ ہمارے اندر کے خلا بھرنے لگتا ہے
ایسا ہی مہر ماہ کے ساتھ بھی ہوا تھا….
جاری ہے
