Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25
کوئی آہٹ سی ہوئی ہے
زمانوں سے سنی ہوئی لگتی ہے
شاید تم آئے ہو
احساس وہی صدیوں پرانا ہے
میرا ہمدرد ہی میرا دیوانہ ہے
دروازے پہ کوئی اور نہیں انس سفیر کھڑا تھا
اور جو مقابل بیٹھا تھا میر ہالار جاذب تھا
ایک سراب تھا تو دوسرا سیراب کرنے والا
ایک وہ جو ان کہے درد دیتا تھا
اور دوسرا وہ جو بن کہے سب سن لیتا تھا
اسے اس بات کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ وہ کس وجہ سے اداس ہے….دکھی ہے ….یہ اہم نہیں ہوتا ….بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کا دکھ کیسے بانٹا جائے کیسے کم کیا جائے….اور انس سفیر نے ہمیشہ اس کا دکھ بانٹا تھا
اس کے آنسو پونچھے تھے
وہ لفظوں کا بازیگر نہیں تھا میر ہالار کی طرح سترہ برس اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے مہر ماہ اب سمجھ چکی تھی جو لفظوں سے دل پہ مرہم لگا سکتے ہیں وہ دوبارہ گھائل بھی کرسکتے ہیں
” انس…..آپ….”
مہرماہ کمزور سی آواز میں بمشکل بولی تھی
“تو انس سفیر بھی آہی گیا……”
ہالار نے اسے دیکھا تھا
” یہ کیا حال کر ڈالا اچھی لڑکی…..” میر ہالار سے مصافحہ کرتے ہوئے انس بولا تھا
” اپنوں کی مہربانیاں ہیں…..انس..” مہرماہ پھیکا سا مسکرائی تھی
” خدا تمہیں اچھی زندگی دے…گیٹ ویل سون….”
انس نے اسکے پسندیدہ ٹیولپ کے پھولوں کا گلدستہ دیتے ہوئے کہا تھا
مہرماہ دھیرے سے مسکرائی تھی
تین دن میں وہ جیسے کیسری موم کی گڑیا بن گئی تھی ….ذرد رنگت …خشک لب…انس کی اچھی لڑکی تو نہ جانے کہاں گم ہوگئی تھی
” مجھے نہیں لگتا انس…..میں زندگی اب اور نہیں گزار سکتی….مجھے زندگی کی دعا نہ دیں…”
مہر ماہ تھک کے بولی تھی
ازل سے آزمائشیں میرا مقدر ہیں ….آرام نہ جانے کس در پر ہے
انس دنگ رہ گیا تھا …..مہرماہ نے اتنی ناامیدی کی بات کبھی نہیں کی تھی ….یقینا کوئی ایسی بات ہوئی تھی جس نے مہرماہ کو اندر تک ہلا دیا تھا…انس کو ابھی تک سفیر صاحب نے کچھ نہیں بتایا تھا
وہ اس کا دل نہیں توڑنا چاہتے تھے
” ہالار….اگر آپ برا نہ مانیں تو پلیز کچھ دیر کیلئے مہرماہ کو اکیلا چھوڑ دیں….میں اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں….یہ ہمیشہ مجھ سے سب شئیر کرکے پرسکون ہوجاتی ہے….”
انس نے ہالار سے کہا تھا
” شیور…..” ہالار سپاٹ لہجے میں کہہ کے باہر نکل گیا تھا
” اتنی اہمیت تھی انس سفیر کی مہرماہ کی زندگی میں…..”
” تمہیں تو زندگی سے پیار تھا نہ اچھی لڑکی….ایسا کیا ہوا …مجھے بتاؤ…”
انس کرسی کھینچ کے اسکے مقابل بیٹھ گیا تھا
” انس….انس آپ کو کچھ نہیں پتا….کچھ نہیں بتایا ماموں نے….”
مہرماہ حیرانگی سے بولی
” ایسا بھی کیا مہرماہ….ٹیل می….”
انس الجھ کے بولا
” آخر معاملہ کیا تھا “
” دادا….چاہتے ہیں انس…میری اور میر ہالار کی شادی ہوجائے….اور جس دن ماموں ممانی آئے تھے اس دن انہوں نے ہماری نسبت کا اعلان کردیا اور آپ لوگوں سے میرا ہر رشتہ ختم کردیا…..”
مہرماہ سسک دی
” مہرماہ….. ” انس شاکڈ ہوا تھا
” میر ہالار…..اسکی بہن کا ہونے والا شوہر تھا….ایسے کیسے کرسکتے تھے وہ….”
” ماہ….انکے کہنے سے کیا سب رشتے ختم ہوجائیں گے ….اور ایسا کیسے کرسکتے ہیں نیہا کا رشتہ انہوں نے خود مانگا تھا میر ہالار کیلئے…..” انس ناگواری سے بولا تھا
” وہ با اختیار ہیں کچھ بھی کرسکتے ہیں….” مہرماہ بولی تھی
” نہیں مہرماہ کبھی نہیں….شادی بیاہ کے معاملے مذاق نہیں ہوتے….اور یہ ڈال ڈال منڈلانے والے کسی صورت گھر نہیں بسا سکتے انہیں صرف اپنی ذات سے پیار ہوتا ہے….تم فکر مت کرو مہرماہ….”
انس نے آخر میں اسے تسلی دی تھی
نیہا بہن تھی اسکی اس حوالے سے غصہ آنا اسکا فطری تھا….لیکن مہرماہ کیلئے وہ ایک ٹھنڈی چھاؤں تھا
” انس…. اب جب میں اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنا چاہتی ہوں تو یہ لوگ کرنے نہیں دیتے….کیا زندگی پہ میرا کوئی حق نہیں ….تو پھر کوئی حق نہیں مجھے اس زندگی کو جینے کا…..” مہر ماہ کا سانس اٹکنے لگا تھا
” ماہ کول ڈاؤن….”
انس نے مزید اسے بولنے سے روکا تھا
” تمہارا فیصلہ کیا ہے…..”
انس نے ہمیشہ اسے سنا تھا
” میں آپکو اپنا فیصلہ دے چکی ہوں….انس…میں اب خوش ہونا چاہتی “
ہوں…سرابوں کے پیچھے ایک عمر برباد کی ہے..
“
مہرماہ نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا لی تھی .
اندر آتا ہالار ٹھٹک کے رکا تھا….وہ سترہ برس جو مہرماہ سیال نے اسکے سراب میں گزارے تھے وہ اسے برباد لگنے لگے تھے اب….کیوں…
” اچھی لڑکی….جو تم چاہوگی وہی ہوگا….تم فکر مت کرو…میں تمہارے ساتھ ہوں… “
انس نے اسے تسلی دی
” انس ….آپ کبھی مجھے طعنہ تو نہیں دیں گے نا اس بات کا….”
مہرماہ اپنا ڈر لبوں پہ لاتے ہوئے بولی تھی .
تھا تو وہ بھی ایک مرد ہے
” مہرماہ….کیا ایسا سمجھتی ہو مجھے….میر ہالار صرف ایک طلسم ہے مہرماہ ایک آواز کا ….کچھ لفظوں کا….جنہوں نے تب تمہارے دل کو جکڑا جب تمہیں اسکی ضرورت تھی….آواز اور سائے سے کبھی محبت نہیں ہوتی وہ ایک جادوئی کشش ہوتی ہے مہرماہ…اور یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے ….”
انس رسان سے بولا تھا
جن کی زندگیوں میں ماں باپ نہ ہوں وہ پھر یوں ہی کسی مہربان کی تلاش میں ہوتے ہیں اور الفاظ سے ذیادہ انسان کی چیز سے متاثر نہیں ہوتا
” انس …آپ اگر اکیڈمی نہ جاتے تو شاید ایسا کبھی نہ ہوتا….” مہرماہ نے کہا
انس نے جب اکیڈمی جوائن کی تھی پھر عالیہ کا حادثہ ….مہرماہ کے خوابوں کا ٹوٹ جانا
وہ وقت مہرماہ کیلئے بہت کڑا تھا….کچی عمر کا گھڑا ….اور ایسے میں بس ایک میر ہالار کی باتیں اور کشش تھی جنہوں نے اسکی زندگی میں آسانی کی تھی
” کیسے نہ جاتا مہرماہ پھر یہ سب کیسے کرتا….ہماری برداشت اور تربیت میں ایک اہم ہاتھ اس ادارے کا بھی ہے جو ہمیں تصویر کا ہر رخ دیکھنے میں مدد دیتا ہے….چاہے وہ جنگ کا میدان ہو یا زندگی کا….نہیں تو انس سفیر بھی ایک روایتی مرد ہی رہ جاتا….”
انس نے تفصیل سے بتایا تھا
مہرماہ کچھ پرسکون ہوئی تھی
“قدرت نے اسکے سارے دکھوں کے بدلے ازلی سکھ کے طور پہ انس سفیر کو رکھا تھا….بس مہرماہ دیر سے سمجھی تھی….”
_____________________________________
” اپنا خیال رکھو اچھی لڑکی….مجھے اپنی اچھی لڑکی واپس چاہئیے….ٹھیک…اب میں چلتا ہوں…” انس کھڑے ہوتے ہوئے بولا
” رکیں گے نہیں اور…..”
مہرماہ کا دل ہلکا ہوگیا تھا
” نہیں….لیکن میں پھر آؤں گا….تمہیں اسپتال سے لے جانے…”
انس نے کہا تھا
” وعدہ….”
انس نے وعدہ کیا تھا
” اپنے لیے تم خود لڑو گی اچھی لڑکی…..اور انس سفیر ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑا رہے گا”
یہ بھی انس کا وعدہ تھا
جس کی کرنجی آنکھوں میں اسکلئے بے پناہ محبت عزت کے ساتھ تھی….جو مہرماہ کو قبول تھی
” واہ….واہ…. مہرماہ آپکا بھی جواب نہیں….” ہالار اندر آتے ہوئے طنزیہ بولا تھا
” آپ…..” مہرماہ سیدھی ہوئی
” ایسے کیوں بول رہے ہیں…”
” یا تو آپ بہت بیوقوف ہیں یا بہت چالاک….سترہ برس مجھ سے محبت کی آپ نے اور اب انس سے وعدے…”
ہالار نے کڑوے لہجے میں کہا تھا
” آپ….آپ اس طرح مجھے humiliate نہیں کرسکتے….آپ کا کوئی حق نہیں….ہے “
مہرماہ تکلیف سے بولی تھی
” اتنی معصوم مت بنیں مہرماہ….آپ کو کیا لگتا ہے میں بے وقوف ہوں….مجھ سے مایوس ہو کے ہی آپ انس کی طرف بڑھیں تھیں نا….تو اسے اب واپس لوٹا دیجئیے…کیونکہ میں آپ سے شادی کرنے کو تیار ہوں….ترس آگیا ہے مجھے آپکی سترہ سالہ محبت پہ….”
ہالار نے جیسے اس پہ احسان کیا تھا
” چپ ہوجائیں بالکل چپ ہوجائیں مجھے بیوفائی کا طعنہ دیتے ہیں….خود کیا ہیں….نیہا سے محبت کا بہت دعوی تھا نا آپکو….اب کہاں گیا….کیا یہ بیوفائی نہیں کہ ایک لڑکی جو آپکے نام سے منسوب ہے آپ اسے چھوڑ کے مجھے اپنا رہے ہیں…..نہیں چاہئیے مجھے آپکا احسان…سترہ سال آپکے پیچھے بھاگنے کی بہت سزا مل چکی ہے مجھے….اب اور نہیں….”
مہر ماہ چیخی تھی
اس کی اونچی آواز آج تک کسی نے نہ سنی تھی
اور
میر ہالار کی تو یہ خوش فہمی دور ہوگئی تھی کہ مہرماہ کبھی اسکے آگے بول نہیں سکتی
” نیہا ایک ناشکری لڑکی ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ایسے لوگوں کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے…..”
ہالار نے تن کے کہا
” ٹھیک کہا آپ نے…..ایسے لوگوں کو تنہا ہی چھوڑ دینا چاہئیے….اس لئے میں نے بھی آپکو چھوڑ دیا….”
مہرماہ کی اتنی حاضر جوابی اگر نیہا دیکھتی تو لازما بیہوش ہوجاتی
” آپ کو کیا لگتا ہے….آپ نے کہا سب ختم تو ختم ہر گز نہیں…..کہانی آپ نے شروع کی تھی ختم بھی میں کروں گا….” ہالار کی سیدھی انا پہ ٹھیس لگی تھی
” بہت درد ہورہا ہے ناں….بہت تکلیف ہورہی ہے…ٹھکرائے جانے کی ….یاد کریں مجھے بھی ہوئی تھی ہالار جب مجھے چھوڑ کے نیہا کا انتخاب آپ نے کیا تھا…..مجھے تب ہی سمجھ آگئی تھی کہ آپ میرا نصیب نہیں…. سترہ برس آپکے پیچھے برباد کیے ….اور بھی ہوتے اگر نیہا نہ ہوتی ….اسکی وجہ سے میں نے ریڈیو جوائن کیا….آپ میرے کزن ہیں یہ اسی وجہ سے پتہ چلا….تقدیر نے ہمیں کتنا قریب کیا لیکن بعض اوقات قریب کی چیزیں بہت دور لگتیں ہیں…..آنکھ سے اوجھل ہوجاتیں….یہی آپ کے ساتھ ہوا اور میرے ساتھ بھی ہمیں اگر ملنا ہوتا تب ہی مل جاتا….اب نہیں کبھی نہیں….”
مہرماہ نے سترہ برسوں کا خلاصہ سات منٹ میں کیا تھا
مہرماہ بول بول کے تھک گئی تھی اتنا تو وہ زندگی میں نہیں بولی تھی
” آپ مجھے نہیں جانتیں مہرماہ….میر ہالار اپنی تقدیر خود لکھتا ہے ….اور یہ آپ جان جائیں گی…..” میر ہالار سپاٹ لہجے میں بولا تھا
اسکی مردانا انا پہ بہت شدید وار ہوا تھا ……!!!!
_____________________________________
” اتنا کچھ ہوگیا اور آپ لوگوں نے مجھے کچھ بتایا بھی نہیں…..”
انس نے ان دونوں سے شکوہ کیا
” تم گھر پہ ٹکتے ہی کہاں ہو…..” عالیہ نے کہا تھا
” ہاں بیٹا ….تم ڈیوٹی پہ تھے مناسب نہ تھا تمہیں پریشان کرنا….” سفیر صاحب بھی بولے
” آپ لوگ مہرماہ کو واپس لے آئیں….وہ وہاں نہیں رہ سکتی…..” انس نے کہا
” ارے بیٹا…..کیوں لے آؤ انکا بھی کچھ حق ہے….وہ انکی پوتی یے انکا خون…” ماوی کی امی بولیں
” آنٹی پلیز….اماں مہرماہ ان لوگوں کی وجہ سے اسپتال پہنچ گئیں….آپ جانتیں تو ہیں اسے اپنے لئے لڑنا بھی نہیں آتا…..وہ مرجائے گی مگر کہے گی کچھ نہیں…. اور پھر نیہا کا رشتہ بھی ہالار سے ختم ہوچکا ہے…..اور مہرماہ ہالار سے شادی نہیں کرنا چاہتی وہ لوگ اسکی نہیں سنیں گے…. ” انس نے ماں سے کہا تھا
” کیا نیہا کا رشتہ ٹوٹ گیا….وہ بھی مہرماہ کی وجہ سے….عالیہ ساری زندگی تم نے تو آستین کا سانپ پالا ….تمہاری بیٹی کی خوشیاں چھین لیں اور بیٹے کو بھی پٹا لیا…..توبہ توبہ کیسی کیسی لڑکیاں ہیں کراچی کی…..ہائے انس بھی اس کے چکر میں آگیا… “
خالہ نے دہائی دی
انہیں جب سے سن گن لگی تھی کہ انس اور مہرماہ کا رشتہ ہونے والا ہے تب سے انکے اندر آگ لگی تھی ماوی کیلئے انہوں نے ہمیشہ انس کو سوچا تھا
اور اب کراچی آکے وہ اس کام میں ہی لگیں تھیں
” خالہ آپ برائے مہربانی ….الفاظ درست کریں…غلط بات مت کریں. ….” انس ناگواری سے بولا تھا
سفیر صاحب کو بھی ناگوار گزرا تھا ….بس ایک نفس تھا جو چپ تھا
اور وہ عالیہ بیگم تھیں
جو بہن کی کہی باتوں کی ذد میں تھیں”
____________________________________
” دادا….” ہالار نے پکارا
“آؤ ہالار….” انہوں نے کہا
” کیا بات ہے اتنے چپ چپ کیوں…..”
” آپ چاہتے ہیں کہ میری اور مہرماہ کی شادی ہو….” ہالار نے پوچھا
” ظاہر سی بات ہے…مگر تمہیں ہوا کیا ہے….”
میر برفت نے پوچھا….
” اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری شادی ہو تو آج ہی آپ ہمارا نکاح کردیں…..”
ہالار نے بم پھوڑا
” کیا….ایسی بھی کیا جلدی….اور مہرماہ کو اسپتال سے تو آنے دو….” میر برفت نے حیرت سے کہا
” نکاح اسپتال میں بھی ہوسکتا ہے نا… تو بس ٹھیک ہے….نکاح ہوگا تو آج ہی ورنہ کبھی نہیں…. پھر میں شادی نہیں کروں گا….”
ہالار نے ڈیڈ لائن دی
” ٹھیک ہے…ہم چاہتے ہیں تمہاری شادی ہو…ابھی ہو یا بعد میں کیا فرق پڑتا ہے…”
میر برفت نے رضامندی دی تھی.
جاری ہے
