Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08

بھیگی سیاہ شبنمی رات قطرہ قطرہ بھیگنے لگی تھی ….رات ہولے ہولے بارش کے قطروں کی زد میں موم کی طرح پگھل کے بھیگنے لگی تھی
چاند بدلیوں کی اوٹ سے موقع پا کے جھانک لیتے تو جیسے بھیگی رات جگمگا اٹھتی
ہالار کا موڈ بہت خوشگوار ہوچلا تھا ایک خوشگوار سہہ پہر کے بعد اب یہ ڈھلتی شبنمی رات اور اس میں بھیگتا کوئی سہانا سا احساس جو اب تک سپنا تھا مگر اب یہ سپنا کسی تصور میں ڈھلنے لگا تھا
ہالار لانگ ڈرائیو انجوائے کرتا گھر میں بہت خوشگوار موڈ میں داخل ہوا تھا مگر ثمر کے سوالوں نے اسکا موڈ خراب کردیا تھا
” کہاں تھے …..کہاں تھے تم”
ثمر اسے باقاعدہ گھورتے ہوئے بولا
” میر ثمر…..تم “
ہالار نے جیکٹ اتارتے ہوئے کہا تھا
” ہاں جی میں….کہاں سے آرہے ہو”
ثمر نے پوچھا کب سے وہ اسکا انتظار کررہا تھا
“باہر تھا…مگر تم یہ تفتیش کیوں کررہے ہو”_
ہالار نے پوچھا
” بیٹا آج جیسے تم بات گھما رہے ہو مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے”
” کم ان ثمر آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا….میں سیکیورٹی کمپنی کا ورکر نہیں میر ہالار جاذب ہوں”
ہالار اب کچھ ناگواری سے بولا تھا
” پتہ ہے مجھے…..”
ثمر بے نیازی سے بولا
اور صوفے پہ بیٹھ گیا تھا مگر نظریں بدستور ہالار پہ ٹکیں تھیں ہالار چینج کرنے جا چکا تھا لوٹا تو ثمر کے ہاتھ میں اسکی جیکٹ تھی اور مشکوک نظریں اس پہ ٹکیں تھیں
“پرفیوم بہت اچھا ہے”
ثمر نے طنزیہ کہا
” تم آج پہلی بار تو میرا پرفیوم نہیں اسمیل کررہے”
ہالار نے حیرانگی سے کہا
” اگر تم نے لیڈیز پرفیوم یوز کرنا شروع کردیا ہے تو واقعی میں پہلی بار آج میں اسے اسمیل کررہا ہوں….”
ہالار چونک کے اسے دیکھنے لگا
” واٹ لیڈیز پرفیوم….تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا….”
” میرا دامغ بالکل ٹھیک ہے یہ جیکٹ سنا رہی ہے تمہاری شام کا افسانہ میر صاحب…..تم مزید اب بہانے نہیں بنا سکتے….یہ جیکٹ کہتی ہے کہ اسے کسی دوشیزہ کا قرب میسر ہوچکا ہے”
ثمر نے درست اندازہ لگایا تھا
” اوہ….”
ہالار کے منہ سے نکلا
“تو کیسی گزری ماہ جبینوں کی سنگت میں شام”
ثمر نے جیکٹ رکھتے ہوئے پوچھا
” تم نے کیا میری جاسوسی شروع کردی ہے….یہ اپنی کرمنالوجی ٹرکس اپنے پاس رکھو”
ہالار نے تحکم سے کہا
” مطلب ….واقعی کوئی ہے…بتاؤ نا ہالار ” ثمر نے اصرار کیا
” ایسا کچھ نہیں ہے فی الحال “
” مطلب ہوسکتا ہے…..کچھ تو گڑبڑ ہے کس پہ ہالار جاذب نے نظر کرم کی ہے…اس جیکٹ والی پہ”
” شٹ اپ..اٹ واز جسٹ آ کو اینسیڈنس….مجھے اگر ایسا کچھ کرنا بھی ہوگا تو مجھے کسی کا ڈر نہیں پڑا اور تم اس وقت یہاں کیا کررہے ہو “
ہالار نے اس سے پوچھ لیا تھا
” بیٹا نہ بتاؤ ہمیں بھی پتہ چل ہی جائے گا آخر کو کرمنالوجسٹ ہوں”
میر ثمر نے امریکہ سے کرمنالوجی کی ڈگری لی تھی اور اب پاکستان میں اسکی اور ہالار کی جدید آلات اور طریقوں کے ساتھ سیکیورٹی کمپنی تھی جو اپنی اعلی سروس ہینڈسم اماؤنٹ کی صورت فراہم کرتے تھے ہالار کہنے کو سول انجینئر تھا مگر اس نے اس فیلڈ کو پروفیشنلی نہیں لیا تھا دن میں وہ سیکیورٹی کمپنی کو دیکھتا اور باقی وقت اپنے شوق کو میر برفت ان کے اس شوق سے خاصے نالاں تھے
” میں نے مرزا صاحب کا سیکیورٹی کنٹریکٹ کینسل کردیا ہے اس لئے یہاں ہوں”
ثمر تھکے تھکے لہجے میں بولا
” میں نے تو پہلے ہی منع کیا تھا کہ انکو اپنی فیسلیٹیز پروائیڈ مت کرو”
ہالار نے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے کہا
“بس یار حد ہوگئی تھی میری برداشت کی مطلب یار مرد اتنے گھناؤنے اور گھٹیا بھی ہوسکتے ہیں …میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا “
ثمر کا لہجہ دکھی تھا
” میر ثمر….یہ دنیا ہے یہاں سب ہوتا ہے “
” ایسے ہی مردوں کی وجہ سے ہوا کی بیٹی کی عزت غیر محفوظ ہے ….عورت کو یہ لوگ صرف کھیلنے کی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ عورت نازک آبگینے کی مانند ہوتی ہے جسے زرا سی ٹھیس کرچی کرچی کردیتی ہے”
ہالار نے جذب بھرے لہجے میں کہا تھا ثمر متاثر ہوا تھا
” واہ….ہالار ….وہ لڑکی بہت خوش نصیب ہوگی جو تمہاری ہم سفر ہوگی…بھلا کتنے لوگ اسطرح سوچتے ہیں”
” یہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ثمر…..کہ ہم اچھا بنیں یا انسانیت کے معیار سے ہی گر جائیں “
ہالار نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے کہا
اور بھلا کون جانے کہ ہالار جاذب کسی کو ٹھیس پہنچا کے اسکا نازک آبگینے جیسا وجود کرچیوں میں بکھرنے والا تھا اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود
____________________________________
” تم نے تیاری کرلی….ماہ”
نیہا نے پیاز کاٹتی مہرماہ سے پوچھا
“کس چیز کی تیاری…” مہرماہ نے کچھ حیرانگی سے پوچھا
” اوہ بدھو..سمعیہ خالہ کی بیٹی کا مایوں ہے کل اسکی”
نیہا نے اپنا سر ہی پیٹ لیا
” میں نے کونسا جانا ہے …جو میں تیاری کروں”
مہرماہ نے بےنیازی سے کہا
” سو بوڑھیوں کی بلی چڑھی ہوگی تب ہی جا کے تمہارا ظہور ہوا ہوگا اس دنیا….مطلب کیا یار بندہ اتنا بھی کھڑوس نہ ہو”
نیہا جل بھن کے بولی
” تمہیں معلوم ہے مجھے شادیوں میں جانا پسند نہیں ہے”
” یہ شادی نہیں مایوں ہے…میں تو بہت ایکسائیٹیڈ ہوں”
نیہا نے جوش سے کہا
آخر کو چھوٹی سی فیملی تھی انکی اور شادی کونسا روز آتی ہے
” میرے سوٹ کی فٹنگ بھی نہیں کی ہوگی پھر تم نے “
نیہا کو یاد آیا تو پوچھا
” وہ تو میں نے اسی دن کرلی تھی “
مہرماہ نے کہا
” چلو …شکر ہے “
نیہا نے کہا
” اچھا ہاتھ تیز چلاؤ….ورنہ سب لیٹ ہوجائے گا”
مہرماہ نے رائتے کا پیالا فرج میں رکھتے ہوئے کہا
” نیہا……انس بلا رہا ہے ” عالیہ نے لاونج سے آواز دی
” یہ بھائی کو کیا ہوا….” نیہا بڑبڑائی پھر لاونج میں ہی کھڑے ہو کے منہ اوپر کی طرف کرکے کہنے لگی
” کیا ہوا بھائی….کیا کام ہے”
” توبہ نیہا….اوپر جاتے کیا ٹانگیں ٹوٹ رہی ہیں جا کے سن لو بھائی کی بات دو منٹ کیلئے “
عالیہ کو اسکا انداز کھلا
” توبہ ہے اماں…یہ جو آپکا بیٹا ہے نا دو منٹ کا کام دو گھنٹے تک کرواتا ہے…..بھائی…سن رہے ہو”
نیہا اب کی بار زور سے چیخی
” سن لیا بابا بہرہ نہیں ہوں….میری وائٹ شرٹ کہاں ہے “
انس نے ریلنگ سے جھانک کے پوچھا
” وارڈروب مہرماہ سیٹ کرتی ہے اس سے پوچھیں”
نیہا نے جان چھڑائی
” بلاؤ اسے پھر ….تم تو ہو ہی نکمی”
انس نے تنک کے کہا
” مہرماہ بھائی بلا رہا ہے “
” کیوں….” مہرماہ نے چونک کے پوچھا
” پتہ نہیں جا کے پوچھ لو….کوئی ضروری کام ہے تبھی بلا رہے ہوں گے”
نیہا نے بے نیازی سے کہا
” پر یار کچن کون دیکھے گا…ابھی اتنا کام باقی ہے”
مہرماہ نے الجھ کے کہا اندر ہی اندر وہ ڈر بھی گئی تھی کہ وہ کیا کہے گا کیوں بلا رہا ہے
” میں دیکھتی ہوں تم جاؤ….”
نیہا نے کہا اب کون جا کے انس کی شرٹ ڈھونڈتا پھر لازمی سی بات ہے پریس بھی کرتا اس لئے نیہا نے جان چھڑائی
مہرماہ کچھ ڈرتے گھبرائے اوپر آئی تھی انس کے کمرے پہ دستک دی
” یس….”
انس کی باوقار آواز گونجی
“آپ نے بلایا انس بھائی….”
” ارے اچھی لڑکی…. کہاں چھپ کے بیٹھی ہو”
انس اسے دیکھ کے مسکرایا
” کیا بات ہے…کوئی کام “
مہرماہ نے ہاتھ مسلتے ہوئے پوچھا
” کیا مہرماہ سے صرف کام کی ہی باتیں کی جاسکتی ہیں دوسری باتیں نہیں”
انس نے ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا
” دوسری باتیں مطلب….” مہرماہ نے انجان بن کے پوچھا
” اس میں ابھی وقت ہے فی الحال ایک چھوٹا سا کام کردو”
انس نے بات بدل دی تھی ویسے بھی وقت سے پہلے اسے کچھ کرنے کی عادت نہ تھی
” کیا کام” مہرماہ نے جھٹ پوچھا
“میری وائٹ شرٹ ڈھونڈ دو….”
” وہ تو اس طرف ہے “
مہرماہ نے وارڈروب سے پریس شرٹ نکال کے سامنے کی
” اوہ مجھے کیوں نہیں دکھی”
انس نے حیرانی سے کہا
” نظر کمزور ہوگئی ہے آپکی….” مہرماہ نے متبسم لہجے میں کہا
” لڑکی جس دن نظر کمزور ہوئی نا وہ دن میرا ائیر فورس میں آخری ہوگا ….ویسے پتہ ہے اکثر ہم جانتے بوجھتے چیزوں سے بے نیاز اس لئے ہوتے ہیں کہ ہمارا اپنا کوئی انہیں ڈھونڈ نکالے گا جس پہ ہمیں بہت مان ہوتا ہے….جو ہماری آنکھ کا نور اور دل کا سکون ہوتے ہیں”
انس نے ذو معنی لہجے میں کہا
مہرماہ نے ٹھٹک کے اسے دیکھا اور پھر چپ چاپ نیچے چل دی تھی
ہر بات کے بدلے میں بات نہیں کی جاتی بعض باتیں خاموشی سے سن لینا بہتر ہوتا ہے
______________________,,,,____________
” اب بس بھی کرو نیہا….کب سے چکر لگا رہی ہو بیٹھ جاؤ”
مہرماہ نے کچھ الجھ کے کہا وہ خود جھولے پہ پاؤں پسارے سوئیٹر بن رہی تھی ٹریننگ مکمل ہوچکی تھی اب اسے کال آنے پہ آفیشلی چینل جوائن کرنا تھا .
“پتہ نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جب بھائی سے انسپائر ہو کے انجینئر بنے کا سوچا….اور یہ سر بھی ہمارے ماشاء اللّه ہیں قسم سے اتنا غصہ آرہا ہے ایک دن کے شارٹ نوٹس پہ کونسا اسائمنٹ بنتا ہے….مایوں میں جانا کینسل”
نیہا کو سخت غصہ آرہا تھا یونی کے ایک پروفیسر نے اسائنمنٹ ایک دن کے شارٹ نوٹس میں پریپئر کرنے کو کہا تھا اس وجہ سے اب وہ فنکشن اٹینڈ نہیں کرسکتی تھی
” اٹس اوکے….شادی میں چلی جانا”
مہر ماہ سکون سے بولی
” اونہہ…جو مزہ ان فنکشن میں ہوتا ہے وہ شادی میں کہاں اس دن تو سب رو رہے ہوتے ہیں….یار ہم کونسا روز شادی میں جاتے ہیں”
نیہا نے احتجاج کیا
مہرماہ کندھے اچکا کے رہ گئی پھر اٹھ کے نیچے چلی آئی
” مہرماہ….” عالیہ نے بلایا
” جی ممانی…”
” بیٹا…آج فنکشن میں جانا ہے “
” نہیں ممانی…کیوں”
” نہیں بیٹا چلی جانا تم…نیہا جا نہیں سکتی میں تو دوپہر کو تمہارے ماموں کے ساتھ چلی جاؤں گی تم شام کو انس کے ساتھ آجانا اب یہ فنکشن تو ہم بوڑھوں کا تو ہے نہیں”
مہرماہ جی بھر کے بدمزہ ہوئی مطلب ہالار جاذب کا شو مس ہوگیا بعد میں ریکارڈڈ سننا پڑے گا
” اچھا….”
مہرماہ مرے مرے انداز میں بولی تھی اور شام میں جب وہ تیار ہورہی تھی تو نیہا کی کمنٹری جاری تھی
“اف ہو…لپ اسٹک ہی لگا لو”
” لگا تو دی اب کیا چڑیل بن جاؤں”
مہرماہ نے کہا
” یہ میں نے کب کہا…قسم سے اس وقت مجھے بہت چڑ ہورہی ہے اور جلن بھی کہ تم جارہی ہو اور میں نہیں”
” اگر مجھے زرا سی بھی انجینئرنگ کی شدھ بدھ ہوتی تو میں تمہارا کام کردیتی اور تم چلی جاتیں”
مہر ماہ نے ہمیشہ کی طرح اسکا دل بھلایا
” ہوں……” نیہا نے ایک گہری سانس لی پھر سر جھٹک کے لیپ ٹاپ پہ انگلیاں چلانے لگی
مہرماہ اسے گیٹ بند کرنے کا بولتی باہر نکلی انس اسکے انتظار میں تھا یلو اور گولڈن کنٹراسٹ کے سوٹ میں لائٹ سا میک اپ کیے مہرماہ بہت پیاری لگ رہی تھی انس مسکرا اٹھا
” چلیں….”
انس نے پوچھا
” جی…”
مہرماہ بیٹھ گئی تو انس نے گاڑی چلا دی
انس گاہے بگاہے اس پہ نظر ڈال لیتا تھا مہر ماہ دوڑتے بھاگتے نظارے دیکھنے میں گم تھی جب انس نے اسے پکارا
” مہرماہ….”
وہ بہت کم اسے اسکے نام سے بلاتا تھا
” جی” مہرماہ نے کچھ چونک کے کہا
” مہر ماہ… مجھے آج تم سے کہنا ہے “
انس نے تمہید باندھی
” جی…” مہر کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی
” مہرماہ…میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں….ول یو میری می”
انس کا انداز بہت سنجیدہ تھا
مہرماہ کو لگا اسکی کل کائنات میں بھونچال آگیا ہو
یہ کیا کہہ گیا تھا انس….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *