Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20
“کیا کہا اے ہم نشین میرے!!!!!!
زرا پھر سے کہو!!!!!
دھڑکنوں میں کچھ شور سا ہوا ہے!!!!
شاید تم نے اقرار کا اذن دیا ہے!!!!!
انس یک بیک بہت سی کیفیات کا شکار ہوا تھا
بے یقینی…..بے پایاں خوشی اور سحرانگیز کیفیت کا
آج برسوں بعد اسکی محبت کے صحرا میں اقرار کا بادل آنکلا تھا
اب محبت کے پھول کھلنے تھے
” تم سچ کہہ رہی ہو مہرماہ……”
انس نے جیسے یقین چاہا
” جی ….انس….میں نے غلط کیا آپکا دل توڑا…..مگر اب میں آپ جیسے اچھے شخص کو نہیں کھونا چاہتی ….میرے ہاتھ بالکل خالی ہیں میرے دل کی طرح….شاید آپکی بے لوث رفاقت میرے دل کے صحرا میں محبت کا نخلستان اگا سکے…..میں اب مزید کچھ اور نہیں کھو سکتی انس…..!!!!!!!”
مہرماہ کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا
اس مسافر کی طرح جو برسوں سفر میں رہا ہو اور پھر بھی منزل سے محروم رہا ہو
” نہیں….اچھی لڑکی اب اور نہیں….میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہارے سارے دکھ اب سے میرے اور میری ساری خوشیاں تمہاری……”
انس نے ہمیشہ کی طرح اسکے آنسو پونچھے تھے
اسے تسلی دی تھی
مہرماہ کو انس سے ذیادہ اور کوئی نہیں سمجھتا تھا اور مہرماہ سیال ساری زندگی یہی بات نہیں سمجھ سکی تھی
_____________________________________
” بابا…..”
انس نے سفیر صاحب کو پکارا جو کتاب میں مگن تھے
” ارے انس…..آؤ میرے پاس….”
سفیر صاحب نے اسے اپنے پاس بلایا آج کتنے دنوں بعد انس انکے پاس آیا تھا
” بابا….نیہا سے آپ ناراض ہیں….”
انس نے پوچھا
” دیکھو انس….اگر یہاں یہی بات کرنی ہے تو تم جاسکتے ہو…..ہاں اگر کوئی بات کرسکتے ہو تو کرو…..”
سفیر صاحب بےگانگی سے بولے تھے وہ نیہا سے اب تک ناراض تھے
اسے کس نے حق دیا ہے ان سب کی عزت داؤ پہ لگانے کا…..????
” بابا پلیز…..آپ نیہا کی بھی تو سنیں ….وہ کیا چاہتی ہے….” انس نے بہن کی سائیڈ لی
” وہ جو چاہتی تھی وہ میں سن چکا ہوں….اسے کس نے حق دیا ہے اس یتیم بچی کے ساتھ ایسا کرنے کا …..کیا اسکی یہی زندگی رہ گئی ہے کہ جیسا ہم بولیں وہ ایسا ہی کرے….”
سفیر غصے سے بولے
” بابا وہ اس نے مہرماہ کے بھلے ہی کیلئے کیا ہے….”
” کیسا بھلا….. ایک بات یاد رکھو انس ہم مرد کبھی اس عورت کو عزت نہیں دے سکتے جو ہم پہ زبردستی مسلط کی جائے عزت تو بہت دور کی بات ہے…..” سفیر صاحب نے تلخی سے کہا تھا
” آپ ٹھیک کہتے ہیں بابا…. مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے….” انس نے تمہید باندھی
” کہو….” سفیر صاحب نے اسے بغور دیکھا
” بابا آپ نے مجھ سے مہرماہ کیلئے پوچھا تھا…..اس وقت مجھے لگتا تھا کہ میں کوئی نیا رشتہ کیری نہیں کرسکوں گا…..مگر اب جب کہ میرا پرموشن ہوچکا ہے آئی فیل مجھے اب شادی کرلینی چاہئیے…..میں مہرماہ سے شادی کو تیار ہوں”
انس نے کہا
” مہرماہ سے اب…..!!!!!!” سفیر صاحب نے بات اچنبھے سے کی
” مطلب….” انس نے انہیں دیکھا
” میں اور تمہاری اماں ماوی کیلئے سوچ رہے تھے کیونکہ مہرماہ کیلئے تم منع کرچکے تھے “
سفیر صاحب نے بتایا
” بابا پلیز ماوی کبھی نہیں….وہ ایک آدھے دماغ کی لڑکی ہے…میں اس وقت شادی نہیں کرنا چاہتا تھا تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ مہرماہ سے ہی نہیں….مہرماہ ہمارے گھر کا حصہ ہے اور سب سے خاص …..اور سب سے بڑھ کے وہ میری ہم مزاج ہے…..” انس نے بے ساختہ کہا تھا
” انس پہلے اگر تم مان جاتے تو سب ہوجاتا مگر اب یہ تھوڑا مشکل ہوگا …..” سفیر صاحب نے گہری سانس لی تھی
” اسکا کیا مطلب ہوا….”
انس نے پوچھا
” مہرماہ صرف ہماری ذمہ داری نہیں جلد یا بدیر اسکے دادا اسے لے جائیں گے …..اور وہ ایک انتہائی ضدی انسان ہیں….تمہارے رشتے کی بات ان سے منوانا کافی مشکل ہوگا…”
سفیر صاحب نے الجھن بیان کی تھی
” بابا پلیز…..وہ کوئی خدائی فوجدار نہیں….اور سب سے بڑھ کے مہرماہ کی رائے اہمیت رکھتی ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہے ….اور کیا کرنا چاہتی ہے….بابا اس لڑکی کو تھوڑا اسپیس چاہئیے اب ساری زندگی وہ دوسروں کے بتائے ہوئے راستوں پہ چلی ہے….کم ان بابا وہ مٹی کا مادھو نہیں ہے….” انس نے دکھ سے کہا تھا
اسکی اچھی لڑکی کے دل میں اتنے درد تھے کہ انکی داستان پڑھتے پڑھتے انس جیسے بہادر جوان کی آنکھیں بھی بھیگ جاتیں تھیں
” یو ار رائٹ…..میں جلد ہی مہرماہ سے بات کرکے اسکے گھر والوں کو بتاتا ہوں…..” سفیر صاحب نے نیم رضامندی سے کہا تھا
” بابا نیہا نادان ہے….اسے معاف کردیں مانا کہ اس نے بیوقوفی کی ہے….لیکن اگر ہم بڑے ہی اپنے چھوٹوں کی غلطیوں پہ انہیں نہیں سنبھالیں گے تو پھر وہ مسلسل غلطیاں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں…..” انس نے انکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
” انس…..نیہا میری بیٹی ہے ….مجھے اسکی فطرت معلوم ہے…..میں اس سے ناراض رہ ہی نہیں سکتا….مگر تم.مجھ سے وعدہ کرو انس… مہرماہ کا بہت خیال رکھو گے….”
سفیر صاحب نے اس سے وعدہ مانگا
” وعدہ رہا بابا….” انس نے دونوں ہاتھوں سے انکا ہاتھ تھاما تھا
ساری زندگی اسکے آنسو اس شخص نے پونچھے تھے
ساری زندگی وہ اس لڑکی کو خوش کرتا رہا تھا
جس سے اسے عشق تھا ….!!!!!
جو اسکے دل کی خواہش تھی ….!!!!!
بصد شوق …..بصد احترام….!!!!!
انس کے دل نے ہمیشہ مہرماہ سیال کی ہسفری کی خواہش کی تھی
_____________________________________
” مہری جی …..آپکو نیچے ڈرائنگ روم میں بلا رہے ہیں…. “
ماوی نے بالکونی کے پودوں کو پانی دیتی مہرماہ کو پکارا
” کون ہے ماوی….” مہرماہ نے پلٹ کے پوچھا
” آپکے کزن اور چچی…..” ماوی نے بتایا
” کونسے کزن…” مہرماہ نے پوچھا
” بس وہ نہ ہو…..”
مہرماہ نے یہی سوچ کے پوچھا تھا
” وہی جن سے نیہا کی شادی ہورہی تھی….” ماوی نے بتایا
” سسی….”
مہرماہ کے وجود میں ایک کانٹا سا اترا
سترہ برس وہ میر ہالار جاذب نامی سراب کے پیچھے بھاگی تھی اب واپس پلٹنا بہت مشکل تھا …..
مگر اسے یہ کرنا تھا…..اپنی بقا کیلئے
اپنی عزت کیلئے وہ بوجھ بن کے نہیں رہ سکتی تھی
” آرہی ہوں چلو تم…..” مہرماہ نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے کہا
” السلام علیکم…..”
مہرماہ کے سلام کی آواز پہ بھوری آنکھیں اٹھیں تھیں…..شاید چمکیں بھی تھیں
” یہاں آؤ بیٹا…..” ہمدان کی بیگم عائشہ نے اسکے سلام کا جواب دیتےہوئے کہا
” جی…..” مہرماہ انکے پاس ٹک گئی تھی
” مہرماہ ….ہم.تمہیں لینے آئے ہیں”
ہالار جاذب نے اسے پکارا تھا
” کاش کہ آپ واقعی مجھے لینے آتے…..”
مہرماہ نے یاس سے سوچا ….
” مگر….کیوں” مگر جب وہ بولی تو اسکا لہجہ صاف تھا
دل میں لاکھ طوفان ہوں مگر چہرہ سمندر کی گہرائی کی مانند پرسکون تھا
” کیا مطلب….وہ آپکا گھر ہے….” ہالار نے یاد دلایا
” میرا گھر یہی ہے ہالار صاحب….جہاں مجھے پیار عزت مان سب ملا…..” مہرماہ کیا جتانا چاہتی تھی نہ جانے…
” اسکی فکر نہ کریں….پیار اور محبت آپکو وہاں بھی ملے گا ….” ہالار کا لہجہ کچھ آنچ دیتا ہوا تھا
سامنے بیٹھی لڑکی نے سترہ برس اس سے محبت کی تھی…..پتھر کو کچھ تو جونک لگنی تھی
” بیٹا تمہارے دادا گھر آچکے ہیں…..وہ تمہیں بلارہے ہیں ….کچھ دن وہاں رہو اور پھر یہاں بھی آتی جاتی رہنا تم دونوں گھر اب تمہارے ہیں کیوں عالیہ…..” عائشہ بیگم نے طریقے سے بات کی تھی
” یہ مہرماہ کا ہمیشہ سے گھر ہے عائشہ…..اسی کا گھر ہے….ماہ بچے اگر تم جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ انکا بھی حق ہے…..”
عالیہ نے رسان سے کہا تھا
” لیکن مامی….آپکا کیا ہوگا….آپ کیسے مینج کریں گی ….” مہر ماہ کو نئی فکر لاحق ہوئی تھی
” اسکی آپ ٹینشن نہ لیں میں ہوں نا میں اور نیہا دیکھ لیں گے…..” ماوی نے اسے تسلی دی
” تم ہو یہی تو فکر ہے…..” مہرماہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولی تھی اسے ماوی کی لاپرواہ فطرت سے واقفیت تھی
” نیہا کیا یونیورسٹی سے نہیں آئی اب تک…..” عائشہ نے پوچھا
” آنے والی ہوگی اب تو…..” ماوی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
” چلیں چچی دیر ہورہی ہے….اٹھو مہرماہ…” ہالار فورا کھڑا ہوتے ہوئے بولا تھا
“یہ نیہا کا کیوں انتظار نہیں کررہے….شاید ناراض ہیں اس دن کی بات سے….مگر انہیں تو نیہا سے محبت ہے…..” مہرماہ نے سوچا
” نہیں ابھی نہیں تھوڑا صبر کریں میں کچھ چیزیں دیکھ لوں….” مہرماہ نے کہا
” کیا مطلب…..اپکو کونسے کام ہیں اب….”
ہالار کچھ ناگواری سے بولا
” میر صاحب یہ گھر ہے ….اور یہاں میری کچھ ذمہ داریاں ہیں….یہ گھر میرے لئے بہت اہم ہیں….اس لئے برائے مہربانی کچھ صبر کیجئے….” مہرماہ نے نہ جانے کسے جتائی تھی یہ بات اپنے آپکو یا میر ہالار جاذب کو
” اوکے….بیٹا ہم ویٹ کررہے ہیں…” عائشہ بیگم نے جلدی سے کہا تھا
_________________,,,,__________________
” آنے میں اتنا وقت لگا دیا….” میر برفت نے اس سے شکوہ کیا تھا
” دادا….آج کچھ کام تھا….وہاں اسپتال میں تو روز ہی آتی تھی….” مہرماہ نے بتایا
” بس اب تم یہیں رہوگی ہمارے پاس ہمیشہ…..” میر برفت کے شفقت بھرے لہجے میں بھی تحکم تھا
” دادا….پلیز میں یہاں صرف اپکی وجہ سے آئی ہوں…..مگر میں اس گھر کو نہیں چھوڑ سکتی….اور اس گھر میں نہیں رہ سکتی….” مہرماہ نے بے بسی سے کہا تھا
” اس گھر میں کیا مسئلہ ہے….”
” یہ اپکا گھر نہیں….”
” یہ میرے پوتے کا گھر ہے….تو میرا بھی تو ہوا نا….”
” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں…مگر میرا تو نہیں ہوا نا یہ گھر ….”
مہرماہ نے کہا یہاں اتنا اجنبی پن تھا….اور مونا کی آنکھوں کا سرد پن ….مہرماہ یہ سب نہیں برداشت کرسکتی تھی
” تو ٹھیک ہے جب ہم واپس اپنی حویلی جائیں گے تو تم ہمارے ساتھ چلوگی….”
میر برفت نے اسکا حل بتایا
” یہ سب باتیں ہم بعد میں کریں گے….ابھی آپ سوپ پئیں پھر میں آپکی زیتون کے تیل سے مالش کروں گی تو آپ دیکھئے گا آپ کتنی میٹھی نیند سوتے ہیں….” مہرماہ نے بات پلٹتے ہوئے کہا تھا
مگر اندر ہی اندر وہ انہیں منع کرنے کا سوچ چکی تھی
” لیکن میں آج سونا نہیں چاہتا میری بیٹی گھر آئی ہے آج تو میں تم سے خوب باتیں کروں گا….” میر برفت بچوں کے سے انداز میں بولے تھے
” اوہوں…..میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی …بس آپ پہلے آرام کریں کل ہم جب دھوپ میں بیٹھیں گے نا تو پھر آپ مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کیجئے گا….” مہرماہ نے انہیں پچکارا تھا
” پکا….” انہوں نے یقین دہانی چاہی
” ایک دم پکا….چلیں اب آپ سوپ پئیں اور مجھے بتائیں کہ آپکو کونسا ادب پڑھنا ذیادہ پسند ہے ….آج وہی پڑھیں گے…..” مہرماہ نے انکا نیپکن سیٹ کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا
وہ ایک نرم دل مسیحا تھا ….انس اسے یوں ہی تو نیک روح نہیں کہا کرتا تھا
جو دل کا اندر تک پڑھ لیتے ہیں اور اسے حکایت سمجھ کے یاد رکھتے ہیں
_____________________________________
انس گھر لوٹا تو آج وہ کونا سنسان تھا جہاں بیٹھ کے وہ اچھی لڑکی اسکا انتظار کرتی تھی
” آج اتنا سناٹا کیوں ہے….” انس نے پوچھا
” بھائی پہلے یہاں کونسے پٹاخے پھٹتے ہیں….” نیہا بیزاری سے بولی تھی
” یہاں محترمہ نیہا رہتیں ہیں جو پٹاخوں سے ذیادہ خطرناک واقع ہوئی ہیں اس لئے پٹاخے بھی ان سے پناہ مانگتے ہیں…” انس شگفتگی سے بولا تھا
” بھائی…..تم….” نیہا چڑی
” ارے ہٹو بھی….آج میری بچی گھر میں نہیں کتنا سونا سونا لگ رہا ہے گھر….” عالیہ افسردگی سے بولیں
“مہرماہ کہاں گئی….” انس نے پوچھا
” دادا کے ہاں….” ماوی نے بتایا
” تو اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے اماں آجائے گی….وہ…”
انس نے تسلی دی
” نہیں بیٹا اب اتنی آسانی سے کہاں….” عالیہ بیگم رنجیدگی سے بولیں
“تو ٹھیک ہے پھر مستقل بندوبست کرلیتے ہیں مہرماہ کو یہاں لانے کا…..ہمیشہ کیلئے….” انس نے برجستگی سے کہا
” کیا مطلب…..” نیہا نے آنکھیں نکالیں
” بھئی مہرماہ کو بھابھی بنا دیتے ہیں تمہاری…..” انس نے کہا
” سچ انس…..” عالیہ بیگم بے یقینی سے بولیں
انس مان گیا تھا شادی کیلئے…..
” ہاں اماں….” انس نے انہیں یقین دیا
” کیا …..!!!!!”
نیہا اور ماوی دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں تھیں
انس اور مہرماہ سے شادی ان دونوں کیلئے ناقابل قبول تھی ……
” انس بھائی تم ایسا نہیں کرسکتے…..” نیہا نے نفی میں سر ہلایا تھا.
جاری ہے
