Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05

اور یہ اسی شام کا قصہ ہے جب مہرماہ کو پہلی بار زندگی میں انتہا کا غصہ آیا تھا کھانے کی میز پہ سب جمع تھے انس کے علاوہ وہ اپنی ڈیوٹی پہ تھا اور کسی مشن پہ تھا جب سفیر صاحب نے مہرماہ کو مخاطب کیا تھا
“ماہ بچے آپ کا رزلٹ آگیا ہے آپ نے چیک کیا?”
” رزلٹ آگیا….” مہرماہ کا دل دھڑکا کچھ
اس نے ایم اے انگلش کے پیپرز دئیے تھے تعلیمی میدان میں اس نے سفیر صاحب کو ہی کاپی کیا تھا مگر اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اس نے ایم اے پرائیویٹ کیا تھا
” مجھے لگتا ہے تم نے چیک نہیں کیا” سفیر صاحب نے کہا
” بس ماموں یاد ہی نہ رہا”
“ان محترمہ کو گھاس اور کچن سے فرصت ملے تو یہ کچھ اور کرے” نیہا نے لقمہ دیا
” ہاں تو تمہاری طرح کتابیں ہی تو نہیں پھونکتی” عالیہ بیگم نے چوٹ کی
“اوہو کیا ہوگیا ہے آپ لوگوں کو…..مہرماہ مبارک ہو آپ نے ایم اے فرسٹ ڈویژن میں کیا ہے” سفیر صاحب نے اسے بتایا تو مہرماہ کے لبوں پہ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ آگئی تھی
” سو اب کیا ارادے ہیں تمہارے ….” سفیر صاحب نے پوچھا
“میں یہ چاول اور لے آؤں ماموں پہلے “
مہرماہ نے اجازت چاہی
“ہاں ضرور….”
” پاپا….مہرماہ کو براڈ کاسٹنگ میں انٹرسٹ ہے انفیکٹ اس نے اپلائی بھی کررکھا ہے ” نیہا نے بتایا
سفیر صاحب اور عالیہ بیگم نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا
” یہ بھلا کونسا شعبہ ہوا اور پھر ہمارے ہاں کتنی لڑکیاں پروگرام کرتیں ہیں ریڈیو پہ”
عالیہ بیگم نے اعتراض کیا
” تو اماں مجھ سے پہلے کتنی لڑکیاں انجینئر ہیں اس خاندان میں کچھ نہیں ہوتا کوئی ایک ہی پہلا ہوتا ہے تو آغاز ہوتا ہے” نیہا نے انکا اعتراض چٹکی میں اڑایا تھا
” شی از رائٹ عالیہ….یہ تو شروع سے ہی بہت معتبر فیلڈ رہی ہے اور ہمارے زمانے میں ریڈیو پہ کام کرنے والوں کی بڑی قدر ہوتی تھی باکمال لوگ سدا بہار آوازیں دن بھر کی ساری تھکن اتر جاتی تھی”
سفیر صاحب نے بھی حمایت کی
” اور پاپا وہ جو سدا بہار پرانے گیت ریڈیو پہ بجتے تھے تو جان کے آواز بڑھا دی جاتی تھی کہ محبوب سنا لے ….ہاؤ رومینٹک پاپا ہے نا اور اکثر تو صدا کار وہ گیت لگاتے تھے جسکا سننے کا شدید دل کرتا تھا”
نیہا نے انہیں پرانا وقت یاد دلایا
” پھر بھی مہرماہ کیسے…..” عالیہ بیگم نے کہنا چاہا
” اماں اگر آپ کو لگتا ہے کہ مہرماہ گھر کے کاموں سے منہ موڑ لے گی تو ایسا کچھ نہیں ہے اور ویسے بھی یہ کوئی روزانہ کی ڈیوٹی تو ہوتی نہیں ہے ہفتے میں دو یا تین پروگرام دو گھنٹے کے ہوتے ہیں”
نیہا کی تیاری پوری تھی
مہرماہ واپس آئی تو اسکے کانوں میں نیہا کے چند جملے پڑے تھے
” کس کی بات کررہی ہو نیہا”
” تم مجھے چھوڑو پاپا کچھ پوچھ رہے تھے “
” جی ماموں کہئے”
” میں نے پوچھا تھا تم جاب میں انٹرسٹ ہو تو کالج میں اپلائی کردو”
” نہیں ماموں میں گھر میں ٹھیک ہوں اور ضروری تو نہیں ڈگری جاب کیلئے ہی لی جائے”
” ہوں…جیسے تم چاہو نیہا نے بتایا تم نے ایف ایم پہ اپلائی کیا ہے بطور آرجے”
سفیر صاحب کی بات پہ مہرماہ نے حیرانگی سے سب کو دیکھا
” جی ماموں…..” مہرماہ نے بمشکل کہا
“بتایا بھی نہیں ہمیں” عالیہ بیگم نے شکوہ کیا
” اماں پہلے اسے سلیکٹ ہونے تو دیں اسی لئے نہیں بتایا” نیہا نے کہا
” کیا کہہ رہے ہیں آپ لوگ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا”
جبھی سفیر صاحب کا سیل بجا وہ ایکسکیوز کرتے سائیڈ پہ چلے گئے
” تم رکو ذرا میں بتاتیں ہوں” نیہا نے اسکا ہاتھ دباتے ہوئے سرگوشی کی
” کیا کھسر پھسر کررہی ہو نیہا”
” کچھ نہیں اماں….”
” مہرماہ بچے یہ اچانک سے کیا شوق چڑھا تم نے بتایا ہی نہیں کبھی تمہیں ریڈیو کا شوق ہے”
مہرماہ پاگلوں کی طرح دونوں کی شکل دیکھنے لگی تھی
سفیر صاحب کی واپسی ہوئی تھی
” مہرماہ بچے ریڈیو سے کال کی تھی چار دن بعد آڈیشن کیلئے جانا ہے آپ نے”
” میں نے ” مہرماہ نے اپنی طرف اشارہ کیا
” تم میرے ساتھ آؤ” نیہا نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا
” نیہا یہ کیا بول رہے ہیں ماموں کس پروڈیوسر نے کال کی ہے ….کیا بکواس ہے یہ”
مہرماہ غصے سے بولی تھی
” ریلیکس ہوجاؤ مہرماہ….میں نے تمہارا سی وی ڈراپ کیا تھا چینل نے آڈیشن اناؤنس کئے تھے مجھے لگا یہی بہترین موقع ہے”
” کونسا چینل اور کیسا موقع نیہا تم حد کرتی ہو “
“جس چینل پہ ہالار جاذب ہوتا ہے اس چینل پہ”
” تم پاگل تو نہیں ہوگئیں نیہا….یہ کیا حرکت ہے میں نہیں جاؤنگی”
” کیا حرکت ہے کوئی جرم نہیں مہرماہ یہ تم کیا سمجھتی ہو تم ساری زندگی جھولے پہ بیٹھ کے اسکے پروگرام سن کے زندگی گزار دوگی تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا اپنی محبت کو ثابت کرو”
” تم کیا چاہتی ہو نیہا کہ میں ہالار جاذب کے سامنے جا کے کھڑی ہوجاؤں اور اس سے اپنی محبت کی بھیگ مانگون….میں کبھی ایسا نہیں کروں گی “
مہرماہ کی رگیں کھینچ گئیں تھیں تنفس تیز ہوچلا تھا
” میں نے کب کہا ہے یہ سب اسے کے پاس اسکے قریب کسی بھی طرح اسکے سامنے ہوگی تم تو ہی وہ تمہاری محبت کی خوشبو کو محسوس کرپائے گا ….ورنہ تمہیں کیا لگتا ہے مہرماہ کہ اسے خواب آئے گا کہ اس شہر کی ایک پاگل دیوانی اسکی محبت میں گھائل ہے آج سے نہیں تب سے جب اسے محبت کے مفہوم بھی معلوم نہ تھے”
نیہا دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے بولی تھی
“اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آڈیشن ہالار جاذب ہی لے گا”
” ہالار جاذب آج سے نہیں پندرہ برس سے اس چینل پہ ہے ایک ایکسپیرینسڈ آرجے ہے وہ لازمی ہوگا کیونکہ وہ وہاں سب سے سینئر ہے اور یہ چینلز کی پالیسی ہوتی ہے کہ وہ انہیں آڈیشن کیلئے رکھتے ہیں”
نیہا کے پاس ہربات کا جواب تھا اس نے ہرطرح کی ریسرچ کی تھی
صرف ایک محبت کے واسطے
ایک مہرماہ کے واسطے
اس سے مہرماہ کی یہ بے سبب رفاقت کے دکھ نہیں دیکھے جاتے تھے
” جو بھی ہو نیہا میں نہیں جاؤں گی ….میں نے کبھی یہ نہیں سوچا ایسے تو بالکل نہیں”
مہرماہ نے صاف انکار کیا تھا
” نہیں مہرماہ اب ایسے نہیں چلے گا تم تئیس برس کی ہونے والی ہو پاپا اماں جلد ہی تمہیں بیاہ دیں گے اور تم کچھ نہیں کرسکو گی مگر اندر سے مرجاؤ گی “
” نیہا…..میں نہیں جاؤنگی” مہرماہ کی ایک ہی رٹ تھی
” تم نہیں جاؤ گی تو میں چلی جاؤں گی مہرماہ….اور ہالار جاذب کو سب بتادوں گی تم اور تمہاری محبت جو تمہیں اس سے ہے اس سے کہوں گی کہ آئے اور آکے دیکھے کہ کون کس طرح محبت میں دیوانہ ہوتا ہے”
نیہا نے دھمکی دی
” تم ایسا نہیں کر سکتیں “
” میں ایسا کروں گی ماہ اگر تم نے یہ نہ کیا “
” مگر ایسے کیسے”
” لک ماہ یہ زندگی ہے اور جو ہم چاہتے ہیں وہ ہمیں تبھی ملتا ہے جب ہم کوشش کریں تم بھی کرو کوشش اتنے سالوں سے تم نے اس سے محبت کی ہے لیکن ایک اس کے نام کے سوا تم کچھ نہیں جانتیں وہ کون ہے کیسا ہے یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ پہلے سے شادی شدہ ہو ….اسکی زندگی میں کوئی اور ہے یہ ایک طرح کا جوا ہے اسے کھیل لو ماہ ورنہ ساری زندگی ختم ہوجائیگی مگر یہ سراب نہیں ختم ہوگا”
” مجھے اس سے نہیں فرق پڑتا کہ اس کی زندگی میں کوئی بھی ہو”
” ہاں مجھے معلوم ہے ماہ کے تم بہت کھلے دل کی ہو ….لیکن تم انٹرویو کیلئے جارہی ہو سلیکٹ ہوتی ہے کہ نہیں ایٹ لیسٹ دیکھ ہی لینا کہ وہ دکھتا کیسا ہے “
” نیہا …..میں یہ کیسے کروں گی”
” تم گاؤں کی گنوار نہیں ہو پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہو ….اعتماد سے سب ہینڈل کرنا ….اور یاد رکھنا اگر تم نہیں گئیں تو میں لازمی جاؤں گی اب “
نیہا نے پھر وارننگ دی
مہرماہ تھک کے وہیں نڈھال سی ٹھنڈے فرش پہ بیٹھ گئی تھی
نیہا کو اپنی بات منوانی آتی تھی اور مہرماہ کو ہمیشہ دوسروں کی ہی ماننی آتی تھی سو اب اسے وہی کرنا تھا جو نیہا نے کہا تھا
_____________________________________
” ہالار…..ڈی سی صاحب نے تمہیں بلایا ہے” پروگرام منیجر نے آف ائیر ہالار سے کہا تھا
” خیریت….” ہالار نے ہیڈ فون لوز کئے
” ہاں ….بٹ وہ کچھ ڈسکس کرنا چاہتے ہیں “
” اچھا….” ہالار نے گھڑی پہ وقت دیکھا بریک تھی کمرشل اس نے دو سونگ کیو شیٹ سے لائن اپ کئے پھر ڈیوٹی آفیسر کو بتا کے ڈی سی صاحب کے آفس چل دیا
” سر….” ہالار نے ناک کیا
” اوہ یس ہالار آؤ” .
“آپ نے یاد کیا خیر تو ہے نا”
” ارے بھئی خیر ہے ….یہ تو تمہیں معلوم ہی ہوگا کہ ہم نے آڈیشن اناؤنس کئے ہیں”
انہوں نے تمہید باندھی
” جی ….تو میں کیا کرسکتا ہوں”
” ہالار ہم چاہتے ہیں اس بار آپ ہمارے ساتھ آڈیشن لیں”
” آپ جانتے ہیں میں آڈیشن نہیں لیتا”
ہالار ناگواری سے بولا
” آئی نو مگر یو آر دا موسٹ ٹیلینٹڈ آرجے ….اصل میں عثمانی ان دنوں امریکہ میں ہے اور وجیہ اکیلی ہے پہلے یہ دونوں دیکھتے تھے آڈیشن “
ڈی سی صاحب نے وجہ بتائی
” آپ جانتے ہیں میں اس طرح نہیں کرسکتا” ہالار کے کام کرنے کی ٹرم اور کنڈیشن سے واقف تھے سب
” لک ہالار آئی نو….ویسے بھی سب پہ اتنا پریشر ہوگا کہ کوئی دھیان نہیں دیتا کہ کس نے انٹرویو کیا ….ہم نہیں بتائیں گے کہ ہالار آڈیشن لے گا”
” اوکے ….کب ہے آڈیشن “
” پرسوں” ڈی سی صاحب نے شکر کیا کہ وہ مان گیا تھا
” میں چلتا ہوں سونگز بیک ٹو بیک کئے تھے
” ویل تھینکس جنٹل مین”
“_ویلکم سر”
______,,,,,_____________________________
” کیا ہوا گھبرا رہی ہو”
نیہا نے مہرماہ کو ہاتھ مسلتے دیکھ کے کہا
” ہاں تھوڑی بہت….”
” کوئی بات نہیں سب ایسے ہی ہیں”
نیہا نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا سب یوں ہی نروس تھے سو کے قریب آڈیشن دینے والے تھے بس ایک نیہا ہی ٹانگ پہ ٹانگ دھرے سکون سے بیٹھی تھی
” کہاں پھنسا دیا نیہا” مہرماہ نے کہا
” کہیں نہیں کتنے مزے کی جگہ ہے یہ بس ریلیکس ہوجاؤ….تمہارے لئے دیکھو یونی کی چھٹی کی ہے” نیہا نے جیسے ایٹم بم کا فارمولہ بتایا تھا
” میں نے کہا تھا کرو….یہ گند بھی تم نے پھیلایا ہے نا”
مہرماہ تنک کے بولی تھی
” ماں صدقے جائے…کیا ہوا لگی ہے ریڈیو کی ابھی تم اسٹوڈیو کے باہر ہو سوچو جب اندر جاؤ گی تو کیا تباہی مچاؤ گی….اف تمہاری آواز اور انداز” نیہا لہک کے بولی تھی
وہ مسلسل اسے ریلیکس کررہی تھی اور کافی حد تک کامیاب ہوگئی تھی اپنا نمبر آتے آتے مہرماہ کا اعتماد لوٹ آیا تھا ویسے بھی وہ آج پہلی بار یوں اس طرح عملی میدان میں قدم رکھنے جارہی تھی
اپنی کال آنے پہ وہ اٹھ کے اندر بڑھی تھی نیہا نے انگوٹھے سے بیسٹ آف لک کا اشارہ کیا تھا
مہرماہ کو کچھ ٹاپکس دے کے بولنے کو کہا گیا تھا مہرماہ ریڈیو ایک عرصے سے سنتی آئی تھی سو وہ ہر پروگرام کے فارمیٹ کے نو ہاؤز جانتی تھی
” آپ ایک ملوڈیس شو کے لئے بول رہیں ہیں آپ کی آواز کا میڈیم اچھا ہے مگر آپ بہت تیز تیز بول رہی ہیں اور مائک سے چہرہ دور کرکے بولیں یوں آپ کی آواز میں گونج پیدا ہورہی ہے” .وہ جو بھی تھا مہر ماہ کے پیچھے سے بولا تھا مہرماہ کا ہاتھ کانپا اس نے پلٹ کے دیکھا اسے بول کے وہ بے پروائی سے اپنا سروس کارڈ اتار رہا تھا
” یہاں آجائیں….” .
آڈیشن لینے والی نے بنا نام لئے اسے مخاطب کیا
” تھینکس…..مس ہادیہ”
” سو مہرماہ…..آپ کا ٹیمپو تو اچھا ہے …..اچھا تو یہ بتائیں آپ رومینس کو کیسے ڈیفائن کریں گی “
یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ مقابل میں کتنی صلاحیت ہے اپنا مدعا مہذبانہ انداز میں بیان کرنے کا
مہر کی نظر مقابل کے ہاتھوں پہ یوں ہی ٹکی تھی سرخ وسپید لانبی آرٹسٹک انگلیوں والے ہاتھ جن پہ رواں چمک رہا تھا اس کے دونوں ہاتھوں کے نیچے اسکا آئی ڈی کارڈ دبا تھا
” ہالار جاذب” یہ نام مہرماہ کی نگاہوں کے سامنے لہرایا
یہ سامنے بیٹھا شخص ہالار جاذب تھا جس سے مہرماہ کو عقیدت کی حد تک محبت تھی مہرماہ نگاہ اٹھا کے اسکے چہرے کو بھی نہ دیکھ سکی
بلا ارادہ ہی اس کے منہ سے نکلا تھا
“I can imagine my cold hands in his warm hands”مہرماہ جذب بھری کیفیت میں بولی تھی
نگاہیں ان ہاتھوں پہ ہی ٹکیں تھیں
“ویری نائس …..مہرماہ اٹس جسٹ واؤ…” ہادیہ توصیفی لہجے میں بولی تھی
کتنے اچھے انداز میں اس نے رومانیت کو بیان کیا تھا
نہ کوئی گھٹیا شعر کہا تھا نہ چیپ سا گانا بس دو لفظوں میں سب سمیٹا تھا
ہالار نے چونک کے اسے دیکھا تھا میرون شال لپیٹے وہ لانبی پلکوں والی لڑکی کچھ گھبرائی سی اور متاثر کن لہجے والی متاثر کن تھی اب تک جو جواب اس نے دئیے تھے ہالار کو وہ سب سے بہتر لگی تھی
” محبت کیا ہے مس مہرماہ”
ہالار نے یونہی پوچھا تھا
“کسی کے ہوگئے جب سے,ہمیں فرصت نہیں ملتی
محبت ایسا پیشہ ہے جہاں رخصت نہیں ملتی”
مہرماہ نے آج کل میں سنے جانا والا شعر پڑھا تھا روایتی اشعار کے بجائے
“پر آج کل تو لوگ رخصت لے لیتے ہیں نئی محبت کیلئے….بلکہ ایک ساتھ کافی”
” تو یہ محبت نہیں ہوتی یہ محبت کے نام پہ دھبا ہے سر….محبت تو پگھلتی چاندنی بکھرتی خوشبو جیسی ہے لاکھ اماوس کی راتیں ہوں خزاں کی شامیں ہوں محبت کا احساس ہرپل ساتھ رہتا ہے”
مہرماہ نے اب کی بار اسکی آنکھوں میں دیکھا اور یہ دیکھنا ہی غصب ہوگیا تھا
بھوری آنکھوں میں کمال کی جاذبیت تھی بھورے بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے کشادہ پیشانی اور لبوں پہ نفیس سی مسکراہٹ مہرماہ نے یوں ہی تو ہالار جاذب پہ تو دل نہیں ہارا تھا
” ہالار تم کیا کو ہوسٹ ڈھونڈ رہے تھے اپنے شو کیلئے ” ہادیہ نے پوچھا
” نہیں کیوں ….” ہالار نے ابرو اچکائے
” ایسے سوال جو کررہے تھے اس سے”
” میں یوں ہی ایک جرنل بات کررہا تھا “
” تم نے فائل نہیں دیکھی اس کی…مجھے تو یہ لڑکی کافی سوٹ ایبل لگی”
“میں بس آپ کا ساتھ دے رہا ہوں یہی بہت ہے باقی آپ دیکھ لیں”
اور اگر ہالار جاذب نے مہرماہ سیال کا فائل دیکھ لیا ہوتا تو اسکی تلاش ختم ہوجاتی اور باپ کی کی ہوئی غلطی کا مداوا بھی ہوجاتا
____________,_______________________,_
” ہوگیا آڈیشن….” نیہا نے پوچھا
” ہوں…” مہرماہ کے چہرے پہ گلال سا بکھرا
” دیدار یار ہوا…” نیہا نے پوچھا
“ہوں…”
” کیا ہوں ہوں لگا رکھی ہے سیدھا طرح بتاؤ نا “
” اور کیسے بتاؤں” .
” لڑکی ….مجھے بتاؤ نہ کیا فیل کررہی ہو”
“بس میں تھک گئی ہوں مجھے گھر جانا ہے پلیز میں نے اپنی ہمت سے زیادہ کیا ہے”
مہرماہ کا لہجہ بھیگ گیا تھا محبوب کا جلوہ ہر کوئی برداشت نہیں کرسکتا یہ تو ازل سے طے تھا
_____________________________________
” سنا ہے لوگ آج کل جاب کررہے ہیں” انس آج ہفتے بعد لوٹا تھا
” تو تمہیں کیا ہے بھائی” نیہا بدمزہ ہوئی تھی وہ اس وقت مہرماہ کی ریکارڈنگ سن رہی تھی
” مجھے کیا ہونا ہے کچھ بھی تو نہیں…. اچھی لڑکی تم بھی کام والی ہوگئی”
انس نے مہرماہ پہ لطیف سا طنز کیا
” بھائی بس اب کب تک وہ تمہاری بیوی کے حصے کے کام کرے لوگ تو اب اڑنے کی تیاری کرنے لگے ہیں” نیہا نے جوابا چوٹ کی
” ایسا نہیں ہے بس یوں ہی….میں نے چاہا کہ یہ کرلوں” مہرماہ ہولے سے بولی
“کوئی نہیں اڑنے والا ڈئیر سسٹر….کچھ چڑیاں ہمیشہ ایک ہی آسمان پہ پرواز کرتیں ہیں ” انس نے مہرماہ کو دیکھتے ہوئے کہا
انس کے جذبے اب آنکھوں سے جھلکنے لگے تھے .
” تم تو بھائی رہنے دو ٹھرے فوجی بندے” نیہا نے مکھی اڑائی
” اور فوجی سب جیت لیتے ہیں تم فکر نہ کرو لوگ اڑ نہیں سکتے ہم فوجی ہیں نا “
انس کی بات پہ مہرماہ کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا تھا
کانچ کی کرچیاں دور تک بکھریں تھیں اور مہرماہ کے دل کی بھی کرچیاں شاید.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *