Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22
“آپ کا بی پی تو اب کافی نارمل ہے اور ہارٹ بیٹ بھی کافی بہتر ….”
میر جاذب میر برفت کا چیک اپ کرتے ہوئے بولے
” یہ سب مہرماہ کی کئیر کا نتیجہ ہے…..” میر برفت نے چائے لیتی مہرماہ کو دیکھ کے کہا
” ہاں یہ تو ہے….مہر ماہ نے بہت اچھے سے آپ کو کیری کیا ہے….”
میر جاذب ستائشی انداز میں بولے تھے
ورنہ میر برفت کی فطرت سے وہ واقف تھے جو بیماری میں کسی کے قابو نہیں آتے تھے حد سے ذیادہ چڑچڑے ہوجاتے تھے
” تھینکس مہرماہ… ” میر جاذب بولے
” تھینکس کیسا…..تایا ابو….یہ تو میرا فرض تھا…” مہرماہ سادگی سے بولی تھی
اور مہرماہ ہمیشہ فرض کی ادائیگی میں اپنے حق کی وصولی بھول جاتی تھی
“سو نائس مہرماہ….”
میر جاذب بولے
” میں کچن دیکھ لوں عائشہ چچی اکیلی ہیں….وہاں”
حسب عادت مونا بیگم نے کچن میں پاؤں نہیں دھرنا تھا یہ تو طے تھا
اور مہرماہ کو اول دن ہی محسوس ہوگیا تھا یہ
” میر جاذب…..” میر برفت نے پکارا
” جی بابا….”
” میر عدیل کے بارے میں کیا سوچا ہے….مطلب اسکی شادی”
میر برفت نے پوچھا
” سوچنا کیا ہے بابا….آپکی جو مرضی ویسے مونا کا ارادہ اپنی بھانجی سبین کا ہے” میر جاذب نے بتایا
” اسے چھوڑو…..ہالار نے اپنی مرضی نہ کی ہوتی تو ہم اسکا اور مہرماہ کا رشتہ طے کردیتے لیکن خیر میر عدیل اور میر ہمدان تو ہیں مہرماہ کے جوڑ کے…..ان دونوں میں سے کسی ایک کی نسبت مہرماہ کے ساتھ ٹھرا دیتے ہیں کیا خیال ہے….” میر برفت نے پوچھا
” ابا جان مہرماہ کو یہاں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں….اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے سفیر بھائی کا ارادہ اپنے بیٹے کیلئے ہو…” میر جاذب نے اپنا خیال بتایا
” بس میر جاذب یہیں خاموش ہوجاؤ…..ہماری پوتی جتنا وہاں رہ سکتی تھی رہ چکی….اب دوبارہ وہ اس گھر میں قطعی نہیں جائیگی کسی نئے رشتے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں…..” میر برفت نخوت سے بولے تھے
انکا انداز انکی حقارت اور بیزاری کو ظاہر کررہا تھا
اور آج سفیر صاحب فون کرکے انس کا رشتہ مہرماہ کیلئے طلب کررہے تھے
یعنی اب میر ہاؤس میں دبی ہوئی چنگاری کو ہوا ملنے والی تھی
” سفیر بھائی یہ بہت مشکل ہے…..بہرحال میں آپکو سوچ کے بتاتا ہوں بابا کو کیسے ہینڈل کرنا ہے “
میر جاذب پریشانی سے بولے تھے
انکی زندگیوں میں آدھے مسئلے باپ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھے
______________________________
” آج دھوپ بہت اچھی ہے….اس لئے ہم آج دھوپ میں بیٹھ کے کچھ کھاتے ہیں اور میں آپ کو شہاب نامہ بھی سناؤں گی…..” مہرماہ میر برفت سے بولی تھی جو کرسی پہ بیزاری سے بیٹھے تھے
” مجھے شہاب نامہ نہیں پڑھنا…..” میر برفت نے صاف انکار کیا
” تو ٹھیک ہے …A tale of two cities پڑھ لیتے ہیں” مہر ماہ نے شیلف سے مطلوبہ کتاب برآمد کی اور پھلوں کی ٹوکری دوسرے ہاتھ میں اٹھائی تھی
آج چھٹی کا دن تھا لہذا سب گھر پہ تھے اور مہرماہ میر ہالار کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی
باہر لان میں سنہری روپہیلی نارنجی دھوپ پھیلی ہوئی تھی مہرماہ نے میر برفت کو کرسی پہ بٹھایا اور خود نیچے سبز گھاس پہ جوتے اتار کے بیٹھ گئی تھی
اس سنہری دھوپ میں یوں بیٹھنا اسے پسند تھا
” کیا دیکھ رہے ہو….” ثمر نے ہالار سے پوچھا
جو ٹیرس پہ کرسی پہ بیٹھا اخبار پڑھ کے شاید سنڈے انجوائے کررہا تھا
لیکن ابھی وہ مہرماہ اور میر برفت کو دیکھ رہا تھا مہرماہ انہیں کوئی کتاب پڑھ کے سنا رہی تھی اور میر برفت کے تھیکے نقوش میں جو نرمی گھلی تھی وہ شاید صرف مہرماہ کیلئے مخصوص تھی
” اس لڑکی کا خمیر اٹھا ہی محبت سے ہے…..” ہالار نے مہرماہ کو دیکھ کے سوچا
” اوہ بھائی آپ سے بات کررہا ہوں….” ثمر نے اسکا شانہ ہلایا
” دیکھ رہا ہوں دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صرف محبت کرنا جانتے ہیں اور اسی کو مقدم مانتے ہیں….”
ہالار نے کہا
” یہ خیال یقینا اس کزن کو دیکھ کے آیا ہوگا….” انگلی سے ثمر نے مہر کی طرف اشارہ کیا
“ہاں تقریبا….”
ہالار نے گول مول جواب دیا
” ویسے مجھے مہرماہ بہت سلجھی ہوئی لگیں….مینز لڑکیاں ایسی آج کل کہاں ہوتیں ہیں….” ثمر ستائشی انداز میں بولا
” ہنہ….کہتے تو تم ٹھیک ہو ایسے لوگ احساس کی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں….جو محسوس ہی توجہ پہ ہوتے ہیں پرائم روز کی طرح….ذرا سی شفقت انہیں کھلا دیتی ہے…اور بے رخی پہ شکوہ کیے یہ چپ چاپ رخصت ہوجاتے ہیں…..”
میر ہالار کا لہجہ کھویا کھویا سا تھا
کیا محبت کی پہیلی کے اسرار میر ہالار پہ کھلنے والے تھے…..!!!!!!!
” مہر ماہ جتنی اچھی ہے نا آئی ایم شیور اسے بھی کوئی اتنا کئیرنگ کوئی ملے…..” ثمر نے رائے دی
” وہ تو ملے گا ہی…..” ہالار نے زیر لب کہا تھا
نکلتی سنہری دھوپ نے تھک کے اس اچھی لڑکی کو دیکھا تھا اور تھک کے اپنے پر سمیٹ لیے تھے
______________________________
” اوہ میر ہالار آپ…..فرمائیں…” نیہا اسے دیکھ کے ٹھٹکی تھی
” آپ سے کچھ باتیں کرنیں ہیں…..” ہالار بولا
” فرمائیے….مگر ذرا جلدی میری کلاس ہے….” نیہا نے گھڑی دیکھی
” اس دن آپ نے وہ شرط کیوں رکھی تھی…..” ہالار نے پوچھا
” حیرت ہے آپ جیسا ذی ہوش انسان ابھی تک یہ سمجھ نہیں پایا….” نیہا نے آنکھیں پھیلائیں
” نیہا میرے پاس تمہاری پہلیاں بوجھنے کا وقت نہیں ہے…اس لئے صاف بات کرو…..” ہالار بیزاری سے بولا تھا
” آپ جانتے ہیں میر ہالار میں نے ایسا کیوں کیا…..آپ کو معلوم ہے مہرماہ آپ سے محبت کرتی ہے آج سے نہیں پچھلے سترہ برس سے ….دیوانگی کی حد تک….عقیدت کی انتہا تک…” نیہا چٹخ کے بولی تھی
“تو اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ ہر وہ لڑکی جسے مجھ سے محبت ہے آپ اسکا نکاح مجھ سے کرادیں گی….نیہا آپ نے بہت امیچور حرکت کی ہے…”
ہالار ناگواری سے بولا
” مانا کہ یہ حرکت امیچور تھی….مگر اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا….مہر ماہ آپ سے محبت کرتی ہے ہالار صاحب میں نہیں….ایک مرد کیلئے یہ بڑے مرتبے کی بات ہوتی ہے کہ اسکی بیوی ساری زندگی اسے ایک شاہ کا درجہ دیتے ہوئے کنیز کی طرح اپنا آپ وار دے…..مہر ماہ ایسی ہی ہے میر ہالار اسکا ساتھ باعث فخر ہوگا آپ کیلئے یقین مانیں…..” نیہا اسے سوچوں میں ڈوبا چھوڑ کے جاچکی تھی
کچھ لوگوں کی اچھائیاں…..دوسروں کیلئے عذاب بن جاتیں ہیں….حالانکہ وہ دوسروں کی خوشیوں کیلئے سب کرتے ہیں
مگر جب وقت بیت جائے تو بنجر زمینوں پہ بارش برسنے کے باوجود فصلیں نہیں اگتیں…….
______________________________
” چچی….اس میں چیز کتنا ڈالوں….” مہرماہ نے عائشہ سے پوچھا تھا
” بس یہ جو اس باؤل میں ہے بس یہ ڈال دو…..ہالار کو تو چیز ذیادہ پسند نہیں ہے….” عائشہ نے وجہ بتائی
مہر سر ہلا کے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئی تھی
کیا فرق پڑتا تھا کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں…..!!!!!!!!
“مہر ماہ ….” عائشہ نے اسے پکارا
” جی….”
” ایک بات پوچھوں….”
” جی کہئے….”
” ہالار سے تمہارا کوئی جھگڑا ہے….”
” نہیں تو آپکو ایسا کیوں لگا….”
انکے درمیان سرد خلیج سب کو محسوس ہونے لگی تھی
” اچھا….جب بھی ہالار کا ذکر آتا ہے تم یوں ہی چپ ہوجاتی ہو….” عائشہ نے وجہ بتائی
” نہیں چچی….میں کسی کے بارے میں کیا رائے دے سکتی ہوں…” مہرماہ رخ بدلتے ہوئے بولی تھی
عائشہ نے سر ہلادیا تھا….واقعی یہ ایک اچھی عادت تھی کہ وہ دوسروں کی طرح کسی کے معاملے میں نہیں بولتی تھی
______________________________
” دادا….آپکی طبیعت کافی بہتر لگ رہی ہے اب….” ہالار انکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا تھا
” ہاں اللّه کا شکر ہے….تمہیں فرصت مل گئی ….” میر برفت طنزیہ بولے
” کچھ ناراض ہیں…..خیریت…” ہالار چونکا
” کیا فرق پڑتا ہے…..تم تو اپنے فیصلے خود کرنے کے عادی ہو …”
میر برفت بولے
“اگر آپ اس وجہ سے ناراض ہیں کہ میں نے نیہا سے شادی کا فیصلہ کیا تو.ٹھیک ہے میں اسے بدل دیتا ہوں اور آپکی بات ماننے کو تیار ہوں….” گرگٹ بھی کیا رنگ بدلتا ہوگا جو میر ہالار نے بدلا تھا
جب کوئی آپ سے آپ سے ذیادہ محبت کرے تو مرد کیلئے یہ واقعی مقام فخر ہوتا ہے….
” اور وہاں کیا جواب دو گے.. ” میر برفت نے پوچھا
” دریا کے دو کنارے اب ساتھ چل بھی نہیں سکتے….ہم دونوں نے اپنے راستے الگ کرلیے ہیں…” ہالار نے سنجیدگی سے کہا تھا
” تو ٹھیک ہے ہم شام.میں تمہاری اور مہرماہ کی نسبت کا اعلان کردیتے ہیں …” میر برفت قطعیت سے بولے تھے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ دوسری طرف کیا اثر پڑے گا…..
اور لوگ اتنے سنگدل کیوں ہوتے ہیں….کہ دل بھی انہی کا توڑتے ہیں جن سے وہ محبت کرتے ہیں.
جاری ہے
