Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24
ہیں دل کے رستے دشوار بہت…..جس نے بھی کہا تھا ٹھیک کہا تھا دل کے کہنے پہ چلنے والوں کی قمست میں نارسائی ہی نہ جانے اکثر کیوں ہوتی ہے…..مگر یہ مکمل حقیقت نہیں ….ہار تو وہ بھی جاتے ہیں جو دماغ اور ذہانت کے بھروسے پہ رہتے ہیں
مگر مہرماہ وہ تو ازل سے ہی دل کے رستوں کی مسافر تھی اور منزل نہ جانے کہاں تھیں ڈھونڈیں اس نے کہاں کہاں تھیں
اک عرضی محبت
مستقل نبھائی ہے ہم نے….!!!!!
سترہ برس یوں ہوا میں تحلیل ہوئے تھے کہ انکے نام و نشان ڈھونڈے سے بھی نہ ملیں
بس اب اور کج ادائیاں برداشت نہیں ہوئیں تھیں….ساری زندگی اس نے دیا تھا….لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کچھ لینے کی چاہ نہیں ہو ہی نہیں سکتا تھا ….یہ فطرت کے اصولوں کے خلاف تھا….وہ آدم کی نشانی تھی….بنت حوا تھی….جیتی جاگتی انسان….اس کے بھی کچھ خواب تھے…کچھ ارمان تھے…جنہیں ساری زندگی اس نے سب پہ وارا تھا….
تھک گئی تھی مہرماہ سیال
ٹوٹ گیا تھا اس کا دل ….ایک بار نہیں بار بار…اپنوں کی محبت اتنا بھی آزماتی ہے اسے یہ اندازہ بھی نہ تھا
جن کی محبت میں وہ اسپتال کے بستر تک آن پہنچی تھی …..
ڈاکٹرز نے اسے ایمرجنسی سے آئی سی یو میں شفٹ کیا تھا
” تم آخر بتاتے کیوں نہیں ہوا کیا ہے اسے….” میر برفت لاٹھی کے سہارے بمشکل کھڑے ہوتے ہوئے بولے تھے
وہ انہیں بہت عزیز تھی….یوں اچانک اسے ہوا کیا تھا وہ خود بھی سمجھ نہیں پائے تھے
اور یہی تو سارا مسئلہ تھا کہ وہ کبھی سمجھتے ہی نہیں تھے…
” بابا….ڈاکٹرز دیکھ رہے ہیں ابھی….اللّه خیر کرے گا….آپ بیٹھ جائیں بلکہ آپکو تو آنا ہی نہیں چاہئیے تھا …..” میر جاذب خود کو کنٹرول کرتے ہوئے بولے
ورنہ دل تو کررہا تھا کہ صاف کہہ دیں کہ یہ سب آپکی وجہ سے ہے….مگر پھر انکا احترام آڑے آجاتا تھا
“ارے کمال کرتے ہو کیسے ڈاکٹر ہو….جسے کچھ پتہ ہی نہیں….اور ہم آرام سے بیٹھ جائیں ادھر ہماری بچی مشکل میں ہے…..”
میر برفت چڑ کے بولے
” بابا….اسے ہارٹ اسپیشلیسٹ کی ضرورت ہے اور میں ہارٹ اسپیشلیسٹ نہیں ہوں……” میر جاذب نے وضاحت کی
” دادا….آپ یہاں آئیں سکون سے بیٹھیں….سب ٹھیک ہوجائے گا….” ہالار صورت حال کشیدہ دیکھ کے آگے بڑھا تھا اور میر برفت کو ایک طرف لے گیا تھا
اسپتال وہ سب ہی جمع تھے انس کو بھی سفیر صاحب نے کال کی تھی لیکن وہ بیس میں تھا اور اسکا کوئی فلائٹ آپریشن تھا مگر دل میں مہرماہ کی فکر تھی ….
خدا تمہیں اچھی زندگی دے…..اچھی لڑکی
افق کی بلندیوں پہ پرواز کرتے انس سفیر نے دل سے دعا کی تھی
اور
دل سے جو دعا نکلتی ہے وہ لازمی اثر کرتی ہے نا ….چاہے دیر سے ہی سہی
__________________________
” ڈاکٹر جاذب…..”
ڈاکٹر کی آواز پہ وہ فورا پلٹے تھے
” یس….ڈاکٹر”
سارے ڈاکٹر کی ہی طرف دیکھنے لگے تھے
” آپ ذرا میرے ساتھ آئیں….مجھے پیشنٹ کی کیس ہسٹری ڈسکس کرنی ہے….”
اس بات پہ میر جاذب نے سفیر یوسف کو بھی آنے کا اشارہ کیا تھا ظاہر ہے مہرماہ نے ساری زندگی ان ہی کے ساتھ ہی گزاری تھی تو اسکی ہر خبر انہیں معلوم ہونی تھی
” مہر ماہ کو کبھی لائٹ سی بھی پرابلم ہوئی ہے ہارٹ کی….یا بی پی پرابلم….”
ڈاکٹر نے پوچھا تھا
” نو ڈاکٹر….وہ اب تک ایک صحت مند زندگی گزارتی آئی ہے…اسے تو موسمی بخار بھی بہت کم ہوتا تھا….”
سفیر یوسف سنجیدگی سے بولے تھے …مہر ماہ کا اسطرح سے اسپتال آنا انکو بھی سمجھ نہیں آیا تھا
” ہوں….عموما ٹینشن اور پریشر کا اثر ہمارے نروس سسٹم پہ ہوتا ہے….مگر مہرماہ کے کیس میں انکا دل بھی متاثر ہوا ہے….”
” دل….بھی سے کیا مراد ہے آپکی…”
میر جاذب بولے
” مہر ماہ کے اعصاب پہ بھی افکٹ ہوا ہے….بٹ انکا ہارٹ بلڈ سرکولیشن صحیح سے نہیں کرپارہا اور ہارٹ بیٹ بھی بہت لو ہے….شی از انڈر آبزرویشن…..جب تک وہ خطرہ سے باہر نہیں آجاتیں….بٹ ایسی بھی کیا ٹینشن تھی انہیں….کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی کریٹیکل سیچوئشن….”
ڈاکٹر حیرانگی سے بولے تھے
” اس بات پہ تو ہم بھی حیران ہیں….بظاہر سب ٹھیک تھا اسکی لائف میں پھر یوں اچانک….!!!!”
میر جاذب الجھ کے بولے تھے
کیا ماجرا تھا یہ….
ہالار کا انکار کر کے مان جانا….
اور
مہرماہ کا یہ کیفیت صرف ہالار سے نسبت ہونے کا سن کے ہو نہیں سکتی تھی
کوئی اور بات ضرور تھی ….!!!!!
میر جاذب سوچ میں ڈوبے رہ گئے تھے
_____________________________________
” اماں …ریلیکس ہوجائیں….سب ٹھیک ہوجائے گا….” نیہا تھک گئی تھی
عالیہ بیگم کو چپ کراتے کراتے جو گھر آکے مسلسل رو رہیں تھیں….سفیر یوسف نے ان دونوں کو گھر بھیج دیا تھا
انس سے فی الحال کوئی رابطہ نہیں تھا انکا…اور اس صورت حال میں وہ چاہتے بھی نہیں تھے کہ انس کو دیکھ کے خواہ مخواہ کی بدمزگی ہو اور پھر گھر میں ماوی بھی اکیلی تھی حالانکہ سب نے کہا تھا اسے ساتھ چلنے کو مگر کوئی کیسے اپنے ہی ارمانوں کو سولی چڑھتے ہوئے دیکھ سکتا تھا
سو ماوی بھی نہیں گئی تھی
” کیا ہوا آپ لوگ آگئے….!!!!اور خالہ آپ کو کیا ہوا…”
ماوی چونکی
” مہرماہ ہاسپٹلائزڈ ہے….” نیہا نے مختصرا بتایا
” مہر ماہ….”
ماوی دو قدم پیچھے ہوئی تھی تو کیا اسکے حسد نے اپنا رنگ دکھا دیا تھا
جس انس کے اس نے خواب دیکھے تھے انکی تعبیر اب مہرماہ کو مل رہی تھی ….کیسے برداشت ہوتا اس سے یہ
” تو….کیا ہوا انہیں..” ماوی نے پوچھا
” مائنر سا ہارٹ پرابلم ہے….شی ول بی فائن..اور آپ اماں پلیز ریسٹ کریں پھر جتنے آنسو بہانے ہیں سجدے میں جا کے بہا لیجئے گا….”
نیہا ان سے بولی تھی
” یہ مہرماہ بھی عجیب ہے سترہ برس ایک شخص کے پیچھے بھاگتی رہی اور اب جب وہ اسے مل رہا ہے تو اسے کونسا صدمہ لگ گیا ہے…..نخرے ہی نہیں ختم ہوتے “
نیہا بڑبڑائی تھی
اور یہ بولتے ہوئے وہ یہ قطعا بھول گئی تھی کہ ایک لڑکی کیلئے اسکی عزت اسکی خودداری پہ سب قربان ہوتا ہے….چاہے وہ محبت ہی کیوں نہ ہو
کیونکہ عزت کے بغیر عورت عورت ہی نہیں رہتی
_____________________________________
” ہالار…” ثمر نے پکارا
” ہوں تم آؤ….ثمر….کوئی کام …”
ہالار نے پوچھا
” کام تو نہیں مگر کچھ پوچھنا ہے تم سے “
” پوچھو….”
ہالار کا انداز مصروف سا تھا
” دادا کے ساتھ تمہاری کیا بات ہوئی تھی …”
” کونسی بات….”
ہالار چونکا
” وہی جس کے بعد تم مہرماہ سیال سے شادی کرنے پہ راضی ہوگئے تھے…..حالانکہ پہلے تم انکار کرچکے تھے “
ثمر نے اسکا سپاٹ چہرہ کھوجا
” پہلے میں انجان تھا..” .
” کس بات سے….”
ثمر نے ابرو تنے
” کسی کی بےتحاشہ محبت سے “
” کس کی…..مہرماہ سیال کی”
” ہاں…”
ہالار نے اقرار کیا
” لیکن وہ تو تمہیں جانتی ہی کتنا ہے…..اور ملے دن ہی کتنے ہوئے ہیں…..”
ثمر الجھ کے بولا
” سترہ برس…..سترہ برس سے وہ مجھے جانتی ہے….آواز کے رشتے میں بہت طاقت ہوتی گو کہ یہ بے سبب رفاقت ہوتی ہے مگر اسکا طلسم جسے جکڑ لے ….پھر رہائی ممکن نہیں….جتنے سال مجھے ریڈیو پہ ہوئے ہیں اتنے ہی برس مہرماہ اور میں آواز کے رشتے سے جڑے ہیں….”
ہالار نے بتایا تھا
” اور میر ہالار اتنا اچھا ہے تو نہیں….کہ محبت کے بدلے ریورڈ کے طور پہ اپنا آپ پیش کردے …یہ آپ ہی تھے نہ جو کہا کرتے تھے کہ ہر وہ لڑکی جو مجھ سے دعوی محبت کرے میں اسے شریک زندگی بنا لوں ….پھر اب یہ پتھر کو جونک کیسے لگی اور نیہا سفیر سے محبت کا دعوی کہاں گیا….”
ثمر طنزیہ بولا
” چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خوبصورت ہوتا ہے ….میر ثمر… “
لفظوں کے ساحر نے ایک طویل قصہ چند لفظوں میں نمٹایا تھا …
” اب وہ کیا کہتا کہ نیہا سفیر تو اسی دن اسکے دل سے اتر گئی تھی جب اس نے مہر ماہ سے نکاح کی شرط رکھی تھی….اتنی بے وقعت تھی نیہا سفیر کے نزدیک میر ہالار کی محبت اسکے جذبے….اسکی مردانہ انا کو جو ٹھیس لگی تھی وہ بہت شدید تھی ….جس کی چاہ کی تھی اسے ہی پروا نہیں تھی
نیہا سفیر جیسے لوگ جو لہروں کی ہلچل کی مانند ہوتے ہیں ان کا پہلا تاثر بیشک بہت مضبوط ہوتا ہے مگر اتنا ہی عارضی ہوتا ہے
جبکہ مہرماہ سیال جیسے لوگ جو بوند بوند برستے ساون جیسے …..اور قطرہ قطرہ سمندر جیسے ہوتے ہیں
بھلے سے انکا پہلا تاثر اتنا جاندار نہیں ہوتا مگر دیرپا ہوتے ہیں
مہرماہ سیال جیسے لوگ پھر زندگی کی اساس بن جاتے ہیں
یہی میر ہالار کے ساتھ ہوا تھا اور سترہ برس کوئی اسکی چاہ میں رہا تھا…..
اور تھا…..کا مطلب شاید ابھی میر ہالار کو آتا نہیں تھا
_____________________________________
” تم مر ہی کیوں نہ گئیں…..اگر اسپتال ہی پہنچ گئیں تھیں….”
ماوی کے دل میں یہ خیال آیا تھا
” توبہ…..کیا میں اتنی بری بھی ہوسکتی ہوں….” ماوی کا ہاتھ دل پہ ٹھرا ہی رہ گیا تھا
” اف خدایا…..”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کے رہ گئی تھی
رات کی اس تاریکی میں جب چاند بھی تنہا ہو کے بادلوں کی اوٹ میں گم ہوگیا تھا وہ لان کی سبز گھاس پہ تنہا بیٹھی تھی
” کیا میں انسانیت کے بھی معیار سے گرگئی ہوں…..میں ایسا کیسے سوچ سکتی ہوں اور کیا اس طرح سے انس میرا ہوجائے گا… “
اسی پل انس گھر آیا تھا فل یونیفارم میں شاید وہ سیدھا بیس سے یہیں آرہا تھا دو دن بعد
مہرماہ دو دن سے اسپتال میں ہی تھی
” تم ابھی تک جاگ رہی ہو….” انس نے پوچھا
” جی بس….جارہی تھی.. “
ماوی دھیرے سے بولی تھی
” آپ مہرماہ جی کے پاس نہیں گئے….”
ماوی نے کس دل سے پوچھا تھا وہی جانتی تھی
” ابھی تو نہیں….صبح جاؤں گا…”
انس نے جواب دیا
” آپ تھکے ہوئے ہیں آرام کریں اب….” ماوی نے آج پہلی بار معمول کی بات اس سے کی تھی
جب اسکا دل معمول پہ نہیں رہا تھا
_____________________________________
دل کہاں تک تری دہائی دے…..
دے مجھے رنج آشنائی دے
اب مجھے مستقل جدائی دے
آنکھ کو اشک کی کمائی دے
دے مجھے درد کی خدائی دے
پچھلے تین گھنٹے سے میر ہالار مہرماہ سیال کے سرہانے بیٹھا تھا جس کی ڈوبتی ابھرتی سانسیں چل رہی تھیں فی الحال وہ کوئی خاص بہتر نہ تھی
کوئی اور وقت ہوتا تو مہرماہ سیال کا دل خوشی سے بھر جاتا کہ میر ہالار نے اسکی پروا کی ہے مگر اب جب وہ ساری کشتیاں جلا چکی تھی تو وہ اسکے راستوں پہ آنے کو تیار تھا
گو کہ وہ جاگ رہی تھی مگر اس نے آنکھیں بند ہی رکھیں تھیں ….وہ اس سراب کے پیچھے بہت خوار ہوئی تھی….اب وہ اس سحر سے باہر نکلنا چاہتی تھی
بھلے سے درد انتہا کو پہنچ جائے
اذیت سے بھی پرے کہیں دل ٹوٹ جائے
اسی پل دروازہ ایک مخصوص انداز میں بجا تھا
اور مہرماہ یہ انداز اچھی طرح پہچانتی تھی
بے ساختہ ہی اس نے آنکھیں کھولیں تھیں
میر ہالار نے پہلے اسے اور پھر آنے والے کو دیکھا تھا…
جاری ہے
