Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27

ایک ذرہ خاک سے آفتاب کیسے ہوتا ہے
صحرا میں پھول کیسے کھلتے ہیں
ہجر کی شامیں وصل کے اجالوں میں کیسے طلوع ہوتیں ہیں
کوئی انس سفیر کے دل سے پوچھتا
جس کی چاہ ابتدا سے ہو ….اور وہ انتہا میں مل جائے
پورے کا پورا…..صرف اور صرف اسکا
بھلا اس سے بڑھ کر آج روئے زمین پہ خوش نصیب تھا کوئی…????
چلتی باد صبا نے جھوم کے اس اچھی لڑکے کے جھولے پہ آج یونہی کاسنی پھولوں کی بیل کے پھول نہیں بکھیرے تھے
بلکہ آج میں ان وصل کی خوشی تھی
ملن کی مستی تھی
انس سفیر آج اس محاذ پہ سرخرو ٹہرا تھا …..
اور مہرماہ سیال…..جس نے مہر ماہ سیال سے مہر ماہ انس کا سفیر شاید تین سیکنڈ سے بھی کم کے عرصے میں کیا تھا
ایک پل کیلئے تو اسے لگا کہ دل کے اندر جو شور اٹھا ہے آج اسے خاموش کردے گا
مگر مہر ماہ اب سوچ چکی تھی
ٹھان چکی تھی
کہ اسے اب خوش رہنا ہے …..یہ زندگی اسکی بھی اتنی ہی تھی
مگر یہ سب اتنا بھی آسان نہ تھا
میر برفت سپاٹ سے تاثرات کے ساتھ وہاں بیٹھے تھے اس میڈیا کا خوف نہ ہوتا تو وہ کب کا انس سفیر سے نمٹ لیتے مگر انس سفیر کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں تھا ….وہ جانتا تھا کہ انکی کمزوری کیا ہے
خاندانی نجابت اور شرافت ….اور بے داغ شملے
اور چاہے بھلے سے دل میں کتنے ہی داغ کیوں نہ ہوں…..
” بھئی سنا تو تھا….فوجی فاسٹ ہوتے ہیں مگر اتنے ہوں گے یہ آج پہلی بار دیکھا ہے….*
ثمر نے انس س
کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا
“ثمر صاحب…..دیکھنے میں اور سننے میں بہت فرق ہوتا ہے….”
انس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
انس کے وجیہہ چہرے پہ پھیلتی خوشی کی بے پایاں کرنوں نے جیسے تاروں سے بڑھ کر اسے کردیا تھا
کرنجی آنکھوں میں جلتی محبت کی قندیلیں جگنوؤں کی طرح جگمگا رہی تھیں
کون کہتا ہے محبت صرف عورت کا روپ نکھارتی ہے
یہ تو آدم کو بھی سنوارتی ہے
اسے بھی اپنا مان دیتی ہے جو اسکا مان رکھتے ہیں
اور انس سفیر ان میں سے ایک تھا…..!!!!!
“بھئی انکی تیزی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ محترم کو اچانک ہی جانا پڑ رہا ہے ایک کورس کیلئے تو انہوں نے سوچا اپنی کمٹمنڈ کرکے جاؤں پوری …یہ نکاح تو طے تھا مگر دیکھیں وقت کا چکر انس کو جانا پڑ رہا ہے اور بھابھی جی اسپتال پہنچ گئیں…..لیکن لیکن یہ بھی تو دیکھیں ایک فوجی کی مستقل قدمی اسپتال کو ہی شادی کا وینیو بنا دیا مبارک ہو دوست…..مبارک ہو….”
انس کا دوست عمار بولا
مہرماہ سر جھکا کے مسکرائی تھی
انس نے نہ جانے انہیں کیا پٹی پڑھائی تھی…..یہاں نکاح ہونے کی
” اوہ تو…..تم پوری پلاننگ کرکے یہاں تشریف لائے ہو….نکاح تو کراچکے ہو ….مگر رخصتی کیسے کراؤگے….میں بھی دیکھتا ہوں….اسی میڈیا کے سامنے تمہیں پابند کرتا ہوں…جس کے آگے تم نے مجھے روکا…..”
میر برفت نے تنفر سے سوچا تھا
اس پل انہیں مہرماہ کے چہرے پہ جگمگاتی خوشی نظر نہیں آئی تھی وہ مہرماہ کو خوش بھی اپنی مرضی سے دیکھنا چاہتے تھے
کیسی حاکمیت پسند محبت تھی انکی….
انا جتاتی ہوئی
_____________________________________
” ثمر بات سنو…..”
میر جاذب نے پکارا
” جی تایا ابو….”
ثمر مودب ہوا
” ہالار….کچھ ہی دیر میں آنے والا ہوگا…اور پھر اچھا خاصا تماشہ لگ جائے گا….انس جس طریقے سے بات سنبھالی ہے اسکی ساری محنت پہ پانی پھر جائے گا….”
میر جاذب فکر مندی سے بولے تھے
” ہوں….بات تو فکر کی ہے….آپ ریلیکس رہیں میں کچھ کرتا ہوں.,..”
ثمر سوچتے ہوئے بولا
” کچھ بھی کرو….مگر ہالار یہاں نہیں آنا چاہئیے کسی طرح اسے روکو….”
میر جاذب بہت پریشان تھے
اپنی اولاد سے وہ بہت اچھے سے واقف تھے
” آج تو آپ لوہے کی بھی دیوار بنا لیں تب بھی وہ آئے گا…..مگر اسے روکنا ہے کیسے ….یہ سوال ہے…..”
کرمنالوجی کا ماہر یہی سوچ رہا تھا
اس نے ایک عرصہ جرائم پہ ریسرچ کی تھی بڑی تعداد مجرم کی اس وجہ سے ہوتی تھی کہ وہ اپنی انا اور تسکین کیلئے خون کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے
وہ میر ہالار کو مجرم بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا
حالانکہ وہ مجرم تھا
کسی کے دل کو توڑنے کا
اور دل توڑنے سے بڑی سزا آخر کیا ہوسکتی ہے….کہ اس شخص کو نامراد ہی رہنے دیا جائے
” ہیلو….ہاں ہالار…. کہاں ہو…”
ثمر نے پوچھا
” بس آرہا ہوں…..راستے میں ہوں….کیوں…”
ہالار نے کہا
” اصل میں ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے….”
ثمر نے پریشانی سے کہا
” کیا….کہیں مہرماہ نے تو کوئی سیچوئشن کریٹ نہیں کر ڈالی….”
ہالار نے پوچھا
” نہیں …”
” پھر…”
” وہ دادا…”
ثمر نے بات ادھوری چھوڑی
” کیا ہوا دادا کو….”
ہالار نے پریشانی سے پوچھا
” ہالار….تم سیدھا سٹی ہاسپٹل آؤ…..دادا کو وہیں ریفر کیا گیا ہے….انکی طبیعت اچانک سے ہی سیریس ہوگئی ہے…بی کوئیک…”
ثمر نے فراٹے سے جھوٹ گھڑا تھا
” واٹ…..” ہالار نے جھٹکے سے گاڑی روکی تھی
” مگر کیسے….”
” پتہ نہیں….بٹ کم سون….”
ثمر نے زور دیتے ہوئے کہا
” لیکن مولوی صاحب میرے ساتھ ہیں….”
ہالار نے کہا
” اچھا ہالار میاں سہرا باندھنے کی پڑی ہے اور یہاں جو دادا کا حال ہے….”
ثمر نے طنز کیا
” ارے نہیں…..اچھا میں آرہا ہوں…بٹ کچھ ٹائم لگے گا بالکل آؤٹ آف ٹاؤن ہوں…..”
ہالار نے کہا
” نو پرابلم…..بس آجاؤ….”
کہہ کے ثمر نے فون ڈسکنکٹ کردیا تھا
اصل پرابلم تو اسکے بعد شروع ہونی تھی
____________________________________
” یہ ہالار اب تک کیوں نہیں آیا…..”
میر برفت نے پوچھا
” وہ….ٹریفک بہت جام ہے اسے وقت لگے گا.. ویسے اب اسکے آنے کا فائدہ بھی کیا….”
ثمر بڑبڑایا
” تم لوگوں سے تو میں نمٹ لوں گا….پہلے اس فوجی کو ذرا پوچھوں….”
میر برفت بڑبڑائے
ثمر شانے اچکا کے رہ گئے تھے
” دادا جی کافی وقت ہوگیا ہے اب ہم چلتے ہیں….اب کل ملیں گے…”
انس نے انہیں براہ راست مخاطب کیا تھا
“ارے ارے….اتنی بیتابی….کیا ہوگیا ہے….”
ثمر شرارت سے بولا
” اصل میں ہمیں نکلنا ہے صبح جلدی….مہرماہ کو آرام کی ضرورت ہے….آپ سب کے آنے کا شکریہ ولیمہ ہمارے آنے کے بعد ہوگا….اس میں بھی آپ سب لوگ شامل ہوں گے….”
انس نے عندیہ دیا
میر برفت چونک کے رہ گئے تھے….یہ لڑکا بہت پھرتی دکھا رہا تھا
” ابھی تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ مہرماہ کو رخصتی کے نام پر روک لیں گے اور پھر سفیر یوسف کے خاندان کو مزہ چکھائیں گے…..” لیکن یہ لڑکا…”
میر برفت کڑھ کے رہ گئے
” جاؤ بیٹا ضرور…..اللّه خوش رکھے دونوں کو…” میر جاذب نے دعا دی تھی دل سے
ثمر نے ہاتھ سر پہ رکھ کے اسے رخصت کیا تھا بھائی کی طرح
” تم سے تو میں اچھی طرح ملوں گا….” میر برفت کے لہجے میں شعلوں کی سی لپک تھی
“تو سفیر یوسف کے خاندان سے وہ ایک بار پھر ہارے تھے….”
” آؤ اچھی لڑکی….اب ساتھ چلتے ہیں..”
انس نے دھیرے سے سرگوشی کی تھی
مہرماہ کی کیسری رنگت پل میں قندھاری انار ہوئی تھی
انس اور وہ….کبھی یوں ….اس نے سوچا بھی نہ تھا ….اور اکثر زخموں کی دوا اس در سے ملتی ہے جہاں نہ سوچ جاتی ہے نا نظر پڑتی ہے
_____________________________________
” پاپا….ابھی آپ جاتے ساتھ ہی اماں کو مت بتائیے گا…” .
انس نے باپ سے کہا
“مگر کیوں….” سفیر صاحب حیران ہوئے
” ابھی گھر میں خالہ ہیں….آپ انکے سامنے بتائیں گے تو وہ اماں کو بھی خواہ مخواہ بدگمان کریں گی….آپ اکیلے میں انہیں سب تفصیل سے بتادیجئیے گا….”
انس نے وجہ بتائی
” یو آر رائٹ مائی سن….”
سفیر صاحب فخریہ بولے تھے انس کی دوراندیش طبیعت پہ انہیں ہمیشہ فخر رہا تھا
” ماموں….آپ سب میری وجہ سے مشکل میں پڑ گئے…..”
مہرماہ بولی
” ارے نہیں….مہرماہ….ایسے نہیں کہو….تم ہماری ذمہ داری ہو….یہ ہمارا فرض ہے….”
انس نے محبت پاش لہجے میں کہا تھا
ان آنکھوں میں کیا تھا
مان بھری محبت تھی
عزت تھی
جو مہرماہ کو ہمیشہ چاہئیے تھے
____________________________________
” واٹ…آر یو سیریس….یہاں اس نام کا کوئی پیشنٹ نہیں…. ” ہالار نے کنفرم کیا
” یس سر….ہمارے ریکارڈ میں اس نام کا پیشنٹ آج کی تاریخ میں کوئی نہیں ہے “
رسیپشنسٹ رسان سے بولی تھی
” اوکے…. تھینکس….” ہالار کہہ کے پیچھے ہوا تھا
” یہ کیا سین ہے….آخر مسئلہ کیا ہے….کہیں ثمر نے تو….”
کچھ سوچ کے اس نے ثمر کا نمبر ملایا جو رسپانڈ نہیں کررہا تھا
پھر میر جاذب کا نمبر ملایا تھا
” بابا….”
” ہاں ہالار….. “
” یہ کیا مسئلہ ہے….ثمر نے کہا تھا…”
” ہالار جہاں بھی ہو فورا گھر آؤ…..ہری اپ پھر بات کرتے ہیں…..”
میر جاذب اسکی بات کاٹ کے بولے تھے
“پر بابا….”
ہالار بولا
” فورا….”
میر جاذب رابطہ ختم کرچکے تھے
“کیا تماشہ ہے یہ…..”
ہالار کا دماغ گھوما تھا
____________________________________
” مہرماہ…..تم….” عالیہ حیرانی سے بولیں تھیں
” جی ….”
مہرماہ نے کہا
” مہرماہ کی اسپتال سے چھٹی ہوگئی تھی تو میں اسے لے آیا ہوں…..” سفیر صاحب اندر آتے ہوئے بولے تھے
” اچھا….کتنے دن کیلئے آئی ہو مہرماہ….”
صبوحی بیگم نے پوچھا
مہرماہ انہیں دیکھ کے رہ گئی تھی
” وہ تو اب یہاں ہمیشہ کیلئے آگئی تھی…..کبھی نہ جانے کیلئے “
” یہ گھر مہرماہ کا بھی ہے….اور یہ یہیں رہیں گی…..”
انس کچھ ناگواری سے بولا تھا
صبوحی نے عالیہ کو اشارہ کیا جیسے کہہ رہی ہوں” دیکھو….اپنے بیٹے کے انداز….”
” نیہا…..اسے اندر لے جاؤ…تھکی ہوئی ہے آرام کی ضرورت ہے اسے…. “
عالیہ بہن کو نظر انداز کرتے ہوئے بولیں تھیں
“اچھا….ہمارے کمرے میں تو اب ماوی ہے….اور آنٹی گیسٹ روم میں….اوپر والے کمرے میں لے جاؤں…..”
نیہا نے پوچھا
” ارے جوان جہان لڑکی اوپر کمرے میں….”
صبوحی بیگم نے جھٹ کہا
انس کا کمرہ بھی تو اوپر تھا
” ارے میں وہاں چلی جاتیں ہوں….”
انکا کچھ اور بس نہ چلا تو کہنے لگیں
” اچھا…..خالہ اور پھر آپکے جوڑوں کے درد کا کیا ہوگا….جس کی تان آپ نے ہفتے بھر سے اٹھا رکھی ہے….”
نیہا نے یاد دلایا
” نیہا….مہرماہ کو ابھی اوپر لے جاؤ….صبح پھر دیکھتے ہیں….”
انس نے نیہا کو مزید بحث سے روکتے ہوئے کہا تھا
“صبح تک پاپا بات کر ہی لیں گے….”
انس نے سوچا
“مہرماہ اب اسکی تھی….یہ اطمینان اور قرار اسے تھا…..”
_____________________________________
“کیا….” ہالار کا دماغ بھک سے اڑا تھا
پہلے تو وہ میر برفت کو دیکھ کے چونکا اور پھر انہی کے منہ سے وہ سارا قصہ سن رہا تھا
” آپ….آپ ان سے کہہ دیتے کہ آپکو معلوم بھی نہیں کہ انکا نکاح ہے….الٹا انہی پہ الزام آتا کہ آپ سے رشتہ داری کا شوق ہے….میڈیا آپکو ہی پروٹکٹ کرتا….”
ہالار جھلائے ہوئے لہجے میں بولا تھا
” میری سمجھ تو کچھ کام نہیں کررہی تھی…تم کدھر رہ گئے تھے بھلا….”
میر برفت نے پوچھا
تو میر ہالار کو ثمر کی یاد آئی
” اس مہرماہ سے تو میں بعد میں نمٹتا ہوں….پہلے جا کے میں میر ثمر کی خبر لوں…. “
میر ہالار اسکے کمرے کی طرف بڑھا تھا
” تم آستین کے سانپ…..تمہیں تو میں آج نہیں چھوڑوں گا….”
ہالار آپے سے باہر ہوتے ہوئے بولا تھا
” کیا مسئلہ ہے….کیوں ایسے ری ایکٹ کررہے ہو….”
ثمر بولا
” میری منگیتر کا نکاح کسے اور سے کرادیا….اور مجھ سے کہ رہے ہو میں کیا کر رہا ہوں….میرا مسئلہ کیا ہے….” ہالار دھاڑا
” پہلی بات تو یہ….کہ وہ تمہاری منگیتر نہیں تھی….اور دوسری بات اس کا نکاح انس سفیر سے ہوچکا ہے…..”
ثمر نے جتایا
” مہرماہ کو اسکا حساب دینا ہوگا…. لیکن چھوڑوں گا میں بھی نہیں تمہیں”
ہالار اسکی طرف لپکا
” بس ہالار ….بہت ہوگیا….ہاں کس بات کی سزا دو گے تم اس معصوم کو ….سترہ برس سے تم اسے سزا ہی تو دے رہے ہو
اپنی آواز کے سحر کے ٹوٹ جانا کا بہت دکھ ہورہا ہے….ہاں
بہت تکلیف ہورہی ہے…کہ مہرماہ تمہیں چھوڑ چکی
مگر تم تو پتھر تھے جان کیسے پڑگئی تم میں ….لگتا ہے داسی کے جانے سے دیوتا انسان بن گئے
ہوں….میر ہالار تم ہو کیا….ایک خودغرض انسان جسے بس اپنے آپ سے محبت ہے اور اپنی پروا جو صرف اپنی خوشی اور اپنی برتری کا سوچتا ہے …..
میر ہالار…. میں تو حیران ہوں….سترہ برس کیسے اس پاگل لڑکی نے تمہارے پیچھے سب بھلا دیا….
پہلے اپنے گریبان میں جھانکو…..میں نے تم سے کہا تھا نا ایک بار ….کہ اپنے محدود دائرے اور ذات کے خول میں ایک دن اپنا سب سے قیمتی کچھ کھو دو گے. ….تم نے محبت کھو دی….اور جسے محبت ٹھکرا دے وہ کسی در کا نہیں رہتا ….میر ہالار تم بھی کہیں کے نہیں رہے…”
میر ثمر کے جملوں نے میر ہالار کے اندر جیسے جہنم دہکا دیا تھا
میرے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے….کہاں ہیں مجھ سے محبت کرنے والے
میر ہالار کو سب خالی خالی لگنے لگا تھا اک پل ….یوں جیسے اب زندہ رہنے کی کوئی خواہش باقی نہ رہی ہو
” کیا میں مرجاؤں….”
یہ مایوسی کی کونسی انتہا تھی
وہ وجود شدید اذیت میں تھا….اس کے اندر جیسے کسی نے شعلے دہکا دئیے تھے
” مجھ سے محبت کے دعویدار مجھے بیچ راہ میں چھوڑ گئے…..”
ہالار نے سوچا ….
کیا واقعی مہرماہ کو اس سے محبت تھی ?????
یا
میر ثمر ٹھیک کہتا تھا …..سترہ برس سے طاری اسکی آواز کا سحر آج ٹوٹ گیا تھا
پجارن جا چکی تھی
دیوتا انسان بن چکا تھا
اور انسان کی فطرت میں کینہ بھی ہے
اور
حسد بھی
جو ابن آدم کو تباہ کر ڈالتا ہے
” نہیں…..مہرماہ سیال….میں اتنی آسانی سے تمہیں یہ سترہ سال نہیں بخشوں گا….تم کتنی آسانی سے سب چھوڑ گئیں مگر میں نہیں چھوڑوں گا…..تمہیں اسکی سزا ملے گی مہرماہ….اس بیوفائی کی سزا…..”
میر ہالار نے کٹھور پن سے سوچا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *