Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09
ایک قیامت عالم ہے
بپا کیسے ہوا
ایک حشر کا سمے ہو
گزارا کیسے ہو
میری روح چیخ چیخ کے پکارے
سامع بھلا کون ہے
میرا روم روم درد میں ڈوبے
مسیحا کون ہو…..!!!!!!
” کیا مجھے اتنا سا بھی حق نہیں کہ مجھے میرا حق ملے…..میری محبت ملے”
مہرماہ کی سیاہ آنکھوں کا کاجل بھیگنے لگا تھا
” مہرماہ…آج سے نہیں میرے دل نے ازل سے تمہاری چاہت کی ہے تم سنگ زندگی گزارنا چاہتا ہوں میں تم میرے لئے بہت خاص ہو ……”
انس اپنے دلی جذبات آج اس پہ آشکار کررہا تھا مہرماہ اس کیلئے بہت خاص تھی بچپن سے لے کے اب تک وہ ہمیشہ اسکا ہر بات پہ ہر مقام پہ اسکا ساتھ دیتا تھا بنا کہے اسے جان لیتا تھا تو پھر اسے کیوں مہرماہ کی آنکھوں میں کسی کی محبت کے دیپ جلتے نظر نہیں آئے تھے
کیوں وہ اس سے اسے ہی مانگ رہا تھا….
وہ تو کب سے
اپنی وفائیں
اپنے جذبے
اپنا دل
اپنی محبت
کسی آواز کے تعاقب میں دان کر چکی تھی
وہ تو خود اپنی ہی نہیں رہی تھی اور انس اس سے اسے ہی مانگ رہا تھا
کیا مذاق تھا????
” بولو نا مہرماہ…..کیا تم میری ہم سفر بننا پسند کروگی ….ہم ایک ساتھ بہت اچھی زندگی گزاریں گے مہرماہ”
انس اسے وہ خواب دکھا رہا تھا جس کی اسے چاہ ہی نہ تھی
اگر اس کی زندگی میں ہالار جاذب میں نہ ہوتا تو شاید وہ اس روئے زمین کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہوتی
مہرماہ نے ایک نظر آنکھ اٹھا کے اسے دیکھا
انس کے چہرے پہ بہت انوکھے رنگ تھے جو اسکے وجیہہ چہرے پہ بہت بھلے لگ رہے تھے
اسکی کنجی آنکھوں میں جلتی محبت کی جوت انہیں مزید سحر انگیز کررہی تھی
کتنی شاندار شخصیت کا مالک تھا وہ اور کتنا شفاف دل تھا اسکا
وہ کیسے اسکا دل توڑ دیتی
میں کیسے انہیں کہوں کہ آپ جو خواب دیکھ رہے ہیں اسکی کوئی تعبیر نہیں
میرے اور آپکے راستے کبھی ایک ساتھ نہیں ہوسکتے
میں تو خود داسی ہوں اپنے دیوتا کی
” مہرماہ…. “
انس نے پکارا
وہ منتظر تھا اسکے اقرار کا …..
“انس….مم….میں…”
مہرماہ نے ہتھیلیاں رگڑیں اسکے حلق میں کانٹے پڑنے لگے
وہ کیسے کہے!!!!
نیہا ٹھیک ہی کہتی تھی انسان میں کم از کم اتنی ہمت تو ہونی چاہئیے کہ وہ اپنی خواہشات کو جسٹفائی کرسکے ورنہ پھر اسے کوئی حق نہیں چاہ کا
” ہاں اچھی لڑکی بولو……اوہ….گھبراؤ نہیں شاید تم شرما رہی ہو آخر ٹہری جو مشرقی لڑکی….”
انس نے شوخی سے کہا
” انس….مجھے کچھ کہنا”
مہرماہ نے ہمت کی
بہت مشکل تھا یہ کرنا
مگر اسے یہ کرنا تھا وہ دوغلی زندگی نہیں گزار سکتی تھی
دل میں ہالار کی محبت ہو اور سنگ انس سفیر ہو
وہ انس کو دھوکا نہیں دے سکتی تھی وہ بہت قابل احترام اور خاص تھا اس کیلئے
” مہرماہ….جو بھی ہے کھل کے کہو….”
انس نے اسکی گھبراہٹ محسوس کی تھی کار سائیڈ پہ پارک کر کے وہ نرمی سے بولا تھا وہی نرمی جو مہرماہ کیلئے اسکے لہجے میں ہمیشہ ہوتی تھی
” انس….اگر میں یہ کہوں یہ نہیں ہوسکتا….آپ مجھ سے میری جان مانگ لیں …مجھے سولی چڑھا دیں مگر میں یہ نہیں کرسکتی …پلیز”
مہر ماہ نے جیسے منت کی تھی
” مہرماہ…..”
انس کو جیسے دھچکا لگاتھا
اسے تو یہ سب آسان لگا تھا
پھر یہ کیا ہوا تھا
بھلا محبتیں اتنے آرام سے مل جاتیں ہیں
“آخر کیوں مہرماہ….کیا میں تمہارے قابل نہیں…”
” نہیں انس ایسا نہیں ہے میں اپکے قابل نہیں….آپکے جذبوں کی قدر نادان نہیں ….میں تو اپنی نہیں ہوں تو پھر آپکو کیسے وہ دوں جو میرے ہاتھ میں ہے ہی نہیں….انس میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا کبھی لیکن پلیز آج میں آپ سے مانگتی ہوں میں آپ سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی “
مہرماہ نے ایک ہی سانس میں انس کی سامعتوں میں زہر اتارا تھا
کتنا مشکل ہوتا ہے
کسی کا دل دکھانا
اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلا بندہ کتنا ظالم ہے
انس کا دل جیسے پل میں خالی ہوا تھا اسکی محبت کی قبر بنائی جا چکی تھی
کتنی دیر وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہا تھا مہرماہ کی نظریں ہنوز جھکی ہوئیں تھیں
اسنے ایک بار بھی انس کو نہیں دیکھا تھا
اگر دیکھا ہوتا تو کیا وہ یہ سب کہہ پاتی
کیسے دیکھ سکتی تھی وہ انس کی نگاہوں کی بجھتی جوت
اسکے چہرے پہ پھیلتے ہجر کے سائے
” میں اسکا نام نہیں پوچھوں گا مہرماہ…..جو تمہارے دل میں ہے ….میں نے تم سے بس ایک سوال کیا تھا اور ہر سوال کا جواب ہاں میں نہیں ہوتا….”
انس نے اپنے دل کی کیفیت پہ قابو پا لیا تھا اس نے اتنی آسانی سے ہار مان لی تھی دنیا کو یہ ہار لگتی لیکن اصل میں یہی جیت تھی….محبت کی جیت….ہم کسی سے محبت کریں مگر اسکا مان نہ رکھ پائیں تو یہ محبت کا معیار نہیں….انس چاہتا تو اس کے پاس بے شمار راستے تھے مہرماہ کو حاصل کرنے کے بھلا وہ سفیر صاحب سے کہتا تو کیا وہ منع کرپاتے اور کیا مہرماہ منع کرپاتی
لیکن انس نے ایسا کچھ نہیں چاہا کیوں کہ اس نے مہرماہ کے وجود سے نہیں اسکی روح سے محبت کی تھی
مہرماہ وہ لڑکی تھی جس کی آنکھ کا آنسو جب تک ہنسی نہیں بن جاتا وہ ہر ممکن کوشش کرتا تھا
مہرماہ کے سنگ اس نے بچپن سے آج تک اسکا ہر دکھ بانٹا تھا
” انس آئم سوری….میں آپکا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی….. مگر میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ آپکے ساتھ منافقت بھری زندگی گزاروں ….ہوسکے تو مجھے معاف کردیجئے گا”
مہرماہ کا دل بہت بوجھل ہوچلا تھا اسکے چہرے پہ کاجل کی سیاہی پھیل چکی تھی
” اپنا چہرہ صاف کرو….اور اپنے آنسو پونچھ لو مہرماہ…ہر انسان کو اپنی زندگی اپنے انداز سے گزارنے کا پورا حق ہے اور تم نے تو ساری زندگی ہمارے لئے جیا ہے ….یہ تو تمہارا حق ہے “
انس کے اوپر جیسے عالم قیامت تھا جو حشر اسکے دل میں بپا تھا اسے اس نے دل میں ہی قید کرلیا تھا آنکھوں کی سرخی گواہ تھی دلِ برباد کی
مہرماہ نے انس کے ہاتھ سے ٹشو تھام لیا تھا اور چہرہ صاف کرلیا تھا
لیکن دل پہ چھایا بوجھل پن یوں ہی تھا
فضا میں خاموشی اور دل چیر جانے والا سناٹا تھا
موت کے بعد کا سناٹا
انس کی محبت کی موت کا سناٹا
انس نے اپنی محبت کا گلا گھونٹ کے مہرماہ کی محبت کا مان رکھا تھا
اور کون جانے یہ محبت مہرماہ کے ہاتھ میں تھی بھلا کیا????!!!!!!
_____________________________________
” اماں….”
انس نے ناشتہ کرتیں عالیہ کو مخاطب کیا
” کیا ہوا انس….”
عالیہ نے محبت سے اسکا چہرہ دیکھا
” اماں میں اسلام آباد جا رہا ہوں….”
” پھر سے….”
” جی…”
” آخر ائیر فورس بھری پڑی ہے جوانوں سے لیکن ہر بار وہ تمہیں ہی کیوں بھیجتے ہیں “
عالیہ بیگم غصے سے بولیں
” اماں میں اکیلا نہیں جارہا میرے ساتھ اور بھی ہیں….اماں کورس کیلئے جارہے ہیں تفریح کیلئے نہیں”
انس نے انکے ہاتھ پکڑ کے نرمی سے کہا
” سفیر صاحب….دیکھ رہے ہیں آپ اسے میرا اکلوتا بیٹا ہے اور وہ بھی نظر سے دور…”
عالیہ بیگم نے سفیر صاحب سے شکوہ کیا جو اخبار میں گم تھے اس بات پہ کندھے اچکا کے رہ گئے تھے انس رات ہی انہیں بتا چکا تھا
” اماں یہ کورس بہت ضروری ہے ..میرے کیرئیر کیلئے …اور ہوسکتا ہے میرا مستقل ٹرانسفر بھی ہوجائے”
انس نے ایک اور شوشا چھوڑا
” ارے بیٹا…..ایک بار ہی میں کیوں نہیں مار دیتے ماں کو یوں کیوں جھٹکے دے رہے ہو ماں کو”
عالیہ بیگم روہانسی ہوگئیں تھی مہرماہ کے دل پہ بوجھ بڑھ گیا تھا وہ جانتی تھی انس صرف اسکی وجہ سے یہاں سے جارہا تھا مہرماہ کو دیکھ کے وہ ضبط کی کڑی منزلوں سے گزر رہا تھا
” اماں پلیز….آپ ایک فوجی کی ماں ہیں اور فوجیوں کی ماں کے دل بہت مضبوط ہوتے ہیں “
انس نے انہیں حوصلہ دیا
” انس بیٹا تم پروا نہ کرو….میں ہوں نا سنبھال.لوں گا…”
سفیر صاحب نے تسلی دی تھی
” اور فوجیوں کے دل پھتر ہوتے ہیں”
نیہا نہ جانے کب آئی تھی پیچھے سے اسے لقمہ دیا
” ہاں نیہا….اب تو میں واقعی پھتر ہوچلا ہوں”
انس کمال.ضبط سے مسکرایا
کنجی آنکھوں میں ضبط کی سرخی نے انکی سحرانگیزی اور بڑھا دی تھی
” لو ایک اور آگئی …اللّه نے اولاد کے نام پہ مجھے دو نمونے ہی دئیے ہیں جو صرف ماں کا دل جلانا جانتے ہیں”
عالیہ بیگم نے طنز کیا
” اماں میرے بارے میں آپکا خیال بہت درست ہے
…..لیکن بھائی کے دل میں بہت محبت ہے ویسے بھائی تمہارا سلسلہ کہاں پہنچا”
” کونسا سلسلہ”
انس حیران ہوا
” وہی وہ جو تم رسالپور جانے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ کسی کو روک لو گے ” نیہا کو اب تک یاد تھا
” نیہا….تم بہت فضول بولنے لگی ہو….اپنے کام سے کام رکھو…فالتو باتیں مت کیا کرو”
انس کا لہجہ بہت سخت تھا
” بھائی……” نیہا کا منہ کھل گیا تھا
” کیا بھائی….تم لاابالی پن چھوڑ اوع سنجیدہ ہوجاؤ”
انس نے تحکم سے کہا
” اسکی طرح…..”
نیہا نے مہر ماہ کی طرف اشارہ کیا
انس نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پہ ڈالی اور کھڑا ہوگیا …
” اللّه حافظ…”
کہتا ہوا باہر آگیا
” یہ تمہارا اور انس بھائی کا جھگڑا ہوا ہے کیا”
نیہا نے پوچھا
” نن…نہیں تو”
مہرماہ نے بے نیاز بن کے کہا
اندر ہی اندر وہ دکھی ہوئی تھی
” انس….”
لان سے گزر کے وہ بھاگ کے پورچ میں آئی تھی جو کار میں بیٹھنے کو تھا
” کیا بات ہے ….”
انس کا لہجہ سپاٹ تھا اسکے چہرے پہ کوئی تاثر نہ تھا آنکھوں پہ گلاسز تھے جس کی وجہ سے اسکے تاثرات کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا
“انس…آپ مت جائیں”
مہرماہ نے کہا
انس ایک گہری سانس لے کے رہ گیا
“مہرماہ مجھے جانا ہے…میں یہاں رہا تو معلوم نہیں کب بدل جاؤں میری ساری ریاضت بیکار ہوجائے گی …مجھے کچھ وقت چاہئیے”
مہرماہ اسے دکھ سے دیکھ کے رہ گئی تھی وہ چاہ کے بھی اسکے غم کا مداوا نہیں کرسکتی تھی
” آج سے چینل پہ جانا ہے نا تم نے”
نیہا نے تیزی سے ہاتھ چلاتی مہرماہ سے کہا
” ہاں…”
” اوکے….بیسٹ اف لک دین….خدا تمہاری محبت میں تمہیں کامیاب کرے”
نیہا ہولے سے اسکے کان میں بولی تھی
_____________________________________
” یہ سیل کب سے بج رہا ہے….یا تو اسے بند کرلو یا پھر چک لو”
ثمر نے زبان کا مکسچر بنا لیا تھا
” اچھا….کس کا ہے “
ہالار ٹریڈ مل سے اترتا ہوا بولا یہ وقت اسکی ایکسر سائز کا ہوتا تھا
“گھر سے ہے شاید تائی جان کا “
” اوہ…..اماں جان کا”
ہالار نے تیزی سے ہاتھ میں موبائل لیا اماں جان ناراض ہوجاتیں تو اچھا نہیں ہوتا
اس نے فورا گھر کے نمبر ملائے تھے
“السلام علیکم….اماں جان”
ہالار کا لہجہ مودب سا تھا
” وعلیکم السلام…..ٹھیک ہو ہالار بیٹا…”
اماں جان کی پروقار سی آواز سنائی دی
” جی اور آپ”
” ہم بھی ٹھیک ہیں….تم کب آرہے ہو گھر”
” خیریت اماں جان”
” ہاں خیریت ہی ہے…..سبین پاکستان آچکی ہے میں چاہتی ہوں تم اسے دیکھ لو….تاکہ ہم سلسلہ اگے بڑھا سکیں”
اماں کا اشارہ اسکی شادی کی طرف تھا
ہالار گہری سانس لے کے رہ گیا تھا …یہ ایک مصیبت ہی تھی
” اماں جان….میرا ارادہ نہیں ہے فی الحال”
” میر ہالار….آپکو اپنے باپ کی طرح من مانی کی عادت ہوچکی ہے…اب اور نہیں …اگلے ہفتے تم تیس برس کے ہوجاؤ گے ….اس عمر میں لوگ تین چار بچوں کے باپ بن جاتے ہیں”
اماں جان آج اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھیں
” اماں پلیز….میں کسی سبین سے شادی نہیں کروں گا”
ہالار کے تصور کے پردے میں ایک عکس لہرایا تھا
زندگی کی رعنائیوں سے بھر پور چہرہ جو ہر پل خوشی کشید کرتا تھا
وہ جیسے کسی نتیجے پہ پہنچ چکا تھا
” اماں جان…میں آپکو جلد ہی اپنا فیصلہ سنا دوں گا ….بس کچھ دن اور”
ہالار جاذب نے کچھ سوچ کے رابطہ منقطع کیاتھا
____________________________________
” مہرماہ….تم تو ابھی سے بہت زبردست جارہی ہو “
پروگرام منیجر نے دل کھول کے اسکی تعریف کی تھی دو ہفتے ہوچکے تھے اسے ایف ایم پہ ویک میں اسکے تین شوز ہوتے تھے ایک مارننگ میں ایک دوپہر میں اور ایک ایوننگ ڈرائیو ٹائم آج ایوننگ ڈرائیو ٹائم تھا
” تھینکس….”
مہرماہ نے کہا
” کچھ فارغ ہو آج “
پی ایم نے پوچھا
” خیریت”
مہرماہ نے پوچھا
” ہاں ایکچوئلی….ہالار جاذب سے تو تم واقف ہی ہو…آج اسکی سالگرہ ہے ہر سال ہم ایف ایم پہ سیلیبریٹ کرتے ہیں …تو کچھ ارینجمینٹس کرنی تھیں….تم اپنے ہوم شو بہت اچھی ٹپس دیتی ہو ڈیکوریشن کی ….چلو آج اسے آزماتے ہیں”
پی ایم نے تفصیل سے بتایا تھا
” تو واقعی نیہا کے کہنے کے مطابق دھیرے دھیرے سہی ہالار سے شناسائی ہورہی تھی ….”
“اوکے….”
مہرماہ کیلئے جیسے یہ بہت بڑی خوش بختی تھی
اس نے بہت دل سے جان لگا کے انگ انگ سنوارا تھا اس جگہ کا جہاں وینیو تھا
سفید غباروں اور گلابی مہکتے پھولوں کے گلدستے سے سجا وینیو بہت فریش لک دے رہا تھا ہالار جاذب اب تک نہیں آیا تھا لیکن اس نے آنا تھا اتنے برس سے اسکی سالگرہ یوں ہی سیلیبریٹ ہوتی تھی
ہالار جاذب آیا تھا مہرماہ آگے بڑھی تھی مگر پھر ساکت ہوگئی تھی ہالار جاذب کے سنگ کسی کو دیکھ کے
_____________________________________
ہالار جاذب کے ساتھ داخل ہونے والی کوئی اور نہیں نیہا سفیر تھی اس نے مہرماہ کو دیکھ لیا تھا
” ماہ….”
” نیہا….تم اور یہاں اور وہ بھی….”
مہرماہ نے بات ادھوری چھوڑی
” اور ہالار جاذب کے ساتھ…”
نیہا نے اسکی بات مکمل کی
” ایکچوئلی یہ مجھے مال میں ملے تھے …”
نیہا نے ابھی بتانا شروع کیا تھا
جبھی ہالار جاذب انکی جانب متوجہ ہوا تھا
” کیا اتفاق ہے نا نیہا….ہم ہمیشہ مال میں ہی ملتے ہیں”
” یہ تو ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم دونوں کو شاپنگ کا کریز ہے”
نیہا نے بے ساختہ کہا
مہرماہ بے ساختہ اسکے چہرے کو دیکھے گئی
کھلے کھلے سرخ چہرے والی نیہا جو سبز کرتے کے ساتھ سفید سیکرٹ پینٹ پہنے سفید اسکارف کے ساتھ اور اپنی ازلی خود اعتماد مسکان کے ساتھ وہ ہر جگہ چھاجاتی تھی
” ہاں یہ تو ہے نیہا….ویسے مس مہرماہ آج کی ڈیکوریشن کیلئے تھینکس”
ہالار نے اطراف میں نظر دوڑاتے ہوئے کہا تھا
مہرماہ اتنی سی توجہ پہ کھل گئی تھی اور اس نے یہ نوٹ ہی نہ کیا کہ وہ اب تک مس مہرماہ اور نیہا صرف نیہا ہے
“آپ یہ ڈیزرو کرتے ہیں ….”
کوئی مہرماہ کے دل سے پوچھتا اسکے بس میں ہوتا تو وہ آج دنیا کا انگ انگ سجا دیتی
فنکشن بہت شاندار تھا نیہا اسے ایک کونے میں لے گئی تھی
” دیکھا میں نا کہتی تھی اسکی طرف بڑھو تو سہی ….دیکھو دھیرے دھیرے سہی اس سے واقفیت تو ہو رہی ہے “
” ہاں یہ تو ہے”
مہرماہ نے ہالار کو دیکھتے ہوئے کہا جو سفید شرٹ کی آستینیں موڑے ہوئے بازو سینے پہ لپیٹے ہولے ہولے مسکرا رہا تھا
اسکی وجیہہ چہرے پہ مسکان کس قدر بھلی لگتی تھی
” تمہیں پتہ ہے آج انہوں نے مجھے خود آفر کی یہاں آنے کی….اپنی سالگرہ کا بھی بتایا مہرماہ …اور یہ بھی بتایا کہ تم ڈیکوریشن کررہی ہو …میری مانو مہرماہ تمہارا وقت بدلنے کو ہے محبت مہربان ہونے کو ہے”
نیہا نے مسکراتے ہوئے کہا
اور پاس گھومتی تقدیر مسکرائی تھی کہ یہ محبت مہربان ہونے کو تیار تھی مگر کس پہ یہ صرف اوپر والا جانتا تھا
_____________________________________
” مس مہرماہ….اگر آپ کو برا نہ لگے تو آپ سے ایک بات پوچھوں “
ہالار نے اسے مخاطب کیا تو وہ اسے چونک کے دیکھنے لگی
” ہالار صاحب….آپکے چینل کا ڈرائیور ہمیں چھوڑ آئے گا ..
اس لئے آپ ہمیں ڈراپ کرنے کی آفر نہ کریں”
نیہا نے اسکی بات اچکتے ہوئے کہا
” آئی نو نیہا…بٹ میں کچھ اور کہہ رہا تھا “
” اوہ اچھا….میں ابھی کنفرم کر کے آتی ہوں پی ایم سے “
نیہا نے فورا انہیں موقع دیا تھا
” خاصی عقلمند ہے نا نیہا”
ہالار نے دلچسپی سے کہا
” ہاں نیہا بہت اچھی ہے…صاف دل کی “
مہرماہ بھی مسکرائی تھی وہ بلا تکان اسکے لئے بول سکتی تھی
” یہ تو ہے ….خیر میں کیا کہہ رہا تھا “
ہالار نے تمہید باندھی
” آپ کچھ پوچھ رہے تھے غالبا”
مہرماہ نے یاد دلایا
” مس مہرماہ اٹس پرسنل….بٹ یہ ضروری ہے”
” آپ کہنا کیا چاہتے ہیں…”
مہرماہ الجھی
” کیا آپ دونوں انگیجڈ ہیں کہیں ….”
ہالار کے سوال پہ مہرماہ کے دل کی دھڑکنیں قابو ہوئیں تھیں
” کیا اس کی خوش نصیبی دستک دینے لگی تھی …..محبت مہربان ہونے لگی تھی ….”
” نہیں……”
مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا تھا با مشکل اسکی تو جان جیسے مشکل میں پڑنے لگی تھی
” یہ تو کافی اچھا ہوگیا ….”
ہالار نے پرسکون سانس خارج کی
مہرماہ اس بات پہ بلش ہوگئی تھی اس سے کھڑا رہنا دشوار ہوگیا تھا
وہ تیز قدموں سے وہاں سے دور ہوئی تھی
ہالار مسکرا کے آگے بڑھنے لگا جب ہی اسکی نظر نیچے پڑی چیز پہ گئی یہاں ابھی مہرماہ کھڑی تھی ….یہ شاید اسکا کارڈ تھا ہالار نے کارڈ اٹھایا تھا مہرماہ کا ہی کارڈ تھا سروس کارڈ ریڈیو کا وہ تصویر سے پہنچا …..ہالار کی نظر یوں ہی کارڈ پہ پھسلی تھی اور اسکی نظریں ساکت کی ساکت رہ گئیں تھیں
یہ کیا ہوا تھا…..
کیا اسکی تلاش ختم ہوگئی تھی !
جاری ہے
