73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

‘ ” دراب کے اشارے پر عمر نے ابیہا کے بندھے ہاتھوں کو کھولنا شروع کیا تھا ..
‘ ” عمر کا اس وقت مکمل دھیان ابیہا کی ہی طرف تھا “
“‘ اسکا خود پر سے دھیان ہٹتا دیکھ عباس نے موقے کا فائدہ اٹھایا کر عمر کے ہاتھ پر اپنی لات ماری تھی جس سے اسکے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین پر جا گری تھی …
” ‘ عمر جو ابیہا کو پوری طرح سے آزاد کروا ہی چکا تھا کہ عباس کی اس حرکت سے عمر فورا الرٹ ہوا تھا ۔۔
: ” عمر نے اسکو خود پر حملہ کرتے دیکھ اسکے ایک زوردار مقہ اسکے پیٹ میں مارا تھا ..
اسکے مارنے پر عباس نے جوابی حملہ اس پر کرنا چاہا تھا مگر عمرہ نے اسکا ہاتھ حوا میں ہی تھام لیا تھا “
” ‘ اب دونوں اپس میں بری طرح جھکڈ رہے تھے
” عمر عباس کے ہاتھ سے گن چھینے کی کوشش کر رہا تھا مگر ..
‘ ” عباس اسکی کوشش کو بار بار ناکام بنا رہا تھا .
” ‘ اس دوران ابیہا خود کو رسی سے آزاد کراتی ایک کونے میں کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ..
” ‘ اسکا دل اس وقت بہت بری طرح ڈرا ہوا تھا “
‘ ” ان دونوں کو مسلسل لڑتا دیکھ دراب سلطان کو وہاں چھوڑ کر ان دونوں کے پاس بڑھا تھا “
” ‘ عمر جو عباس سے گن چھین رہا تھا کہ یکدم سے ٹریگر دبا تھا ..
گولی چلنے کے ساتھ ساتھ ابیہا کی چیخ کی آواز بھی فضا میں گونجی تھی ۔
” ” دراب کے ساتھ ساتھ عباس اور عمر نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا تھا “
‘ ” گن کا رخ سامنے کی طرف تھا اور اسکا نشانہ سلطان بنا تھا .
گولی سیدھا اسکے سینے میں لگی تھی .
” ‘ ڈیڈ …
‘ ” عباس خود کو عمر کی پکڑ سے آزاد کراتا تیزی سے زمین پر پڑے اپنے باپ کے وجود کی طرف بڑھا تھا “
‘” ڈیڈ ” ڈیڈ ”
آنکھیں کھولو ڈیڈ .
” ‘ عباس زمین پر بیٹھا اپنے باپ کے بےجان ہوتے وجود کو دیکھ کر پکار رہا تھا ‘”
“‘ ” دراب نے ایک نظر سلطان اور عباس پر ڈال کر سامنے ڈری سہمی کھڑی ابیہا کو دیکھا تھا ..
” ‘ دراب تیزی سے اسکے پاس گیا اور اسکو اپنے سینے سے لگا کر سختی سے اسکو خود میں بھینچا تھا …
” ‘ خود کو دراب کی باہوں میں محسوس کر کے ابیہا کا ڈر پل میں دور ہوا تھا ..
” ‘ ایک سکون سا اسکو اپنے پورے جسم میں اترتا ہوا محسوس ہوا تھا “
‘ ” تم نے میرے باپ کو مارا میں تم لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ..
” ‘ عباس سرخ آنکھیں لئے تیزی سے ان دونوں کی طرف بڑھا تھا ..
ہاتھ میں اسکے ابھی بھی گن موجود تھی ..
” ‘ابیہا نے ڈر سے اپنی آنکھیں بند کرکے دراب کے سینے میں اپنا منہ چھپایا تھا “
‘ ” اس سے پہلے کہ وہ ان دونوں پر گولی چلاتا عمر نے پھر سے پیچھے سے آکر اسکو پکڑا تھا ..
اور ایک جھٹکے میں اسکی گن دور پھینکی تھی .
‘ ” عمر تم ابیہا کو لیکر جاؤ میں اسکو دیکھ لوں گا
میرے کچھ حصاب باقی ہیں اس پر …
” ‘ دراب نے ایک نظر اسکی پکڑ میں مچلتے عباس کو دیکھا اور عمر سے مخاطب ہوا تھا ..
” ‘ اب عباس دراب کی پکڑ میں تھا ..
عمر نے ڈری ہوئی ابیہا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا وہ تو جانے سے انکار کر رہی تھی …
” ‘ وہ کیسے یہاں اپنے دراب کو خطرے میں چھوڑ کر جا سکتی تھی ..
” اسکو اپنے دراب کے بغیر یہاں سے نہیں جانا تھا
” ‘ ابیہا جاؤ یہاں سے میں آ رہا ہوں ..
وہ وہیں پر کھڑی ابیہا کو دیکھ کر غصّے سے بولا تھا ناچاہتے ہوئے بھی اسکو عمر کے ساتھ جانا پڑا تھا “
” ‘ عمر اسکو اپنے ساتھ لئے کار کی طرف بڑھا تھا وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتا تھا کہ دراب اسکو خطرناک موت دینے والا تھا …
“‘ آخر اس نے ابیہا کو چوٹ پہنچانے کی غلطی جو کی تھی ..
‘” وہ دونوں کار میں بیٹھے اسکا انتظار کر رہے تھے جب وہ انکو آتا ہوا دکھائی دیا تھا …
اسکی شرٹ پر جگہ جگہ لگا خون اس بات کا ثبوت تھا کہ اس نے کتنی بےدردی سے عباس کو ختم کیا تھا
” ‘ دراب کے کار میں بیٹھتے ہی عمر نے کار جلدی سے سٹارٹ کی تھی ان لوگوں کو جلد سے یہاں سے نکلنا تھا کیونکہ پولیس کسی بھی وقت یہاں آ سکتی تھی …
” ‘ دراب نہیں چاہتا تھا کہ انم پر کوئی شق کرے کیونکہ اب وہ عباس اور سلطان کے ساتھ ساتھ ڈی کے کو بھی وہیں ختم کرکے آ چکا تھا ..
“‘ وجہ اسکا اب بدلہ جو پورا ہو گیا تھا صرف ان لوگوں کو ختم کرنے کے لئے وہ ڈی کے بنا تھا وہ دونوں ختم تو ڈی کے نام بھی ختم …
💕💕💕
” ‘ وہ لاؤنج میں بس ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی ..
” ‘ اسکے ہونٹھوں پر بس ان تینوں کے لئے دعا تھی
وہ کبھی تو بیٹھ جاتی تو کبھی پھر سے ادھر ادھر ٹہلنے لگتی …
” ‘ اس وقت اسکے ہر انداز سے پریشانی بےچینی جھلک رہی تھی ..
‘”” ” جب سے عمر دراب گھر سے گئے تھے بس تب سے اسکی یہی حالت ہو رہی تھی ..
‘ ” کسی بھی پل اسکو چین نہیں مل رہا تھا ..
‘ ” وہ یہ تو نہیں جانتی تھی کہ وہ لوگ کتنے خطرناک ہیں ..
‘ ” لیکن دراب اور عمر جس تیاری سے یہاں سے گئے تھے اسکو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ لوگ بہت ہی خطرناک بھی ہو سکتے ہیں ..
‘ ” اسکو ان تینوں کی جان کی فکر ہو رہی تھی ..
‘ ” اور عمر اسکا خیال تو بار بار اسکو پریشان کر رہا تھا
‘ ” اسکو جانے سے پہلے عمر کی باتیں یاد آ رہیں تھی کس طرح وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا ..
” ‘ اور ایک وہ تھی جس ن اسکا ایک لفظ سننا بھی گوارا نہیں سمجھا تھا ..
‘ ” اور اب کھڑی اپنی بےوقوفی پر پچھتا رہی تھی
کاش وہ اسکی بات سن لیتی کاش …
‘” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ووہ کسی بھی طرح عمر کے پاس چلی جائے اور اسکو بولے کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہے …
” وہ اس سے کبھی ناراض ہو ہی نہیں سکتی ہے بس غصّہ تھا جو اب وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا تھا …
” ‘ اگر عمر کو کچھ ہو گیا اگر وہ اب واپس نہ آیا تو..
” نہیں ….نہیں میرے عمر کو کچھ نہیں ہوگا کچھ بھی نہیں ہوگا …
‘ ” عشل پریشانی سے صوفہ سے اٹھی اور باہر لان کی طرف آئی تھی …
” ‘ ابھی وہ لان میں آکر کھڑی ہی ہوئی تھی کہ اسکو پورچ میں کار رکتی دکھائی دی تھی ..
اسکی نظریں بس کار پر ہی جم کر رہ گئی تھی
دل کی دھڑکن یکدم سے تیز ہوئی تھی ..
‘ ” جبھی ان وہ تینوں کار سے ایک ساتھ باہر نکلے تھے “
“‘ ‘ ان تینوں کو ساتھ میں اور صحیح سلامت دیکھ کر عشل کی آنکھیں نم ہوئی تھی..
‘ ” وہ دوڑتی ہوئی ان تک پھنچی تھی .
اور ابیہا کو جلدی سے اپنے سینے سے لگایا تھا .
‘ ” اللہ کا شکر ہے ابیہا تم ٹھیک ہو ..
بلکہ تم تینوں کو سلامت دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے میں بتا نہیں سکتی .
‘ ” عشل ابیہا سے الگ ہوتی بولی تھی جبکہ آنکھیں آنسوؤں سے گلی تھی .
‘ ” جبکہ ابیہا اسکو حیرانی سے دیکھ رہی تھی .
‘ ” عشل تم یہاں کیسے ?
‘ ” اور تمھیں کیسے پتہ یہ سب
‘ ” ابیہا حیرانی سے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی جبکہ اسکی بات پر عشل نے سامنے کھڑے دراب اور عمر کی طرف دیکھا تھا ‘
” ‘ تم اندر چلو ابیہا اندر چل کر بات کرتے ہیں
دراب آگے بڑھا اور ابیہا کو بازو سے پکڑ کر اندر کی طرف بڑھا تھا “
” ‘ ان دونوں کے پیچھے عمر اور عشل بھی اندر گئے تھے “
‘ ” اب بس اک ابیہا ہی بچی تھی سب جاننے سے اور اب عمر جانتا تھا یہ سب اسکو ہی بتانا ہوگا ..
‘ ” کیونکہ دراب پہلے ہی منع کر چکا تھا یہ کہہ کر شادی اس نے کی ہے تو سچ بھی اسی کو بتانا ہوگا..
اور اب اسکو ہی سب ابیہا کو بتانا تھا ..
💕💕💕
‘ “وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو ابیہا اسکو کمرے میں کہیں نظر نہیں آئی تھی “
‘ ” اب یہ کہاں گئی …
‘ ” وہ کمرے کے بیچ و بیچ کھڑا یہ سوچ ہی رہا تھا کہ جب واشروم کا دروازہ کھلا تھا ‘
‘ ” دراب نے گردن موڑ کر دیکھا تو ابیہا تولیے سے بال خشک کرتی واشروم سے نکلی تھی ..
‘ ” وہ دراب کو نظر انداز کرتی ڈریسنگ کی طرف بڑھی تھی ..
‘ ” دراب کچھ دیر تو اسکو یوں ہی بال سلجھاتا ہوا دیکھتا رہا پھر آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا ‘
” ‘ آئنے میں اسکو اپنے قریب دیکھ کر ابیہا کے اک پل کے لئے ہاتھ رکے تھے
مگر وہ پھر سے اسکو نظر انداز کرتی اپنے کام میں لگی رہی تھی ..
‘ ” اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے ہٹتی دراب نے پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں لیا تھا ‘
‘ ” کب سے دیکھ رہا ہوں تم مجھے اگنور کر رہی ہو جبکہ تم یہ بات بہت اچھے سے جانتی ہو کہ مجھے بلکل پسند نہیں ہے جب تم ایسے کرتی ہو …
‘ “دراب اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا تھا جبکہ اسکے لب ابیہا کے کان کی لؤ کو چھو رہے تھے ‘
“‘ ‘ پلز دراب مجھے پریشان نہ کریں ..
ابیہا اسکے حصار سے نکلتی ہوئی ناراضگی سے بولی تھی ..
‘ “جبکہ ابیہا کی یہ حرکت دراب کو بلکل اچھی نہیں لگی تھی .
‘ ” یہ کیا حرکت ہے ابیہا فورا یہاں واپس آؤ ..
‘ ” دراب اس سے سخت لہجے میں بولا تھا
‘” ‘ اس وقت وہ صرف اسکو دیکھنا چاہتا تھا صرف اسکو محسوس کرنا چاہتا تھا
‘ ” کل سے اب تک وہ کتنا تڑپا تھا اسکو دیکھنے کے لئے .
‘ ” میں آپ سے سخت خفا ہوں اس لئے اب میں آپکے پاس نہیں آوں گی
” وہ اک قدم اور دور ہوتی ہوئی بولی تھی ..
‘ ” اس نے آج تک اس سے اتنی بڑی بات چھپا رکھی تھی بلکہ اس نے ہی نہیں عشل اور عمر نے بھی ..
‘ ” وہ ان تینوں سے ناراض تھی ..
‘ “” یار پاس آؤ گی تب ہی تو تمہاری یہ ناراضگی ختم کر پاؤں گا …
اس لئے فورا سے یہاں آ جاؤ ….
” ‘ دراب انگلی کے اشارے سے اسکو اپنے قریب بلا رہا تھا “
‘ ” نہیں مجھے نہیں آنا ہے بلکہ میں اب آپسے بہت دن تک ناراض رہنے والی ہوں ..
‘ “ابیہا اپنی بات کہہ کر وہاں سے جانے ہی لگی تھی کہ دراب نے کمر سے پکڑ کر اسکو اپنے قریب کیا تھا ‘ “
” ‘ ‘ تمھیں میری بات اک بار میں سمجھ کیوں نہیں آتی ہے ..
‘ ” دراب نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے پر آۓ بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کیا تھا …
‘ ” اب اسکے چہرے چہرے اور لہجے میں بلکل سختی نہیں تھی .
‘ ” اور آپنے بھی تو مجھ سے اتنی بڑی بات چھپا رکھی تھی
مجھے کچھ بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا آپنے ..
‘” ‘ ابیہا اسکی شرٹ کے بٹنز کو دیکھتی نرم لہجے میں بولی تھی …
‘ ” اب تو وہ اس سے ناراض بھی نہیں رہ سکتی تھی
‘ “یار بتایا تو تھا تمھیں کہ مجھے بھی ابھی کچھ وقت پہلے ہی معلوم ہوا ہے …
‘ ” اور میں پہلے یہ چاہتا تھا کہ عمر پہلے عشل کو سب سچ بتا دے پھر اسکے بعد میں تمھیں بتانے ہی والا تھا ‘:
‘” : ”دراب کی بات سن کر ابیہا نے ناراضگی سے اسکی طرف دیکھا تھا ‘
‘” ” یار یہ ناراضگی ختم کرو اس وقت میں تمہارے چہرے پر اپنے لئے ناراضگی نہیں صرف محبت دیکھنا چاہتا ہوں …
‘” “تمھیں محسوس کرنا چاہتا ہوں تمہاری خوشبوں کو اپنے اندر اتارنا چاہتا ہوں …
‘ ” دراب اسکے بالوں میں اپنا منہ دیے خمار آلودہ لہجے میں بول رہا تھا ‘
” ‘ پتہ ہے دراب میں کتنا ڈر گئی تھی مجھے لگا کہ میں اب آپکو کبھی …
‘ ” ششش …..
‘ جو ہو گیا ہے اسکو بھول جاؤ ابیہا اب سے کوئی ایسا لمحہ نہیں آۓ گا جب تمھیں لگے کہ تم مجھ سے دور ہو جاؤ گی …
‘” “دراب نے اسکے ہونٹھوں پر انگلی رکھ کر اسکو مزید بولنے سے روکا تھا ‘
‘ ” اسکی بات سن کر ابیہا نے اسکے سینے پر اپنا سر رکھ دیا تھا
دراب مسکرایا اور جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے تھے ..
‘”ابیہا نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی اسکو اس بات کا یقین تھا اب انکی زندگی اور خوبصورت ہونے والی ہے ..
💕💕💕
‘”عمر تمہارا کام کب تک ختم ہوگا ..
عشل صوفہ پر لیپ ٹاپ لئے بیٹھے عمر سے مخاطب ہوئی تھی ..
‘ ” وہ بہت دیر سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر مسلسل کام کرتا دیکھ کر وہ بول پڑی تھی .
‘ ” ایک ہفتہ گزر گیا تھا اس واقع کو
‘ ” ان دونوں نے مل کر ابیہا کی ناراضگی ختم کر دی تھی ..
‘ ” ویسے بھی وہ تو پہلے سے ہی عمر کو عشل کے لیے پسند کرتی تھی .
‘ “اور اب تو اسکی دلی خوائش پوری ہوئی تھی اس لئے وہ زیادہ وقت تک ان دونوں سے ناراض نہیں رہ سکی تھی ‘ “
” ‘ ” بس وہ عشل سے تھوڑا زیادہ ناراض ہوئی تھی کیونکہ وہ اسکے لئے خاص تھی اور عشل نے اس سے اپنی شادی کی بات چھپائی تھی …
‘ ” لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس سے زیادہ وقت تک ناراض نہیں رہ سکتا ہے ..
ابیہا بھی اس سے زیادہ وقت تک ناراض نہیں رہ سکی تھی ..
‘ ” اس اک ہفتے میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا اگر کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا وہ عمر اور عشل کے بیچ ..
‘” اس دن کے بعد عشل میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ عمر سے بات کرتی جبکہ عمر صرف اسکے مخاطب کرنے کے انتظار میں تھا .
‘ ” کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اس سے بات کرنا چاہ رہی ہے بس کر نہیں پا رہی تھی …
‘ ” میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں عمر …
‘” اس بار وہ اسکے سامنے کھڑے ہوکر بولی تھی .
‘ ” کیا تم مجھ سے کچھ کہہ رہی ہو ?
‘ ” اسکی آواز سن کر عمر نے اسکی طرف دیکھا تھا وہ اسکی بات سن تو چکا تھا مگر جان بوجھ کر انجان بنا بیٹھا رہا تھا “
” ‘ نہیں میں تمہارے اس لیپ ٹاپ سے بات کر رہی تھی .
عشل اسکا جواب سن کر چیڑ کر بولی تھی…
‘ ” عشل کی بات اور چہرے پر غصّہ دیکھ کر عمر نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا “
‘ ” اوہ ۔۔۔تو بل آخر تمھیں اپنے شوہر کی یاد آ ہی گئی …
‘ وہ اپنا لیپ ٹاپ بند کرتا اسکے سامنے آں کھڑا ہوا تھا
‘” ” اسکی بات پر عشل شرمندہ ہوتی اپنی نظریں جھکا گئی تھی ..
‘ ” وہ اتنے دن سے اسکو منا رہا تھا اور ایک وہ تھی
‘ ” اب بولو کیا کہنا چاہتی تھی تم ..
اسکو خاموش کھڑا دیکھ کر عمر اس سے مخاطب ہوا تھا ..
‘ ” وہ میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ ..
عشل کی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح بات کرے معافی مانگنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ اسکو اب پتا چل رہا تھا ..
‘ ” ایک وہ تو تھا جو کب سے اپنی غلطی کی معافی اس سے مانگ رہا تھا..
‘ ” یار اگر تم اسی طرح کھڑی سوچتی رہی تو ساری رات یوں ہی گزر جائے گی ..
‘ ” اور آج تو ویسے بھی میرا پورا پورا پلان بنایا ہوا ہے تمھیں پریشان کرنے کا .
” عمر آنکھوں میں شرارت لئے اسکی طرف بڑھا تھا .
‘ ” وہ جنتا تھا عشل اس سے اپنے رویہ کے لیے مافی مانگنا چاہتی ہے
جبکہ وہ تو اس سے ناراض تھا ہی نہیں تو مافی کیسی …
‘” عشل جو نظریں جھکائے کھڑی تھی عمر کی بات پر اس یہ یکدم اسکی طرف دیکھا تھا جو آنکھوں میں شرارت لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ..
‘ ” عشل اسکو مسکراتا دیکھ آگے بڑھی اور اسکے سینے سے جا لگی تھی …
‘” ” ہمم تو اسکا مطلب ہے اب میں تمھیں آرام سے پریشان کر سکتا ہوں اور تم مجھے روکو گی بھی نہیں ‘ “
‘ ” عمر اسکے گرد حصار تنگ کرتا ہوا گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا ..
‘ ” اسکی بات پر عشل نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسکو گھورا تھا ..
اسکے گھورنے پر عمر ہنسا اور جھک کر اسکو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا …
‘ ” آج تو مجھے تمہاری اس گھوری کی بھی پرواہ نہیں ہے ..
عمر اسکو لیے بیڈ کی طرف بڑھا تھا جبکہ اسکی بات پر عشل نے ھلکے سے مسکرا کر اسکے سینے پر اپنا سر رکھ لیا تھا ‘
💕💕💕
(ایک سال بعد )
‘ ” رلیکس یار اللہ پر بھروسہ رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا ‘
‘ ” عمر دراب کے پاس جاتے ہوئے بولا تھا جو کافی پریشانی میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا ‘
‘ ” اسکی نظریں بار بار اپریشن روم کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں اسکی ابیہا اس وقت موجود تھی …
‘ ‘ ” یار کیسے رلیکس کروں …
‘ ” مبارک ہو بیٹا ہوا ہے ..آپکی وائف اور بیٹا دونوں ہی ٹھیک ہیں …
” ‘ اس سے پہلے کہ دراب کچھ بولتا اپریشن روم کا دروازہ کھلا تھا اور ڈاکٹر مسکراتی ہوئی باہر آئں تھی …
” ‘ ڈاکٹر کی بات سن کر دراب کو جیسے نئی زندگی مل گئی ہو ..
‘ ” واہ ….میں خالہ بن گئی ہوں …
عشل جو خود بھی پریشانی سے بیٹھی ابیہا کے لئے دعا کر رہی تھی ڈاکٹر کی بات پر جھٹکے سے اٹھی تھی …
‘ ” جبکہ اسکے اس طرح اٹھنے پر عمر نے اسکو گھوری سے نوازہ تھا .
وہ خود بھی امید سے تھی لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہر وقت عمر اسکو ڈانٹا رہتا تھا …
‘ ” ڈاکٹر کیا میں اپنی وائف سے مل سکتا ہوں ..
دراب کے ہر انداز میں بےچینی تھی ..
‘ ” جی مل سکتے ہیں …
‘ ” ڈاکٹر کی بات پر دراب تیزی سے روم کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” تم کہاں جا رہی ہو ..
عشل جو دراب کے پیچھے روم میں جا رہی تھی عمر نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو روکا تھا ..
‘ ” اپنی بہن سے ملنے اور کہاں .
” عشل نے اسکو جواب دیا تھا ..
‘ ” بےوقوف ہو تم بلکل پہلے دراب کو تو ملنے ڈو اسکے بعد چلی جانا ..
” عمر کی بات پر عشل خاموشی سے اپنی جگہ آکر بیٹھی تھی ..
” دراب جیسے ہی روم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اسکی نظر بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹی ابیہا پر پڑی تھی ..
” جبکہ اسکے برابر میں انکا بیٹا لیٹا ہوا تھا ..
” ‘ دراب ہونٹھوں پر مسکراہٹ لیے وں دونوں کی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ بہت شکریہ مجھے اتنا اچھا تحفہ دینے کے لئے ..
دراب ابیہا کے چہرے کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا تھا
‘ ” دراب کا لمس اور اسکی آواز پر ابیہا نے اپنی آنکھیں کھولی تھی ..
“‘ صرف شکریہ …
ابیہا دراب کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولی تھی ..
‘” گھر چلو میں بہت اچھے انداز میں تمھیں شکریہ کہنا کا ارادہ رکھتا ہوں ..
دراب آنکھوں میں شرارت لیے اس پر جھکا تھا اور بہت ہی نرمی سے اسکے لبوں کو چھوا تھا ..
‘ ” کیا ہم اندر آ سکتے ہیں ..
عشل کی آواز پر دراب پل میں سیدھا کھڑا ہوا اور ان دونوں کو اندر آنے کی اجازت دی تھی ..
‘ ” اور پھر کچھ ہی دیر میں روم میں ان چاروں کی ہنسنے بولنے کی آوازیں آنے لگی تھی ..
وہ لوگ اب اپنی زندگی میں خوش تھے مطمعین تھے نہ کوئی دھوکہ تھا نہ بدلہ صرف خوشیاں تھی …
💕💕💕
(ختم شد )