73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20


💞💞
‘وہ کب سے یوں ہی بیٹھی دراب کے اس طرح اچانک جانے کے بارے میں ناچاہتے ہوئے بھی سوچ رہی تھی
”کوئی اور وقت ہوتا تو وہ شاید اتنا دھیان نہیں دیتی مگر روم سے نکلتے وقت وہ دراب کے چہرے پر پریشانی دیکھ چکی تھی .
”اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے دراب کو یوں پریشانی سے جاتا ہوا دیکھا تھا ..
”چاہنے کے باوجود بھی وہ اس سے پوچھ نہیں پائی تھی ..
”بہت وقت تو اسکو ایسے ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا تھا ..
”ایک عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی اسکو
” ایسا جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو کچھ بہت ہی برا
”اسکا دل یکدم سے گھبرایا تھا
‘وہ ایسی ہی بےچین بیٹھی تھی کہ اسکو یکدم باہر سے کچھ عجیب سی آوازیں آنا شروع ہوئی تھی .
”اسکی گھبراہٹ اب ڈر میں بدل گئی تھی جانے کیوں اسکو ان آوازوں سے خوف سا محسوس ہوا تھا
”وہ بیڈ سے اٹھ کر دروازہ لاک کرنے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ اسکے کمرے کا دروازہ یکدم سے کھلا تھا ..
”اس سے پہلے کہ وہ خوف سے چلاتی آمنہ بیگم اسکے روم میں داخل ہوئی تھی
جبکہ انکے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی ..
”آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا آنٹی .
”وہ اپنی تیز ہوتی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی مگر انکا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے انکی طرف بڑھی تھی .
”کیا ہوا آنٹی آپ اتنے گھبرائی ہوئی کیوں ہے
”ابیہا انکی شکل دیکھ کر فکرمندی سے بولی تھی اور انکے ہاتھوں کو تھام لیا ..
”بیٹا تم چلو یہاں سے تمہارا اس وقت یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے .
”آمنہ بیگم اسکے جواب میں بس اتنا ہی بولی تھی
مگر انکی بات سن کر ابیہا کے خوف میں اضافہ ہوا تھا ..
”کیا ہوا آنٹی آپ ایسی باتیں کیوں کر رہیں ہیں کیسا خطرہ ?
‘ابیہا اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی مگر اندر سے وہ بہت ڈری ہوئی تھی ..
”ہمارے پاس باتوں کے لیے وقت نہیں ہے تم چلو یہاں سے
”وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی بولی اور اسکو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا ..
”کیا ہوا ہے آنٹی آپ کیسی باتیں کر رہیں ہے کیسا خطرہ اور مجھے خطرہ کس سے ہے .
‘ابیہا اپنی حالت پر قابو پاتی ان سے سوال کر رہی تھی آنکھوں میں اس وقت ڈر تھا اسکی ..
”’ہمارے پاس باتوں کے لیے وقت نہیں ہے تم چلو بس یہاں سے
”وہ ابیہا کا ہاتھ تھام کر کمرے سے نکلی اور نیچے کی طرف بڑھی تھی ..
”اس بیچ ابیہا نے پھر سے انکو مخاطب کرنا چاہا تھا پر آمنہ بیگم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ..
”کیونکہ وہ گلاس وال سے گھر میں گھستے دو نقاب پوش کو دیکھ چکی تھی
بلکہ وہ انکو گارڈ اور ناصر جو باڈی گارڈ تھا اسکو بھی مارتے ہوئے دیکھ چکی تھی …
”وہ اسکو ساتھ لیے کچن کی سائیڈ آئی تھی وہاں پر گھر سے باہر نکلنے کا دوسرا راستہ تھا وہ وہاں سے آرام سے بھاگ سکتی تھیں ..
”’آپ مجھے بتا کیوں نہیں رہیں ہے کس سے خطرہ ہے مجھے ..
پلز بتاۓ خوف سے میری جان نکل جائے گی .
”بس بیٹا میں جو کہہ رہی ہوں تم وہ کرو مجھے تمہاری ان لوگوں سے حفاظت کرنی ہے ..
آمنہ بیگم نے اسکو مزید سوالات کرنے سے روکا تھا .
”دراب پہلے ہی انکو ابیہا کے بارے میں بتا چکا تھا کہ عباس کے آدمی اسکے پیچھے پڑے ہیں ..
”انکی بات سن کر ابیہا خاموشی سے انہیں لاک کھولتے ہوئے دیکھ رہی تھی
ڈر سے اسکی ٹانگے کانپ رہی تھی ..
”چلو جلدی کرو
”دروازہ کھول کر انہونے اسکو باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا ..
یہ دروازہ لان میں کھلتا تھا جس سے وہ لان میں پہنچ کر آسانی سے وہاں سے بھاگ سکتی تھی ..
”اس سے پہلے کے دونوں وہاں سے بھاگتی گولی چلنے کی آواز پر ابیہا کی چیخ نکلی تھی .
💕💕💕
وہ تیزی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا اسکو جلد سے جلد کمپنی پہنچنا تھا ..
”اسکی کمپنی کے گارڈ نے فون پر اسکو جو بتایا اسے سن کر دراب یکدم سے پریشان ہوا تھا .
”اسکے گارڈ نے بتایا کہ اسکے آفس میں آگ لگی ہے اسکو یہ سن کر پریشانی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوئی تھی ..
”کیونکہ اس نے اپنی کمپنی میں بہت ہی سخت انتظامات کیے ہوئے تھے
آگ لگنے کا سوال ہی نہیں تھا اس لیے وہ جلدی سے گھر سے نکلا تھا ..
”’اسکی کار جیسے ہی کمپنی کے آگے رکی تو وہ فورن سے کار سے نکلا تھا
”مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی غصّے سے رگے تن گئی تھی
”وہاں آگ کا نام و نشان تک نہ تھا ‘
”وہ غصّے میں گارڈ کے کبین کی طرف بڑھا تھا ‘
”کس کے کہنے پر فون کیا تھا بتا جلدی ورنہ تجھے یہیں ختم کر دوں گا ..
”وہ گارڈ کو کالر سے پکڑ کے غصّے میں دہاڈا تھا
‘مجھے معاف کر دیں صاحب ان لوگوں نے میرے سر پر گن تان رکھی تھی مجھے دھمکی دی تھی مارنے کی ..
”وہ بیچارہ کانپتی آواز میں اسکو سب تفصیل سے بتا رہا تھا ..
”اس گارڈ کو اپنی جان خطرے میں لگ رہی تھی .
”اسکی بات سن کر دراب نے ایک جھٹکے میں اسکا کالر چھوڑا تھا ..
”’دفع ہو جا اس وقت یہاں سے اس سے پہلے کہ میں تیری جان لے لوں .
”دراب جانتا تھا اسکا گارڈ وفادار ہے بس اپنی جان کی وجہ سے اس نے ایسا کیا تھا لیکن وہ اگر اسکے سامنے رہتا تو یقینن وہ اسکو مار دیتا …
”وہ اب تیزی سے اپنی کار کی طرف بڑھا تھا
اسکی سب سمجھ آ گیا تھا کہ یہ ایک ٹیرپ تھا اور یہ کون کر سکتا ہے یہ بھی وہ اب سمجھ چکا تھا ..
”اب اسکی کار پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی .
‘اسکو جلد سے جلد گھر جانا تھا اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو جائے ..
”اس سب کے بعد وہ سمجھ چکا تھا عباس اسکے اور ابیہا کے بارے میں جان چکا ہے بلکہ وہ اسکی کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کر چکا تھا ..
”وہ عباس کو تو بعد میں دیکھ لیگا مگر اسکو اب ابیہا کے پاس پہنچنا تھا “”
”وہ بار بار گھر پر فون ملا رہا تھا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا
”اس نے ناصر کو فون ملایا مگر کوئی جواب نہیں ملا غصّے سے چلاتا وہ سٹیرئنک وہیل پر مقے مارنے لگا
”اس گھر پہنچنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ تو لگ ہی جاتا یہ سوچ آتے ہی اس نے اپنی کار کی رفتار مزید تیز کی تھی ”
💕💕💕
”گولی کی آواز پر ابیہا کی یکدم سے چیخ نکلی تھی اور زمین پر پڑے آمنہ بیگم کے وجود کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی ..
”ان دو نقاب پوش میں سے ایک نے انکو بھاگتا ہوا دیکھ کر آمنہ بیگم پر گولی چلائی تھی …
”آنٹی ….آنٹی …
یہ کیا کیا تم لوگوں نے آخر ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے بولو .
”وہ ان دونوں کو دیکھ کر چیخی تھی
ڈر کی وجہ سے اسکی آواز میں بھی کپکپاہٹ تھی
”ابیہ..ابیہا …..بے…بیٹا تم بھاگو یہاں سے جاؤ تم
آمنہ بیگم نے اسکو مخاطب کیا تھا جو انکا سر اپنی گود میں رکھے بیٹھی تھی ..
”نہیں میں نہیں جاؤں گی ..آپکو ایسے چھوڑ کر
”ابیہا سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا .
”ابیہا ….ب..بس …جانے سے پہلے …م..میری بات سن …لو …
تمہارے ..با..بابا کی جان کسی کی وجہ سے نہیں گئی ہے ….
وہ ..ان پر حملہ ….ہو…ہوا تھا
آمنہ بیگم اٹک اٹک کے بول رہی تھی ابیہا سے انکی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی …
”ب…بس …اپنی دل سے …یہ غلط فہمی نکال دو
اس سے پہلے کہ وہ اسکو اور کچھ بتاتی ان میں سے ایک نقاب پوش آدمی نے ابیہا کو بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھایا تھا …
”چھوڑو مجھے جانے دو میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے
ابیہا روتی ہوئی اس سے اپنا بازو آزاد کروا رہی تھی تو کبھی آمنہ بیگم کے بےجان ہوتے وجود کو دیکھ رہی تھی ..
”اس وقت بہت ہی شدت سے دراب کے یہاں آنے کی دعا کی ..
”اور شاید اسکی دعا قبول ہونے کاوقت تھا کہ باہر سے کار رکنے کی آواز آئی تھی ..
”لگتا ہے ڈی کے آ گیا ہے اب کیا کریں ..
‘ایک نقاب پوش کو اپنی جان کا خطرہ ہوا تھا کیونکہ سب ڈی کے کے ظلم سے اچھی طرح واقف تھے ..
”اسکو چھوڑو جلدی یہاں سے نکلو
‘مگر باس کو کیا کہیں گے
دوسرے کو عباس کے غصّے کی فکر ہوئی تھی
”پہلے اپنی جان بچا لو بعد میں دیکھیں گے ..
دونوں تیزی سے باہر کی طرف بھاگے تھے ..
”انکے جانے کے بعد ابیہا روتی ہوئی آمنہ بیگم کی طرف بڑھی تھی ….
💕💕💕
“”دراب اور عمر کی کار ایک ساتھ مین گیٹ کے باہر آکر رکی تھی “”
“کار کے رکتے ہی دراب تیزی سے کار کا دروازہ کھولتا باہر نکلا تھا ”
”کیا ہوا دراب تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا تھا
دراب کو جب لگا کہ اسکو پہنچنے میں وقت لگے گا وہ عمر کو کال کر چکا تھا
مگر وہ دونوں اب ساتھ ہی گھر آۓ تھے ..
”جبکہ دراب عمر کی بات نظر انداز کرتا تیزی سے گھر کی طرف بڑھا تھا
اسکی جلدی بازی دیکھ کر عمر بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا .
”اب اسکو بھی کچھ بہت غلط ہونے کا اندازہ ہوا تھا .
‘”گیٹ سے کچھ فاصلے پر ہی انکو گارڈ کی لاش پڑی ہوئی ملی تھی .
”دراب اور عمر دونوں نے یک ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ..
”دونوں تیزی سے اندرونی گیٹ کی طرف گئے تھے
مگر دروازے کے بیچ و بیچ انکو ناصر کی لاش پڑی ہوئی ملی تھی ..
‘”دراب ناصر پر ایک نظر ڈالتا اندر بڑھا تھا …
”ابیہا …ابیہا …وہ زور سے اسکو پکار رہا تھا
”دراب کو بس ابیہا چاہئے تھی ..
”باقی ساری دنیا چاہے فنا ہو جاتی
لیکن اسکی ابیہا نہیں مل رہی تھی وہ سیڑهیاں چڑھتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگا تھا مگر کمرہ خالی دیکھ کر اسکی بےچینی مزید بڑھی تھی …
”وہ پھر سے ابیہا کو پکارتا ہوا نیچے آیا تھا
ابیہا جو سکت بیٹھی آمنہ بیگم کے خون سے لت پت وجود کو دیکھ رہی تھی دراب کی آواز پر جیسے ہوش میں آئی تھی …
”دراب …..دراب ….
وہ وہیں بیٹھی بیٹھی چلائی تھی …
”دراب جو نیچے اتر رہا تھا ابیہا کی آواز سن کر جیسے اسکو سکون سا ملا تھا …

”عمر بھی ابیہا کی کچن سے آتی آواز سن چکا تھا ”
”وہ اور عمر تیزی سے کچن کی طرف بڑھے تھے مگر کچن کا منظر دیکھ کر دونوں کے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین ہی کھسک گئی تھی ‘”
💕💕💕
”آئنے کے سامنے کھڑی وہ اپنے بال بنا رہی تھی
جبکہ ہونٹھوں پہ بہت ہی خوبصورت سے مسکراہٹ تھی ”
”اسکی یہ خوشی چہرے پر بھی جھلک رہی تھی
”آج وہ بہت خوش تھی اس نے بچپن سے آج تک اکیلے زندگی گزاری تھی
‘ ماں باپ تو پہلے ہی اسکو چھوڑکر اس دنیا سے رخصت ہو گیے تھے
”ماں باپ کے بعد ایک نانا ہی تھے اسکے پاس مگر وہ بھی زیادہ وقت اسکے ساتھ نہیں رہے تھے
”فیملی کیا ہوتی ہے اسکے ساتھ رہنے کی خوشی کیا ہوتی ہے
وہ ان سب احساسات سے انجان تھی ..
”’لیکن آج عمر کی وجہ سے اسکو ایک فیملی ملنے والی تھی
”جن سب کے ساتھ رہ کر وہ اپنی زندگی گزارنے والی تھی
”یہ سب سوچ کر ہی وہ بہت خوش ہو رہی تھی
‘عمر کا خیال آتے ہی اسکے ہونٹھوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ..
”وہ کب عمر سے اتنا پیار کرنے لگی تھی اسکو خبر ہی نہیں ہوئی تھی .
”سچ کہتے ہیں سب نکاح کے دو بول میں بہت اثر ہوتا ہے .
‘عمر سے رشتہ جڑنے کے بعد وہ خود کو عمر سے محبت کرنے سے روک نہیں پائی تھی ..
”اور روکتی بھی کیوں اسکے پاس خود کو روکنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی
”عشل کو آج بھی وہ دن یاد ہے جب وہ کلب میں پہلی بار آیا تھا
‘عمر جب جب اسکو دیکھتا تھا وہ کتنا چیڑ جاتی تھی
”لیکن وہ شروع سے ہی ابیہا کو اچھا لگتا تھا
اور وہ ابیہا سے اس بات پہ بہت لڑتی تھی
”کیونکہ عمر اسکو ایک رئیس باپ کی بگڑی ہوئی اولاد لگا تھا
‘جو روز اپنے باپ کا پیسہ لوٹانے کلب آتا تھا .
”’اس وقت تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ کبھی اس سے محبت کر پاۓ گی ۔
“لیکن اگر اب ابیہا اس سے پوچھتی کہ عمر اسکو کیسا لگتا ہے
”تو وہ خوشی خوشی کہتی کہ عمر سے بہتر اسکے لیے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا .
‘”اپنی تیاری مکمل کر کے اس نے آخری بار اپنا آئنے میں جائزہ لیا ..
پھر وہاں سے ہٹ کر موبائل کی طرف بڑھی عمر کو کال کی مگر اسکا نمبر اوف جا رہا تھا ..
””ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا تو دوپہر کے بارہ بج چکے تھے اور وہ تھا کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا …
”عشل وہیں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی تھی
ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسکی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی ..
“‘نہ جانے اس نے کتنی بار اسکو فون کیا مگر اسکا فون مسلسل بند جا رہا تھا
”دوپہر سے رات کے آٹھ بج چکے تھے مگر وہ نہیں آیا ..
”تو کیا وہ سب جھوٹ تھا ناٹک کر تھا وہ سب ..
‘”یکدم سے وہ دل میں عمر کے لیے بدگمان ہوئی تھی ..
”نہیں ..نہیں وہ ایسا نہیں ہے ضرور کوئی کام میں مصروف ہوگا ..
اس نے اپنے دل کو تسلی دی تھی ..
”ایک سوچ آتے ہی وہ ایک جھٹکے میں بیڈ سے اٹھی اور اپنے گھر سے تیزی سے نکلی تھی .
”ایک ساتھ کتنی ہی سوچوں نے اسکا پیچھا کیا تھا
”کچھ دیر بعد وہ عمر کے فلیٹ کے سامنے کھڑی تھی اور وہاں پر بھی لاک دیکھ کر
”وہ بےیقینی سے وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی
”عمر تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ ..
اسکا دل عمر کے لیے بدگمان ہوا تھا
اسکی آنکھ سے ایک آنسوں ٹوٹ کر زمین پر گرا تھا
💕💕💕
””””(جاری ہے )””””””