Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
” ‘ اس نے بھاری ہوتی اپنی آنکھوں کو بمشکل کھولا تھا .
” اپنا سر وہ گھومتا ہوا محسوس کر رہی تھی “
“‘ یکدم سے اسکو اپنے سر کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھی درد کا احساس ہوا تھا .
” ‘ پہلے تو اسکی کچھ سمجھ نہیں آیا تھا مگر جب نیند کا نشہ کم ہوا تو دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا..
“‘ ‘ یکدم سے اسکو سب یاد آتا چلا گیا تھا “
اب اسکی نیند یکدم سے غائب ہوئی تھی
اس نے خود کا جائزہ لیا تو خود کو ایک کرسی پر بندھا پایا تھا ..
“‘ جبکہ جس کمرے میں وہ تھی وہ بلکل خالی تھا .
“اسکے ہاتھ کرسی پر سختی سے بندھے ہوئے تھے جس وجہ سے اسکو اپنے ہاتھوں میں درد محسوس ہو رہا تھا ‘”
” ‘ دراب “
اسکے ہونٹھوں نے بےآواز اسکو پکارا تھا
اور آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گود میں گرا..
تھا “
‘” ‘کیا حالت ہو گئی ہے تمہاری اس ڈی کے مطلب اپنے شوہر کی وجہ سے …
” ‘ تبھی عباس روم میں داخل ہوا تھا ..
‘ ” سچ میں اس وقت مجھے تم پر بہت ترس آ رہا ہے .وہ آنکھیں بند کئے بیٹھی دراب کو سوچ رہی تھی کہ جبھی اس آواز پر ابیہا نے فورا اپنے آنکھیں کھولی تھی “
“‘ سامنے کھڑا عباس اسکو مذاق اڑاتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا “
‘ “ویسے ماننا پڑیگا تمھیں کیا بےوقوف بنایا تھا تم نے اپنے شوہر کا .
یہاں تم نام بدل کر رہتی رہیں وہاں وہ بیچارہ تمھیں تلاش کرتا رہتا تھا …
” ‘عباس آج بہت خوش تھا اسکے دشمن کی کمزوری جو اسکے پاس موجود تھی ..
” ‘ ڈی کے کی وجہ سے آج تک اسکو جتنے بھی نکسان ہوا ہے وہ اب اسکا پورا پورا بدلہ لینے کا ارادہ رکھتا تھا …
” ‘ تم یونہی تو میری پہلی پسند بنی تھی ..
میں نے سوچا تھا کہ تمہارا سودہ کرنے سے پہلے تھوڑا تمہارا استمال کر لوں گا مگر …
“” عباس شیطانی مسکراہٹ ہونٹھوں پر لئے اسکی طرف بڑھا تھا …
” ‘ مگر تم میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی ..
لیکن اب پھر سے تم میری قید میں ہو میں جو چاہے کر سکتا ہوں .
آخر تم میرے دشمن کی بیوی جو ہو …
“اپنی بات کہہ کر وہ پھر سے مسکرایا تھا جبکہ ابیہا کو اسکی آنکھیں اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہیں تھی …
” ‘ تم نے جو کیا ہے نہ اسکا تمھیں ذرا بھی اندازہ نہیں ہیں جب دراب یہاں آ جائے گے تب تمھیں اپنی غلطی کا اندازہ ہوگا ..
” ‘ جب دراب تم سے تمہاری سانسیں چھین لیں گے نہ تب تمھیں پتہ چلے گا …
” ‘ اسکی بات پر ابیہا پوری جان سے سلگ اٹھی تھی وہ آنکھوں میں غصّہ لئے اسکو دیکھ رہی تھی ..
” ‘ اسکی بات سن کر عباس ہنسا تھا اور ہنستا ہی چلا گیا تھا
اس خالی کمرے میں اسکی آواز پوری طرح گونج رہی تھی ..
” ‘ جبکہ ابیہا نفرت سے اسکو دیکھ رہی تھی
‘ ہنس لو شاید تمہارے پاس یہ چند ہی گھنٹے بچے ہیں ہنسنے کے لئے …
” ‘ پتہ نہیں اس میں اتنی ہمت کہاں سے آ گئی تھی جو وہ بےخوف بول رہی تھی ..
” ‘خاموش ….بلکل خاموش ..
” اسکی بات سن کر عباس نے ایک زوردار تھپڑ ابیہا کے گال پر مارا تھا …
” ‘ تھپڑ اتنی زور کا تھا کہ اسکے ہونٹھ سے خون نکل آیا تھا ..
درد کی شدت سے ابیہا کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے …
” ‘ میری قید میں رہ کر تمہاری اتنی زبان چل رہی ہے …
اگر اپنی بہتری چاہتی ہو تو خاموش رہو ورنہ تمہارے ساتھ جو ہوگا نہ اسکے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو …
“‘ عمر سے سختی سے ابیہا کا منہ اپنی پکڑ میں لیا تھا ..
اسکی آنکھوں میں وحشت اور اسکے الفاظ سن کر ابیہا کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا “
” ‘ عباس نے اور کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ اسکی پاکٹ میں پڑا موبائل بجا تھا ..
” اس نے ایک جھٹکے سے ابیہا کا چہرہ آزاد کیا اور فون نکال کر کال پک کی تھی …
“سلطان کی کال تھی ..
“جی ڈیڈ کیسی رہی آپکی ڈیل..
کال پک کرتا وہ بولا تھا مگر دوسری سائیڈ کی بات سن کر وہ حیران کھڑا رہ گیا تھا …..
💕💕💕
” ‘جی ڈیڈ ہو گئی آپکی ڈیل اور میٹنگ کیسی رہی آپکی ..
‘ “عباس فورا کال پک کرتا ہوا بولا تھا ..
“‘ ‘ ڈیل تو ہوئی نہیں لیکن تمہارے ڈیڈ اس وقت میرے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں .
دراب نے ایک نظر رسی میں جکڑے سلطان کو دیکھا تھا ..
“‘ ‘ جبکہ اپنے ڈیڈ کی جگہ ڈی کی آواز سن کر سلطان حیران کھڑا رہ گیا تھا ..
‘ کل کی ڈیل وہ ہی کرنے والا تھا مگر سلطان نے خود جانے کا فیصلہ کیا تھا ..
” عباس نے سوچا تھا کہ دراب ضرور اسکی ڈیل کا سن کر ان لوگوں کے پیچھے جائے گا اور ایسا بھی ہوا تھا ..
اس نے موقے کا فائدہ اٹھایا اور ابیہا کو کڈنیپ کر لیا تھا مگر وہ اپنی خوشی میں اس قدر خوش تھا کہ اپنے باپ کے بارے میں بھول ہی گیا تھا ..
” ‘ تم یہ بھول رہے ہو ڈی کے کی تمہاری بیوی اس وقت میری قید میں ہے اگر میرے ڈیڈ کو کچھ بھی ہوا نہ تو تم اپنی بیوی کو بھول جانا ..
” ‘ عباس اپنی حالت پر قابو پاتا بولا تھا ..
” ‘ یہ ہی بات میں تمھیں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ اگر میری ابیہا کو ذرا بھی چوٹ آئی نہ تو میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ تم اپنے باپ کو دور اپنی شکل تک پہچانے سے انکار کروگے ..
” ‘ دراب کا لہجہ سخت تھا بات کرتے وقت ساتھ ساتھ اس نے بشر کو نمبر ٹریس کرنے کا اشارہ کیا تھا ..
” ” چند منٹ بعد اسکے جواب کا انتظار کرنے کے بعد دراب نے فون کٹ کر دیا تھا ..
” اس نے صرف عباس کی لوکیشن کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے اسکو کال کی تھی ..
یہ تم بلکل اچھا نہیں کر رہے ہو ڈی کے تم پچھتاؤ گے سلطان اسکی قید میں ہونے کے باوجود بھی اس پر دہاڈا تھا ..
” ‘ پچھتاؤگے تو تم ….
” ‘ ویسے بھی تمہاری طرف تو میرے بہت پرانے حساب ہیں میں چاہوں تو اس وقت سارے حساب برابر کر سکتا ہوں لیکن نہیں ….
” ‘ میں تم دونوں باپ بیٹے کو ایک ساتھ مرتا ہوا تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں …
جبھی مجھے سکون ملے گا …
“‘ ‘ دراب سلطان کی پیشانی پر اپنی گن رکھتا ہوا سخت لہجے میں بول رہا تھا آنکھوں میں اسکی اس وقت خون اترا ہوا تھا …
” ‘ پاس کھڑا بشر اسکی حالت بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا ..
اسکی بیوی کو کڈنیپ کیا ہوا ہے اور وہ خود پر کس طرح ضبط کئے ہوئے کھڑا ہے یہ اسکی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا ….
” ‘ کون سے پرانے حصاب ?
” اسکی بات پر سلطان ایک پل کو حیران ہوا تھا
جہاں تک اسکو یاد تھا ان لوگوں نے صرف ابھی تک اسکے دوست کی ماں کو ہی مارا تھا ..
تو وہ کس پرانے حصاب کی بات کر رہا تھا …
” ‘ بہت جلدی بھول گئے تم سلطان جبکہ میں تو تم لوگوں سے صرف اسی کا بدلہ لینے کی وجہ سے پیچھے پڑا ہوں ..
” ‘ اسکی بات پر ابھی بھی سلطان کچھ سمجھ نہیں پایا تھا ..
” ‘ چلو تمہاری ی حیرانی بھی ختم کر دیتا ہوں ..
” ‘ داؤد خان تو یاد ہی ہوگا تمھیں ..
” اسی کا بیٹا ہوں میں دراب خان …
” اسکی بات پر سلطان پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگا تھا .
اس دن اسکو لگا تھا کہ اس نے اپنے سب سے بڑے دشمن کو ختم کر دیا ہے مگر ایسا نہیں تھا …
” ‘ دراب سلطان کو وہاں حیران چھوڑتا بشر کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا باہر نکلا تھا …
” ‘انہیں پتہ چل چکا تھا کہ عباس نے ابیہا کو کہاں رکھا ہوا ہے ..
بس اب اپنے لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچنا تھا ..
“اور اسکو بس جلد سے جلد اپنی ابیہا کے پاس جانا تھا اور اسکو اپنی ابیہا کے پاس جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا کوئی بھی نہیں …
💕💕💕
” ‘ ‘ وہ نہ جانے کب سے نماز پر بیٹھی ابیہا کے لئے خیریت کی دعا مانگ رہی تھی
‘ ‘ اسکا چہرہ اس وقت آنسوں سے بھیگا ہوا تھا “
“‘ ‘ اس وقت اسکو ابیہا کے لئے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ اگر ابیہا کو کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گی “
“‘ ‘ اسکا تو ابیہا کے علاوہ اس دنیا میں کوئی بھی نہیں تھا .
” ‘ جب سے عمر نے اسکو عباس اور حسن کے بارے میں سب سچ بتایا تھا کہ وہ لوگ کس قدر خطرناک لوگ ہیں بس تب سے ہی اسکی ابیہا کے لیے فکر مزید بڑھ گئی تھی ..
” ‘ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی طرح ابیہا کے پاس چلی جائے ..
” ‘ اسکو حسن کے بارے میں جانکر حیرانی بھی ہوئی تھی کہ کن لوگوں کے بیچ وہ کام کرتی آ رہی تھی .
” اور حسن اسکو تو وہ اپنا دوست سمجھتی تھی مگر عمر سے اسکی موت کے بارے میں سن کر اسکو ایک سکون سا ملا تھا ..
“‘ آخر اسکو تو سزا ملنی ہی تھی نہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کی وہ زندگی خراب کر چکا تھا عباس کے ساتھ مل کر …
” ‘ عشل تم خود کو اتنا پریشان مت کرو دراب ابیہا کو واپس لے آے گا میں جانتا ہوں …
‘ ” وہ لوگ ابیہا کو کچھ نکسان نہیں پہنچا سکتے ہیں “
” ‘ عمر کب سے بیٹھا مسلسل اسکو روتا دیکھ رہا تھا اس سے عشل کے آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے ..
” ‘پریشان تو وہ بھی تھا ابیہا کے لئے مگر جب اسکو یہ معلوم ہوا کہ سلطان دراب کی قید میں ہے تو اسکو یقین ہو گیا تھا کہ دراب کو اب ابیہا تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے …
” ‘ میں کیوں نہ پریشان ہوں آخر ابیہا کے علاوہ میرا اس دنیا میں ہے ہی کون .
” ‘ اگر اسکو کچھ ہو گیا تو میں خود کو بھی ختم کر لوں گی ..
” ‘ ویسے بھی میں اس دنیا میں اکیلا رہ کر کیا کروں گی …
” ‘ عشل تلخی سے بول رہی تھی یہ جانے بغیر کے اسکے الفاظ سے عمر کو کتنی تقلیف ہو رہی تھی ..
وہ کس طرح ضبط کئے ہوئے بیٹھا تھا بس وہ ہی جانتا تھا “
” ‘اور میں تمہاری دنیا میں کہاں آتا ہوں ..
کیا میں نہیں ہوں تمہارا کچھ ?
“‘ عمر کو بہت دکھ ہوا تھا عشل کی بات سن کر کتنا بدگمان ہو گئی تھی وہ اس سے صرف ایک ہی دن میں …
” ‘ عمر تم ہی میری دنیا تھے ”
” سب کچھ تم تھے میرا ‘
“لیکن تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ‘
دھوکے میں رکھا مجھے ہر وقت ..
” ‘اور آج تم خود وجہ ہو میری اس دنیا سے نکلنے کی “
‘ ” عشل اسکی بات کا جواب دے کر نماز سے اٹھی تھی جبکہ بولتے بولتے گلا رندھ گیا تھا
آنکھوں میں پھر سے پانی بھر آیا تھا “
” ‘ کتنا جھوٹ بولا تھا عمر نے اس سے یہاں تک کہ اس نے اپنی ماں کی موت کے بارے میں بھی اس سے جھوٹ بولا تھا ..
” ‘ اور وہ اسکی ہر بات پر بھروسہ کرتی آ رہی تھی
” ‘ وہ اپنی دوست کے لئے کتنا پریشان رہتی تھی اسکے سامنے اس نے کبھی بھی اسکو خبر نہیں ہونے دی کہ ابیہا کے بارے میں..
” ‘ عشل کو ان سب باتوں نے بہت دکھ پہنچایہ تھا .
” ‘ عشل میں تم سے یہ باتیں بلکل بھی نہیں چھپانا چاہتا تھا .
بس میں صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا
جب تک ابیہا اور دراب کے بیچ سب ٹھیک نہیں ہو جاتا بس اسکے بعد میں تمھیں سب بتانے والا تھا ..
“‘ اور جب صحیح ہو گیا میں نے سوچا کہ تمھیں بتا دوں لیکن امی کے انتقال کے اتنا ٹوٹ گیا تھا کہ میں سب باتیں ہی بھول گیا …
” ‘ عشل میرا یقین کرو میں تم سے یہ سب چھپانا نہیں چاہتا تھا …
عمر آہستہ سے چلتا اسکے قریب آیا ہر اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنی غلطی کا عتراف کر تھا ..
” ‘ نہیں عمر تم تو آج بھی نہیں بتاتے اگر ابیہا کے ساتھ یہ سب نہ ہوا ہوتا ..
کیونکہ اگر تمھیں بتانا ہوتا نہ تو تم مجھے پہلے دن ہی سب حقیقت سے آگاہ کر دیتے لیکن نہیں تم نے ایسا کچھ نہیں کیا …
” ‘ عشل کو اسکی باتوں پر یقین تو آ رہا تھا کیونکہ وہ اسکی آنکھوں میں سچائی دیکھ سکتی تھی لیکن وہ اپنے ڈیل کا کیا کرتی جو بہت بری طرح سے ٹوٹا تھا …
” ‘ میں جانتا ہوں عشل تمھیں میری باتوں پر یقین آ گیا ہے لیکن تم یقین کرنا نہیں چاہتی ہو ..
ٹھیک ہے کوئی بات نہیں لیکن میں تمھیں تب تک اپنی بات کا یقین دلاتا رہوں گا جب تک تم یقین نہیں کر لیتی…
” ‘ عمر اسکے آنسو سے بھری آنکھوں میں دیکھ کر بولا اور اسکے ہاتھوں سے اپنے لبوں سے نرمی سے چھوتا روم سے باہر نکل گیا تھا ..
” ‘ عشل بھیگی آنکھوں سے اسکو جاتا دیکھتی رہی تھی ..
💕💕💕
” ” جب سے اس نے دراب سے بات کی تھی اسکے بعد سے اسکا غصّے سے برا حال تھا ..
” وہ اس سے بات کرنے کے بعد غصّے سے باہر نکلا تھا اور اپنے لوگوں کو الرٹ کیا تھا ..
اسکو رہ رہ کر خود بھی غصّہ آ رہا تھا کہ وہ اتنی بڑی بےوقوفی کیسے کر سکتا ہے ..
‘ “باہر سب دیکھنے کے بعد وہ پھر سے اندر آیا تھا
” ‘ کیا ہوا پتہ چل گیا نہ کہ تم نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ..
‘ ابیہا اسکی باتیں سن چکی تھی اور اسکو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ کال کسی اور کی نہیں دراب کی تھی اسکے دراب کی …
” ‘ پتہ تو اسکو بھی چل جائے گا جب وہ تمھیں ڈھونڈھ ہی نہیں پا پاۓ گا ..
میں اپنے ڈیڈ کو کسی بھی طرح اس سے آزاد کروا لوں گا ..
” ‘ عباس نے سختی سے اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ..
“تقلیف سے ابیہا کی چیخ نکل گئی تھی ..
” ‘ تم کچھ نہیں کر سکو گے دیکھ لینا ..
‘ ‘بہت زبان چل رہی ہے نہ تیری یہ زبان اب بند کرنی ہی پڑیگی ..
“‘ ‘اسکو ابھی آزاد کرو اگر تم اپنے باپ کی زبان چلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو …
وہ ابھی بھی ابیہا کے بال سختی سے پکڑ ہوئے تھا جب اسکو اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی تھی ..
“‘ عباس اسکے بال ایک جھٹکے میں آزاد کرکے فورا مڑا تھا مگر دراب کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ کھڑا کا کھڑا ہی رہ گیا تھا …
” ‘ دراب اسکے باپ کے سر پہ گن تان کر کھڑا تھا
عباس کو یقین نہیں آیا تھا کہ اتنی سخت سیکورٹی کے بعد بھی وہ یہاں کھڑا تھا …
” ‘ اچھا اگر ایسی بات ہے تو تمھیں پہلے میرے ڈیڈ کو چھوڑنا ہوگا …
” ‘ عباس نے بھی اپنی گن اب ابیہا کی طرف کی تھی .
” ‘ اسکے مڑنے پر دراب کے سامنے ابیہا کا چہرہ آیا تھا ..
اسکا چہرہ دیکھ کر دراب کی غصّے سے رگے تن گئی تھی …
” ‘ ابیہا کے ہونٹھ سے نکلا خون اب سوکھ چکا تھا جبکہ آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو چکی تھی .
“‘ ‘ابیہا کی حالت دیکھ کر دراب کا دل کیا کہ وہ ان دونوں کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دے ..
” مگر اس سے ابیہا کی جان کو خطرہ تھا اس لیے وہ ضبط کئے کھڑا تھا …
‘ ” دراب آپ آ گئے ..
اسکو دیکھ کر ابیہا کی آنکھوں میں پھر سے آنسوں آ گئے تھے ..
” ‘ دیکھو …تمہاری بیوی بھی تڑپ رہی ہے تمہارے پاس آنے کے لئے ..
جلدی مانو میری بات .
عباس اسکو جلانے کے لیے مسکرایا تھا ‘
” ‘ اتنی بھی کیا جلدی ہے تم اپنا کام آرام سے ..
عمر پیچھے سے عباس کے سر پر اپنی گن رکھتا ہوا بولا تھا …
” عمر کی بات پر اب دراب مسکرایا تھا ..
اسکے اشارہ کرنے پر عمر اک ہاتھ سے ابیہا کے ہاتھوں کو رسی سے آزاد کرانے لگا تھا ‘
” ‘ اسکا دھیان اب مکمل ابیہا کی طرف تھا جسکا فائدہ اٹھا کر عباس نے لات مار کر عمر کی گن کو گرایا تھا “
” ‘ اسکی حرکت پر عمر فورا الرٹ ہوا تھا اس نے عباس کے ہاتھ سے گن لینی چاہی تھی ..
” دراب انکو لڑتا دیکھ کر سلطان کو چھوڑ کر انکی طرف بڑھا تھا مگر اس دوران گولی کی آواز سے ابیہا کی چیخ نکل گئی تھی ” ‘
💕💕💕💕
“””””””::::::(جاری ہے )””””””””:::::
