Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“بشر کے جانے کے بعد وہ کب سے یوں ہی بیٹھا ہوا تھا
بشر کی کہی ہر اک بات اسکے دماغ میں چل رہی تھی ایسا بھی ہو جائے گا اس نے سوچا نہ تھا
“عائشہ بیگم کی موت اسکے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی
جو بھی تھا اسکے ماں باپ کے بعد اگر اسکی زندگی میں کوئی رشتہ کوئی بڑا موجود تھا وہ عائشہ بیگم تھی جنکی وہ بہت قدر کرتا تھا
“چاہے جو بھی تھا وہ اسکو پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ اسکو اور اسکے باپ کو اپنے شوہر کی موت کہ قصوروار سمجھتی تھی
وہ یہ بات بچپن سے ہی جانتا تھا مگر اس بات کے جاننے کے بعد اسکے دل میں انکی جگہ انکے لیے اتنی ہی قدر تھی
“اس نے سوچا تھا کہ وہ انکی اس ناراضگی اور ناپسندیدگی کو ختم کر دیگا .
وہ انکو یہ یقین کرنے پر مجبور کر دیگا کہ ابیہا کے لیے اس سے اچھا ہمسفر انکو مل ہی نہیں سکتا ہے “
“پر شاید انکے پاس وقت کم تھا ..نہ وہ انکے اس بات کا یقین دلا سکا اور نہ ہی انکے دل دل میں اسکے لیے جو ناپسندیدگی ختم کر سکا تھا
“اس بات کا افسوس اسکو اس وقت بڑی شدت سے ہو رہا تھا”
“مجھے بہت افسوس ہوا عائشہ آنٹی کے بارے میں سن کر …کاش کے ہم کچھ کر پاتے انکے لیے
“عمر اسکے روم میں آتے ہی اسکی طرف دیکھ کر بولا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا “عمر اچھے سے جانتا تھا کہ اسکو عائشہ بیگم کے بارے میں سن کر دکھ ہوا ہوگا کیونکہ اسکی زندگی میں کچھ ہی لوگ تھے جنکی وہ دل سے قدر کرتا تھا “
“وہ جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھا ہوا تھا عمر کی آواز پہ چونک کر اسکی طرف دیکھا جو کھڑا اسکو ہی دیکھ رہا تھا جبکہ اسکے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا “
“اگر ہم انکے قریب ہوتے تو بھی وہ ہم سے کوئی مدد نہ لیتی یہ تم جانتے ہو عمر .
“اس نے عمر کو یاد دلاتے ہوئے کہا تھا وہ یہ بات اچھے سے جانتا تھا کہ آج تک اس نے جو بھی چیز ان لوگوں کو پہوچائی تھی آج تک انہونے کبھی استمال نہیں کی تھی اسکو غصّہ تو بہت آتا تھا مگر ضبط کر کے رہ جاتا تھا “
“اچھا یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ تمہارے ہاتھ میں یہ کیسا پیکٹ ہے ?
“اس نے عمر کے ہاتھ میں موجود پیکٹ کے بارے میں پوچھا تھا ..
“ہاں یہ …بشر نے دیا ہے جب وہ ابیہا کے گھر گیا تھا تو وہاں سے یہ سب لے کر آیا ہے ..
عمر وہ پیکٹ اسکے سامنے رکھتا ہوا بولا …
“زیادہ مت سوچوں وہ تمھیں ہی دینے کے لئے لایا تھا پر یہ جو تمہارا غصّہ ہے نہ بیچارے کی بولتی بند کر دیتا ہے
تمہارے غصّے کی وجہ سے اسکو یاد نہیں رہا اس لئے مجھے دیا ہے تمھیں دینے کے لیے ..
“عمر اسکی آنکھوں میں موجود سوال کو پڑھتے ہوئے بولا ..
“جبکہ اسکی باتوں کے دوران دراب پیکٹ کھول چکا تھا اور اک اک کرکے اس میں سے چیزے نکال رہا تھا
“کچھ کاغذات تھے تو کچھ ابیہا کی بچپن کی تصویر تھی .
“کچھ میں وہ عائشہ بیگم کے ساتھ تھی کسی میں بلکل اکیلی اپنے بابا کے ساتھ بھی اسکی کچھ تصویر تھی ان میں سے ایک تصویر اسکے پاس بھی موجود تھی
“یہ سب دیکھ کر بےساختہ اسکے ہونٹھوں پہ مسکراہٹ آئی تھی جسکو عمر نے بڑی غور سے دیکھا تھا
“ابھی وہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک تصویر پہ اسکا ہاتھ اچانک رکا تھا ہونٹھوں کی مسکراہٹ یکدم غایب ہوئی تھی آنکھوں میں حیرانی تھی
“عمر جو اسکو ہی دیکھ رہا تھا اسکی ہنسی اور آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر فورن سے اسکے پاس گیا تھا
“اب اسکا بھی حال دراب سے کم نہ تھا دونوں کبھی تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تو کبھی اس تصویر کو سب کچھ سمجھنے میں ان دونوں کو بس ایک لمحہ لگا تھا “””
💞💞💞
“”اس نے بےدیلی سے دروازہ کھولا تھا مگر سامنے کھڑی حستی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں پھر سے پانی بھر آیا تھا
“عشل” کانپتے ہونٹھوں کے ساتھ بامشقل اس نے یہ لفظ ادا کیا تھا
“جبکہ عشل کی خود آنکھیں نم ہو گئی تھی اسکی حالت دیکھ کر وہ یکدم سے آگے بڑھی تھی اور روتی کانپتی ابیہا کو اپنی باہوں میں بھرا تھا .
“اور ابیہا تو جیسے کسی اپنے کا سہارا پاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی جبکہ عشل بھی اسکو چپ کرانے کے ساتھ ساتھ خود بھی آنسو بہا رہی تھی..
“عشل دیکھو نہ میں بلکل تنہا ہو گئی ہوں امی بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہیں ..
“وہ روتے روتے اپنا درد اسکو سنا رہی تھی عشل سے اسکی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی .
“نہیں ابیہا تم اکیلی نہیں ہو میں ہوں نہ تمہارے پاس تم بلکل تنہا نہیں ہو ..
”’عشل نے اسکا چہرے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا جو رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی ..
”عشل اسکی دوست نہیں بلک بہنوں کی طرح ہی تھی کچھ وقت پہلے وہ بھی ابیہا کے ساتھ اسی گاوں میں رہتی تھی ”
”اسکا اور ابیہا کا بچپن ساتھ ہی گزرا تھا دونوں کے دن رات ساتھ گزرتے تھے..
“ایک دن اک حادثے میں اسکے ماں باپ دونوں ہی اسکو تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے اسکا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا تو عشل کے نانا جو خود اکیلے تھے اسکو اپنے ساتھ لے گئے تھے ”
“”ابھی کچھ سال پہلے ہی وہ یہ گاوں چھوڑ کر اپنے نانا کے پاس گئی تھی مگر ان دونوں کی دوستی میں ذرا فرک نہیں آیا تھا “
”’ابیہا نے جب اسکو اپنی پریشانی کے بارے میں بتایا تو عشل نے کچھ وقت کے لیے اپنے پاس آنے کو کہا تھا جس پہ وہ بھی راضی ہو گئی تھی
”عشل شروع سے ہی ابیہا اور اسکے نکاح کے بارے میں سب جانتی تھی اور اسکی دراب سے نفرت بھی اس سے چھپی نہیں تھی “
اسکو ابیہا کی ہر بات کا علم تھا عشل کے کہنے پہ وہ اسکے پاس جانے کی تیاری کر رہی تھی مگر جب وہ نہ آئی
” تو عشل نے جب ابیہا کو کال کی اسکے بعد جو خبر اسکو ملی اس سے رکا نہیں گیا وہ فورن ہی ابیہا کے پاس آئی تھی”
”وہ روتی ہوئی ابیہا کو اندر لائی اور اسکو پانی پلا کر اسکے برابر میں بیٹھ کر اسکا درد کم کرنے کی کوشش کرنے لگی ..
عشل نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب ایک پل کے لیے بھی تنہا نہیں چھوڑے گی اس نے ابیہا کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا آخر ان دونوں کا اب تھا ہی کون ایک دوسرے کے علاوہ””
💞💞💞
”’وہ کلب میں ایک کونے میں کھڑی لوگوں کی بھیڑ کو دیکھ رہی تھی
‘سب کتنے خوش تھے اپنی زندگی میں مطمعین ”
“‘کوئی یہاں اپنا درد کم کرنے آتا تھا ..
‘تو کوئی یہاں اپنی خوشی منانے ..
”یہاں کا سب کا اپنا ایک ساتھی تھا دوست تھا .
”ایک وہ تھی جو پھر سے تنہا اور اکیلی رہ گئی تھی
”کل جب وہ گھر واپس لوٹی تو بہت پریشان تھی ابیہا کے لیے کیونکہ کل اسکو گئے ہوئے دوسرا دن تھا اور نہ ہی وہ واپس آئی تھی نہ ہی اسکا کچھ پتہ چلا تھا
”پر جب وہ گھر پہوچی تو تو ایک خط اسکو بیڈ پہ رکھا ہوا ملا تھا
‘وہ خط کو دیکھ کر کچھ حیران ہوئی تھی مگر جب اس نے وہ خط پڑھنا شروع کیا تو اسکی حیرانی مزید بڑھ گئی تھی ..
”وہ خط دراب خان کا تھا جس میں ابیہا کی اسکی پاس موجودگی کے بارے میں لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں اسکو ابیہا کے لیے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ..یہ سب لکھا ہوا تھا
”خط پڑھکر عشل کچھ مطمعین تو ہوئی تھی ابیہا کے بارے میں جان کر مگر دراب کے پاس اسکی موجودگی سے اسکو پریشانی بھی ہوئی تھی اور ساتھ میں اسکو ی بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ دراب کو ابیہا کی یہاں موجودگی کے بارے میں کیسے معلوم ہوا تھا ..
“‘پر وہ ابیہا کو بھی اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اتنی بھی کمزور نہیں ہے جو اس پریشانی کا سامنا نہ کر سکے اور ویسے بھی دل میں ایک اطمینان بھی تھا کہ دراب اسکا شوہر ہے وہ اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کریگا..
یہ سوچ آتے ہی وہ کچھ مطمعین ہو گئی تھی .
”کیا بات ہے کس کے بارے میں سوچا جا رہا ہے ?
”وہ کھڑی اپنی سوچوں میں گم تھی جب اسکو اپنے برابر سے آواز آئی تھی
‘عشل نے گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے آنکھوں میں چمک اور ہونٹھوں پہ مسکراہٹ آ گئی تھی”
”حسن”تم ..تم کب آۓ ؟
”وہ مسکراتے ہوئے حسن سے مخاطب ہوئی
”بس یار کل ہی واپس آیا ہوں اور آج ڈیوٹی پہ بھی آ گیا ..
حسن مسکراتے ہوئے بولا تھا جس پہ عشل بھی مسکرا دی تھی..
”حسن بھی اسکے ساتھ پچھلے تین سالوں سے کام کر رہا تھا اور ابھی کچھ وقت کے لیے وہ کسی کام سے گیا ہوا تھا..
‘عشل کی اس سے کافی اچھی دوستی تھی وہ ایک اچھا لڑکا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ عشل کا دوست تھا..
”سچ میں مجھے بہت خوشی ہوئی ہے تمھیں دیکھ کر
اسکو دیکھ کر عشل کو واقعی اچھا لگا تھا ..
“‘اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم مجھے دیکھ کڑ اتنی خوش ہو جاؤ گی تو میں بہت پہلے ہی ا جاتا ..
اسکے خوشی سے چمکتے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا تھا
”اسکی بات پہ عشل مسکرائی تھی”
“اور یہ ہی لمحہ تھا جب عمر کلب میں داخل ہوا تھا اور عشل کو کسی لڑکے سے بات کرتا اور مسکراتا دیکھ کر اسکے ماتھے پہ یکدم سے بل پڑ گئے تھے
”ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے عشل کو کسی سے بات کرتے دیکھا تھا ورنہ وہ ہمیشہ ہی صرف ابیہا سے باتیں کرتی رہتی تھی ”
“‘وہ ان دونوں کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ایک کونے میں جا بیٹھا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عشل کا ہاتھ پکڑ کر اس شخص کے پاس سے ہٹا دے مگر وہ فلحال کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے ضبط کیے بیٹھا رہا تھا”””
💞💞💞
”وہ کب سے بیٹھا بس اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا
‘یہ وہ چہرہ تھا جسکو ڈھونڈھنے کے لیے وہ اتنے مہینوں سے پریشان پھر رہا تھا
”کل تک یہ چہرہ اسکو زہر لگ رہا تھا اور آج یہ چہرہ اسکے لیے دنیا کا سب سے حسین چہرہ تھا ”
”اس نے خود پہ کتنا ضبط کیا تھا اس چہرے کو دیکھنے کے لیے اور اب یہ چہرہ اسکے سامنے تھا اسکے بےحد قریب
”مگر وہ اس سے دور جانا چاہتی تھی اتنا کہ وہ اسکو کبھی دیکھ نہ پاتا یہ سوچ آتے ہی اسکو یکدم سے اس پہ بہت غصّہ آیا تھا
”ہاتھ میں پکڑا موبائل وہ زور زور سے کرسی پہ مارنے لگا تھا
اسکو اب اسکی نیند بھی زہر لگ رہی تھی ..
دراب جان بوجھ کر اور زور سے مارنے لگا تھا مقصد صرف اسکو جگانا تھا …
“اسے کمرے میں لگاتار ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی
وہ گہری نیند میں تھی میں تھی”
“جب اسے آواز نے بیدار کرنا شروع کیا تھا
وہ ابھی بھی غنودگی میں تھی
اسکو لگا یہ شاید گھڑی کی آواز ہے
“پھر اسکے دماغ کے کسی کونے میں آواز آئی کہ یہ گھڑی کی آواز نہیں ہیں
وہ ہوش میں آنے لگی تو اسکو ایسا محسوس ہوا کہ یہ آواز اسکے بہت قریب سے آ رہی ہے
لگاتار رونے کی وجہ سے اسکو آنکھیں کھولنے میں مشقل ہو رہی تھی
“اس نے تھوڑی سی آنکھ کھول کر آواز کی وجہ معلوم کرنی چاہی تھی
“کوئی اسکے بیڈ کے پاس کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھا ہوا تھا
اسکے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسکو وہ کرسی پہ آہستہ آہستہ مار رہا تھا جس سے یہ آواز پیدا ہو رہی تھی
اسکی آنکھیں ایک دم سے پوری کھلی اور ایک جھٹکے میں وہ اٹھ کر بیٹھی تھی
وہ حیرانی سے کبھی خود کو بیڈ پہ دیکھتی تو کبھی روم کو
“اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہاں پہ کیسے آئی تھی
جہاں تک اسکو یاد تھا کل رات وہ اس کرسی پہ بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی جس پہ اسکو باندھ رکھا تھا
“کبھی وہ اپنے کھلے ہاتھوں کو دیکھتی تو کبھی بیڈ کو
“بہت آرام سے سوئی تم !!
“اس کو ہوش میں آتے دیکھ کر دراب تھوڑا سا اسکی طرف جھک کر بولا تھا !
اپنے برابر سے آتی آواز پہ اس نے ایک دم گردن موڑ کے دیکھا تھا
“وہ حیران پریشان سی بیٹھی اس کمرے اور بیڈ پہ اپنی موجودگی کے بارے میں سوچ رہی تھی
اور وہ اپنی اس پریشانی میں بیڈ کے برابر کرسی پہ بیٹھے شخص کو بلکل ہی نظر انداز کر چکی تھی “
“میں لیکر آیا ہوں تمھیں یہاں “
”وہ اسکے چہرے پہ پریشانی اور سوال کو آرام سے پڑھ سکتا تھا جو اس وقت اسکے چہرے پہ تھا ”
”اسکی بات سن کر ابیہا نے چوک کر اسکی طرف دیکھا اور یکدم ہی اسکی نظر اسکے آنکھ سے اپر نشان پہ پڑی
“ابیہا کو ایک لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کہ یہ سخص وہ ہی تھا جو کل رات اسکے پاس آیا تھا جس نے اسکو یہاں قید کر کے رکھا ہوا تھا ”
‘یہ بات یاد آتے ہی اسکے خوف اور گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا وہ ایک دم سے خود میں سمٹ کے بیٹھی تھی …
“‘کیوں لایے ہو مجھے یہاں.. پلز مجھے جانے دو ..
وہ ڈرتے ڈرتے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی ..
”سوچا تو میں نے پہلے یہ ہی تھا کہ تمھیں چھوڑ دوں گا مگر!!
‘وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوئے بولا اور اک نظر اسکے ڈرے سہمے چہرے کو دیکھا
‘مگر اب میرا ارادہ بدل گیا ہے میرا تمھیں چھوڑنے کا بلکل موڈ نہیں ہیں ..
‘وہ اسکو اپنی باتوں سے ڈرا رہا تھا ..
”پلز مجھے جانے دو آخر میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ?
جو تم نے مجھے یہاں قید کیا ہوا ہے ..وہ پھر سے ہمت کر کے بولی تھی اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے اس سے ..
“بگاڑا تو کچھ نہیں ہے …ہاں اگر تم نے یہاں سے جانے کے بارے میں بولتی رہیں تو ضرور بگاڑ سکتی ہو تو تمہاری بہتری اسی میں ہیں کہ تم خاموش رہو .’
”وہ غصّے سے اسکو وارن کرتا ہوا بولا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا
.. اسکا ارادہ فلحال اسکو کچھ بتانے کا نہیں تھا ابیہا خود اس رشتے کے بارے میں بتاۓ گی اسکو جس رشتے کو وہ قبول نہیں کرتی تھی اتنا تو اس نے سوچ لیا تھا کہ اسکو آگے کیا کرنا ہے ..””
💕💕💕💕💕
“”””””(جاری ہے)”””””
