Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
” آؤ احمد بیٹھو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے .
‘داؤد خان احمد کی اپنے آفس میں داخل ہوتا دیکھ کر اسکو اپنے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھے کا اشارہ کیا تھا ”
”کیا بات ہے خان کیا سلطان نے یا پھر اسکے آدمیوں نے کچھ کیا ہے کیا ?
”احمد سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ کر داؤد سے اپنے بلانے کی وجہ معلوم کی تھی “
”نہیں سلطان نے کچھ نہیں کیا ہے لگتا ہے ہماری آخری بار دی گئی وارننگ کام آ رہی ہے اس لیے وہ چپ ہے …
”سلطان ان لوگوں کی لسٹ میں شامل ہوتا تھا جو غیر قانونی کام کرتے تھے اور داؤد خان کا مقصد صرف ایسے لوگوں کو روکنا تھا ”
”پر ہمے سمبھال کر رہنا چاہئے اسکے خاموشی کے پیچھے چھپے وار سے
‘وہ بہت شاتیر انسان ہے اتنی جلدی ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہے وہ ”
”احمد جیسے داؤد خان کو سلطان کے بارے میں یاد دلا رہا تھا ”
”میں جانتا ہوں تم فکر مت کرو میں نے آدمی لگا رکھے ہیں اسکے پیچھے ..
‘اصل میں تو میں نے تمھیں کسی اور مقصد کے لیے یہاں بلایا تھا …
”داؤد خان اب اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر احمد کے پاس آیا تھا ..
”داؤد کی بات پر احمد سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا تھا ”
”احمد مجھے بس تم سے میرے بیٹے دراب کے لیے تمہاری بیٹی ابیہا چاہئے ..
”داؤد خان نے جیسے احمد کے سر پر بم پھوڑا تھا وہ بےیقینی سے داؤد خان کی طرف دیکھ رہا تھا
”اسکو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو اسکے کانوں نے سنا ہے اس پر …
”کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو کیا تمھیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے ?
”اسکے اس طرح دیکھنے پر داؤد خان نے اس سے سوال کیا تھا ..
”یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میرے لئے یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے
کیونکہ ابیہا جتنی عزیز ہے مجھے اتنا ہی دراب بھی دونوں میں جان ہے میری …مگر ..
”احمد سے بولتے بولتے خاموش ہوا تھا ‘
مگر کیا احمد ?
‘اسکے اس طرح سے چپ ہو جانے پر داؤد خان کو الجھن ہوئی تھی ..
”آپ تو جانتے ہے خان عائشہ اس رشتے کے لیے بلکل بھی راضی نہیں ہوگی آپ جانتے نہیں اسکی ناپسندیدگی کو ..
”عائشہ کا ذکر آتے ہی داؤد خان بھی جیسے خاموش ہوا تھا ..
”تم اسکو مناؤ احمد اسکو بولو کہ دراب اسکے لیے کتنا بہتر ہے
‘کیا تم نے دیکھا نہیں ان پندرہ دنوں میں جب سے ابیہا یہاں آئی ہے کتنا خوش رہنے لگا ہے دراب ہر وقت اسی کے ساتھ رہتا ہے
”اسکا کتنا خیال رکھتا ہے
میرے بیٹے کے لیے وہ بہت عزیز ہو گئی ہے احمد اور میں اس لیے ابیہا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسکی بنا دینا چاہتا ہوں .
‘تو کیا تم میری اور میرے بیٹے کی اتنی چھوٹی سی خوائش پوری نہیں کروگے ?
”داؤد خان آج پہلی بار احمد سے اپنے لیے کچھ مانگ رہا تھا اپنے بیٹے کے لیے انکو انکار کرنا احمد کے بس میں نہیں تھا ..
”اسکا بس چلے تو وہ اپنی جان تک قربان کر دے انکے لیے ..
”ٹھیک ہے خان میں عائشہ کو منانے کی کوشش کرتا ہوں وہ اگر مان گئی تو بھی ٹھیک اگر نہیں مانی تو بھی ..
”ابیہا دراب کی ہی بنے گی یہ میرا آپسے وعدہ ہے .
”احمد داؤد خان کی طرف دیکھتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا .
”احمد کی بات پر داؤد خان مسکرا دیا تھا اور آگے بڑھ کر اسکو گلے لگایا تھا ..
💕💕💕
”جاؤ اپنی دوست سے مل لو جاکر
‘صرف ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس ”
”میرا آدمی ٹھیک ایک گھنٹے بعد تمہارا باہر انتظار کر رہا ہوگا ‘
‘دراب نے اپنی کار عشل کے گھر کے سامنے روکی تھی
‘اور پھر اپنے برابر بیٹھی ابیہا سے مخاطب ہوا تھا جو آنکھوں میں بےیقینی لیے کبھی اسکو تو کبھی سامنے عشل کے گھر کو دیکھ رہی تھی ”
”اسکے لیے یہ سب کسی خواب سے کم نہ تھا
”آج صبح جب دراب نے اسکو اپنے ساتھ چلنے کے لیے بولا تو اس نے بنا یہ جانے منع کر دیا کہ وہ اسکو لیکر کہاں جا رہا تھا ”
”جب اسکے انکار پر اس نے بتایا کہ وہ اسکو عشل کے پاس لیکر جا رہا رہا ہے تو کتنے ہی لمحے وہ کھڑی بس اسکو دیکھتی رہی تھی ..
”اسکو بلکل یقین نہیں آیا تھا جو دراب نے اس سے کہا تھا ”
”اسکو دراب سے اس بات کی بلکل امید نہیں تھی ..
”اور اب جب وہ اسکو یہاں لیکر آ گیا تھا تو وہ بےیقینی کی کیفیت میں بیٹھی تھی ”
”تم سے کچھ کہہ رہا ہوں میں کہاں گم ہو
اسکو اپنے خیالوں میں کھویا دیکھ کر دراب پھر سے اس سے مخاطب ہوا تھا
” ٹھیک ہے سن لیا ہے میں نے
ابیہا اپنی جھنپ مٹاتی ہوئی بولی اور جلدی سے کار کا دروازہ کھولنے لگی تھی جب
”دراب نے اسکا بازو اپنی گرفت میں لے کر ایک جھٹکے میں اسکو اپنی طرف کھینچا تھا ‘
”دراب کے اس طرح سے کرنے پر ابیہا یکدم سے اسکے بہت قریب ہوئی تھی ”
”ابیہا دراب خان کوئ بھی ہوشیاری کرنے سے پہلے بس اتنا یاد رکھنا کہ میرے آدمی اس گھر کے چاروں طرف موجود ہیں ..
”دراب اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اسکو وارن کر رہا تھا ”
‘جبکہ ابیہا خاموشی سے اسکو سن رہی تھی پتہ نہیں اسکو کیا ہوتا جا رہا تھا وہ اسکو چاہ کر بھی کوئی سخت جواب نہیں دے سکی تھی ..
تمہارے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات ضرور چل رہی ہوگی کہ تم یہاں سے بھاگ سکتی ہو
تو یہ بات تم اپنے دماغ سے نکال دو ..
”دراب اسکے سر کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا اور اسکا بازو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا
”وہ اسکو جو سمجھانا چاہتا تھا وہ اچھے سے سمجھا چکا تھا
”اپنا بازو اسکی پکڑ سے آزاد ہوتے ہی ابیہا تیزی سے کار سے نکلی تھی .
”اسکے کار سے نکلتے ہی دراب تیزی سے اپنی کار آگے بڑھا لے گیا تھا
جبکہ ابیہا کتنی ہی دیر ایسے ہی کھڑی اسکی دور جاتی کار کو دیکھتی رہی تھی
”کیا کرتا جا رہا تھا یہ شخص اسکے ساتھ وہ سمجھ نہیں پا رہی
کیا وہ اب بھی اس سے اتنی نفرت کرتی ہے جتنی پہلے کرتی تھی یہ بس وہ سوچ کر رہ گئی تھی “”
💕💕💕
”وہ بلکل ابھی جاگی تھی اپنے لیے کچھ بنانے کا سوچ کر اسکے قدم کچن کی طرف بڑھے تھے ..
”ابیہا کے ساتھ رہتے اسکو کھانا تو بنانا آ ہی گیا تھا یکدم سے اسکو ابیہا کی یاد آئی تھی کتنے دن ہو گئے تھے اس سے ملے ہوئے ..
”پتہ نہیں اب وہ کبھی اس سے مل بھی سکے گی یا نہیں .
‘وہ ایک گہرا سانس بھر کے رہ گئی تھی ..
”دروازہ بجنے کی آواز پر وہ یکدم سے اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی
‘اور حیران بھی تھی کہ اسکے گھر آخر کون آیا ہوگا
”اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا سامنے کھڑی ابیہا کو دیکھ کر اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی
”ایک پل کو تو اسکو اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا ”
”ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسکو کتنا یاد کر رہی تھی اور اب وہ اسکے سامنے کھڑی تھی ”
”کیا تم مجھے اندر بھی نہیں بلاؤ گی ..
‘اسکو حیران کھڑا دیکھ کر ابیہا اس سے مخاطب ہوئی تھی جبکہ اپنی دوست کو اتنے دنوں بعد دیکھ کر آنکھیں نم ہوئی تھی اسکی …
”اسکا اتنا کہنا تھا عشل یکدم سے آگے بڑھی اور اسکو اپنے گلے لگایا تھا ‘
‘کتنے ہی پل دونوں ایسے ہی کھڑی آنسو بھاتی رہیں تھی ..
”دیکھو تم نے مجھے پھر رلا دیا
عشل اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی تھی اور اسکے اپنے ساتھ اندر لائی ..
”کس کے ساتھ آئی ہو یا کہیں تم بھگ کر تو نہیں آئی ہو ..
‘عشل کو اسکے یوں اچانک آنے پر یہ ہی سوال خیال میں آیا تھا کیونکہ دو دن پہلے جب انکی بات ہوئی تھی تب اس نے اپنے آنے کے بارے میں بلکل ذکر نہیں کیا تھا ”
”اسکے سوال پر ابیہا اسکو گھور کر رہ گئی تھی ..
یار بتاؤ نہ تم بھگ کر آئی ہو وہاں سے ?
‘اسکے خاموش رہنے پر عشل نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا …
”دراب چھوڑ کر گیے ہے مجھے میری ایسی قسمت کہاں کہ میں اتنی آسانی سے وہاں سے بھگ جاؤں ..
‘ابیہا تلخی سے بولی تھی …
”تم آخر وہاں سے بھاگنا کیوں چاہتی ہو
‘جبکہ یہ بات میں تمھیں پہلے بھی بہت بار سمجھا چکی ہوں تم نہ دراب سے بھگ سکتی نہ اس رشتے سے
‘آخر تمھیں سمجھ کیوں نہیں آتی ایک بات
‘عشل اب تنگ آ چکی تھی اسکی باتوں سے اس لیے اسکی بات پر غصّہ ہوتے ہوئے بولی تھی …
”میں کچھ نہیں سمجھنا چاہتی ..
‘ابیہا اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی
‘عشل کی باتیں اسے ہمیشہ الجھا دیتی تھی .
”کیوں سمجھنا نہیں چاہتی تم
تمھیں سمجھنا ہوگا ابیہا
‘ایک موقع تو دو دراب کو کیا پتہ تمہاری نفرت بےوجہ ہو ..
”جیسا آج تک تم سمجھتی آئی ہو کیا پتہ ایسا نہ ہو کیونکہ تم نے ہمیشہ عائشہ آنٹی کی نظر سے دیکھا ہے سب کچھ .
‘بس ایک بار اپنی نظر سے دیکھو سمجھو تمھیں شاید سب خود سمجھ آ جائے …
‘عشل نے جیسے آج ٹھان رکھا تھا کہ وہ اسکو اپنی بات سمجھا کر رہے گی …
”کیونکہ وہ اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ دراب ایک اچھا انسان ہے صرف وہ ہی تھی جو اسکو غلط سمجھتی تھی ..
”بس اسکو اسکا کام غلط لگا تھا مگر وہ اچھا کام کرتا تھا بس اسکا طریقہ غلط تھا ..
لوگوں کی جان لینا غلط تھا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ..
”اگر تمھیں یہ سب ہی باتیں کرنی ہے تو میں جا رہی ہوں ..
‘اسکو مسلسل دراب کی حمایت میں بولتا دیکھ ابیہا چڑ کر بولی تھی ..
”اچھا یار ناراض مت ہو نہیں کرتی اب بیٹھ جاؤ آرام سے ..
”اسکو دروازے کی طرف جاتے دیکھ عشل فورن سے اسکی طرف لپکی تھی ..
”اسکی بات سن کر ابیہا مسکرا دی تھی
پھر دونوں باتیں کرتی اپنے پرانے دن یاد کرنے لگی تھی
”ابیہا اس سے الوداع بولتی پورے دو گھنٹے بعد اسکے گھر سے رخصت ہوئی تھی ..
”واپسی پر وہ بہت خوش تھی اور خوشی خوشی کار سے نکل کر گھر میں داخل ہوئی تھی ”’
”جبکہ ایک کار مسلسل انکی کار کے پیچھے رہی تھی اور پھر ابیہا کے کار سے نکلنے کے بعد کار میں بیٹھے اس شخص نے کسی کو فون ملایا تھا ”
💕💕💕
”ٹک کی آواز پر لاک کھلا اور عمر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا تھا ‘
”اسکی سوچ کے متبِک وہ بیڈ پر لیٹی مزے سے سو رہی تھی .
”اسکو اس طرح سے سوتا دیکھ کر عمر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی ..
”وہ بہت آہستہ سے چلتا ہوا اسکے بیڈ کے پاس آ کر رکا کچھ دیر تو ایسے ہی اسکو سوتا دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر
‘اسکے دوسرے سائیڈ پر بمشکل جگہ بناتا سمٹ کر لیٹا تھا ‘
”اور اس نے اپنی نظریں اسکے سوتے ہوئے چہرے پر ٹکا لی تھی ..
”سوتے وقت جتنی معصوم لگتی تھی جاگتے وقت تو جیسے یہ معصومیت کہیں غایب ہو جاتی تھی اسکی
”یا پھر اسکے ساتھ ہی ایسے رہتی تھی ..
.. بلّی ”
اسکی حرکتیں یاد آتے ہی ایک نام اسکے دماغ میں آیا تھا اسکے لیے .
‘اور پھر سے اسکو کچھ دن پہلے والا واقع یاد آیا تھا
”وہ کتنے غصّے میں گیا تھا اسکے پاس سے
‘اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب بلکل بھی اسکے پاس نہیں جائے گا اسکے پاس ..
”مگر یہ دل تھا جو بس بار بار اسکو دیکھنے کی ضد کر رہا تھا ‘
‘اور آج وہ پھر سے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکے پاس تھا ‘
”نہ جانے کتنا وقت یوں ہی گزر گیا تھا وہ اپنی نظریں عشل کے چہرے پر جمائے اسکو نظروں کے راستے دل میں اتار رہا تھا ..
”اسکی نظروں کی تپیش اور اپنے پاس کسی کا وجود محسوس کر کے عشل نے ہلکا سا کسمسا کر اپنی نیند بوجھل آنکھیں بمشکل کھولی تھی .
”پہلے تو وہ کچھ سمجھ نہیں پائی مگر عمر کو اپنے نزدیک لیٹا دیکھ کر وہ حیران بلکل نہیں ہوئی تھی .
”کیونکہ وہ اسکے گھر میں آرام سے آ جا سکتا ہے اس لیے اسکو حیرانی نہیں ہوئی تھی مگر ..
”اور اسکو یہاں سے جانے کے لیے کہتی تو بھی کوئی فایدہ نہیں تھا کیونکہ وہ وہی کرتا تھا جو اسکو کرنا ہوتا تھا ..
‘اتنا تو وہ اسکو سمجھ ہی چکی تھی ”
”مگر آج اسکو آج اتنے دن بعد اپنے سامنے دیکھ کر ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی تھی
اس دن جیسا وہ اس سے ناراض ہوکر گیا تھا عشل کو لگ رہا تھا کہ وہ کبھی پھر مڑ کر اسکو نہیں دیکھے گا مگر آج وہ اسکے سامنے تھا اسکے بہت نزدیک …
دونوں لیٹے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ..
‘ایک کی آنکھوں میں نیند کا خمار تھا جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں محبت تھی ..
”جبھی عشل کو اسکا اظھار محبت یاد آیا تو اسکا دل یکدم سے تیزی سے دھڑکا تھا ..
”اپنی اس کیفیت سے گھبرا کر عشل نے فورن اپنی کروٹ بدلی تھی ..
”اسکے اس طرح سے کروٹ بدل لینے سے عمر کے ہونٹھوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ..
”جب تم اتنی بہادر نہیں ہو تو بننے کا ناٹک کیوں کرتی ہو ..
عمر اسکی پیٹہ پر نظریں جماۓ بولا مقصد صرف اسکو تنگ کرنا تھا .
”مجھے ایسے ہی سونے کی عادت ہے اگر تمھیں نہیں سونا تو لاؤنج میں جا سکتے ہو تم ..
وہ ایسے ہی کروٹ لیے بولی تھی
”عشل بہت اچھے سے جانتی تھی اسکا اشارہ کمرے میں جلتی لائٹ کی طرف تھا .
”پر مجھے تو اپنی بیوی کے پاس سونا ہے ..
عمر نے اسکا رخ پھر سے اپنی طرف کیا اور اسکے اوپر جھکتے ہوئے بولا ..
”مجھے نیند آ رہی ہے پلز پریشان مت کرو .
‘اسکی سانسوں کی گرمائش اور آنکھوں میں بےپناہ تپیش دیکھ کر عشل کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا ..
‘آج اسکو عمر کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے اور وہ یہ بات بھی جانتی تھی کہ اگر نے کوئی پیش قدمی کی تو وہ اسکو روک نہیں سکے گی کیونکہ وہ اسکا شوہر تھا
”اور اس پر پورا حق رکھتا تھا وہ یہ بات کہیں نہ کہیں مان بھی چکی تھی …
اس نے عمر کی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرانا چاہا تھا مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی …
”تم نے مجھے جو اتنے دن سے پریشان کر رکھا ہے اسکے کیا
جبکہ میں نے تو ابھی صحیح سے تمھیں پریشان کیا بھی نہیں ہے …
”عمر اس پر اپنا گھیرا مزید کرتا ہوا بولا اور جھک کر اسکی گردن پر اپنے لب رکھ دئے تھے ”
”عمر کی گھستاخی پر عشل پوری جان سے کانپ اٹھی تھی ..
‘جبکہ عمر اسکی گردن پر جھکا اپنی محبت اس پر لوٹا رہا تھا “”
”عمر پلز…
”اس سے پہلے کہ عشل کچھ کہتی عمر اسکے لبوں پر جھکا اور عشل کا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا ””
💕💕💕
”وہ جب سے عشل کے پاس سے آئی تھی تب سے بس اسکے دماغ میں عشل کی باتیں چل رہیں تھی ..
”آمنہ بیگم کے پاس وہ ان سب سوچوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے بیٹھی تھی مگر ایسا نہیں ہوا تھا بار بار عشل کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے
”آمنہ بیگم سونے کے لیے لیٹی تو وہ اپنے کمرے میں آ گئی ”
‘روم خالی دیکھ کر اس نے شکر کا سانس لیا تھا کیونکہ اس وقت وہ بلکل بھی دراب کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ..
‘ایسا کیوں تھا وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی ..
”وہ آہستہ سے چلتی کمرے میں موجود وارڈراب کے پاس پاس آئی اور اسکو کھول کر چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگی تھی ..
‘مقصد صرف اپنی سوچوں سے پیچھا چھڑانا تھا ‘
تبھی اسکی نظر ایک لاکر پر پڑی تھی
‘بےساختہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکو کھولنا چاہا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کھل بھی گیا تھا
”شاید اس میں لاک نہیں لگا تھا اس لیے ..
‘ابیہا نے ہاتھ بڑھا کر اس میں موجود فوٹو نکالی تھی اور اس فوٹو کو دیکھ کر وہ کتنے ہی پل اسکو دیکھتی رہی تھی ..
”یہ اسکی بچپن کی فوٹو تھی ”
”آخر یہ شخص کر کیا رہا تھا اسکے ساتھ پہلے تو اسکی دوست سے بات کرائی پھر اسکے پاس لیکر بھی گیا اور اب یہ فوٹو ”
”نہیں یہ سب کرکے تم میرے دل سے اپنی نفرت ختم نہیں کر سکتے کبھی نہیں ..
‘ابیہا کے دماغ نے جیسے اسکو پھر سے سب یاد دلایا تھا اس نے غصّے میں اس فوٹو کو پہاڑنا چاہا تھا ”
”یہ سب ختم کر دینے سے تمہارے دل میں میرے لیے جو محبت ہے وہ ختم نہیں ہوگی ..
‘وہ اس فوٹو کو پہاڑنے ہی والی تھی جب اپنے برابر سے دراب کی آواز آئی تھی ..
”میرے دل میں تمہارے لیے نفرت ہے اور کچھ نہیں
وہ اسکی طرف پلٹی تھی اور ہاتھ میں موجود فوٹو کو پھر سے اپنی جگہ پر رکھا تھا اس نے …
”تمھیں کیا لگتا ہے یہ سب ناٹک کرنے سے میرے دل میں تمہارے لیے جو نفرت ہے وہ ختم ہو جائے گی یہ تمہاری بھول ہے ..
”ابیہا بول تو رہی تھی مگر اسکو اپنے الفاظ کھوکھلے لگے تھے کیسی بھی قسم کے جذبات سے خالی …
”’اچھا اگر ایسا ہے تو مجھے تمہارے دل سے پوچھ لینا چاہئے کہ ختم ہوگی یا نہیں ..
”دراب جو کھڑا اسکو سن رہا تھا اسکی بات پر اس نے اپنا ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسکو خود سے بہت قریب کیا تھا ”’
”ابیہا جو آرام سے کھڑی تھی یکدم سے دراب کے سینے سے جا لگی تھی ”
”یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے
”ابیہا اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی کمر سے ہٹاتی بولی مگر دراب کی پکڑ سخت تھی ..
”تمہارے دل سے کچھ پوچھنا ہے مجھے ..
دراب اسکی مزاحمت کو نظرانداز کرتا اسکے سینے پر جھک کر اسکی دھڑکنوں کو سننے لگا ..
”اسکی اس حرکت پر ابیہا کا چہرہ یکدم سے سرخ ہوا تھا سانسیں بےترتیب جبکہ دھڑکنے مزید تیز ہوئی تھی …
”یہ کیا کر رہے ہو ہٹو …
”ابیہا کانپتی آواز میں بمشکل بولی تھی …
”جبکہ دراب اسکو ایسے ہی اپنے حصار میں لیے کھڑا رہا تھا …
”ابیہا دراب خان تمہارا دل تو کچھ اور ہی کہہ رہا ہے
‘دراب اپنا چہرہ اوپر کر کے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ..
”غلط فہمی ہوئی ہے تمھیں میرے دل میں بھی صرف نفرت ہے تمہارے لیے ..
ابیہا خود کو اسکے حصار سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی جو نممکن تھی …
”اچھا اگر ایسا ہے تو میری قربت پر تمہاری دھکنے تیز کیوں ہو جاتی ہیں
‘سانسیں بےترتیب اور چہرہ شرم سے لال کیوں ہو جاتا ہے…
”دراب اپنی انگلی سے اسکی آنکھیں اسکے لبوں کو چھوتا ہوا بولا تھا ..
وہ اس لیے کیونکہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں
”ابیہا کو اب اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا مشکل لگ رہا تھا مگر وہ اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی ”
”جھوٹ بلکل جھوٹ ”
دراب نے جیسے اسکا مذاق بنایا تھا ”
”نہیں بلکل ”
ابھی مزید کچھ کہتی دراب نے اس کے لبوں پر جھک کر اسکے جملے کو بیچ میں ہی روک دیا تھا ”
”ابیہا کے لیے یہ جاننا مشکل ہو گیا تھا کہ اس نے اپنا اگلی سانس کب لی تھی.
”دراب اس کے لبوں پر جھکا اسکی سانسوں کو خود میں اتار رہا تھا ”
”ابیہا نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دراب کو دور کرنا چاہا تھا مگر دراب کی پکڑ میں مزید سختی آئی تھی ”
”جب ابیہا کو لگا کہ وہ اب سانس نہیں لے پاۓ گی تو دراب نے اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا ”
اسکی پکڑ سے آزاد ہوتے ہی ابیہا گہرے گہرے سانس لے رہی تھی جبکہ دراب کھڑا اسکی حالت پر مسکراتی نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا ”
”میں نے ایک گھنٹہ بولا تھا مگر تم دو گھنٹے بعد آئی ..
مجھے بلکل پسند نہیں کوئی میری بات کو نظر انداز کرے آگے خیال رکھنا ..
”وہ ایک نظر اسکے لال پڑتے چہرے کو دیکھتا روم سے باہر نکل گیا تھا …
”جبکہ ابیہا کتنی ہی دیر تک اپنی سانسیں درست کرتی رہی تھی 💕💕💕💕
”'”””””(جاری ہے )””””””
