Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
“”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ایک لڑکی کے سامنے تم نے اسکو مار دیا جانتے بھی ہو وہ لڑکی ہمارے لئے مصیبت بن سکتی ہے.
“سلطان اس وقت سامنے کھڑے اپنے بیٹے پہ غصّہ کر رہا تھا جو بڑے آرام سے اسکو اپنے کام کے بارے میں بتا رہا تھا
جسے سن کر سلطان کا پارا ہائی ہو گیا تھا !!
“نہیں ڈیڈ وہ ہمارے لئے کوئی مشقل نہیں بن سکتی ہے آپ بےفکر رہیں میں نے اسکو اپنی زبان میں سمجھا دیا تھا !
“”عباس اپنے باپ کا غصّہ کم کرنے کے لئے انکو اپنی بات سمجھا رہا تھا جس پر وہ بس اسکو دیکھ کر رہ گیا
“ٹھیک ہیں مگر ذرا خیال رہے اس ڈی کے کو تم کوئی معمولی چیز مت سمجھنا تم نے اسکے ایک آدمی کی جان لی ہے کلب میں سیکورٹی سخت کر دو
“سلطان کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا جس پہ عباس نے گردن ہلائی تھی اسکا باپ ٹھیک کہہ رہا تھا اور یہ بات تو خود اس نے سوچی تھی
“کیونکہ ڈی کے کی وجہ سے انکو بہت بار نکسان ہوا تھا پتہ نہیں کیسے اسکو انکی ہر ڈیل کے بارے میں پتا ہوتا تھا جس پہ ہر بار انکو اپنی ڈیل کینسل کرنی پڑتی تھی یا وہ ڈیل ہوتی ہی نہیں تھی جس پر سلطان بس اپنا غصّہ ضبط کر کے رہ جاتا تھا “”
💞💞💞
“”یہ کیا تم اب تک ایسے ہی لیٹی ہو کلب نہیں جانا ہے کیا?
“عشل صبا کو دیکھ کر بولی جو آرام سے بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی
“نہیں میں اب سے وہاں نہیں جاؤں گی میں کہیں اور جاب کر لوں گی ..
“صبا بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آکر بولی تھی جبکہ اسکی بات سن کر عشل حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو ?
اتنا کچھ ہونے کے بعد تمھیں کیا لگتا ہے میں واپس وہاں کام کرنے چلی جاؤں ?
“صبا اسکو اپنی طرف حیران نظروں سے دیکھتی ہوئی عشل سے بولی اور بیڈ کی چادر ٹھیک کرنے لگی
“کل رات اس نے واپس آتے ہی اسکو کلب میں ہونے والے وقیع کے بارے میں سب بتا دیا تھا جسے سن کر عشل بھی پریشان ہو گئی تھی
وہ دونوں اکیلی تھی اس لئے چپ رہنے میں انکی بھلائی تھی پر صبا رات کے بعد سے بہت ڈر چکی تھی اور اب اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب واپس وہاں پہ کام نہیں کرے گی
“تمھیں کیا لگتا ہے تمہارا اتنا سب کچھ دیکھ لینے کے بعد وہ لوگ تمھیں ایسے ہی جانے دیں گے ?
“عشل اسکا ڈر سمجھتی تھی پر صبا یہ بات نہیں سمجھ رہی تھی کی وہ لوگ اب اسکو وہاں سے اتنی آسانی سے جانے نہیں دے سکتے ہے وہ چاہے کہیں بھی چلی جائے پر وہ لوگ اسکا پیچھا نہیں چھوڑے گے اتنا تو وہ جانتی ہی تھی اس کلب کے بارے میں
صبا نئی تھی اس لئے اسکو بلکل اندازہ نہیں تھا اس بات کا
“پر صبا عشل تم بتاؤ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد میں کیسے چلی جاؤ وہ سب جب بھی سوچتی ہوں میں پوری طرح کانپنے لگ جاتی ہوں
اور تم مجھے پھر سے اسی جگہ پہ جانے کے لئے کہہ رہی ہو
“صبا بہت ہی زیادہ ڈری ہوئی تھی اس وقت پر
وہ جو چاہ رہی تھی وہ کرنا بھی آسان نہیں تھا اسکے لئے اور یہ بات عشل اسکو سمجھانا چاہتی تھی پر وہ اسکی سن ہی نہیں رہی تھی
“اچھا چلو ٹھیک ہے میں آج تم پر زبردستی نہیں کرتی ہوں آج تم گھر پہ رہو
اور وہ سب بھولنے کی کوشش کرو میں جانتی ہوں تمہارے لئے یہ آسان نہیں ہوگا پر تمھیں یہ کرنا ہی ہے
“سمجھ رہی ہو نہ میں کیا کہہ رہی ہوں تم سے .
“عشل نے اسکا چہرہ اپنی طرف کر کے اس سے پوچھا تھا جس پہ صبا نے صرف ہاں میں گردن ہلا دی تھی
“چلو میں چلتی ہوں اب اور اپنا خیال رکھنا ..
“عشل اسکو ہدایت دیتی اپنے فلیٹ سے باہر نکل گئی تھی وہ صبا کے لئے بہت فکر مند تھی دونوں کا ہی اس دنیا میں ایک دوسرے کے علاوہ کوئی نہیں تھا صبا بہت معصوم تھی
وہ نئی اس شہر میں اور اس کام میں آئی تھی جبکہ وہ کم عمر میں بہت مضبوط دل کی مالک بن چکی تھی وقت اور حالت نے اسکو اتنا مضبوط بنا دیا تھا
اس لئے اسکو کوئی بھی پریشانی اتنی بڑی نہیں لگتی تھی پر اسکو صبا کو بھی اس ڈر سے باہر نکالنا تھا یہ اس نے سوچ لیا تھا “”
💞💞💞
“”امی کیا ہوا کن سوچوں میں گم ہو آپ میں کب سے آپکو آواز دے رہی ہوں پر آپ سن ہی نہیں رہیں ہیں.!
“ابیہا جو بہت دیر سے ان سے کچھ پوچھ رہی تھی پر جب انہونے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو
اس نے انکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انکو اپنی طرف متوجہ کیا تھا
“کیا بیٹا کچھ کہہ رہیں تھی تم مجھے ?
“عائشہ بیگم اپنی سوچوں میں گم تھی اسکے پکارنے پر اسکی طرف دیکھنے لگی تھی
“کیا ہوا امی آپ کچھ پریشان لگ رہیں ہیں کوئی بات ہوئی ہے کیا جو آپ مجھے نہیں بتا رہیں ہیں
“وہ انکے چہرے پہ پریشانی دیکھ کر اپنا سوال بھول چکی تھی
“نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہیں .
تم بتاؤ کیا پوچھ رہیں تھی تم مجھ سے .وہ اسکی بات کو ٹالتی ہوئی بولی انہونے دراب خان والی بات اب تک اسکو نہیں بتائی تھی.
پر ابیہا اپنی ماں کو بہت اچھے سے سمجھتی تھی وہ اپنی پریشانی اس سے چھپا نہیں سکتی تھی
“امی بتاؤ نہ کیا بات ہوئی ہیں اور آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ جب تک آپ مجھے نہیں بتاؤ گی میں آپ سے پوچھتی رہوں گی .
وہ ضدی لہجے میں بولی تھی .
“دراب خان آیا تھا
“عائشہ بیگم اسکی ضد پہ ہار مانتی ہوئی بولی کیونکہ وہ جنتی تھی ابیہا بنا جانے چپ نہیں رہے گی
“کب آیا تھا ?
“اس نے سرد لہجے میں ان سے پوچھا تھا ماتھے پہ ایک دم بل پڑے تھے اسکے
“دو دن پہلے ..عائشہ بیگم ڈرتے ڈرتے اسکو بتا رہی تھیں جانتی تھی اسکے غصّے کو
“امی وہ شخص ہمارے گھر آیا تھا اور آپ مجھے اب بتا رہیں ہیں ..
اسکا غصّہ ایک دم بڑھا تھا
“اور کیا لینے آیا تھا وہ یہاں آپ نے اسکو بولا کیوں نہیں کہ ہمارا اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے تو بہتر ہے وہ نہ ہم سے ملنے کی کوشش کرے ہر نہ ہی ہمیں اسکی دی ہوئی چیزوں کی ضرورت ہے
“اسکے لہجے میں دراب کے لئے بےپناہ نفرت تھی جسکو عائشہ بیگم بہت اچھے سے محسوس کر سکتی تھی آخر اتنی ہی نفرت تو انکے دل میں بھی تھی اسکے لئے اور اسکے باپ کے لئے..
“وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے ابیہا جو اپنے سے جڑی چیزوں یا رشتوں کو بھول جاۓ مجھے تو ڈر ہے کہ وہ تمھیں بھی مجھ سے دور نہ کر دے
پہلے بھی میں میں ان لوگوں کی وجہ سے اپنا بہت کچھ کھو چکی ہوں پر اب مجھ میں تمھیں کھونے کی ہمت نہیں ہے .
“عائشہ بیگم کی آواز بولتے بولتے نم ہوئی تھی آنکھوں میں ایک دم سے پانی بھر آیا تھا..
“نہیں امی ایسا نہیں ہوگا میں ایسا نہیں ہونے دوں گی اسکی وجہ سے ہم الگ نہیں ہونگے …
“ابیہا کا لہجہ سخت تھا آنکھوں میں اس شخص کے لئے بےحد نفرت تھی جسکی شکل تک اس نے دیکھی نہیں تھی..
“نہیں بیٹا ہوگا تو وہ ہی نہ جو وہ چاہتا ہے اتنے سالوں سے مجھے جس بات کا ڈر تھا وہ ڈر میرے سامنے آ گیا ہے میں چاہے کچھ بھی کر لوں چاہے کچھ بھی کہہ لوں لیکن میں یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ وہ تمہارا شوہر ہے پورا حق رکھتا ہے وہ تم پر وہ تمھیں یہاں سے سے لے بھی جاۓ میں تب بھی کچھ نہیں کر سکتی ہوں بہت بےبس بہت مجبور ہوں میں.
“عائشہ بیگم اس بار بولتے بولتے رو پڑی تھیں انکو اس طرح روتا دیکھ کر ابیہا نے تڑپ کر انکو اپنی باہوں میں بھرا تھا
“نہیں امی آپ بےبس اور مجبور ہو سکتی ہیں لیکن میں نہیں نہ ہی میں اسکو اپنا شوہر مانتی ہوں اور نہ ہی کوئی حق ہے اسکا مجھ پر
“ابیہا انکو چپ کراتے ہوئے بولی تھی مگر یہ بات کہیں نہ کہیں وہ بھی مانتی تھی کہ اسکے انکار سے یہ رشتہ ختم نہیں ہو سکتا تھا
“امی ہم یہاں سے چلے جائے گے بہت دور جہاں وہ ہمیں کبھی ڈھونڈھ پاۓ گا
“اچانک ہی اس نے ایک فیصلہ لیا تھا
“کہاں جائے گے بیٹا ہم ہمارا تو کوئی رشتےدار بھی نہیں ہے کس کے پاس جائے گے ?عائشہ بیگم اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی
“بس امی ہم اس گاوں سے کسی شہر چلے جائے گے جہاں وہ ہمیں تلاش نہیں کر سکے گا ..
وہ کچھ سوچنے والے انداز میں بولی تھی ایک ساتھ اسکے ذہن میں بہت سی باتیں چل رہیں تھی
وہ سوچ رہی تھی کہ اس نے پہلے کیوں نہیں سوچا یہاں سے جانے کے بارے میں آج وہ اتنا پریشان نہ ہو رہی ہوتی .
“پر بیٹا ہم ایسے کیسے کہیں جا سکتے ہیں ہمارا ..عائشہ بیگم اس بار کچھ پریشان ہوئی تھیں
“بس امی آپ بےفکر رہیں میں سب کر لوں گی بس آپ یہاں سے جانے کی تیاری کریں
“اس نے اپنی بات وہیں ختم کی تھی جبکہ اسکی بات پہ عائشہ بیگم بس اسکو دیکھتی رہ گئیں تھیں “”
💞💞💞
“” وہ تھکی ہاری کلب کے پچھلے گیٹ سے نکلی تھی اسکا ارادہ بس جاتے ہی سو جانے کا تھا کیونکہ آج کام زیادہ تھا جس وجہ سے اسکو آج تھکن محسوس ہو رہی تھی
وہ جیسے ہی باہر نکلی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا موڈ بری طرح خراب ہوا تھا
“عمر اپنی کار سے ٹیک لگا کھڑا فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا مگر اسکے نظریں سامنے سے آتی عشل پر ہی تھی جو اسکو نظر انداز کرتی اسکے برابر سے نکلتی چلی گئی تھی
“اسکی اس حرکت سے فون پہ بات کرتے عمر کے ہونٹھوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ آئی تھی
“آج وہ کچھ کام کی وجہ سے بیزی تھا اس لئے آج کلب نہیں آیا تھا
پر اب وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہاں کھڑا اسکی ڈیوٹی اوف ہونے کا انتظار کر رہا تھا
“جو بھی تھا عشل اسکو پہلی نظر میں ہی پسند آئی تھی وہ یہاں کام کرنے والی لڑکیوں سے بلکل الگ تھی الگ تو صبا بھی تھی
اگر وہ اسکو اس دن عباس کے ساتھ نہ دیکھتا عباس کا صبا کے آگے پیچھے پھرنا اسکو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا تھا .
“تم مجھے دیکھ کر راستہ کیوں بدل لیتی ہو
وہ تیزی سے اسکے پیچھے آتے بولا تھا
“عشل جو تیزی سے چل رہی تھی اسکی آواز پر اس نے گردن موڑ کر دیکھا جو بلکل اسکے برابر میں چلتا ہوا اسکو دیکھ رہا تھا .
“میں نے کوئی راستہ نہیں بدلا ہے میں اسی راستے پہ ہوں جو میرے گھر تک جاتا ہے..
“وہ بنا اسکی طرف دیکھے ناگواری سے بولی اور اپنے قدموں کی رفتار تیز کی تھی پر وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا پل میں اسکے برابر میں آیا تھا
آج وہ خوش تھی اسکی کلب میں غیر موجودگی سے پر اب اسکو دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے .
“اچھا ایسی بات ہیں مطلب مجھے غلط لگا تھا ..
“وہ اسکو چھیڑتا ہوا بولا تھا مقصد صرف اس سے بات کرنے کا تھا
“جبکہ وہ بس خاموشی سے چل رہی تھی اسکو ہمیشہ ہی اسکی موجودگی بری لگتی تھی
“کہو تو میں تمھیں گھر تک چھوڑ سکتا ہوں
اسکی خاموشی پہ وہ پھر سے بولا مگر اسکی بات پہ اس بار عشل اپنا غصّہ ضبط نہیں کر سکی تھی
“یہ اوفر تم ان لڑکیوں کو دینا جو روز تمہارے ساتھ کلب میں آتی ہیں
نہ تو میں ان جیسی ہوں اور نہ ہی مجھے ان کی طرح سمجھنے کی کوشش کرنا …اور دوسری بات آج تو تم میرے راستے میں آ گئے آئندہ میرے راستے میں آنے کی کوشش مت کرنا ..
“وہ غصّے سے اسکو وارن کرتی بولی اور پھر سے اس نے اپنے قدموں کے رفتار مزید تیز کی تھی مگر اس بار عمر اسکے پیچھے نہیں گیا تھا وہ وہیں کھڑا مسکراتا ہوا اسکو دور جاتا دیکھتا رہا
“اس نے لفٹ والی بات جان کر بولی تھی وہ بس اسکا ریعکشن دکھنا چاہتا تھا
اور اپنی بات پر اسکا غصّے سے بھرا چہرہ دیکھ کر پتہ نہیں کیوں اسکو خوشی محسوس ہوئی تھی
شاید اس لئے کہ جو وہ اسکے بارے میں راۓ رکھتا تھا وہ بلکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی”””
“””””( جاری ہے )”””””
