Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
‘ ‘اسکی جب آنکھ کھلی تو سر میں درد کے ایک تیز لہر دوڑی تھی تو تقلیف کی وجہ سے اس نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ”
”کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد اس نے پھر سے ہمت کر کے اپنی آنکھیں کھولی تھی ..
”مگر آنکھیں کھولتے ہی جو کمرہ اسکی نظروں کے سامنے آیا تھا وہ کمرہ بلکل اسکا نہیں تھا ..
”وہ یکدم سے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی …
”اس نے جیسے ہی دماغ پر زور دیا تو کل کا پورا واقع اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ..
”جب وہ کلب سے گھر جانے کے لیے نکلی تھی تو کسی نے پیچھے سے اسکے منہ پر کچھ رکھا تھا اسکے بعد کیا ہوا اسکو یاد نہیں آ رہا تھا ”
”اسکا مطلب ہے کہ کسی نے میرا کڈنیپ کیا ہے ..یہ سوچ آتے ہی اسکے پورے بدن میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی .
‘اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ”’
”میری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے تو آخر کون کر سکتا ہے یہ …اپنی بےبسی پہ یکدم سے اسکی آنکھیں گیلی ہوئی تھی ..
”وہ ان سوچوں میں گم تھی کہ یکدم سے اسکو باہر سے کوئی آواز آئی تو اسکے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا ..
”وہ ڈری سہمی سی بیڈ سے اٹھی اور دروازے تک گئی اور دروازے کو کھولنا چاہا تھا …
”اسکی حیرانی تب بڑھی جب دروازہ کھل گیا تھا ..
‘مطلب وہ یہاں سے نکل سکتی ہے یہ سوچ آتے ہی وہ ہمت کرکے تیزی سے روم سے باہر نکلی تھی ”
”روم سے باہر نکلتے ہی اسکو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ اک چھوٹا سا اپارٹمنٹ ہے کیونکہ سامنے ہی لاؤنج تھا اور سائیڈ پہ اوپن کچن جہاں کوئی کھڑا تھا ……
‘عشل کی اسکی طرف پیٹھ تھی اس لیے نہ وہ عشل کو دیکھ سکا تھا نہ عشل اسکو ..
”عشل آہستہ سے قدم اٹھاتی باہری دروازے کی طرف بڑھی تھی …
”ارے اٹھ گئی تم ..چلو اچھا ہے ورنہ میں تمھیں اٹھانے ہی آ رہا تھا ”
”وہ جو باہری دروازے کی طرف جا رہے تھی جانی پہچانی آواز پہ اسکے بڑھتے قدم یکدم سے رکے تھے ”
”اس نے جیسے ہی گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ایک پل کے لیے حیران ہی رہ گئی تھی پھر سب بات سمجھ آنے کے بعد اس حیرانی کی جگہ غصّے نے لے تھی…
”جبکہ عمر اسکی گھوری کو نظر انداز کرتا ٹیبل پہ ناشتہ رکھ رہا تھا ”
”تم …تم ..مجھے یہاں لیکر آۓ ہو تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ی کرنے کی ..
‘اس بار اس نے حد ہی کر دی تھی وہ اسکی طرف غصّے سے بڑھی تھی ..
”ناشتہ کر لو پہلے یہ ٹھنڈا ہو جائے گا “
‘عمر اسکی بات سکو نظر انداز کرتا بولا تھا جبکہ اسکی بات پہ عشل کا خون ہی تو جل گیا تھا …
”تم اتنی گری ہوئی حرکت کر سکتے ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ”
‘وہ اسکو سکون سے ناشتہ کرتے دیکھ کر بولی تھی …
”کوئی بات نہیں اب سوچ لو میں کیا حرکت کر سکتا ہوں اور کیا نہیں .
..وہ آرام سے ناشتہ کر رھا تھا عشل کا بس نہیں چل رھا تھا کہ سامنے رکھا گرم چاۓ کا کپ اسکے سر پہ ہی..
”وہاں جانا بیکر ہے کیونکہ دروازہ لاکڈ ہے …عشل جو پھر سے باہری دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ پیچھے سے اسکو عمر کی آواز نے روکا تھا ”
”آخر تم بتا کیوں نہیں رہے ھو مجھے یہاں کیوں لیکر آۓ ہو ?
‘وہ پھر سے اسکے سر پہ کھڑی اس سوال کر رہی تھی…
”میں نے شاید تمھیں وارن کیا تھا کہ تم مجھے اسکے آس پاس نظر نہ آو ورنہ تم خود زمیدار ہونگی جو بھی میں کروں گا…
..وہ اب اپنا ناشتہ ختم کرکے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا تھا…
”اسکی بات پہ عشل اسکو بس دیکھتی رہ گئی تھی مطلب وہ اس وہ چپ کے نظر رکھ رہا تھا ..
”پلز مجھے جانے دو کیوں کر رہے ھو تم ایسا …عشل اب کھڑی اس سے التجا کر رہی تھی ..
”جانے دوں گا اتنی بھی کیا جلدی ہے …اور زیادہ مت سوچوں چپ چاپ سے یہ ناشتہ کرو …
”رات کو آکر بات کروں گا تفصیل سے ابھی ایک کام سے جانا ہیں مجھے …
”وہ اسکو ایسے ہدایت دے رہا تھا جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو …
”تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے پلز مت کرو ایسا …
”عشل اسکے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ وہ اسکو مکمل نظرانداز کرتا دروازہ کھول کر نکل گیا تھا
اور عشل کھڑی دروازہ بجاتی رہ گئی تھی ””
💕💕💕
“یہ تو بہت اچھی بات ہے یار کہ امی کے ساتھ اسکا رویہ اچھا ہے ورنہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں امی کے ساتھ بھی وہ ایسے ہی نہ رہے جیسے تمہاری ساتھ رہتی ہے “
“دراب کی بات سن کر عمر خوش ہوتے ہوئے بولا کیونکہ اسکو بھی دراب کی طرح لگ رہا تھا کہ جتنا ناپسند وہ دراب کو کرتی ہے شاید انکو بھی ایسا ہی کرتی ”
”مگر جب دراب نے بتایا کہ وہ نہ صرف انسے اچھے سے بات کرتی ہے بلکی انکے ساتھ اچھے سے گھل مل بھی چکی ہے.
‘جسے سن کر عمر بھی اسکی طرح مطمعین تھا ‘
”مطلب تمہارا امی کو وہاں لے جانے کا فیصلہ بلکل ٹھیک تھا ”
”عمر اسکی طرف دیکھ کر بولا جو بیٹھا اپنے موبائل میں کچھ کر رہا تھا ..
”ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے ..بچپن سے اسکے دل میں جو نفرت اور غلط فہمی ڈالی گئی ہے شاید وہ آمنہ خالہ تھوڑا کم کر سکتی تھی ..
”وہ اب اپنا موبائل سائیڈ پہ رکھ کر عمر کی طرف دیکھ کر بولا تھا ..
”دراب کو ابیہا کا رویہ دیکھ کر یہ لگ رہا تھا کہ وہ کبھی اسکی بات نہیں سنے گی اس لیے اس نے آمنہ بیگم کو اسکے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا تھا ..
”اور وہ اس معملے میں ان پر پورا بھروسہ کرتا تھا کیونکہ ماں باپ کے انتقال کے بعد ایک آمنہ بیگم ہی تھی جنہونے اسکا خیال رکھا اس میں اور عمر میں انہونے کبھی فرک نہیں کیا تھا ..
..انکے بیچ کوئی خون کا رشتہ نہیں تھا لیکن وہ اور امر اسکے لیے بہت خاص تھے …
”میں اپنی باتوں میں پوچھنا بھول ہی کیا بات ضروری بات کرنی تھی تمھیں مجھ سے ?
”دراب کے کچھ یاد آتے ہی وہ یکدم سے بولا تھا ‘
”ہاں وہ عباس ابیہا کے غایب ہونے کے بعد سے اسکے بارے میں معلومات کروا رہا ہے اور اسے یہ پتا چل چکا ہے کہ صبا کا اصلی نام ابیہا ہے ….اور اب وہ مزید ابیہا کے بارے میں جاننا چاہ رہا ہے ..
”عمر اسکو بتا رہا تھا جبکہ اسکی بات پر دراب کے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے ”
‘اس آدمی کا پتا لگاؤ جو ابیہا کے بارے میں اسکو معلومات دے رہا ہے ..
”اس بار دراب کا لہجہ سخت تھا ‘
”مجھے شق تو ہے کسی پر بس اس شق کو یقین میں بدلنہ ہے ..عمر کی نظروں کے سامنے کسی کا چہرہ آیا ”
”جو کرنا دھیان سے کرنا …دراب اسکو محتاط رہنے کو کہہ رہا تھا
”اور ہاں ”عشل کو ہو سکے کچھ دن کے لیے کلب سے دور رکھو کیونکہ وہ ایک ذریع ہے ابیہا تک پھوچنے”
”دراب کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا ..
”جبکہ اسکی بات پہ عمر صرف گردن ہلا دی تھی اب وہ اسے کیا بتاتا وہ پہلے ہی اپنا کام کر چکا تھا ”’
💕💕💕
”وہ اس وقت لاؤنج میں بیٹھی دراب کی کل رات والی حرکت پہ غصّے سے کڑھ رہی تھی ”
‘جب جب اسکو دراب کی حرکت یاد آتی اسکا اس پہ غصّہ مزید بڑھ جاتا تھا ”
‘ تبھی بےساختہ اسکی نظر اپنے ہاتھ ہاتھ پر پڑی تھی جہاں وہ دراب کا لمس اب تک محسوس کر رہی تھی اس نے غصّے سے اپنی مٹھی بھیچی تھی …
”یہ لو بیٹے دیکھو میں نے تمہاری پسند کی کھیر بنائی ہے کھا کر بتاؤ کیسی بنی ہے ..
”آپکو کیسے پتہ کہ مجھے کیا پسند ہے ?
‘آمنہ بیگم کی بات پہ وہ حیرانی سے انکی طرف دیکھنے لگی
تھی ..
”اسکی آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر آمنہ بیگم مسکرا دی تھی ..
”جب تم یھاں آئی تھی تو شاید ایک مہینہ ہی رہی تھی تمہیں تو شاید اتنا یاد نہیں ہوگا مگر مجھے اچھے سے یاد ہے سب ایک بار میں نے اسی طرح بنائی تھی تمہارے لیے اور تم نے بہت شوق سے کھائی تھی مجھے لگا شاید تمہیں ابھی بھی پسند ہوگی اس لیے بنا لی تمہارے لیے …
”وہ بولتی ہوئی اسکے پاس آ بیٹھی تھی ”
‘جبکہ ابیہا سوچ رہی تھی کہ اگر اتنا پیار تھا تو وہ کیوں نہیں آئی اس نے ملنے کبھی …
”جانتی ہوں تم سوچ رہی ہونگی کہ میں اج تک تم سے ملنے کیوں نہیں آئی لیکن دراب نے منع کیا ہوا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکے دشمنوں کو تمہاری کوئی خبر ہو اور کچھ تمہاری امی کی وجہ سے سے …
”آمنہ بیگم نے جیسے اسکی سوچ پڑھ لی تھی ..
‘”ہم سب تمسے بہت پیار کرتے ہیں بیٹا اور سب سے زیادہ دراب بہت خاص ہو تم اسکے لیے …آمنہ بیگم اسکو اپنی باتوں سے بہت کچھ سمجھنا چاہ رہی تھی ..
”پر میں نفرت کرتی ہوں ان لوگوں کی وجہ سے میرے بابا کی جان گئی اور اس شخص کی وجہ سے میری ماں کی ..وہ یکدم سے نفرت سے بولی تھی ..
“‘بیٹا تم غلط بول رہی ہو اور تمہاری ماں بھی غلط سمجھتی تھی کسی کی وجہ سے تمہارے بابا کی جان نہیں گئی ہے بلکی دراب کے ..
”بس مجھے کچھ نہیں سننا ہے ان لوگوں کے بارے میں میری یہ نفرت کبھی ختم نہی ہوگی …
”ابیہا نے انکی بات کو بیچ میں کاٹ دیا تھا .
”بیٹا جب تک تم سنو گی نہیں تو تمھیں کیسے پتا چلے گا تمہاری ماں نے بھی یہ غلطی کی اور تم بھی یہ ہی کر رہی ہو …
”میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں اس لیے پلز آپ کچھ مت بولے ..ابیہا دو ٹک انداز میں بولی تھی جس پہ آمنہ بیگم خاموش رح گئی تھی …
”اچھا ٹھیک ہے تم یہ کھا لینا میں ذرا نماز ادا کر لیتی ہوں…
”وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ انکی بات نہیں سمجھے گی اس لیے خاموشی سے اسکے پاس سے اٹھی تھی …
”آنٹی ”میرا آپ سے بدتمیزی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا پلز مجھے معاف کر دینا …
”ابیہا کو اپنے سخت الفاظوں کا انداز ہوا تھا اس لیے وہ تھوڑا شرمندہ ہوئی تھی ..
”کوئی بات نہیں بیٹا میں تمہاری حالت سمجھ سکتی ہوں مجھے برا نہیں لگا تم آرام سے یہ کھاؤ میں ابھی آتی ہوں ..
”وہ اسکی طرف پیار سے دیکھتی ہوئی بولی اور اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی تھی ..
‘”انکے جانے کے بعد وہ کھیر ختم کر کے اٹھی تھی اور اپنی پینٹ کی پاکٹ سے کچھ نکالا کر یکدم ہی اسکے ہونٹھوں پہ مسکراہٹ آئی تھی ”
”آج مجھے تمہاری اس قید سے آزادی ملنے سے کوئی نہی روک سکتا دراب خان .
…وہ چابی کو دیکھ کر دراب سے مخاطب ہوئی تھی ”
”یہ کئز اس نے بہت مشقل سے آمنہ بیگم کے روم سے اٹھائی تھی اسکو ایک پل کے لیے برا تو لگا تھا
‘ مگر وہ مجبور تھی اسکو بس کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا تھا اب اسکا راستہ بلکل صاف تھا وہ خوشی سے چابی لیکر دروازے کی طرف بڑھی تھی ”’
💕💕💕💕
”وہ ابھی دراب کے پاس سے اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا دروازے کو لاک کرکے وہ اندر کی طرف بڑھا تھا ‘
”اس اپارٹمنٹ میں آمنہ بیگم رہتی تھی کیونکہ وہ تو زیاداتر دراب کے پاس رہتا تھا بس روز ان سے ملنے آ جاتا تھا انہونے بس انکی سیفٹی کے لیے انکو اس اپارٹمنٹ میں رکھا ہوا تھا’
”اب جب وہ یہاں نہیں تھی تو یہ جگہ اسکو عشل کے لیے بلکل ٹھیک لگی اس لیے وہ اسکو یہاں لے آیا تھا ”
”وہ کئز اپنی پاکٹ میں رکھتا اندر کی طرف بڑھا تھا سب سے پہلے وہ کچن میں گیا جہاں ٹیبل پر صبح کا ناشتہ ابھی بھی ایسے ہی رکھا ہوا تھا ”
”اسکے ہونٹھوں پہ یکدم سے مسکراہٹ آئی تھی ‘
”پورا اپارٹمنٹ میں شانت تھا وہ اسکی لاؤنج میں بھی نہ دیکھی تو اس نے اپنے قدم روم کی طرف بڑھا دیے تھے ”
” دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا عشل جو پہلے سے ہی ہاتھ میں کانچ کی کوئی چیز لیے اس پر حملہ کرنے کے لیے کھڑی تھی دروازہ کھلنے پر تیزی سے اسکو مارنے کے لیے آگے بڑھی تھی ”
”لیکن عمر نے اتنی ہی تیزی سے پیچھے مڑ کر اسکا ہاتھ حوا میں ہی تھام کر عشل کی کمر کے پیچھے لے جاکر سختی سے موڑا تھا ”
”اسکی پکڑ اتنی سخت تھی کہ عشل کے ہاتھ میں موجود چیز اسکے ہاتھ سے زمین پر گر کر ٹوٹ گئی تھی ”
”اچھی کوشش تھی لیکن تھوڑی اور محنت کرنی ہوگی تمھیں ”
”عمر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو اس وقت عشل کو بلکل بھی اچھی نہ لگی تھی ”
”تم مجھے یہاں زبردستی نہیں رکھ سکتے ہو ..
‘اسکی سخت پکڑ سے عشل کی آنکھوں میں پانی آیا تھا مگر وہ خود مضبوط ظاہر کرتی بولی تھی ”
”میں بھی تمھیں یہاں زبردستی رکھنا نہی چاہتا ہوں بس ایک کام کر دو تو پھر آزاد ہو تم ”
”عمر نے جیسے اس پر ترس کھایا تھا ”
”کیسا کام ?
”عشل کو یقین نہیں آیا تھا اسکے اتنے جلدی مان جانے پر ”
”نکاح کر لو مجھ سے پھر چاہے یہاں رہنا یا اپنے گھر کوئی زبردستی نہی ہوگی تمہارے ساتھ ”
”عمر نے جیسے اس پر کوئی دھماکہ کیا تھا ”
”کیا بکواس کر رہے ہو تم دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا ”
”عشل خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی مگر عمر فلحال اسکو آزاد کرنے کے موڈ میں نہی تھا ”
”پہلے ٹھیک تھا مگر تمھیں دیکھنے کے بعد سے خراب ہو گیا ہے .
”وہ محبت بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ”
”جو تم بول رہے ہو وہ میں کبھی نہیں کروں گی …عشل کو اسکی بات پر غصّہ آیا تھا ..
”ٹھیک ہے پھر یہیں رہو اسی طرح قید میں تمھیں تب تک آزاد نہیں کروں گا جب تک تم میری بات نہیں ماں لیتی”
..چاہے کتنا وقت لگ جائے کتنے ہی مہینے یا سال میں انتظار کر لوں گا ”
‘اسکے پاس جواب تھا اسکی ہر بات کا ‘
”تو ٹھیک ہے پھر رہو پوری زندگی انتظار میری نا کبھی ہاں میں نہیں بدلے گی ..
”عشل کا لہجہ سخت ہوا تھا ”
”مطلب تم پوری زندگی میرے ساتھ بنا نکاح کے رہنے کے لیے تیار ہو …
”کوئی بات نہیں میرے لیے تو یہ بھی اچھی بات ہے …
”عمر نے اسکی طرف ایک آنکھ دبائی تھی ..
”تم بہت ہی گھٹیا انسان ہو …وہ اب خود کو بےبس محسوس کر رہی تھی .
”عمر اس سے پھلے کی اسکی بات کا جواب دیتا اسکا فون بجا تھا اس نے نرمی سے عشل کو آزاد کیا اور پاکٹ سے فون نکال کر دیکھا …دراب کی کال تھی …
”وہ حیران ہوا تھا اسکے اس وقت فون کرنے پر اس نے جلدی سے کال پک کی..
”ٹھیک ہیں میں آ رہا ہوں ”وہ ایک نظر عشل کو دیکھ کر باہر کی طرف بڑھا تھا ..
”سنو تمہارے پاس بس آج رات تک کا وقت ہے اچھی طرح سوچ لو ..
”وہ جاتے جاتے مڑا اور اس سے مخاطب ہوا اور تیزی سے باہر نکل گیا تھا .
”جبکہ اسکی بات پہ عشل بس کھڑی بند دروازے کو دیکھ کر رہ گئی تھی ”’
💕💕💕💕💕💕
“”””””(جاری ہے )”””””
