Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
”’وہ دھیرے دھیرے آنکھیں کھولنے لگی تھی تو اسکو احساس ہوا کہ بارش رک چکی ہے
‘چھت میں موجود سراخ سے آتی روشنی اس بات کا پتا دے رہی تھی کہ سورج نکل چکا ہے .
‘جیسے جیسے اسکی آنکھیں کھلتی جا رہیں تھی ویسے ویسے اسکو خود پر کسی کی پکڑ کا احساس ہوتا جا رہا تھا ‘
”اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خود کو دراب کی قید میں پاکر اس کا دل مزید تیزی سے دھڑکا تھا ‘
”مگر ایک بات نے جس نے اسکو حیران کیا تھا وہ یہ تھی کہ وہ دراب کے اتنے قریب کیسے آ گئی جہاں تک اسکو یاد تھا’
” وہ اس سے الگ اور کافی فاصلے پر بیٹھی تھی مگر اس وقت وہ اسکے قریب تھی بہت قریب اتنا کہ وہ دراب کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی
”دراب ننے ایک بازو ابیہا کے کندھے پہ رکھا ہوا تھا جبکہ اسکا دوسرا ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھا ہوا تھا ‘
”شاید وہ سو رہا تھا ‘
‘کیونکہ اس کی پکڑ میں سختی نہیں تھی ‘
”ابیہا تیز ہوتی سانسوں سے اس نے فاصلہ قایم کرتی دراب کا بازو اپنے شانے سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تھی ”
”جبکہ اسکی نظریں دراب کے چہرے پر تھی ‘
”کل کیا سے کیا ہو گیا تھا ”
”کل اس شخص کی قید سے آزادی پانے کے لیے اس نے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی ”
”اور آج وہ اس شخص کی وجہ سے ہی زندہ تھی اور پھر سے اسکی قید میں ”
”شاید وہ کبھی اس شخص سے دور جا ہی نہیں سکتی قسمت ہر بار کسی نہ کسی طرح اسکو اسکے پاس لے ہی آتی ہے ”
”ابیہا اسکو دیکھتے بس یہ سب سوچ رہی تھی پتہ نہیں کیوں اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ‘
”ایسا کیوں ہو رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ‘
”ابیہا نے جیسے ہی اسکا ہاتھ اپنے شانے سے ہٹایا تو یکدم سے ہی دراب کی آنکھ کھلی تھی ‘
‘ابیہا کو ایسا کرتے دیکھ دراب سے پھر سے اسکو بازو سے کھینچ کر خود سے قریب کیا تھا ”
”یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ”
‘دراب کی حرکت پر ابیہا غصّے سے چلائی تھی ”
”تمھیں اب یہ بدتمیزی لگ رہی ہے اور کل رات جب تم خود میرے پاس آئی تھی وہ کیا تھا ?
‘دراب سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا.
”کل رات دراب اسکے نیند میں جانے تک اسکو بیٹھا دیکھتا رہا تھا جب اسکو لگا کہ وہ سو گئی ہے تو خود بھی دیوار سے اپنا سر ٹکا کر آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا تھا ”
”اسکو ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اچانک اسکو ابیہا کی آواز آئی جو گہری نیند میں تھی لیکن ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی ”
”دراب اس سے پہلے کی اسکو خود سے قریب کرتا ابیہا خود سے اسکے قریب ہوئی تھی اور اسکے سینے پر سر رکھ لیا تھا ”
”دراب اسکی نیند میں کی گئی حرکت پر مسکرایا تھا اور اسکو اپنی باہوں میں بھر کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا تھا ”
”تم جھوٹ بول رہے ہو میں کیوں آؤ گی تمہارے پاس”
”دراب کی بات پر اسکا چہرہ یکدم سے سرخ ہوا تھا مگر وہ خود پہ قابو کرتی بولی تھی “
‘میں جھوٹ بول رہا ہوں ?
‘دراب اسکی حالت سے مزا لیتے ہوئے بولا ..
”تم اس وقت میری سائیڈ پر بیٹھی ہو اور مجھے کہہ رہی ہو کہ میں جھوٹ بولا رہا ہوں ”
‘اس نے اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکا تھا ”
”دراب کی بات پر ابیہا خاموشی سے اپنا لب دانتوں سے کاٹنے لگی تھی ‘
”وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ اس وقت اسکی سائیڈ پہ تھی مطلب صاف تھا وہ نیند میں اسکے پاس آ گئی تھی ‘
”دراب بڑی دلچسپی سے اسکو اپنا لب کاٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا ..
”اسکو مسلسل اسی طرح کرتے دیکھ دراب نے اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر اسکے ہونٹھ کو دانتوں سے آزاد کیا ‘
‘اور بہت ہی نرمی سے اسکے ہونٹھ کو اپنے انگوٹھے سے سہلانے لگا تھا ”
”ابیہا اسکی اس حرکت پر پورے بدن سے کانپ اٹھی تھی .
‘اب تک وہ جو اسکی قید میں خاموشی سے بیٹھی تھی خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ‘
“دراب اسکو کوشش کرتا دیکھ رہا تھا جو اسکی اتنی سی قربت پہ گھبرا رہی تھی وہ اسکی تیز ہوتی دھڑکنوں کو محسوس کر سکتا تھا ..
”جبھی اسکی نظر ابیہا کے کانپتے ہونٹھوں پر پڑی تو وہ بےساختہ اس پر جھکا اور اسکے ہونٹھوں کو بہت ہی نرمی سے چھوتا اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ”
”دراب کی اس گستاخی پر ابیہا کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی ..
”اسکو دراب پر غصّہ تو بہت آ رہا تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اسکی شکل تک دیکھ سکے..
”کیا اب پھر سے رات یہیں گزرنے کا ارادہ ہے تمہارے ?
‘اٹھو گھر چلنا ہے ہمیں ”
اسکو ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر دراب اس سے مخاطب ہوا اور ایک نظر اسکو دیکھتا ہٹ سے باہر نکل گیا تھا”
”اسکے جانے کے بعد ابیہا اپنی سانسیں درست کرتی اٹھی تھی اور ہٹ سے باہر نکل کر بنا اسکی طرف دیکھے دراب کے پیچھے چل دی تھی ”
💞💞💞💞
”احمد تم کل آ رہے ھو یا نہیں مجھے بس صاف لفظوں میں ہاں یا نا بتا دو ‘
‘وہ بہت زیادہ غصّے میں اپنے شوہر سے مخاطب ہوئی تھی .
”عائشہ میں کہہ رہا ہوں نہ کہ اگر مجھے کل وقت ملا تو میں ضرور آ جاؤں گا ..
‘اور کتنے صاف لفظوں میں جواب چاہئے تمھیں ?
”احمد بھی تھوڑا غصّے میں بولے تھے انکو بلکل پسند نہیں تھا عائشہ کا ان سے اس طرح سے بات کرنا کتنی ہی دفع ان دونوں کے بیچ لڑائی بھی ہو چکی تھی ..
”آپ ہر بار یہ ہی بولتے ہیں اور ہر بار آپ نہیں آتے تو میں کیسے یقین کر لوں میں آپکی بات کا?
”وہ احمد کے انداز سے تھوڑا آرام سے بولی تھی جنتی تھیں اپنے شوہر کی عادت کو ”
”اس بار ایسا نہیں ہوگا میں بولا رہا ہوں نہ تو تم سمجھتی کیوں نہیں ہو ‘
”احمد جانتے تھے کہ انکی بیوی انکے لیے کس قدر پریشان رہتی ہے وہ انکے احساس کو سمجھتے تھے”
”جانتے ہو احمد ہماری بیٹی کل پانچ سال کی ہو جائے گی اور آپ ان پانچ سالوں میں مشکل سے صرف دس بار اس سے ملنے آۓ ہونکے “”
”اس وقت عائشہ کا لہجہ بھیگا ہوا تھا جسکو احمد اچھے سے محسوس کر سکتے تھے ”
”پر آپکو تو اس بات سے کوئی فرک نہیں پڑتا ہے کیونکہ آپکے لیے ہم سے زیادہ وہ شخص اور اسکی فیملی عزیز ہے ‘
‘اس بار انکے لہجے میں طنز تھا ”
”کیسی باتیں کر رہی ہو تم عائشہ میرے لیے میری فیملی سب سے پہلے ہے اسکے بعد سب ”
احمد کو عائشہ کی بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی ”
”اگر ایسا ہے تو آپ یہ سب کام چھوڑ کیوں نہیں دیتے آ جائے یہاں ہمارے پاس آپکی بیٹی کو اور مجھے آپکی بہت ضرورت ہے ””
‘عائشہ نے ہر بار کی طرح اپنی بات دوہرائی تھی جس پر احمد کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے ”
”تم اچھے سے جانتی ہو کہ یہ کام چھوڑنے کے لیے نہیں شروع کیا تھا میں نے ‘
‘اور یہ بات تم جتنی جلدی سمجھ جاؤ تمہارے لیے بہتر ہے ”
‘عائشہ اس وقت انکے لہجے میں غصّہ صاف محسوس کر سکتی تھیں ”
”اس بات سے تو یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ آپکو ہم سے زیادہ یہ کام اور اپنے داؤد صاحب عزیز ہیں ”
”اس بار وہ تلخی سے بولی تھی ”
”عائشہ میں فون رکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا اس طرح سے ہم بات کر سکتے ہیں ”
”کل میں آؤں گا تو تب آرام سے بات کریں گے ”
‘احمد عائشہ کی بات پر اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا بولا تھا اور فورن فون کٹ کر دیا تھا ”
”احمد کے فون رکھنے کے بعد عائشہ کتنی ہی دیر غصّے میں بیٹھی رہی تھیں ”
”احمد داؤد خان کے ساتھ کام کرتا تھا جو ان لوگوں کو کام تمام کرتے تھے جو سمگلنگ جیسا غیر کانوں کام کرتے تھے …
”اور اسی بیچ انکی ملاقات عائشہ سے ہوئی جسکا اس دنیا میں کوئی نہ تھا عائشہ انکو پہلی نظر میں ہی پسند آ گئی تھی اور یوں انہونے عائشہ کو اپنا ہمسفر بھی بنا لیا …
”مگر احمد نے اپنے کام کی بات عائشہ سے چھپا رکھی تھی لیکن یہ باتیں چھپنے والی کہاں ہوتی ہیں .
”ایک دن جب عائشہ کو احمد کے کام کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ ان پر غصّہ کرنے لگی چلانے لگی کہ انہونے اسکو دھوکہ دیا ہے …
”احمد کے سمجھنے پر وہ بلکل نہیں سمجھی اور ایک دن اس گھر سے جانے کی ضد کرنے لگی احمد جانتے تھے کہ وہ انکی نہیں سنے گی اس لیے وہ عائشہ کو اپنے گاؤں لیکر آ گئے تھے ”
”لیکن عائشہ کے کہنے پر انہونے کبھی اپنا کام نہیں چھوڑا ..
”جب بھی انہیں وقت ملتا وہ عائشہ کے پاس آ جاتے وقت یوں ہی گزرتا رہا انکے گھر ایک بیٹی ہوئی جسکا نام احمد نے ابیہا رکھا تھا ”
”جب بھی احمد زیادہ وقت تک گھر نہیں آتے تھے تو عائشہ اسی طرح ان پر غصّہ کرتی تھی اور ہر بار کی طرح آج بھی وہ لوگ بات کم لڑ زیادہ رہے تھے ”
”عائشہ کچھ دیر تو ایسے بیٹھی رہیں پھر اٹھ کر سوتی ہوئی ابیہا کے برابر میں لیٹ گئیں تھی اور پھر خود بھی نیند کی وادیوں میں اتر گئی ””
💕💕💕
”وہ اس وقت زمین پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی ..
”کیا تھا اسکی قسمت میں اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا اس وقت وہ خود کو بےبس محسوس کر رہی تھی اتنا آج تک اس نے کبھی خود کو اتنا بےبس محسوس نہیں کیا تھا ”
”عمر کے جانے کے بعد وہ بس یوں ہی بیٹھی سوچے جا رہی تھی رات سے صبح ہو گئی اسکو کچھ خبر ہی نہیں تھی ”
”وہ بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسکو باہری دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی تھی وہ جان گئی تھی کہ آنے والے کون ہو سکتا ہیں ..
”اس لیے اٹھ کر وہ جلدی سے واشروم میں گھس گئی تھی کیونکہ اس وقت وہ بلکل بھی اسکا چہرہ یا اسکی کوئی بھی بات سننے کے بلکل موڈ میں نہیں تھی ..
”عمر دروازے کو لاک کرتا اندر داخل ہوا اور لاؤنج خالی دیکھ کر وہ روم میں آیا تھا ‘
”روم جب اسکو خالی ملا تو یکدم سے وہ پریشان ہوا مگر واشروم کا دروازہ بند دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ عشل واشروم میں ہے ”
”وہ آہستہ سے چلتا ہوا گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹا تھا ”
”کل رات وہ اور آمنہ بیگم دراب اور ابیہا کی وجہ سے کافی پریشان رہے تھے ..
”اس نے آمنہ بیگم کو سمجھا بجھا کر آرام کرنے کے لیے روم میں بھیج دیا تھا مگر وہ خود رات بھر انکے آنے کا انتظار کرتا کرتا صوفہ پر ہی سو گیا تھا ”
”صبح اسکی آنکھ دراب کے جگانے پر ہی کھلی تھی دونوں کو صحیح سلامت اپنے سامنے دیکھ کر آمنہ بیگم اور وہ دونوں ہی خوش ہوۓ تھے …
”کچھ دیر وہاں رک کر جب اسکو عشل کا خیال آیا تو وہ فورن ہی یہاں چلا آیا تھا ”
”وہاں رکنا بیکار ہے عشل باہر آ جاؤ تم اچھے سے جانتی ہو کہ مجھے وہاں آنے میں بھی دیر نہیں لگے گی ”
”بہت دیر تک جب واشروم کا دروازہ نہیں کھلا تو عمر اونچی آواز میں بولا تھا جانتا تھا عشل اسکی وجہ سے باہر نہیں آ رہی ہے ”
”تمہاری کیا پرابلم ہے …کہیں تو اکیلا رہنے دو ”
”عشل غصّے میں واشروم سے باہر نکلی اور اسکی طرف گھور کر دیکھنے لگی تھی جو بیڈ پہ آرام سے لیٹا اسکو دیکھ رہا تھا …”’
”جو میں نے کل پوچھا تھا مجھے بس اسکے جواب چاہئے ..
”عمر اب بیڈ سے اٹھ کر اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا تھا ”
”تمھیں میرا جواب چاہئے نہ..
‘عشل ایک پل کے لیے رکی تھی اور اسکی طرف دیکھا جو اسکے جواب کا منتظر تھا ..
تو خوش ہو جاؤ میرا جواب ہاں ہیں ….میں تیار ہوں تم سے نکاح کرنے کے لیے …
”عشل کی بات بات پہ عمر حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا تھا اسکو امید نہیں تھی عشل کے اتنی جلدی ماں جانے کی …
”جبکہ عشل نے سوچ رکھا تھا اسکو آگے کیا کرنا ہے اس نے یہ فیصلہ بہت مجبور ہو کر لیا تھا کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ جب تک وہ اسکی بات نہیں مانے گی عمر ایسے ہی اسکو قید کرکے رکھے گا ..
”مجھے خوشی ہوئی کہ تم خود سے راضی ہو گئی ورنہ مجھے زبردستی کرنے سے بھی روک نہیں سکتی تھی تم ….
“”اسکی بات پر عشل بس اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی جبکہ عمر مسکراتا ہوا روم سے نکل گیا تھا ”
”اسکو تیاری جو کرنی تھی اپنے نکاح کی ”
💕💕💕
“”وہ اپنے روم کا دروازہ اچھے سے لاک کرتی اندر داخل ہوئی تھی “
‘سب سے پہلے اس نے واشروم میں جاکر اپنے کپڑے چینج کیے اور پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بال بنانے لگی تھی ”
”ابھی وہ آمنہ بیگم کے پاس سے ہی لوٹی تھی کل کی اپنی حرکت پر وہ ان سے بہت شرمندہ تھی .
‘اس میں ان سے نظریں ملانے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی .
”آخر اس نے ان کا بھروسہ جو توڑا تھا ”
‘آمنہ بیگم اسکی شرمندگی کو اچھے سے سمجھ رہیں تھیں .
‘اس لیے انہونے اس سے کل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی .
‘انکی اس بات پر ابیہا کے دل میں انکے لیے جو محبت عزت تھی وہ مزید بڑھ گئی تھی ”
”بس ایک بات جو اسکو پریشان کر رہی تھی وہ دراب کی خاموشی تھی ..
”گھر آکر بھی اس نے اسکو کچھ نہیں کہا تھا .
‘یہ الگ بات تھی کہ وہ اسکی حرکت پہ بہت غصّہ بھی تھی ”
”بال بنا کر وہ بیڈ پر آ لیٹی تھی اس کو اس وقت اتنی نیند آ رہی تھی کہ لائٹ تک اس نے اوف نہیں کی تھی “
‘کل بھی پوری رات ایسے ہی گزری تھی ”
“‘اسکو ابھی لیٹے ہوۓ کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ یکدم اسکو اپنے پیٹ پر بھاریپن بھاریپن کا احساس ہوا تھا
‘ایسے جیسے کوئی چیز اسکے پیٹ پر رکھی ہو ..
”اس نے نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھول کر وجہ معلوم کرنی چاہی تھی ..
”مگر دراب کو اپنے بہت قریب لیٹا دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی …
”تم یہاں میرے روم میں کیا کر رہے ہو ?
‘ابیہا ایک نظر اسکو دیکھتی تو کبھی دروازے کو ساتھ ہی اس نے اسکا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانا چاہا تھا مگر وہ ایسا کر نہیں سکی تھی کیونکہ دراب کی پکڑ اس پر مضبوط تھی …
💕💕💕💕💕
“””””(جاری ہے )”””””
