Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
‘” کیا بات ہے عمر
‘”جب سے تم آۓ ہو خاموش بیٹھے ہو کوئی ضروری بات کرنی ہے تمھیں جو تم کہہ نہیں پا رہے ہو .
” دراب نے اپنے سامنے خاموش بیٹھے عمر کو مخاطب کیا تھا ..
‘” وہ جب سے اسکے پاس آیا تھا ایسے ہی خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا
‘”اور دراب بہت اچھے سے اسکی عادتوں کو سمجھتا تھا .
‘”جب وہ کوئی ضروری بات اس سے کرنا چاہتا ہے اور کر نہیں پاتا تو وہ ایسے ہی خاموش بیٹھا سوچتا رہتا ہے …
‘” کہ وہ اپنی بات کس طرح شروع کرے
‘” تمھیں کیسے پتہ کہ میں کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے ..
‘” وہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا ‘< ‘” بات تو اسکو کرنی تھی وہ بھی عشل کے بارے میں .. ” اب تک دراب کچھ نہیں جانتا تھا کہ وہ نکاح کر چکا ہے ‘” ‘” اور اب وہ یہ بات مزید اس سے چھپانا نہیں چاہتا تھا ‘ ” اسکو اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا کہ اگر وہ پہلے ہی یہ سب بتا دیتا تو اسکی ماں یقینن اسکی شادی کا سن کر خوش ہو جاتی .. ‘” لیکن اب وہ صرف پچھتانے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا .. ‘” تم میرے بھائی ہو عمر میں تم اور تمہاری سب عادتوں سے واقف ہوں .. اس لیے اپنی یہ حیرانی ختم کرو اور جلدی بولو کیا بات ہے .. جسکو تم کرنے سے پہلے اتنا سوچ رہے ہو ‘” ‘” دراب اسکی حیران نظروں کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بولا تھا ” ‘> دراب دراصل بات یہ ہے کہ
عمر ایک پل کے لیے رکا اور دراب کی طرف دیکھا جو بیٹھا اسکو ہی دیکھ رہا تھا ..
‘” دراب میں شادی کر چکا ہوں ..
‘” عمر نے اپنی بات کہہ کر پھر سے دراب کی طرف جو اب حیران سا بیٹھا اسکو دیکھ رہا تھا ‘”
“‘ کب …اور کس سے ?
‘” وہ بس اتنا ہی بول پایا تھا ‘”
‘” عشل سے “
“‘ اور جب تم نے مجھے اسے کلب سے کچھ دن دور رکھنے کے لیے بولا تھا
تب میں نے اس نکاح کر لیا تھا “
“‘ عمر بیٹھا ہوا دراب کے سر پر ایک ایک کر کے بم پھوڑ رہا تھا .
‘” یہ کیا کہہ رہے ہو تم
اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم نے ہم سے اتنی بڑی بات چھپا کر رکھی ہوئی تھی …
‘” اور میں نے تو صرف اسکی حفاظت کے لیے کہا تھا اور تم …
‘ تم نے تو نکاح ہی کر لیا “
‘” دراب کو عمر سے ایسی حرکت کی بلکل بھی امید نہیں تھی ..
‘” عشل کو اب عمر کی بیوی ہونے کی وجہ سے ان لوگوں سے اور خطرہ ہو سکتا تھا ‘”
‘” میں اس سے محبت کرنے لگا تھا دراب بس اس لیے ..
اور تم لوگوں کو یہ سب بتانے کے لیے مجھے موقع ہی نہیں ملا …
‘ عمر اپنی صفائی پیش کر رہا تھا ..
‘” اور عشل …کیا وہ بھی کرتی ہے تم سے محبت ?
‘ دراب اسکی بات پر بس اتنا بولا تھا
عشل کے لیے اسکے لہجے میں وہ محبت محسوس کر سکتا تھا “
‘” پہلے نہیں کرتی تھی مگر اب کرنے لگی ہے
” عمر شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو اسکی مسکراہٹ دیکھ کر دراب بھی مسکرا دیا تھا ‘”
“‘ اور کیا تم نے اسکو سب بتا رکھا ہے اپنے بارے میں میرے اور ابیہا کے بارے میں ..
‘ دراب کی بات پر عمر کی مسکراہٹ یکدم غایب ہوئی تھی “
:’; اور اس نے نہ میں گردن ہلائی تھی
” مطلب تمھیں اسکو پھر سے محبت کروانی پڑیگی کیونکہ یہ جان کر کہ تم شروع سے اسکی دوست کے بارے میں جانتے ہو
تو اسکی محبت ختم ہو جائے گی تمہارے اتنے بڑے جھوٹ پر ‘:
“‘ اسکے نہ میں گردن ہلانے پر دراب زور سے ہنستے ہوئے بولا تو اسکی ہنسی دیکھ کر عمر کا منہ لٹک گیا تھا “‘
💕💕💕
“‘ عشل ”” عشل یار کہاں ہو تم ‘
عمر سیدھا اپنے فلیٹ پر آیا تھا اس دن وہ عشل کے گھر سے اسکو پھر سے اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا “
“‘ اب سب کھل چکا تھا
عباس اور سلطان جان چکے تھے کہ وہ ڈی کے کا دوست ہے
اس لیے اب عشل کا وہاں رہنا بھی ٹھیک نہیں تھا .
‘” عمر اسکو آواز دیتا روم میں داخل ہوا تو وہ روم میں نہ ملی تو کچن کی طرف بڑھا تھا “
“‘ آج دراب کی باتوں سے اسکو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا
عشل اس پر اتنا بھروسہ کرتی ہے
اسکو شروع سے ہی عشل کو سب بتا دینا چاہئے تھا”
“‘ اس لیے آج اس نے عشل کو سب سچ بتانے کے بارے میں سوچا تھا ..
‘” اپنی ماں کی موت کے بارے میں بھی اس نے کھل کر اسکو کچھ نہیں بتایا تھا ‘:
“‘ تم یہاں ہو یار میں تمھیں ہر جگہ تلاش کر رہا تھا ..
‘: عشل کو کچن میں کام کرتا دیکھ وہ اسکے پاس جاتے ہوئے بولا تھا “
“‘ وہ مجھے بھوک لگ رہی تھی تو میں نے سوچا اپنے لیے کچھ بنا لوں “
” عشل مصروف سے انداز میں اسکو جواب دیتی فریج کی طرف بڑھی تھی .
‘” صرف اپنے لئے بنا رہی ہو ..
عمر نے عشل کا بازو پکڑ کر اسکو اپنے قریب کیا تھا
” تمہارے لئے بھی بنا رہی ہوں ناراض کیوں ہو رہے ہو “
” عشل اسکے آنکھیں دکھانے پر مسکرا کر بولی تھی ..
‘: پر مجھے وہ نہیں چاہئے جو تم بنا رہی ہو ..
” عمر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو مزید قریب کیا تھا “
“‘اچھا تو پھر کیا چاہئے تمھیں بتاؤ میں بنا دیتی ہوں .
عشل اسک شرٹ کے بٹنز سے کھیلتی بہت ہی محبت سے بولی تھی “
‘” مجھے یہ چاہئے ..
” عمر اسکے ہونٹھوں کو اپنے انگوٹھے سے نرمی سے چھوتا خمار آلودا لہجے میں بولا تھا “
“‘ چھوڑو مجھے تمھیں ابھی کچھ نہیں ملے گا .
ہاں اگر کچھ کھانے کے لیے چاہئے تو بولو .
” عشل اسکی بات سن کر اسکا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانہ چاہا تھا مگر عمر کی پکڑ مضبوط تھی .
‘” تم دو یا نہ دو پر مجھے تو چاہئے اور میں خود ہی لے لوں گا “
” عمر اپنی بات کہہ اس پر جھکا تھا “
“‘ عمر پلز پریشان مت کرو مجھے کھانا بنانا ہے .
” اسکے لبوں کا لمس اپنی گردن اور کان پر محسوس کر کے عشل نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو روکنا چاہا تھا “
“‘ پر عمر تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا
وہ تو یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ اس سے کیا بات کرنے آیا تھا “
“‘ عمر پلز …
اسکی بڑھتی جسارتوں پر عشل بمشکل بول پائی تھی .
‘” آج نہیں عشل آج بہت دن بعد پریشان کر رہا ہوں تمھیں آج نہیں …
“” عمر ایک نظر دیکھتا اسکے ہونٹھوں پر جھک گیا تھا
‘” عشل نے شدت جذبات سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
اسکا ہاتھ ابھی بھی عمر کے سینے پر رکھا ہوا تھا
” دونوں جیسے ایک دوسرے میں کھو سے گیے تھے”
” فون کی بیل پر دونوں یکدم ہوش میں آۓ تھے”
‘” عمر عشل سے دور ہوا اور اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا عشل کے بجتے فون کی طرف بڑھا تھا ..
” اسے اس وقت یہ فون سخت ناگوار لگ رہا تھا مگر سکرین پر چمکتے نام کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں بھی ناگواری آئی تھی ..
‘” یہ حسن تمھیں فون کیوں کر رہا ہے جب تم وہاں کام کرنا چھوڑ چکی ہو ..
“وہ اپنا حلیہ درست کرتی عشل سے مخاطب ہوا تھا..
“‘ پتہ نہیں ..
عشل اسکے چہرے پر غصّہ دیکھ کر بس اتنا ہی بول پائی تھی “
“‘ اس سے کہہ دو کہ آئندہ تمھیں کال نہ کرے اور ہو سکے تو یہ ضرور بتا دینا کہ تمہاری اب شادی ہو چکی ہے ..
” عمر فون اسکو پکڑاتا کچن سے نکلا تھا ..
“‘ عمر کے جانے کے بعد عشل نے غصّے میں فون کٹ کیا تھا
آج پہلی بار اسکو حسن کا فون کرنا بہت برا لگا تھا عشل کو لگ رہا تھا کہ عمر اس پر غصّہ ہو گیا ہے
” جبکہ اسکو اس بات کی خبر ہی نہیں تھی کہ عمر عشل پر نہیں حسن کے اوپر غصّہ تھا “”
💕💕💕
“‘وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے اسکی نظر بیڈ پہ لیٹے دراب پر پڑی تھی
“‘ اسکو گھر میں دیکھ کر ابیہا یکدم سے خوش ہوئی تھی ..
‘” ورنہ اسکی رات کے وقت ہی گھر پر واپسی ہوتی تھی ‘
“‘ اور وہ پورا وقت گھر میں بور پھرتی رہتی تھی ..
‘” جب سے وہ دراب کے دوسرے گھر میں آئی تھی بور ہی ہو گئی تھی “
‘” وہاں پر تو اسکو آمنہ بیگم کا ساتھ مل گیا تھا اس لیے اکیلاپن محسوس ہی نہیں ہوا تھا ..
‘” اور یہاں پر وہ پوری طرح بور ہو چکی تھی ایک دو ملاذمہ بھی تھیں لیکن وہ ان سے زیادہ بات نہیں کر پاتی تھی …
“‘ ابھی وہ بور ہوتی واپس اپنے کمرے میں آئی تو دراب کو دیکھ کر اسکا چہرہ کھل اٹھا تھا ..
” ابیہا آہستہ سے قدم اٹھاتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی دراب آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا شاید وہ سو رہا تھا یہ ابیہا کا خیال تھا …
“‘ وہ بیڈ کے پاس کھڑی ہو کر اسکو سوتا ہوا دیکھنے لگی تھی”
سوتا ہوا وہ ابیہا کو کوئی مغرور سا شہزادہ لگتا تھا
” وہ کھڑی ایک ٹک اسکو دیکھتی اپنی آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہی تھی .
“‘ جبھی اسکی نظر دراب کے آنکھ سے اوپر پیشانی تک اس نشان پر پڑی تھی
” پہلی بار اس نے اسکے چہرے پر یہ نشان ہی تو دیکھا تھا ..
‘” اس وقت اسکی آنکھیں اس نشان کی وجہ سے اسکو کتنی خوف ناک لگی تھی اور اب …
یہ نشان اسکو سب سے اچھا لگ رہا تھا اسکے چہرے پر …
“‘ ابیہا آہستہ سے اسکے برابر میں بیٹھی تھی اور ہاتھ بڑھا کر اسکے نشان کو چھونا چاہا ..
‘” ابیہا بہت ہی نرمی سے اپنی انگلیوں سے اسکے نشان کو چھو رہیں تھی .
جبکہ اسکی نظریں دراب کی بند آنکھوں پر تھی ..
تبھی دراب نے یکدم سے آنکھیں کھول کر اسکا ہاتھ تھام لیا تھا ‘”
“‘ دراب کی اس حرکت پر ابیہا یکدم سے ڈر گئی تھی کیونکہ وہ اسکو لگا تھا کہ وہ سو رہا ہے مگر ایسا نہیں تھا “‘
” میں یہاں تمہارے ہاتھوں کا نہیں تمہارے ہونٹھوں کا لمس محسوس کرنا چاہتا ہوں .
‘ ‘ دراب نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے ہونٹھوں کی طرف اشارہ کیا تھا ‘”
‘” جبکہ ابیہا اسکو جاگتا دیکھ کر پہلے ہی گھبرا چکی تھی اسکی نئی فرمائش پر اسکی دھڑکنے تیز ہوئی تھی “
‘” اب وہ بیٹھی خود پر غصّہ کر رہی تھی کہ کیا ضرورت تھی اسکو جگانے کی اچھا خاصہ پھنس چکی تھی اب وہ …
“‘ لاؤ میں تمہاری مشکل آسان کر دیتا ہوں
دراب نے یکدم سے اسکو خود پر جھکایا تھا .
‘” اس وقت وہ پوری کی پوری دراب پر جھکی ہوئی تھی اور دراب کا ایک ہاتھ اسکی کمر پر تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے ان دونوں کے درمیان آتے ابیہا کے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کیا تھا …
” ‘ اب ابیہا کے پاس اسکی فرمائش پوری کرنے کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا ..
‘” وہ دراب پر تھوڑا سا جھکی اور اپنے لب اسکے نشان پر رکھ دیے تھے …
” ‘ اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی دراب نے اسکو کمر سے پکڑ کر اپنے برابر لیٹا کر خود اس پر جھک گیا تھا..
” ‘ تصویر بدل چکی تھی اب دراب ابیہا پر پورا کا پورا جھکا اسکو اپنی قید میں لے چکا تھا ..
” ‘ کتنی ہی دیر تک دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے تھے ..
اس وقت دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے بےپناہ محبت تھی ..
” ‘ دراب “
ابیہا نے اپنا ہاتھ اسکے چہرے پر رکھ کر بہت آہستہ آواز میں اسکا نام لیا تھا “”
“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں دراب
وہ محبت جسکی کوئی انتہا نہیں ہے جو بےانتہا ہے ..
ابیہا اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چھوتی بےخودی کے عالم میں بولے جا رہی تھی ..
“‘ پتہ نہیں یہ کب ہوا کیسے ہوا
لیکن آپ بہت ضروری ہو گئے ہو میرے لئے
آپکے بغیر میں کچھ نہیں ہوں کچھ بھی نہیں …
“‘ ابیہا کی انگلیاں اب اسکے لبوں پر آں رکی تھی ..
” ‘اسکے اتنے خوبصورت اظھار پر دراب کھل کر مسکرایا تھا .
‘ ‘ کتنا انتظار کیا تھا اس نے اسکے اظھار کا اور آج اسکا یہ انتظار ختم ہوا تھا …
” اور تمہارے بغیر میرا کوئی وجود نہیں ہے ابیہا کیونکہ تم میرا ہی حصّہ ہو میں تمھیں ہر وقت یہاں محسوس کرتا ..
”” دراب نے ابیہا کا ہاتھ اپنے سینے پر دل کی جگہ پر رکھا تھا “
‘ ابیہا اسکی دھڑکنوں کو محسوس کر سکتی تھی .
“‘ ابیہا آنکھیں بند کیے اسکی دھڑکنوں کو محسوس کر رہیں تھی اور دراب اسکی بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا ..
“‘ یکدم سے وہ اس پر جھکا تھا ..
دراب کے ہونٹھوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے ابیہا کی دھڑکنے تیز ہوئی تھی ..
“‘ دراب “
بند آنکھوں سے اس اسکو پکارا تھا “
” ‘ اسکی گھبرائی ہوئی آواز پر دراب ہولے سے مسکرایا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لیکر اسکے ہونٹھوں پر جھک گیا تھا ….
“‘ آج کوئی زبردستی نہیں تھی ان دونوں کے بیچ صرف محبت تھی جو دونوں ایک دوسرے سے کرتے تھے …
💕💕💕
” ‘ مسلسل بجتے فون کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی تھی ”
دراب نے ہاتھ بڑھا کر بنا دیکھے فون کٹ کر دیا تھا
‘” اور پھر سے سوئی ہوئی ابیہا کو خود میں بھینچا تھا ..
اسکے اس طرح کرنے پر ابیہا ہلکا سا کسمسائی تھی
‘ ‘ ‘ دراب اسکی خوشبوں کو خود میں اتارتا پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا تھا ..
“‘مگر اسکا فون پھر سے بجنا شروع ہوا تھا ..
“‘ دراب کو یکدم سے فون کرنے والے پر غصّہ آیا تھا
‘” اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کس کا فون ہے مگر بشر کا نام دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا “
‘”” ٹائم دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے
اسکو بشر کی کال ضروری لگی تھی کیونکہ وہ کبھی اتنی لیٹ اسکو کال نہیں کرتا تھا “
‘”اس نے نرمی سے ابیہا کا سر اپنے بازو سے ہٹا کر تکیے پر رکھا تھا
اور اپنی شرٹ کے بٹنز بند کرتا فون لیکر روم سے باہر نکلا تھا ‘”
“‘سر جس موقے کی آپکو تلاش تھی وہ آ گیا ہے عباس آج خود آیا ہے ڈیل کرنے ساتھ میں حسن بھی ہے .
‘ اسکے کال پک کرتے ہی بشر نے بولنا شروع کیا تھا
”’ ٹھیک ہے تم انتظار کرو میں آ رہا ہوں .
‘ ” دراب کال کٹ کرتا واپس روم میں آیا اور واشروم میں گھس گیا تھا ‘”
“‘ واشروم سے نکل کر اپنی ضروری چیزے لیتا روم سے نکلا تھا ….
‘ ‘” مگر اسکے بڑھتے قدم یکدم سے رکے تھے وہ پلٹا اور بیڈ پر سوئی ہوئی ابیہا کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” کچھ دیر تو کھڑا اسکو سوتا دیکھتا رہا پھر جھک کر اسکی گردن پر اپنے لب رکھے تھے …
‘” اسکی خوشبوں خود میں اتارنے کے بعد وہ اٹھا اور تیزی سے روم سے نکلا تھا ‘ “
💕💕💕
“””””””””””(جاری ہے )”””””””
