Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“”کیا ہیں ?
“عشل اسکو راستے کے بیچ میں کھڑا دیکھ کر غصّے سے بولی ماتھے پہ بل ہمیشہ کی طرح پڑ گئے تھے
“کچھ بھی نہیں ..
“وہ کندھے اچکا کے بولا اور اسی طرح اسکے سامنے کھڑا رہا “تو پھر سامنے سے ہٹو میرے
“اسکے انجان بننے پر عشل اپنا غصّہ ضبط کرتی ہوئی بولی
“کیوں ہٹوں تمہارے سامنے سے ?
“وہ اسکا غصّے سے بھرا چہرہ دیکھ کر بولا اسکو مزہ آتا تھا اسکو اس طرح پریشان کرنے میں
“دیکھو میں کہہ رہیں ہوں میرے سامنے سے ہٹ جاؤ مجھے بہت کام کرنا ہیں
“عشل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہاتھ میں پکڑی ٹرے اسکے سر پہ دے مارے پھر چاہے بعد میں کچھ بھی ہوتا رہتا
“تو کر لو کام کس نے روکا ہے تمھیں
“وہ اسکے راستے میں اور پھیل کر کھڑا ہو گیا تھا اسے ہمیشہ ہی اس لڑکی کے تاثرات اپنی طرف متوجہ کرتے تھے
“اگر تم اپنا تماشہ نہیں بنوانا چاہتے ہو تو سیدھی طرح سے یہاں ہٹ ورنہ ..
“عشل سے اب اپنا غصّہ ضبط کرنا مشقل لگا رہا تھا وہ یہاں سے نہ ہٹتا یقینن وہ کچھ الٹا کر دیتی اسکے ساتھ
“اسکو تو وہ شروع سے ہی زہر لگتا تھا اور آج اسکے یوں اس طرح سے کرنا اسکے پورے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا
“میں تو بنوانا چاہتا ہوں اپنا تماشہ اب کرو کیا کرنے والی تھیں تم
اب وہ اسکو جچ کر رہا تھا ..
“اسکی بات سن کر عشل نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے پاس رکھی ٹیبل پہ پٹخنے کے انداز میں رکھی تھی جس پہ اسکے سامنے کھڑے شخص کے ہونٹھوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی تھی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ وہاں جا کر سرو کرو وہاں کوئی موجود نہیں ہیں .
“عشل جو اپنے ہاتھوں سے اسکا چہرہ نوچنے کے لئے آگے بڑھی تھی سر عباس کی آواز پہ اسکے قدم وہیں رک گئے تھے..
“وہ جو عشل کو اپنے قریب آتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا مگر اپنے پیچھے عباس کی آواز سن کر اسکے چہرے پہ آئی ہنسی ایک دم سے غایب ہوئی تھی .
“جی سر میں وہیں جا رہی تھی .
“عشل ایک نظر عباس کو دیکھتی پھر اپنے سامنے کھڑے شخص کی طرف گھور کر دیکھا تھا
“اسکے گھورنے پر وہ اپنی ہنسی مشقل سے ضبط کرتا ایک سائیڈ ہوا تھا اسکا ارادہ تو اسکو اور پریشان کرنے کا تھا مگر پیچھے کھڑے عباس کی وجہ سے اسکو ہٹنا پڑا تھا..
“اسکے ہٹتے ہی عشل جلدی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اسکے جانے کے بعد عباس بھی وہاں سے چلا گیا تو اسکے جانے کے بعد اس نے مڑ کر عباس کی کی طرف دیکھا جو اب صبا کے پاس کھڑا اسکو کچھ ہدایت دے رہا تھا جس پہ وہ اپنی گردن ہلا کر آگے کی طرف بڑھی تھی تو وہ خود بھی وہاں سے اپنے آفس روم کی طرف بڑھ گیا تھا..
“عباس کے جانے کے بعد اس نے پھر سے عشل کی طرف دیکھا جو اب چہرے پہ مسکراہٹ سجائے لوگوں کو سرو کر رہیں تھی اسکی شکل دیکھ کر عمر کے چہرے پہ ایک بار پھر مسکراہٹ آ گئی تھی “””
💞💞💞💞💞
“وہ تخت پہ بیٹھی سلائی کر رہیں تھیں جب دروازے پر دستک ہوئی تھی.
“اس وقت کون آ سکتا ہے ?
عائشہ بیگم نے وقت دیکھا تو ١٢ بج رہے تھے اور ابیہا کے آنے میں وقت تھا اور یہاں ان دونوں کی کسی سے خاص بات چیت بھی نہیں تھی وہ دونوں بس ایک دوسرے کی دوست ہمدرد سب کچھ تھیں ..
“عائشہ بیگم سلائی مشین ایک طرف رکھتی دروازے تک آئی تھی ..
“جیسے ہی انہونے دروازہ کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ایک پل کے لئے وہ ٹھٹکی تھیں..
“اسلام علیکم …اپنی آنکھوں سے چشمہ اتار کر اس نے انکو سلام کیا تھا..
“اور عائشہ بیگم تو جیسے بہت سال پیچھے چلی گئی تھی اسکو دیکھ کر انکو کوئی یاد آیا تھا..
“شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں یا پہچان کر انجان بن رہیں ہیں.
.وہ اپنے پیچھے کھڑے آدمیوں کو باہر رہنے کا اشارہ کرتا اندر کی طرف بڑھا تھا
جبکہ عائشہ بیگم میں ہلنے تک کی ہمت نہیں بچی تھی وہ اسکو کیسے نہ پہچانتی وہ بلکل اپنے باپ کی شکل تھا وہ ہی چہرہ اتنا ہی لمبا قد ..
وہ ہی مغرور نین نقش سب کچھ تو اپنے باپ جیسا تھا اس میں…
“شاید آپکو میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا ہے …انکو خاموش دیکھ کر وہ پھر سے بولا تھا
“دراب خان “کیوں آۓ ہو تم یہاں?
“وہ اسکا پورا نام لے کر اس سے مخاطب ہوئی تھی.
“انکی بات سن کر وہ کھل کر مسکرایا تھا..
“اچھی بات ہیں آپ مجھے پہچانتی ہیں ورنہ مجھے لگا تھا کہ آپ شاید مجھے پہچاننے سے انکار ہی کر دو.
.وہ وہاں موجود کرسی پہ آرام سے بیٹھتا ہوا بولا تھا..
“میں نے جو پوچھا ہے مجھے اسکا جواب چاہئے کیوں آۓ ہو تم یہاں ?
“وہ اپنا غصّہ ضبط کرتی پھر سے اپنا سوال دوہراتی ہوئی بولی تھی.
“میرا آپ لوگوں سے جو رشتہ ہے اس رشتے کی وجہ سے میں یہاں آیا ہوں .
“وہ جتانے والے انداز میں بولا تھا.
“نہیں ہیں ہمارا تم سے کوئی رشتہ اور نہ ہی ہم تم سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں…
“اس بار انہونے اپنے غصّے کو ضبط نہیں کیا تھا انکا بس چلتا تو وہ ایک پل میں اسکو اس گھر سے باہر نکال دیتیں.
“آپکے انکار کرنے سے یہ رشتہ تو ختم نہیں ہو جائے گا
جو ہے وہ تو رہے گا ہی .
“اسکو انکی بات بلکل پسند نہیں آئی تھی اسے کہاں برداشت تھا کہ کوئی اسکی بات کو انکار کرے.
“ہاں میرے انکار کرنے سے ہو جائے گا ختم اور بہتر ہے آج کے بعد تم اور تمہارے یہ لوگ مجھے میرے گھر کے آس پاس نظر نہ آؤ …
“عائشہ بیگم دو ٹوک انداز میں بول کیونکہ یہ سب اب انکی برداشت سے باہر ہو گیا تھا .
“آپ کچھ بھی کہہ لو لیکن آپ یہ بات اچھے سے جانتی ہیں کہ آپ یہ رشتہ کبھی ختم نہیں کر سکتی ہیں ..
“وہ بھی انکو صاف لفظوں میں سچائی سے آگہ کر رہا تھا اور عائشہ تو جیسے چپ ہی ہو گئیں تھیں اسکی بات سن کر..
“اور رہی بات میری اور میرے لوگوں کی یہاں موجودگی کی تو آپ اب اسکی عادت ڈال لو کیونکہ دراب خان کبھی اپنے سے جڑے رشتو سے غافل نہیں رہتا ہیں .
“وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا تھا اور ایک نظر عائشہ بیگم کو دیکھا جو بلکل خاموش کھڑی اسی کو دیکھ رہیں تھی
“اور ہاں ایک اور بات!
“وہ جاتے جاتے پلٹ کر انکی طرف مڑا تھا
“آپکے پاس میری امانت ہیں اور اس لئے آپکی حفاظت کرنا میرا فرض ہیں
..وہ اپنی بات کہہ کر ایک پل کے لئے رکا تھا
اور میں آپسے بھی اسی بات کی امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی میری امانت کی اچھے سے حفاظت کریں گی.
“انکو ہدایت دیتا وہاں رکا نہیں تھا جتنی تیزی سے وہ یہاں آیا تھا اسی تیزی سے باہر نکل گیا تھا .
“اسکی جانے کے بعد عائشہ بیگم کتنی ہی دیر تک اپنی جگہ سکت کھڑی رہیں تھی””
💞💞💞💞💞💞
“”وہ تیز تیز چلتی کلب آ رہی تھی آج وہ پھر سے لیٹ ہو گئی تھی مگر اس بار دیر ہونے کی وجہ وہ خود نہیں تھی
“آج عشل نہیں آئی تھی اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی جس وجہ سے اسکو گھر کا سارا کام کرنا پڑا تھا .
“اور پھر اسکی طبیعت کی وجہ سے وہ اسکے لئے رات کا کھانا بھی بناکر آئی تھی بس اس چکر میں اسکو بہت دیر ہو گئی تھی.
“وہ تیزی سے چل ہی رہی تھی کہ اسکو اچانک ایسا لگا کہ کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے صبا نے گردن موڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا ..
“وہ اپنا وہم سمجھ کر اس نے اپنے قدم بڑھا دئے تھے ایسا اسکے ساتھ بہت بار ہو چکا تھا پر ہر بار وہ اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیتی تھی..
“کلب میں آکر وہ اپنے کام میں بیزی ہو گئی تھی آج عشل نہیں تھی جس وجہ سے بہت بور ہو گئی تھی اور بے دلی سے اپنا کام کرتی اور لوگوں کی خود پر اٹھتی غلط نظروں کو نظر انداز کرتی ادھر سے ادھر سرو کر رہی تھی.
“یہ اسکا کام تھا اور اب اسکو ان سب چیزوں کی عادت ہو چکی تھی.
“جیسے تیسے کر کے اسکی ڈیوٹی ختم ہوئی تو وہ سکھ کا سانس لیتی اپنے ڈریس چینج کرنے ڈریسنگ روم میں گئی تھی
“یہاں کام کرنے والو کی الگ ہی ڈریس ہوتی تھی جو وہ اس وقت زیب تن کیے ہوئی تھی ۔
“وہ اپنا ڈریس چینج کرتی کلب کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھی تھی
وہ اور عشل روز ہی وہاں سے واپس جاتی تھی تھی کیونکہ فرنٹ گیٹ پہ بہت زیادہ بھیڑ ہوتی تھی اور کلب کی دوسری سائیڈ اس وقت سنسان رہتی تھی
“ابھی وہ باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی..
“عباس سر …یہ …یہ آپ نے …
“کانپتی ہوئی آواز میں وہ سامنے کھڑے عباس سے مخاطب ہوئی تھی
جسکے ہاتھ میں گن تھی اور وہ زمین پہ پڑے اس بےجان وجود کی نبض دیکھ رہا تھا
“آ….آپ نے اسکو مار دیا ہے ?..
“جب وہ کھڑا ہوا تو صبا پھر سے اس سے مخاطب ہوئی تھی جو اب اپنی گن پاکٹ میں رکھ رہا تھا ..
“ہاں یہ یہاں مجھے مارنے آیا تھا تو میں نے اسکو مار دیا عباس سلطان پہ حملہ کرنے کی سزا تو ملنی ہی تھی اسے ..
“عباس بڑے آرام سے اسکو اپنا کارنامہ بتا رہا تھا جیسے اس نے کوئی بہت ہی اچھا کام کیا ہو..
“جبکہ یہ جھوٹ تھا اسکو بہت دن سے اس آدمی پہ شق تھا اور آج یہ شق سچ ثابت ہو گیا تھا جب اس نے اس آدمی کو اپنی باتیں سنتے ہوئے دیکھ لیا تھا اسکو یقین ہو گیا تھا کہ یہ ڈی کے کا آدمی ہے اور اسکو ڈی کے پاس جانے سے پہلے ہی اسکی جان لے چکا تھا..
“جبکہ اسکی بات سن کر صبا کو ایک لمحے کے لئے اس سے خوف محسوس ہوا تھا.
“آپ نے بلکل اچھا نہیں کیا ہے کسی کی جان لینا..
“اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی عباس نے سختی سے اسکا منہ اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑا تھا..
“شش ….خاموش بلکل خاموش ..
ایک اور لفظ نہ نکلے منہ سے
عباس نے اپنے پکڑ اسکے چہرے پہ سخت کی تھی جبکہ صبا تو بےیقینی سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسکو اچھا انسان سوچتی تھی
کیونکہ وہ اس کلب کا مالک تھا اور کبھی اس نے اپنے مالک ہونے کا فائدہ اٹھا کر اس کے ساتھ کوئی غلط حرکت نہیں کی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اسکو ایک اچھا انسان سمجھتی تھی پر آج اسکا ایک نیا روپ دیکھ کر اسکو دکھ ہوا تھا..
“سر …مجھے درد ہو رہا ہے ….صبا اسکی پکڑ سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی مگر سامنے والے کی پکڑ سخت تھی..
“جو بھی تم نے یہاں دیکھا تم اس بات کو یہیں بھول جاؤ اگر تم نے اپنا منہ کھولنے کی ذرا سی بھی کوشش کی نہ تم میں جو تمہارے ساتھ کروں گا اسکے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو ..
عباس اسکو وارن کرنے والے انداز میں بولا اور ایک جھٹکے سے اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا..
“اسکے چھوڑنے پر وہ پل میں اس سے دور ہوئی تھی.
“میں اپنی ایک بات بار بار دوہرانا پسند نہیں کرتا ہوں جو میں نے کہا ہے اسکو یاد رکھنا …
صبا میں تو اب بلکل بھی بولنے کی ہمت ہی نہیں بچی تھی وہ ایک کونے میں کھڑی کانپ رہی تھی
عباس نے ایک نظر زمین پہ پڑے وجود کو دیکھا پھر آگے بڑھ کر صبا کا بازو تھام کر اسکو کلب کے اندر لے کر گیا تھا
جبکہ صبا خاموشی سے اسکے پیچھے چل دی تھی
اسکو لگ رہا تھا کہ وہ ایک بہت ہی بڑی مصیبت میں پھس چکی ہے جس سے نکلنا اب اسکے لئے مشقل تھا آج صحیح معنے میں اسکو اکیلے ہونے کا احساس ہوا تھا “”
💞💞💞💞💞💞
“”تم نے تو کہا تھا کہ تم نے بہت خیال رکھا ہوا ہے اس بات کا کی تم پر کسی کو شق نہ ہو
پر یہ سب کیسے ہو گیا ?
“جواب ہے اس بات کا تمہارے پاس ?
“وہ غصّے سے عمر کی طرف بڑھا تھا آج اسکے ایک خاص آدمی کی جان گئی تھی وہ بھی صرف اسکے دشمن کے ہاتھ سے..
“یہ بات اس سے برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی اس وقت اسکا غصّے سے برا حال تھا
“میں تو بہت محتاط تھا کی کسی کو بھی شق نہ ہو اس لئے ہم دونوں کچھ بات بھی نہیں کرتے تھے ساتھ میں پر پتہ نہیں کیسے ہو گیا یہ.
“عمر پریشانی سے بولا تھا اسکو بھی دکھ تھا انکے ایک آدمی کی جان جانے کا .
“ڈی کے کا مقصد صرف عباس سلطان کی بربادی تھی
اور عمر اسکے کہنے پر اس کلب میں جاتا تھا مقصد صرف عباس سلطان پہ نظر رکھنا تھا کہ اسکی ڈیل کب اور کہاں ہے اور کلب میں ہو رہے غیر کانونی کاموں پر بھی انکی نظر تھی.
وہ اسکے بارے میں سب جاننا چاہتا تھا اسکی کمزوری بھی
“تم شاید بھول رہے ہو عمر وہ ایک شاتر باپ کی اولاد ہے جتنا شاتر اور چالاک اسکا باپ ہے وہ اس سے بھی دو قدم آگے ہے.
اسکے لہجے میں ان دونوں باپ بیٹے کے لئے بےپناہ نفرت تھی اور وہ اس نفرت اور بدلے کی آگ میں سالوں سے جل رہا تھا ..
“وہ چاہے کتنا بھی شاتر کیوں نہ ہو لیکن تمہارے سامنے کچھ نہیں ہے اور وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتا ہے .
عمر اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا اور یہ بات سچ بھی تھی اس شہر کے بڑے بڑے بزنس مین ڈی کے نام سے ہی ڈرتے تھے کوئی بھی اس سے دشمنی نہیں چاہتا تھا .
کیونکہ جو ڈی کے سے دشمنی رکھتا تھا وہ اسکو تباہ برباد کرکے ہی چھوڑتا تھا
وہ بس ان لوگوں کے لئے خطرناک تھا جو ڈرگس اور لڑکیوں کو بیچنا ایسے پتا نہیں کتنے غیر کانونی کام کرتے تھے اسکا مقصد صرف ان لوگوں کو راستے پر لانا تھا
“اور عباس بھی انھیں لوگوں میں سے ایک تھا اور کچھ اسکا پورا حساب بھی تھا سلطان پر جسکو وہ جلد برابر کرنا چاہتا تھا …
“ویسے ان سب میں ایک بات تو کلئیر ہو گئی ہے عباس کا اس لڑکی کے ساتھ کچھ تو تعلق ہے اور وہ لڑکی ہمارے بہت کام آ سکتی ہیں ..
عمر کچھ یاد آنے پہ بولا تھا رات مرڈر کے بعد اس نے عباس اور صبا کو ساتھ آتے دیکھا تھا اور جب وہ وہاں گیا تو اسکو اپنا ساتھی وہیں بےجان پڑا ملا تھا..
“کون سی والی عشل یا صبا ?
ڈی کے نے اس سے سوال کیا تھا..کیونکہ عمر کلب میں ہونے والی ہر بات اسکو آکر بتاتا تھا
صبا اس رات وہ اسکے ساتھ تھی مجھے تو شروع سے ہی شق ہے ان دونوں میں کچھ تو ہے ..
عمر جب کلب میں پہلی بار آیا تھا تو عباس کو صبا کے پاس پاس رہنا اسکی آنکھوں سے چھپا نہیں رہ سکا تھا اور پھر جان بوجھ کر وہ عشل سے باتیں کرتا کہ اس سے باتیں نکلوانے کے لئے پر اس نے آج تک کچھ بولا نہیں تھا پر صبا پہ اسکا شق مزید بڑھ گیا تھا.
“اچھی بات ہے پھر تم جانتے ہی ہو آگے کیا کرنا ہے ..وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا
“ہاں تم بےفکر رہو اس بار کوئی غلطی نہیں ہوگی
.عمر نے پھر پھر اسکو اپنی بات کا یقین دلایا تھا جس پہ وہ بس اسکو دیکھ کر باہر روم سے نکل گیا تھا…
…..(جاری ہے )
