Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
”’اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازے کو بہت ہی زور سے بند کیا تھا ..
”جیسے وہ دروازہ عمر ہو اور وہ اپنا غصّہ اس پر نکال رہی ہو …
”جب بھی اسکا غصّہ کم نہیں ہوا تو عشل نے اپنے سر پہ اوڑھا ہوا دوپٹہ بےدردی سے اتار کر بیڈ پہ پھینکا تھا ..
”اس کا اس وقت بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کمرے میں موجود ہر چیز کو تباہ ہی کر دے ‘
”وہ تیزی سے کمرے میں موجود ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آئی اور ہاتھ مار کر اس پر رکھی ساری چیزوں کو زمین پر گرایا تھا ”
”افففف ”
”یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ..
‘تمھیں دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ابھی چند گھنٹے پہلے بنی دلہن ہے ..
”عمر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا کمرے کا حال دیکھ کر دنگ ہی تو رہ گیا تھا ‘
”وہ عشل کے زور سے دروازہ بند کرنے کی آواز لاؤنج میں سن چکا تھا ”
‘لیکن کمرے کا حال دیکھ کر اسکو اندازہ ہوا کہ وہ جتنا سوچ رہا تھا عشل اس سے کئی زیادہ غصّے میں تھی “
‘”جبکہ عشل ایسے ہی رخ پھیر کر کھڑی رہی تھی شاید اپنا غصّہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ‘
”یار ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے کچھ تو خیال کرو بیگم اپنے شوہر کے احساسات کا “
“اسکو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر عمر شرارتی انداز میں بولا تھا ”
”ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ عشل کو اپنے نام لکھوا چکا تھا یہ بات اس نے دراب کو نہیں بتائی تھی .
‘کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دراب اسکو اتنے جلدی یہ سب کرنے سے منع کریگا ..
‘مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جو ضد کیے بیٹھا تھا اور وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتا تھا کہ عشل اس بہار تو اسکے ہاتھ لگ گئی ہے اسکو یہ موقع بار بار نہیں ملنے والا ہے ”
”عشل جو کھڑی اپنا غصّہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی عمر کی بات پر جیسے اسکے پورے بدن میں آگ سی لگ گئی تھی .
”وہ ایک جھٹکے میں پلٹی تھی اور قہر برساتی نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی …
”اس وقت میری نظروں کے سامنے سے چلے جاؤ اگر اپنی زندگی کی خیریت چاہتے ہو تو ‘
”عشل اسکی طرف دیکھ کر تیز آواز میں بولی اور غصّے میں ادھر ادھر دیکھتی کچھ تلاش کرنے لگی..
تھی..
”عمر جو اسکی بات پر اپنی مسکراہٹ دباتا اسی کو دیکھ رہا تھا اسکے اس طرح سے کچھ تلاش کرنے پہ وہ اسکی اگلی کروائی سے بچنے کے لیے تیزی سے اسکی طرف بڑھا اور اسکا بازو اپنی گرفت میں لیکر عشل خود سے قریب کیا تھا “
”آج پہلی ایسی دلہن دیکھ رہا ہوں جو اپنی شادی کی پہلی رات اپنی شوہر کو اپنی محبت اداوں سے نہیں بلکی کسی چیز سے مار ڈالنا چاہتی ہو “
“”عمر چہرے پر سنجیدگی تھی مگر آنکھوں میں شرارت تھی ..
”عشل جو خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرا رہی تھی اسکی بات پہ اس نے غصّے سے اپنا پیر بہت ہی زور سے عمر کے پیر پر مارا تھا ..
عشل کی اس حرکت پر عمر درد سے بلبلا اٹھا اور اس نے جلدی سے اسکا بازو آزاد کر کے یکدم سے اس سے دور جاکر کھڑا ہوا تھا
کیونکہ اس وقت عشل نے ہیلز پہن رکھی تھی جس وجہ سے عمر کو بہت درد ہوا تھا …
” ہاں تو کیسا لگا ایسی دلہن کا وار ….
”اسکے اس طرح درد سے بلبلاتا دیکھ کر عشل چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ اسکو دیکھ رہی تھی .
”رکو تمھیں تو میں ابھی بتاتا ہوں ..
”عمر اسکو مسکراتا دیکھ اپنا دانت پیستا اسکی طرف بڑھا تھا مگر فون کی آواز پر اسکو رک جانا پڑا تھا ..
”بشر کا نام دیکھ کر اسکا موڈ یکدم سے بدلا تھا ..
”آج تو بچ گئی تم مگر آئندہ بھی بچ جاؤ گی ایسا بلکل بھی مت سوچنا ..
”عمر اسکو وارن کرتا روم سے باہر نکلا تھا اسکے جانے کے بعد عشل نے جلدی سے دروازہ بند کر کے اسکو لاک کیا تھا ”
💕💕💕
”اسکو ابھی لیٹے ہوۓ آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اسکو یکدم سے اپنے اوپر بھاریپن کا احساس ہوا تھا ‘
”ایسے جیسے کوئی چیز اسکے پیٹ پر رکھی ہو ‘
”اس نے نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھل کر وجہ معلوم کرنی چاہی تھی ‘
‘مگر دراب کو اپنے بہت قریب لیٹا دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی .
”تم یہاں کیا میرے روم میں کیا کر رہے ہو ?
ابیہا نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا ایک نظر اسکو دیکھ کر ‘
‘اس نے دراب کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانا چاہا تھا مگر وہ ایسا کر نہیں سکی تھی کیونکہ اسکی پکڑ مضبوط تھی ”
”تمھیں کیا لگتا ہے کہ یہ دروازہ مجھے تم تک آنے سے روک سکتا ہے تو یہ تمہاری بہت بڑی غلط فہمی ہے “
‘دراب اسکی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے بولا ”
”اور دوسری بات “
‘دراب نے کہتے کے ساتھ ہی اسکو خود سے مزید قریب کیا تھا ‘
‘شوہر ہوں تمہارا ..اور بیوی شوہر کے ساتھ اسکے روم میں رہتی ہے اس طرح الگ الگ نہیں ..
‘دراب اسکے اوپر جھکا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا ‘
”تمھیں بھی بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ میں تمہارے ساتھ ایک ہی روم میں رہ لونگی ”
‘اور دوسری بات ”
”میں تمھیں اپنا شوہر سمجھتی ہی نہیں ہوں ‘
”ابیہا بھی اسی کے انداز میں بولی تھی اور اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ کرنا چاہا تھا .
‘مگر دراب اس پر ایسے ہی جھکا رہا تھا ‘
”مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے بلکی یقین ہے اس بات کا..
‘اور رہی شوہر نا ماننے کی بات تو جب تک تمھیں اس رشتے کا احساس نہی ہوگا کہ اصل میں بیوی اور شوہر کا رشتہ کیا ہوتا ہے ..
‘تب تک تم کچھ نہیں سمجھو گی ”
”مجھے لگتا ہے اب تمھیں بتا ہی دینا چاہئے کہ شوہر کا رشتہ کیا ہوتا ہے اسکے کیا حق ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے اسکے بعد تم مجھے شوہر ماننے سے انکار نہیں کروگی …
”دراب اپنی آنکھوں میں تپیش لئے اس پر مزید جھکا تھا ”
”تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہو ‘
‘اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر ابیہا کانپتی ہوئی آواز میں بولی تھی ..
”دراب کا چہرہ ابیہا کے چہرے کے بہت قریب تھا اتنا کہ وہ اسکی گرم گرم سانسیں اپنے ہونٹھوں پر محسوس کر رہی تھی ‘
”اس وقت وہ خود کو اسکی قید میں پوری طرح بےبس محسوس کر رہی تھی “
”میں تم سے زبردستی کرنا بھی نہیں چاہتا تھا مگر تم نے خود مجھے مجبور کیا ہے یہ سب کرنے کے لیے..
”دراب بہت ہی سنجیدگی سے بولا اور اس کی گردن پر جھک کر اس نے باقی کا فاصلہ بھی ختم کر دیا تھا…
”تم ایسا نہیں کر سکتے ….پلز مت کرو ایسا …
”ابیہا اسکے ہونٹھوں کا نرم گرم لمس اپنی پر محسوس کر کے اس سے التجا کر رہی تھی
‘آنکھیں آنسووں سے بھر گئی تھی ”
”دراب جو اس پر جھکا اپنی شدتیں لوٹا رہا تھا اسکی سسکی پر اس نے فورن سے گردن اٹھا کر ابیہا کا آنسو سے بھیگا چہرہ دیکھا تھا ..
”ایک پل کے لیے اسکو برا تو لگا تھا مگر وہ کوئی غیر نہیں تھا پورا حق رکھتا تھا اس پر ..
”یہ سوچ آتے ہی دراب اس پر پھر سے جھکا اور اسکی آنکھوں سے بہتے آنسووں آنسوں کو اپنے لبوں سے چننے لگا ..
”ابیہا نے اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسکو دور کرنا چاہا تھا .
‘مگر دراب نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کر لیا.
”اس وقت وہ بلکل بھی ابیہا کی سننے کے موڈ میں نہیں تھا ..
”پلز دراب …..
‘اس سے پہلے کی ابیہا کچھ کہتی دراب اس کے ہونٹھوں پر جھکا اور اسکی سانسوں تک کو قید کر چکا تھا …
‘ابیہا نے بہت بار احتجاج کرنے کی کوشش پر دراب کو آج اپنے دل کی سننی تھی
‘پوری رات وہ اس پر اپنی محبت اپنی شدتیں لٹاتا رہا جبکہ ابیہا ساری رات آنسو بہاتی رہی تھی ”
💕💕💕
”کیا بات ہے احمد !
”جب سے تم گھر سے واپس آۓ ہو خاموش ہو ?
‘داؤد خان احمد کی طرف دیکھ کر بولا جو انکے پاس بیٹھا تو تھا مگر اسکا دماغ کہیں اور تھا .
”احمد میں تم سے بات کر رہا ہوں ‘
‘کہاں کھو گیے ہو ..
”داؤد خان اب اپنی جگہ سے کھڑا ہو ہوکر احمد کے قریب آ کر اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسکی اپنی طرف توجہ دلائی تھی”
”وہ جو خاموش بیٹھا اپنی ہی سوچوں میں گم تھا داؤد خان کے پھر سے مخاطب کرنے پر اپنی سوچوں سے باہر آیا تھا ”
”کیا بتاؤں آپکو آپ تو سب اچھے سے جانتے ہی ہیں ‘
”عائشہ کی ہر بار کی ایک ہی ضد ہوتی ہے جب بھی میں گھر جاتا ہوں ‘
”احمد اپنے سامنے کھڑے داؤد کی طرف دیکھ کر بولا تھا ”
‘تو پھر تم مان کیوں نہیں لیتے اسکی بات ‘
”چھوڑ دو یہ سب میں تمھیں نہیں روکوں گا ‘
”کیونکہ میں بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ فیملی کی اہمیت کیا ہوتی ہے ..
”داؤد خان بول تو رہا تھا مگر یہ بات وہ ہی جانتا تھا کی کس دل سے بول رہا ہے ‘
‘کیونکہ احمد اسکو بہت عزیز تھا ‘
‘انکی زندگی میں انکے بیٹے کے بعد اگر کوئی اہميت رکھتا ہے وہ احمد تھا ”
”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں خان صاحب !
‘احمد بےیقینی سے انکی طرف دیکھتا ہوا بولا ‘
‘آپکو پتہ ہے ‘کہ یہ ناممکن ہے .
‘میں کبھی آپکو چھوڑ نہیں سکتا میری زندگی میں آپکی کیا اہمیت ہے آپ اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں ”
”اگر آپ نہ ہوتے تو میں شاید اس وقت زندہ ہی نہ ہوتا ..
‘یوں ہی سڑک پر لاوارثوں کی طرح زندگی گزار رہا ہوتا ‘
”آپ ہی تھے جو مجھے سڑک سے اپنے گھر لیکر آۓ اپنے گھر اپنے دل میں جگہ دی مجھے ‘
”احمد ایک سانس میں داؤد خان کی طرف دیکھ کر بول رہا تھا جو خاموشی سے کھڑا اسکو سن رہا تھا”
”میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں احمد کے تمہاری بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے .
‘اسکو اور عائشہ کو اس وقت تمہاری ضرورت ہے تم انکے پاس جاؤ اپنی خوشی سے زندگی گزارو ‘
”اور یہ مت سوچنا کہ میں تمھیں بھول جاؤ گا میرے گھر کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے رہیں گے”
”میرے دل میں ہمیشہ اتنی ہی اہمیت رہے گی جتنی اب ہے .
‘داؤد خان اس بار احمد کے برابر والی کرسی پہ بیٹھ کر بولا تھا ”
”نہیں آپ جتنی آرام سے بول رہے ہیں یہ میرے لیے اتنا ہی مشکل ہے ..
”آپ دونوں میں سے کسی ایک کو چننا یہ میں نہیں کر سکتا ..
”اور اگر کبھی ایسا دن بھی آیا تو میں خود کو ہی ختم کرنا بہتر سمجھوں گا ‘
‘احمد جذباتی انداز میں بولا تھا ”
”جبکہ اسکی بات پر داؤد خان ایسے ماحول میں بھی مسکرا دیا تھا ”
”اچھا یہ سب مرنے مارنے والی باتیں ..
‘ابھی تو تمھیں بہت زندگی گزارنی ہے اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ”
”داؤد خان اسکو سمجھا رہا تھا ‘
”ٹھیک ہے نہیں کرتا مگر آپ پھر کبھی مجھے جانے کے لیے نہیں بولو گے ”
‘احمد تھوڑا ضدی انداز میں بولا تھا تو اسکے اس انداز پر داؤد خان نے اپنی ہاں میں گردن ہلا دی تھی”
💕💕💕
”صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو سورج کی روشنی پورے کمرے میں پھیل چکی تھی ..
”ابیہا نے فورن سے گردن موڑ کر دیکھا تو بیڈ خالی تھا ..
”رات کا ایک ایک منظر یاد آتے ہی اسکی آنکھیں پھر سے آنسو سے بھر گئی تھی …
”کتنا روکا تھا اس نے ..
‘کتنی بار التجا کی تھی اس شخص سے ”
‘پر اس نے اسکی ایک نہ سنی ..
اسکے آنسو اسکے رخسار بھیگو رہے تھے
‘اس اس وقت دل کر رہا تھا کہ وہ چیخ مار مار رویے مگر وہ یہ بھی نہیں کر سکتی تھی ”
”جس شخص سے وہ نفرت کرتی تھی .
”آج اس شخص کا لمس اسکی خوشبو وہ اپنے اندر تک محسوس کر رہی تھی ..
”وہ ایک جھٹکے میں اٹھی اور واشروم میں گھس کر اس نے شاور کھولا اور پھر پھر اسکے نیچے کھڑی ہو گئی تھی ”
”وہ اپنے وجود سے اسکا لمس اسکی خوشبو مٹا دینا چاہتی تھی مگر ..
”وہ خوشبو تو اسکے اندر تک اتر چکی تھی جسکو مٹانا اسکے لیے اب ممکن نہیں تھا “
”وہ زور زور سے روتے ہوۓ وہیں بیٹھتی چلی گئی ”
💕💕💕💕
“””””””(جاری ہے )”””””
