73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“وہ عشل کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی شہر آ گئی تھی
کتنا خوش تھی وہ کہ اپنی ماں کے ساتھ یہاں آنے کے لیے ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ”
”اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا اسکے ساتھ آج وہ گاوں چھوڑ کر آ تو گئی تھی مگر تنہا اپنی ماں کے بغیر
وہ کتنا روئی تھی اپنا گھر چھوڑتے وقت”
کتنی یادیں تھیں اسکی اس گھر میں اپنی ماں کے ساتھ اپنے باپ کے ساتھ مگر اسکو وہ گھر چھوڑنا پڑا صرف اور صرف دراب خان کی وجہ سے ..
”کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ ضرور آۓ گا اور اس بار اسکو اپنے ساتھ لیکر بھی چلا جائے گا اور وہ کچھ نہیں کر سکے گی ..
”وہ اس شخص کے ساتھ کیسے چلی جاتی جسکی وجہ سے اس نے اپنے باپ کو کھو دیا اور وہ اپنی ماں کی موت کا زمیدار بھی اسی کو ماں رہی تھی اسکو اس شخص سے شدید نفرت تھی جسکی وجہ سے اس نے اپنے ماں باپ دونوں کو کھو دیا..
“یہاں آنے کے بعد عشل نے اسکا بہت خیال رکھا تھا
ہر طرح سے کوشش کرتی کہ اسکا غم کم ہو سکے
عشل سارا دن ابیہا سے باتیں کرتی رہتی اور پھر شام میں کلب چلی جاتی اور رات کو دیر سے آتی اور وہ اسکے آنے تک اسکا انتظار کرتی رہتی ”
”شروع میں ابیہا کو اسکا کام پسند نہیں آیا تھا مگر جب وہ خود ایک دن جاب کی تلاش میں نکلی تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اسکو عشل کی مجبوری سمجھ آ گئی تھی
اور پھر وہ خود بھی اس کلب میں کام کرنے لگی تھی ..
”کلب میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنا نام یہاں تک کہ خود کو بھی پورا بدل لیا تھا کوئی اسکو دیکھ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ گاوں والی ابیہا ہیں ..
”اب وہ ابیہا نہیں صبا بن چکی تھی وجہ صرف دراب تھا جسکی وجہ سے اس نے اپنا آپ پورا بدل لیا تھا کہ وہ اسکو کبھی تلاش نہ کر سکے ”
“مگر کہتے ہیں نہ جس چیز سے آپ جتنا بھاگتے ہو وہ آپکے اتنا ہی پیچھے لگ جاتی ہے ”’
‘ابیہا کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا دراب سے دور جانے کے چکر میں وہ آج انجانے میں اسکی قید میں جا چکی تھی جسکی اسکو خبر نہیں تھی ”’
💕💕💕
“‘دراب کے روم سے جانے کے بعد وہ جب سے یوں ہی بیٹھی ہوئی تھی
‘ملازمہ کھانا اور اسکا سامان رکھ کر گئی تھی مگر اسنے اک نظر دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا ”
”اسکو بس یہاں سے کسی بھی طرح نکلنا تھا ‘
‘کیونکہ کل وہ اسکی باتوں سے اتنا تو اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ شخص اسکو یہاں سے جانے نہیں دیگا ”
‘اور یہ ہی بات اسکی سمجھ سے باہر تھی کہ آخر یہ شخص اس سے چاہتا کیا ہے جسکا وہ نام تک نہیں جانتی تھی ..
”اس نے بہت بار دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ ایک بھاری اور مضبوط رکاوٹ ثابت ہوا تھا وہ تھک ہار کر بیٹھ گئی تھی ”’
”’کچھ دیر بعد وہ پھر سے اٹھی اور یہاں سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگی تھی .
”اس نے اس بڑے سے کمرے میں کھڑکی ڈھونڈھنے کی کوشش کی لیکن وہ شاید گراؤنڈ فلور پہ تھی اس لیے روم میں کوئی کھڑکی نہیں تھی …
”جیسے ہی وہ اک سائیڈ پہ آئی تو اس نے وہاں پہ لگے پردو کو ہٹا کر دیکھا تو یکدم سے اسکی آنکھوں میں چمک آئی تھی اسکو خود پہ بھی غصّہ آیا تھا کہ وہ پہلے کیوں نہیں آئی تھی یہاں پر ‘ ”
”’وہ ایک گلاس وال تھی جس سے اسکو باہر کا سارا نظارہ دیکھ رہا تھا ..
”یہاں سے نکلنے کا اک ہی راستہ تھا وہ اس گلاس وال کو توڑ کر باہر نکل سکتی تھی …
”یہ سوچ کر وہ کمرے میں ایسی چیز تلاش کرنے لگی جس سے وہ اس گلاس وال کو توڑ سکتی تھی ..
‘تبھی اسکی نظر بیڈ کے پاس رکھے چھوٹے سے اسٹول پر پڑی .
اس نے اسٹول پر رکھا ہوا سامان ہٹا کر اسکو اٹھایا تھا اور جتنا ہو سکے اس نے اتنی زور سے وہ اسٹول شیشے پہ دے مارا تھا “
مگر اسکو تو کچھ نہیں ہوا تھا لیکن ابیہا ضرور لڑکھڑا گئی تھی …
“اس نے ہمت کر کے پھر سے کوشش کی لیکن ٹوٹنا تو دور اس پہ اک خراش تک نہیں آئی تھی ‘
”وہ خود کو لاچار اور بےبس محسوس کرتی اپنے آنسو ضبط کرنے لگی تھی ”
”بہت اچھی کوشش تھی “”
”اک بار اور کرو شاید اس بار بات بن جاۓ ‘”
”وہ بڑے آرام سے دیوار سے ٹیک لگا کر اسکی کروائی دیکھ رہا تھا ‘
”ہاتھ پینٹ کی پاکٹس میں گھساۓ چہرے پہ مسکراہٹ سجاۓ وہ ابیہا کی حرکت پر خوب محظوظ ہو رہا تھا ”
‘ابیہا کو خبر ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کب کمرے میں آیا ..
”پلز ….مجھے جانے دو …
”وہ پھر سے اسکی قید سے آزادی مانگ رہی تھی جس پہ اسکی مسکراہٹ یکدم غایب ہوئی تھی …
”وہ ماتھے پہ بل ڈالے اسکی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ ابیہا پیچھے کی طرف قدم اٹھا رہی تھی ”’
”دراب اسکے بہت قریب آکر کھڑا ہو گیا تھا جبکہ اپنے وہ ہی گلاس وال ہونے کی وجہ سے ابیہا مزید پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی …
”تمھیں میری قید سے کبھی آزادی نہیں ملے گی تم چاہے کتنی بھی کوشش کر لو ”
وہ اسکے بہت قریب کھڑا تھا اسکی گرم گرم سانسیں ابیہا کے چہرے پر پڑ رہی تھی …
”مجھ سے دور رہو تم ”
”ابیہا کو اسکی قربت بلکل نہیں بھائ تھی “
”جب تک تم زندہ ہو تمھیں یہ سب برداشت کرنا ہوگا ..
‘اسکی بات پہ ابیہا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی اسکی بات کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ سکتی تھی ..
”تم ٹھیک نہیں کر رہے ہو میرے ساتھ پلز مت کرو ایسا ..ابکی بار اسکے آنسو بہنے لگے تھے .
‘اسکے آنسو دیکھ کر دراب کو دکھ ہوا تھا اس نے ہاتھ اٹھا کر اسکے چہرے کو چھونا چاہا تھا ..
”مگر اسکا ہاتھ اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ابیہا نے اسکو دھکا دے کر خود سے دور کرنا چاہا تھا
مگر اسکے دھکے سے دراب کو تو کچھ فرک نہیں پڑا الٹا اسکا سر زور سے اس شیشے کی دیوار سے لگا تھا جس وجہ سے اک ہلکی سی چیخ اسکے منہ سے نکلی تھی …
”اگر مجھ سے دور جانے کی کوشش کروگی تو تقلیف تمھیں ہی ملے گی میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا …
”وہ اس سے دور ہٹتا ہوا بولا اور ایک نظر اسکو دیکھتا روم سے باہر نکل گیا تو وہ بھی روتی ہوئی وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی””
💕💕💕
”وہ آج پھر یہاں بیٹھا اس لڑکے کو عشل کے آس پاس دیکھ کر اپنا غصّہ ضبط کیے بیٹھا تھا..
”اک بات جو اسکے غصّے کو مزید بڑھا رہی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنے کام سے زیادہ عشل کے پاس گھوم رہا تھا ..
”جو بھی تھا عشل اسکو پہلی نظر میں پسند آ گئی تھی یا یوں بھی کہنا ٹھیک رہیگا کہ عشل پہلی نظر میں ہی اسکے دل میں آ بسی تھی ..
”اسکو کبھی کوئی یوں اتنا اچھا نہیں لگا تھا سب سے بڑھ کر اسکو عشل کے تاثرات اچھے لگتے تھے جو اسکے دیکھ کر اسکے چہرے پہ آتے تھے..
”اور اب یہ جان کر کہ وہ ابیہا کی اتنی اچھی دوست ہے تو وہ اب اسکو اور زیادہ عزیز ہو گئی تھی ..
”کیا بات ہے آج کل تمہاری دوست نظر نہیں آ رہی ہے تمہارے ساتھ ?
”اس سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تو وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکے پاس گیا تھا ..
”عشل جو حسن کے پاس جا رہی تھی اسکی آواز سن کر ناگواری سے عمر کی طرف مڑی تھی ..
اسکو ذرا بھی اچھا نہیں لگا تھا اسکا ابیہا کے بارے میں پوچھنا …
”تم سے مطلب…یہاں تم جو کرنے آتے ہو نا وہ کیا کرو بار بار میرے راستے میں مت آیا کرو تم.
..عشل اپنا غصّہ ضبط کرتی بولی تھی اسکی نظر میں وہ ایک رئیس باپ کی بگڑی ہوئی اولاد تھا ..
”میں وہ ہی کر رہا ہوں جو کرنے آتا ہوں تم …وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تھا ..
”اس نے ابیہا کے بارے میں جان کر پوچھا تھا بس وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس خط کو پڑھ کر مطمعین ہے یا نہیں.”
”ویسے تمھیں اب شاید اسکی ضرورت نہیں ہے نیا دوست جو مل گیا ہے تمھیں …وہ صاف اس پر طنز کر رہا تھا
“‘ہاں مل گیا ہے مجھے نیا دوست تمھیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے اور اب یہاں سے ہٹو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا …
”عشل کو تو غصّہ ہی آ گیا تھا اسکی بات سے آخر وہ ہوتا کون ہیں اس پہ نظر رکھنے والا ”
”تمھیں مطلب ہو یا نہ ہو مگر مجھے تم سے مطلب ہے اب میں آئندہ تمھیں اس کے ساتھ نہ دیکھوں ”
”وہ اسکو وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا ..
”عمر کو غصّہ ہی آ گیا تھا اسکی بات سن کر اسکی غصّے سے رگے تن گئی تھی …
”تم ہوتے کون ہو مجھ پہ حقم چلانے والے اپنی حد میں رہو سمجھے تم ..وہ بھی دبی دبی آواز میں اپنا غصّہ اس پہ ظاہر کر رہی تھی…
”کون ہوتا ہوں یہ بھی بتا دوں گا تمھیں ایک دن بس انتظار کرو اس دن کا …وہ ایک نظر اسکی طرف دیکھ کر کلب سے باہر نکل گیا تھا ..
”اسکی کلب سے باہر جاتے عباس پہ نظر پڑی تھی اس لیے وہ وہاں سے جلدی میں نکلا تھا ورنہ اسکا ارادہ عشل کو بہت کچھ سنانے کا تھا …
”جبکہ عشل وہیں کھڑی اسکی پیٹھ کو گھورتی رح گئی تھی”””
💕💕💕
”رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب وہ گھر میں داخل ہوا تھا …
”اس وقت اسکا غصّے سے برا حال تھا ‘
”آج اسکو عمر سے پتا چلا تھا کہ عباس کا مال آنے والا ہے ”تو وہ اس مال کو اور عباس کے آدمیوں کو اس تک پھوچنے سے پہلے ہی ختم کر چکا تھا …
”وہ اپنے کام میں کامیاب ہوا تھا اسکو خوش ہونا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں تھا
” کیونکہ اسکو ان چھوٹی چھوٹی کامیابی سے خوشی نہیں ملتی تھی اسکو عباس اور اسکے باپ کو پوری طرح تباہ اور برباد کرنا تھا ..
”جسکے لیے وہ بچپن سے انتظار کرتا آ رہا تھا ”
”وہ چلتا ہوا اپر کی طرف اپنے روم میں جا رہا تھا کہ اچانک اسکے قدموں کو بریک لگا تھا ..
اک سوچ آتے ہی اسکے ہونٹھوں پہ مسکراہٹ آئی تھی بےساختہ اسکے قدم اس روم کی طرف بڑھے تھے جہاں اس وقت اس نے ابیہا کو رکھا ہوا تھا..
”وہ اسکے روم کا دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا تو لائٹ اوں دیکھ کر اسکو حیرانی ہوئی تھی …
“اس نے بیڈ کی طرف دیکھا جو خالی پڑا تھا اب حیرانی کی جگہ پریشانی نے لی تھی اس نے پورے روم میں نظر دوڑائی تو ابیہا کو اس گلاس وال کے پاس بیٹھا پایا تھا جہاں وہ شام اسکو چھوڑ کر گیا تھا..
”وہ چلتا ہوا اس تک آیا تھا وہ بیٹھی ہوئی سو رہی ..
”دراب کو اسکو اس طرح بیٹھے ہوئے سوتا دیکھ کر دکھ ہوا تھا اس نے ایسا تو کبھی نہیں چاہا تھا…
”دراب نے اک لمحہ میں زایہ کیے بنا ہی ابیہا کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور اسکو بیڈ پہ بہت ہی نرمی سے لیٹایا تھا …
”اسکے لیٹانے پر ابیہا تھوڑا سا کسمسائی تھی ‘
”دراب اسکو لیٹا کر اسکے بہت قریب بیٹھ کر اسکے چہرے کو دیکھنے لگا تھا جو دنیا جہان سے بےخبر نیند کے مزے لے رہی تھی ..
”وہ کتنی ہی دیر بیٹھا اسکو دیکھتا رہا تھا ”
”جب بھی اسکو غصّہ آتا تھا تو وہ اسکی تصویر دیکھ کر اپنا غصّہ کم کرتا تھا’
”اور آج وہ پوری کی پوری اسکے سامنے اسکے بہت قریب تھی جسکو وہ ہاتھ بڑھا کر چھو بھی سکتا تھا ”
‘”تمھیں بلکل اندازہ نہیں ہے ابیہا کہ تم میرے لیے کیا ہو کتنی محبت ہے مجھے تم سے ..
“وہ اسکے چہرے کے اک اک نقش کو اپنے دل میں اتار رہا تھا.
”اور تم دیکھنا اک دن تمھیں میری اس محبت کا یقین بھی ہو جائے گا
” بلکی تم مجھ سے بھی زیادہ محبت کرنے لگو گی مجھ سے …یہ دراب خان کا وعدہ ہے تم سے ..
”وہ اپنی بات کہہ کر مسکرایا تھا اور جھک کر اسکی پیشانی پہ اپنی محبت کی پہلی محر ثابت کی تھی ”’
💞💞💞💞💞
“”””””””(جاری ہے )””””