73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“””وہ پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل ادھر سے ادھرہ پریشان میں ٹہل رہیں تھیں اور انکی نگاہیں دروازے پر ہی ٹکی ہوئی تھی پر وہ تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی..
“یا اللہ میری بیٹی کی حفاظت کرنا وہ جہاں پر بھی ہو ..عائشہ بیگم بار بار بس دعا کر رہیں تھی ہر گزرتے پل کے ساتھ انکی پریشانی مزید بڑھ رہی تھی..
“ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے گھر واپس آنے میں کبھی دیر کی ہو
اور آج ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا
وہ اب تک واپس نہیں آئی تھی اور اس بات پہ انکا پریشان ہونا لازمی تھا..
“ابھی وہ اسکے بارے میں سوچ ہی رہیں تھیں جب وہ انکی گھر کے اندر داخل ہوتی نظر آئی تھی
“وہ ایکدم سے اسکے پاس پھوچی تھیں
“اسلام علیکم امی …ابیہا نے انکے پاس آتے ہی سلام کیا تھا
“آج اتنی دیر سے کیوں آئی ہو تم پتا ہے پچھلے ایک گھنٹے سے میں کتنی پریشان ہو رہی تھی تمہارے لئے..
“عائشہ بیگم اسکے سلام کو کا جواب دے کر شروع ہی ہو گئیں تھیں
“جبکہ انکے اس طرح بولنے پر ابیہا مسکرائی تھی پورے دن کی تھکن جیسے ایک پل میں غایب ہو گئی تھی اسکی .
“اندر چلیں امی آرام سے بتاتی ہوں آپکو کہ آج میں ایک گھنٹہ کیوں ہوئی ہوں .
“وہ انکو اپنی باہوں کے حصار میں لئے روم میں لائی تھی وہ ماں تھی اور وہ اچھے سے سمجھتی تھی کہ اسکی ماں اسکے لئے ہر پل فکرمند رہتی ہے
انکو تو اسکا اسکول میں پڑھانا بھی پسند نہیں تھا پر گھر چلانے کے لئے گھر سے باہر نکلنا ہی پڑتا ہے سو مجبورن وہ بھی نکلی تھی.
“اب بولو جلدی جلدی میں سن رہیں ہوں ..انکا بس چلتا تو وہ ہر پل اسکو اپنی نظروں کے سامنے رکھتی پر اتنے گھنٹوں تک اسکو گھر سے باہر جانے دینا انکی مجبوری تھی ..
“عائشہ بیگم اسکی طرف دیکھ کر بولی جو اپنی چادر اتار کر روم میں موجود کرسی پہ رکھ رہی تھی
” آپ تو جانتی ہی ہیں امی اسکول چھوٹا ہو یا بڑا کام اتنا ہی ہوتا ہے آج بس تھوڑا زیادہ کام تھا جس وجہ سے مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی ہیں آئندہ میں خیال رکھوں گی کہ وقت پہ گھر آ جایا کروں ..
انکی بات سن کر وہ مسکراتی ہوئی انکے پاس آکر بیٹھی تھی.
“اس لئے میں کہتی ہوں کہ تم ایک موبائل خرید لو اگر کبھی ایسا ہو تو کم از کم مجھے بتا تو سکو کہ آج تم دیر سے آؤ گی اور مجھے سکون بھی رہیگا..
“وہ ہر بار کی طرح پھر سے اپنی بات دوہرا رہیں تھیں جس پہ ہمیشہ وہ انکار ہی کرتی تھی..
“امی آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ مجھے ان سب چیزوں کا بلکل شوق نہیں ہیں پھر بھی آپ بار بار کیوں ضد کرتی ہو …
“اسکا ہمیشہ کی طرح سے وہیں جواب سن کر عائشہ بیگم بس سر ہلا کر رہ گئیں تھیں.
“اگر اب آپکے سوال جواب ختم ہو گئے ہو تو پلز
کچھ کھلا بھی دیں اب بہت بھوک لگ رہی ہیں مجھے ..
“وہ بیچارہ سا منہ بنا کر بولی تھی جس پہ عائشہ بیگم مسکرا دی تھیں..
“”جاؤ تم ہاتھ منہ دھو لو میں کھانا گرم کر کے لاتی ہوں ..وہ اسکو کہتی ہوئی اٹھی تھی اور روم سے باہر نکل گئی ..
“انکے جانے کے وہ بھی انکے پیچھے چل دی تھی وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی کہ اسکے انتظار میں انہونے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا ہوگا اسکو بھوک نہیں تھی پر وہ صرف انکی بھوک کی وجہ سے بولی تھی””””
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“”وہ آدھی رات کے وقت ایک بلڈنگ کے باہر کھڑا آنکھوں میں سرد تاثرات لئے بلڈنگ کا جائزہ لے رہا تھا
اسے یہاں ایک غدار کا کام تمام کرنا تھا
“”نہ جانے لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ اسکے ساتھ دھوکہ کر کے بچ جائے گے.
“”اس شخص نے بھی یہی سوچنے کی غلطی کی تھی کہ وہ بچ جائے گا اسکے ساتھ دھوکہ کر کے اور یہ اسکی غلط فہمی تھی جو وہ آج ختم کرنے آیا تھا..
“”وہ بنا کوئی سوراغ چھوڑے اپنا کام کام کرنے میں ماہر تھا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنا کام بہت ہی فرتی سے کرتا تھا
“”کچھ دیر تک مکمل جائزہ لینے کے بعد وہ پچھلے راستے سے بلڈنگ کے اندر گیا تھا
“”اسکے لئے یہ پتا لگانا مشقل نہیں تھا کہ اس وقت اسکا شکار کہاں اور کس روم میں موجود ہے
“”وہ سیڑھیاں چڑھتا تیسرے فلور پہ آیا جہاں اسکا روم تھا وہ چلتا ہوا اسکے دروازے کے پاس آکر رکا تھا اور لاک دروازے کو کھولنے لگا اسکے لئے لاک کھولنا کوئی مشقل کام نہ تھا..
“اندر روم میں وہ شخص ملق سے باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا اس بات سے انجان کہ موت اسکے دروازے پہ کھڑی ہے..
“کیونکہ کہیں نہ کہیں اسکو اس بات کا ڈر تھا کہ اسکا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہیں .
پر وہ اس بات سے بےخبر تھا کہ خطرہ قدم قدم چلتا اسکے بہت قریب آ چکا ہے…
“ابھی وہ اپنا سامان پیک کر کے جیسے ہی مڑا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے ہاتھ سے بیگ چھوٹ کر زمین پہ گرا تھا..
“ڈی کے…یہ دو الفاظ بےآواز اسکے ہونٹھوں سے ادا ہوئے تھے اسکی آنکھوں میں ایک خوف نے جگہ لے لی تھی پورا بدن ایکدم سے کانپنے لگا تھا..
“جبکہ وہ اپنے چہرے پہ شاتر مسکراہٹ لئے قدم قدم چلتا اسکے بےحد قریب آیا تھا..
“ہاں ڈی کے …تمھیں کیا لگا مجھ سے غداری کر کے تم بچ سکتے ہو …
اس نے اپنی گن اسکی پیشانی پہ رکھی تھی
“نہیں پلز…پلز ..ڈی کے …مجھے معاف کر دو پلز…وہ شخص اب اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر رحم کی بھیک مانگ رہا تھا اسکو لگ رہا تھا کہ یہ وقت اسکا آخری وقت ہے اور ایسا تھا بھی ڈی کے کو دھوکہ دینا اتنا آسان بھی نہی تھا..
“ڈی کے سے غداری کی سزا موت ہے صرف موت …
وہ اسکی بات نظر انداز کرتا بولا اورکہتے کے ساتھ ہی ٹریگر دبایا تھا اور پل میں وہ شخص زمین پہ گر چکا تھا ..
“”اور معاف کرنا میں نے سیکھا ہی نہیں ہیں
“وہ اس شخص کے بےجان وجود کی طرف دیکھ کر بولا اور جس خاموشی سے وہ یہاں آیا تھا اتنی ہی خاموشی سے اپنا کام کر کے جا چکا تھا..
“وہ یہ کام اپنے کسی بھی آدمی سے کروا سکتا تھا پر جو بھی اسکے ساتھ دھوکہ کرتا ہے اسکی سزا وہ خود دیتا تھا””
💕💕💕💕💕💕💕💕
“”””اسکی گاڑی جیسے ہی گیٹ کے آگے رکی تو ایک منٹ سے پہلے پہلے ہی گیٹ کھلا تھا
“وہ اپنی گاڑی تیزی سے اندر لیا اور ایک نظر گارڈ کو دیکھا جو اسکے غصّے کے ڈر سے سیدھا کھڑا تھا .
“اسکو لگ رہا تھا کہ شاید اس نے دیر سے گیٹ کھولا ہے پر اسکے گاڑی اندر لے جانے پہ اس نے سکھ کا سانس لیا تھا
“اسکے غصّے سے ہر ملازم ڈرتا تھا سب لوگ اس بات کو اچھے سے جانتے تھے کہ وہ چوٹی سی غلطی پہ کتنی سخت سزا دیتا تھا
“اور یہ ہی وجہ تھی تھی کہ ہر کوئی اسکا کام وقت سے پہلے پورا کرنا چاہتا تھا..
اسکی کار پورچ میں آکر رکی تھی کار سے نکل کر اس نے اپنی شاندار سی عمارت کو دیکھا جو اس وقت مکمل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اندر کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسکا فون بجا تھا
“فون بجنے سے ایک پل کے لئے اسکے قدم رکے تھے وہ بہت اچھے سے جانتا تھا کہ رات کے اس وقت اسکو کون فون کر سکتا ہے پر اسکا ارادہ کال پک کرنے کا نہیں تھا
وہ جانتا تھا کہ فون کرنے والا اسکے لئے اس وقت کتنا پریشان ہوگا پر وہ اس وقت وہ اس سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا..
“اس نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا کال کٹ کر کے فون کو اوف کیا تھا پھر تیز تیز قدم بڑھاتا اندر آیا اور سیڑهیاں چڑھتا اپر اپنے روم میں آیا تھا.
جب بھی وہ کچھ ایسا کام کرتا تو اسکا موڈ سخت خراب ہو جاتا تھا اور اپنے موڈ کو ٹھیک کرنے کے لئے اس وقت وہ اپنے اس گھر میں موجود تھا ..
“اپنے روم میں آکر اس نے اپنی وارڈروب کھولی اور پھر اس کا لاکڑ دراز کھول کر اس میں سے نے بہت ہی نرمی اور محبت سے ایک تصویر کو نکالا تھا
“تصویر کو دیکھتے ہی اسکے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی
کچھ دیر پہلے والے سرد تاثر ایک دم سے کہیں غایب ہو گئے تھے
اگر اس وقت اسکا کوئی آدمی یوں اکیلے میں مسکراتا دیکھ لیتا تو یقینن حیرانگی سے مر ہی جاتا کیونکہ آج تک کسی نے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ہمیشہ اسکے چہرے پہ غصّہ رہتا اور آنکھیں غصّے کی وجہ سے سرخ
وہ اس تصویر کو ہاتھ میں لیکر بیڈ پہ بیٹھا تھا اور مسکراتے ہوئے اس تصویر کو چھو رہا تھا جیسے اس تصویر میں جو ہستی ہیں وہ اس وقت اسکے سامنے ہے اور وہ اسکو چھو کر محسوس کر رہا ہو
کچھ دیر اس تصویر کو ایسے ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے اپنے مسکراتے لب اس تصویر پہ رکھ دئے تھے
وہ ایسے ہی بیڈ پہ لیٹ گیا اور اس تصویر کو اپنے سینے پہ رکھ کر آنکھیں بند کر گیا تھا یہ اسکے خراب موڈ کا علاج تھا وہ کہاں ہے ?
کیا کر کے آیا ہے ?
اسکو کچھ ہوش نہیں تھا اور پھر آہستہ آہستہ وہ الگ ہی دنیا میں پہنچ کر اس دنیا سے مکمل طور پر غافل ہو گیا تھا …
💞💞💞💞💞💞💞
“”صبا اٹھ بھی جاؤ یار دیکھو نہ کتنا وقت ہو گیا ہے
“عشل سوئی ہوئی صبا کے پاس جاکر اسکو اٹھاتی ہوئی بولی تھی جو اسکے اتنے بار اٹھانے پہ بھی نہیں اٹھ رہی تھی..
“”یار عشل سونے دو نہ تھوڑی دیر اور پلز .
.صبا کی نیند سے بھری آواز اسکے کانوں میں آئی تھی
“صبا تم اٹھ رہی ہو یا نہیں ورنہ میں جو اب کروں گی نہ یقینن تمھیں بلکل اچھا نہیں لگے گا.
“اس بار عشل نے اسکے اپر سے چادر ہٹائی اور اسکو وارننگ دینے والے انداز میں بولی تھی.
“”یار کیا پریشانی ہے تمھیں کبھی تو مجھے سکون سے سونے دیا کرو ابھی تو میری آنکھ لگی تھی اور تم شروع ہو گئی اٹھ جاؤ جاؤ …
“صبا جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی تھی اور سخت نظروں سے اسکو گھورا تھا..
“آپکی معلومات کے لئے بٹ دوں صبا بیگم کے میں بھی آپکے ساتھ ہی سوتی ہوں پر تم سے پہلے روز اٹھ جاتی ہوں اور تمہارے اٹھنے سے پہلے سارے کام بھی ختم کر دیتی ہوں .
“عشل کمر پہ ہاتھ رکھ کر لڑاکا عورتوں کی طرح بول رہی تھی جس پہ صبا کی ہنسی نکل گئی..
“ہاں ہاں ہنس لو مجھ پہ تو تمھیں رحم آتا ہی نہیں ہے دن کے ٢بج رہے ہیں ہر میں کب سے تمہارے اٹھنے کے انتظار میں بیٹھی ہوں کہ اب تم اٹھو گی اور کب مجھ کھانے کو کچھ ملے گا بھوک سے برا حال ہے یار اٹھو جلدی اور کچھ بناؤ جا کر…
“عشل بیچارہ سا منہ بنا کر بولی تھی
“عشل کی بات سن کر صبا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا آخر وہ بھی تو اسکے ساتھ دیر رات تک کام کرتی ہے اور اسکے اٹھنے سے پہلے ہی سب کام کر لیتی تھی پر ایک کھانا تھا جو اس سے بنانا نہیں آتا تھا جس وجہ سے مجبورن اسکو صبا کو اٹھانا پڑتا تھا…
“سوری یار کل میں کچھ زیادہ تھک گئی تھی آج اس لئے اٹھا نہیں جا رہا تھا مجھ سے تم بیٹھو میں جلدی سے کچھ بناتی ہوں لا کر ..
“صبا جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور اپنے بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی عیشل کی طرف دیکھ کر بولی تھی .
“اسکی بات سن کر عشل کی آنکھیں چمک اٹھی تھی ورنہ صبا کی نیند دیکھ کر اسکو لگ رہا تھا کہ وہ ایک دو گھنٹے تک اٹھنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے..
“”صبا سنو آج میرا کچھ بہت اچھا سا کھانے کا من کر رہا ہے ..
“اسکو واشروم کی طرف جاتا دیکھ کر عشل آنکھیں گھما کر بولی..
“اگر کچھ زیادہ اچھا کھانے کا من ہے تو ذرا آ جانا کچن میں میری ہیلپ کے لئے ..
“صبا اسکو کہہ کر واشروم میں گھس گئی تھی جبکہ عشل بس واشروم کے دروازے کو گھورتی رہ گئی تھی”””
💕💕💕💕💕💕💕💕💕