73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“‘ ‘کسی برے خواب کے ڈر سے یکدم سے اسکی آنکھ کھلی تھی .
اس وقت اسکا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا “
“‘ ڈر کی وجہ سے ہاتھ پیر میں کپکپاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی اسکو “
” ‘ ابیہا اٹھی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس ایک سانس میں ختم کیا تھا .
“‘ کچھ دیر تو وہ بیٹھی اپنی سانسیں درست کرتی رہی تھی “
“‘ جبھی اسکی نظر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر پڑی تھی “
“‘ دراب کو اپنی جگہ پر نہ دیکھ کر ابیہا یکدم سے پریشان ہوئی تھی “
” ‘ خود کو کمرے میں اکیلا محسوس کر کے ابیہا کا ڈر مزید بڑھا تھا “
” ‘ اس نے اپنے ڈر کو تھوڑا کم کرنے کے لیے روم کی لائٹ اون کی اور پھر سے بیڈ پر آں بیٹھی تھی ..
” ‘ اسکو لگا کہ دراب واشروم میں ہوگا اس لیے وہ اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی تھی “
“‘کافی وقت اسکو ایسے ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا تھا آنکھوں میں اب نیند کا نام و نشان تک نہ تھا “
” ‘ کچھ وہ اپنے خواب کی وجہ سے بہت ڈری ہوئی تھی “
“‘ ” دراب “
” دراب آپ واشروم میں ہیں ?
” ‘ جب وہ کافی وقت تک واشروم سے نہ نکلا تو وہ وہیں سے بیٹھی بیٹھی اسکو پکارنے لگی تھی ” ‘
“‘ دراب “
” جب اسکو کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے اسکو پھر سے پکارا تھا ..
” ‘ وہ ہمّت کرتی بیڈ سے اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھی تھی
اس نے واشروم کا دروازہ ناک کرکے کھولنا چاہا تو وہ کھل گیا تھا “
“‘ دراب کو وہاں موجود نہ دیکھ کر ابیہا حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوئی تھی
رات کے اس وقت آخر وہ کہاں جا سکتا تھا “
“‘ ابیہا کا دل یکدم سے بےچین ہوا تھا ..
‘” وہ اسکو تلاش کرنے کے لیے روم سے باہر نکلی تھی شاید وہ نیند نہ آنے کی وجہ سے اسٹڈی میں چلا گیا ہو ..
“‘ کیونکہ وہ اکثر رات کو نیند نہ آنے پر وہیں پر چلا جاتا تھا ..
” یہ سوچ آتے ہی ابیہا کو کچھ سکون سا ملا تھا اور وہ نیچے کی طرف بڑھی تھی “
💕💕💕
” ‘ ان کا پلان تیار تھا
“ان لوگوں کو کب اور کہاں حملہ کرنا تھا “
” وہ اور بشر ایک بار پھر سے سب کچھ دوہرا رہے تھے “
” ‘ وہ دونوں ایک بلڈنگ کے پیچھے کھڑے سامنے والی بلڈنگ پر پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے “”
” ‘جہاں انکی معلومات کے متبِک حسن اور عباس آج اپنی ڈیل کرنے آۓ ہوئے تھے “
” ‘ وہ دونوں اس طرح کے اپریشن کئی بار کر چکے تھے .
” لیکن اس بار یہ سب دراب کے لیے ذاتی حیثیت اختياری کر چکا تھا ..
” ‘ ان لوگوں نے اس سے اسکی تین ایسی ہستیوں کو اس سے چھینا تھا جو اسکے لیے دنیا میں سب سے عزیز تھی ..
” پہلے اسکے باپ اور انکل کو ..
‘” اور پھر آمنہ بیگم کو جو اسکے لیے اسکی ماں کی طرح تھیں ..
“‘ جنہونے اسکی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی .
” بلکہ انہونے تو اپنے آخری لمحوں میں بھی اسکے لئے اتنا کچھ کیا تھا “
” ‘ آج وہ ان لوگوں سے اپنا بدلہ لینے کے لئے یہاں موجود تھا .
اس بات کی خبر اس نے عمر کو نہیں دی تھی ..
“‘ یہاں آج کچھ بھی ہو سکتا تھا
اور وہ عمر کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا .
” ‘ پتہ نہیں وہ آج یہاں سے واپس جا سکے گا یا نہیں لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنا بدلہ ضرور پورا کرے گا ..
” ‘ آج وہ بھی ان لوگوں کو زندہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا “
” ‘ اس بلڈنگ میں داخل ہونے کے دو راستے تھے
ایک مین راستہ تھا اور اور ایک پیچھے کا ..
“‘ سامنے راستے پر تین پہرےدار موجود تھے
رات کے اس وقت بھی انہونے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے “
“‘ وہ تینوں بلڈنگ کے سامنے مسلسل گشت لگا رہے تھے “
“‘ اندر یقینن انکی میٹنگ شروع ہو چکی تھی .
“‘ ڈی کے نے بشر کو بلڈنگ کے پچھلے راستے سے اندر جانے کا اشارہ کیا تھا ..
” بش پہلے ہی اس بلڈنگ کے سیکورٹی سسٹم کو بند کر چکا تھا “
“‘ جیسے ہی بشر نے ڈی کے کا بتایا راستہ طے کیا تو اسکے جانے کے بعد ڈی کے نے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلڈنگ کے آگے موجود پہرےداروں کو شوٹ کیا تھا “
‘” انکو شوٹ کرکے وہ تیزی سے بلڈنگ کی طرف بڑھا تھا
گیٹ پر موجود پہرےدار کو جیسے ہی ڈی کے نے شوٹ کیا تو اندر کے دو لوگ فورا الرٹ ہو گئے تھے
” ‘ لیکن وہ کوئی شور مچاتے یا اسکو شوٹ کرتے اس سے پہلے ہی بشر جو بلڈنگ میں پچھلے راستے سے گھس چکا تھا اس نے ان دونوں کو شوت کر دیا تھا …
” ‘ وہ باہر کے سبھی لوگوں کو مار چکے تھے اب باری اندر کی تھی .
” ‘ اسی طرح وہ دونوں محض آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس جگہ پر مکمل اپنا قبضہ کر چکے تھے ..
” ‘ ووہ دونوں جب روم میں داخل ہوئے تو ان دونوں پر سب سے پہلی نظر حسن کی پڑی تھی ..
” ‘ انکو روم میں داخل ھوتا دیکھ اس نے اپنی گن نکالنی چاہی تھی مگر بشر اسکو کوئی بھی موقع دیے بغیر حسن کو شوٹ کر چکا تھا ..
” ‘ لیکن ایک بات جو اسکا غصّہ مزید بڑھا گئی تھی وہ یہاں عباس کی غیر موجودگی تھی
” کیونکہ یہاں میٹنگ میں عباس کی جگہ سلطان موجود تھا ..
” ‘ڈی کے کو یہاں موجود دیکھ کر سلطان یکدم گھبرا گیا تھا .
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے سخت انتظام کے باوجود بھی وہ یہاں گھس آیا تھا ..
” ‘ کیا ہوا چونک گئے کہ مجھے کیسے خبر ہوئی تمہاری یہاں موجودگی کی ..
” سلطان کے چہرے پر حیرانی اور ڈر دیکھ کر دراب مسکرا کر بولا تھا “
“‘ سلطان اس وقت بہت ڈرا ہوا تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ کیونکہ اب صرف ایک وہ ہی زندہ بچا ہوا تھا “
” ‘سلطان نے آج سوچا تھا کہ وہ خود ہی ڈیل کرے گا کیونکہ عباس ھر بار غلطی کر جاتا تھا مگر آج وہ خود ڈی کے کی گرفت میں تھا …
” ‘دراب نے بشر کو اشارہ کیا تھا جس پر بشر نے سلطان کے سر پر وار کیا تھا ” ‘
💕💕💕
” ‘ دراب کو اسٹڈی میں نہ پاکر اب ابیہا کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی ..
” ‘ وہاں سے نکل کر اس نے دراب کو ہر جگہ تلاش کیا مگر وہ اسکو کہیں نہیں ملا تھا ..
” ‘ اسکے بلکل سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ دراب رات کے اس پہر کہاں جا سکتا ہے ..
” بلکہ اب تو صبح ہونے میں بھی کم وقت بچا تھا .
” ‘ دراب کہاں چلے گئے ہیں آپ ..
“وہ سیڑھیوں پر پریشانی سے بیٹھی اپنی سوچوں میں دراب سے مخاطب تھی ..
” ‘ سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے اسکو بہت دیر ہو گئی تھی کہ اچانک اسکو کچھ آوازیں سنائی دی تھیں…
” ‘ یہ آواز اسکو لاؤنج سے سنائی دی تھی .
“” دراب …
” وہ خوشی سے سیڑھیوں سے اٹھی اور لاؤنج کی طرف دوڑی تھی ..
” اسکو لگا تھا کہ دراب ہوگا
مگر وہ اپنی خوشی میں اور پریشانی میں یہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ ابھی لاؤنج سے ہی واپس آئی تھی “
“‘ ‘ دراب آپ یہاں ہیں اور میں “”
“‘ ‘ ابیہا لاؤنج میں داخل ہوتے ہی بولی تھی مگر سامنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا “
“” ‘ دراب نہیں تمہارے سر عباس ..
” اسکو سکت کھڑا دیکھ کر عباس کمینی مسکراہٹ ہونٹھوں پر سجاۓ اسکی طرف بڑھا تھا ‘
“‘ کیسی ہو صبا …اوہ ..سوری ..صبا نہیں ابیہا ..
” اسکو اپنے سمنے دیکھ کر ابیہا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں ..
” ‘ مجھے پورا یقین ہیں کہ تم نے مجھے یاد تو ضرور کیا ہوگا …
” اسکے چہرے پر ڈر دیکھ کر عباس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی “
” ‘ عباس اسکی طرف آہستہ آہستہ سے بڑھ رہا تھا اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ ابیہا نے اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھا دیے تھے “
” ‘اگر دراب اسکو عباس اور سلطان کے بارے میں کچھ نہ بتاتا تو وہ اسکی یہاں موجودگی سے حیران ہوتی مگر اس وقت وہ خوف سے کانپ رہی تھی …
” ‘اسکو یکدم سے عباس کی اس دن مرڈر والی بات یاد آئی تھی اس نے کتنی بےرحمی سے اس آدمی کا قتل کیا تھا “
‘ ” اسکو اب اپنی جان خطرے میں محسوس ہو رہی تھی …
” ‘ نہ نہ ڈرو نہیں میری جان میں تمھیں ماروں گا نہیں اسکی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر عباس مسکراتا ہوا بولا اور آگے بڑھ کر اسکا بازو پکڑنہ چاہا تھا …
“‘ مگر ابیہا اسکا ارادہ بھانپ کر تیزی سے وہاں سے بھاگی تھی ..
ڈر خوف سے اسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ..
“‘ اسکے بھاگنے پر عباس بھی تیزی سے اسکے پیچھے لپکا تھا …
“‘ ابیہا سیڑهیاں چڑھتی اوپر اپنے روم میں پہنچنا چاہتی تھی مگر عباس نے اتنی ہی تیزی سے اسکو پکڑا تھا …
” ‘ اس سے پہلے کہ وہ چیخ مارتی عباس اسکے منہ پر رومال رکھ کر اسکو بےہوش کر چکا تھا “‘
💕💕💕
” ‘ وہ اپنا کام کر کے اب تیزی سے گھر کی طرف ڈرائیو کر رہا تھا “
عباس کی وہاں غیر موجودگی سے اسکو ابیہا کی فکر ہوئی تھی “
ویسے تو اس نے اپنے اس گھر میں سخت انتظامات کر رکھے تھے
مگر پھر بھی اسکو کسی پر اتنا بھروسہ نہیں تھا .
“‘ جب تک وہ ابیہا کو صحیح سلامت اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیتا اسکو سکون نہیں ملنے والا تھا …
” ‘ صبح ہونے ہی والی تھی
اسکو یہ بات بھی پریشان کڑ رہی تھی کہ اگر ابیہا اس بیچ اٹھ گئی ہوگی تو اسکی غیر موجودگی سے کتنا پریشان ہو گئی ہوگی …
” اسکو بس جلد سے جلد گھر جانا تھا اپنی ابیہا کے پاس ..
” ‘ اسکی کار جیسے ہی پؤرچ میں داخل ہوئی تو وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھولتا اندر کی طرف بھگا تھا ..
” ‘ باہر تو سب کچھ ٹھیک تھا مطلب اسکے پیچھے کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی تھی ..
“وہ تیزی سے سیڑهیاں چڑھتا اوپر اپنے کمرے میں آیا مگر اپنا کمرہ خالی دیکھ کر اسکی پریشانی بڑھی تھی ..
“‘ وہ پاگلوں کی طرح گھر کے ایک ایک جگہ پر اسکو تلاش کڑ رہا تھا مگر اسکی ابیہا کہیں نہیں مل رہی تھی …
” ابیہا”
” اس نے بہت تیز آواز میں اسکو پکارا تھا جبھی اسکی نظر نیچے پڑے دوپٹہ پر پڑی تھی …
” دراب نے جھک کر اسکو زمین سے اٹھایا تھا ..
” عباس میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا …
” اسکو پل میں سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ یہ کام کس کا ہو سکتا ہے …
“اسکو جس بات کا ڈر لگ رہا تھا وہ ہی ہوا تھا .
” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو ہی آگ لگا دیتا ..
” ” اسکی ابیہا کو ہاتھ لگانے والے کو اسکی بہت بڑی قیمت چکانی ہوگی …
‘ ‘ دراب کی آنکھوں میں اس وقت خون اتر آیا تھا غصّے سے اسکی رگے تن گئی تھی ..
“‘ اس نے ابیہا کے دوپٹے پر اپنی پکڑ سخت کی تھی وہ یکدم سے اٹھا اور تیزی سے باہر نکلا تھا “
💕💕💕
” ‘ عشل کی صبح جب آنکھ کھلی تو اس نے گردن موڈ کر برابر میں دیکھ تھا ..
” ‘ مگر عمر کی بیڈ پر غیر موجودگی سے وہ یکدم سے اٹھ بیٹھی تھی “
” ‘ رات حسن کے فون کے بعد عمر وہ کمرے میں عمر کے پاس گئی تو اسکا موڈ سخت خراب تھا ..
” ‘ عشل کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ عمر سے کس طرح بات کرے …
” ‘ عشل کو روم میں دیکھ کر وہ اپنا لیپ ٹاپ لیکر روم سے ہی باہر نکل گیا تھا
اسکی بےرخی پر عشل کی آنکھیں نم ہوئی تھی ..
” ‘ آج اس نے عمر کو اتنا غصّہ میں دیکھا تھا
وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ کر اسکے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی تھی ..
” ‘عمر تو واپس نہیں آیا مگر اسکو نیند ضرور آ گئی تھی اور کچھ دیر بعد عشل اسکا انتظار کرتی کرتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی “
” اور اب بھی وہ روم میں موجود نہیں تھا مطلب وہ رات بھر لاؤنج میں رہا تھا ..
” لگتا ہے بہت ہی سخت خفا ہیں …
عشل بیڈ سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی تھی اسکا ارادہ عمر کو منانے کا تھا “
‘ ” عمر لاؤنج میں جب نہ ملا تو وہ کچن میں آئی تو وہ اسکو کچن میں کھڑا ہوا دکھائی دیا تھا ..
شاید وہ اپنے لئے چاۓ بنا رہا تھا ‘
“ارے عمر تم چاۓ کیوں بنا رہے ہو مجھ سے کہہ دیتے ..
عمر کو کام کرتا دیکھ عشل کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا
” ‘ تم سو رہیں تھیں تو مجھے تمہیں اٹھانا مناصب نہیں لگا ..
“عمر اپنے کپ میں چاۓ ڈالتا اسکی طرف پلٹا تھا .
“‘ عمر تم مجھ سے ناراض ہو ?
‘ “عشل نے اسکے قریب ہوکر اسکا بازو تھاما تھا ..
“‘ , نہیں.
” عمر اسکی بات کا صرف ایک لفظ میں جواب دیتا اپنا کپ لیکر وہاں سے نکلا تھا “
” انداز ناراضگی والا تھا “
‘ ” وہ جانتا تھا کہ عشل کس بارے میں بات کر رہی ہے لیکن وہ اسکو تھوڑا پریشان کرنا چاہتا تھا..
” ‘اسکا انداز محسوس کر کے عشل سمجھ گئی تھی کہ وہ اب بھی ناراض ہے اس سے اگر وہ کچن سے جاتے عمر کے ہونٹھوں پر مسکراہٹ دیکھ لیتی تو وہ اسکا مذاق سمجھ جاتی ..
” ‘ عمر پلز …مجھ سے ناراض نا ہو تم نہیں جانتے تمہاری یہ ناراضگی میری جان لے رہی ہے ..
” عمر جو ابھی روم میں داخل ہی ہوا تھا کہ عشل نے پیچھے سے آکر اسکے گرد اپنی باہوں کہ حصار باندہ دیا تھا ..
” ‘ اسکی اس ادا پر عمر کے ہونٹھوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی …
” عشل ہٹو …میری چاۓ گر جائے گی …
” عمر نے ابھی بھی اسی انداز میں کہا تھا ..
” ‘ نہیں جب تک تم یہ نہیں بولو گے کہ تم مجھ سے ناراض نہیں ہو میں تب تک نہیں ہٹوں گی …
” عشل ضدی لہجے میں بولی اور اپنی پکڑ اور مضبوط کی تھی ..
” کہہ تو رھا ہوں نہیں ہوں میں ناراض اب ہٹو ..
عمر نے اسکو پھر بولا مگر جب ووہ نہیں ہٹی تو عمر نے اپنے قدم بڑھاۓ اور پاس ٹیبل پر چاۓ کا گرم کپ رکھا تھا ..
جبکہ اس دوران عشل نے اسکو چھوڑا نہیں تھا …
” ‘ اب بتاؤ تمھیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں تم سے ناراض ہوں ..
عمر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے سامنے کرتا ہوا بولا تھا ..
” ‘ کیونکہ کل سے تم نے نہ مجھ سے بات کی اور نہ ہی مجھے پیار کیا ہے …
” عشل جلدی جلدی میں بول تو گئی تھی مگر جب احساس ہوا کہ کچھ زیادہ ہی بول دیا ہے تو اپنا لب دانتوں میں دبا کر ایک نظر عمر سکو دیکھا جو مسکراتا ہوا اسکی کو دیکھ رہا تھا ..
” ‘ اچھا جی تو تمھیں میرا پیار چاہیے
بس اتنی سی بات ہے پہلے بولتی نہ میں تو ہر وقت تمھیں پیار کرنے کے لئے تیار رہتا ہوں ..
اسکی بات پر عمر نے کمر سے پکڑ کر عشل کو اپنے قریب کیا تھا ..
” ‘ نہیں …میرا وہ …..مطلب نہیں تھا ….میں تو ..
” اسکی بات پر عشل سے جیسے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا ..
“” کیا مطلب تھا تمہارا پھر …
عمر اسکے بالوں میں منہ دیے خمار آلودہ لہجے میں بولا تھا ..
” ‘ عمر تمہاری چاۓ ٹھنڈی ھو رہی ہے ..
” اسکی بڑھتی جسارتوں پر عشل بمشکل بول پائی تھی ..
“‘ ہونے دو ..
” نے جھک کر اسکو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لیکر آیا تھا …
” اس سے پہلے کہ وہ اس پر جھکتا عمر کی نظر اپنے فون پر پڑی تھی ..
بشر کا مسیج دیکھ کر اسکا دھیان موبائل کی طرف گیا تھا …
” ناچاہتے ہوئے بھی اس نے موبائل اٹھا کر مسیج پڑھا تھا ..
جو جو وہ پڑھ رہا تھا اسکی آنکھیں اتنی ہی کھلتی جا رہی تھی …
” کیا بات بات ہے عمر تم اتنا پریشان کیوں لگ رہے ہو .اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر عشل اٹھ بیٹھی تھی “
” جلدی اپنے کپڑے چینج کرو ہمیں ابھی نکلنا ہے ..
عمر فورا بیڈ سے اٹھا تھا …
” کیا ہوا ہے عمر …
عشل اسکے لہجے میں پریشانی محسوس کڑ سکتی تھی ..
” ‘ ابیہا کا کڈنیپ ہو گیا ہے ہمیں ابھی چلنا ہے ..
” کیا ابیہا کا کڈنیپ یہ تم کیا کہہ رہے ہو اور تم کیسے جانتے ہو ابیہا کے بارے میں
کس نے بتایا تمھیں …?
“‘ عشل نے ایک ساتھ کئی سوال اس سے کر ڈالے تھے ..
اسکو ابیہا کی فکر کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوئی تھی آخر اسکو کیسے پتہ چلا ….
” ‘ اسکے سوال پر عمر نے ایک نظر اسکو دیکھا اور ایک گہرا سانس چھوڑا تھا …
” اب کوئی راستہ نہیں تھا اسکو عشل کو سب بتانا ہی تھا ..
💕💕💕💕
“”””””””””””(جاری ہے )””””””””