Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
”کیا تھی اسکی زندگی جس بھی انسان کے وہ قریب ہوتی وہ ہی اس سے دور ہو جاتا تھا
”پہلے اسکی ماں اس سے دور ہو گئی تھی
ماں کے بعد عشل اسکی زندگی میں آئی تھی
”لیکن اسکا اور عشل کا ساتھ بھی کچھ وقت تک کا تھا ..
”عشل سے دور ہوئی تو یہاں آئی یہاں آکر اسکو آمنہ بیگم کا سہارا ملا ”
”وہ اسکا بلکل ایک ماں کی طرح خیال رکھتی تھیں
اور دھیرے دھیرے وہ انکو قریب ہوتی چلی گئی تھی
”آمنہ بیگم کی موجودگی سے اسکو ایسا لگتا تھا کہ اسکی ماں اسکے آس پاس موجود ہے ..
”لیکن جب وہ انکے اتنے قریب ہوئی تو وہ بھی اسکو چھوڑ کر چلی گئی
”پھر سے اسکو تنہا کر کے چلی گئی تھی .
”اسکا دل رو رہا تھا تڑپ رہا تھا .
وہ اتنی بدنصیب کیوں تھی
”کیوں سب اسکو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں
آخر کیوں …
”اسکے آنسوں مسلسل آمنہ بیگم کی تصویر پر گر رہے تھے
”ایک ہفتہ ہو گیا تھا آج آمنہ بیگم کو گزرے ہوئے
”لیکن انکے جانے کا غم تھا کہ کم نہیں ہو رہا تھا
یہ غم تو اب ساری زندگی انکے ساتھ رہنے والا تھا
”تم یہاں بیٹھی ہو میں تمھیں پورے گھر میں تلاش کر رہا تھا “
””دراب جیسے ہی آمنہ بیگم کے روم میں داخل ہوا تو ابیہا کو انکے بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر فورن سے بولا تھا”’
”ابھی وہ عمر کے پاس سے جب اپنے روم میں گیا تو اسکو ابیہا روم میں کہیں نظر نہیں آئی تھی
”وہ پریشانی سے اسکو پورے گھر میں تلاش کر رہا تھا ”
”ان چند لمحوں میں اسکو گھر میں نہ پاکر اسکی حالت پاگلو جیسی ہو گئی تھی
کیونکہ وہ ابھی وہ کچھ دن پہلے والا واقعہ نہیں بھولا تھا ”
”اسکو یہاں روم میں دیکھ کر جیسے ایک سکون سا اترا تھا اسکے جسم میں ”
”مجھے آنٹی کی یاد آ رہی تھی تو اس لیے میں یہاں آ گئی “
‘”ابیہا اپنے آنسوں صاف کرتی بولی اور انکی تصویر کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کھڑی ہوئی تھی ..
”دراب خاموشی سے کھڑا اسکو خود پر ضبط کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا .
”اس وقت ان تینوں کا درد ایک سا تھا وہ اور عمر تو اپنا درد بانٹ لیتے تھے اور کچھ حد تک دونوں نے خود کو سمبھال بھی لیا تھا ..
”مگر ابیہا وہ اپنا درد خود ہی برداشت کر رہی تھی اس نے اپنا درد کسی کے ساتھ نہیں باٹا تھا ۔۔
‘”ابھی بھی وہ اپنے آنسوں ضبط کئے کھڑی تھی
وہ بس خاموشی سے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا
ورنہ اسکا دل کر رہا تھا کہ اسکو اپنے سینے سے لگا کر اسکا سارا دکھ بانٹ لے ..
”ابیہا …
دراب نے بہت ہی آہستہ آواز میں اسکو پکارا تھا
”دراب کی آواز پر ابیہا نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا ..
”تم اپنا غم مجھ سے بانٹ سکتی ہو میں کوئی غیر نہیں ہوں ..
”دراب اسکے قریب آیا تھا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا …
‘”اسکی بات پر ابیہا آنکھوں میں آنسوں لیے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
‘”وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ بھی تو اسکا اپنا تھا
تو پھر وہ کیوں خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی ..
‘”بلکہ اسکا تو دراب سے بہت گہرا رشتہ تھا بہت مظبوط ..
“‘بس اتنی سی بات تھی .
وہ ایک قدم اور آگے بڑھی اور دراب کے سینے سے آ لگی اور اسکی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ..
‘”کیوں ہوتا ہے ایسا …
‘”سب مجھے چھوڑ کر چلے کیوں جاتے ہیں
‘”آخر کیوں ..
‘”وہ دراب کے سینے سے لگی آنسوں بہا رہی تھی .
‘”دراب نے اسکے گرد اپنا حصار مضبوط کیا تھا اور اسکی کمر کو سہلاتا ہوا اسکو دلاسہ دے رہا تھا ‘”
“‘میں تمھیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ابیہا یہ دراب خان کا وعدہ ہے تم سے ..
‘”دراب نے نرمی سے اسکے بالوں پر اپنے لب رکھے تھے ..
‘”دراب کی بات پر ابیہا نے اپنا سر اسکے سینے سے ہٹا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا
جو آنکھوں میں بےپناہ محبت لیے اسکی کو دیکھ رہا تھا ‘”
“‘تم سچ کہہ رہے ہو نہ کبھی نہیں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر .
‘”وہ پھر سے یقین چاہ رہی تھی اسکی بات کا ..
‘”نہیں کبھی نہیں …
دراب نے جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تو ابیہا نے سکون سے آنکھیں بند کرکے پھر سے اسکے سینے پر اپنا سر رکھا تھا ‘”
‘”اور دراب نے پھر سے اسکو اپنی باہوں میں سختی سے بھینچ لیا تھا “
💕💕💕
‘”میں نے تم سے منع کیا تھا نہ کہ تم پھر سے اس کلب میں کام نہیں کرو گے .
لیکن تم پھر بھی وہاں گئی ..
کیوں “
‘”عشل نے اپنے روم میں داخل ہو کر جیسے ہی لائٹ اون کی تھی کہ اپنے پیچھے سے جانی پہچانی آواز سن کر جلدی سے مڑی تھی ..
‘”عمر بیڈ پر آرام سے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا
‘”عمر کو آج اتنے دن بعد یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر عشل خوش ہوئی تھی .
‘”مگر یہ خوشی چند ہی پل کی تھی عمر کی اتنے دن کی غیر موجودگی یاد کر کے اسکو یکدم سے غصّہ آیا تھا “‘
””تم میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ابھی کہ ابھی جاؤ یہاں سے مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی ہے
‘عشل غصّے سے اسکی طرف بڑھی تھی ..
‘”میں تم سے جو پوچھ رہا ہوں مجھے اسکا جواب چاہئے عشل ‘”
‘”عمر بھی اسکے انداز میں بولا اور یکدم سے غصّے میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ‘”
“‘آج جب وہ خود کو سمبھال سکا تو یکدم سے عشل کا خیال اسکے دماغ میں آیا تھا .
‘”اپنے غم میں وہ عشل کو پوری طرح سے بھول ہی چکا تھا .
‘”وہ اسکا انتظار کر رہی ہوگی اور اسکے نہ آنے پر اس سے غصّہ بھی ہوگی ‘”
‘”وہ خود پر غصّہ کرتا عشل کے گھر آیا تھا ‘
‘”مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھی اسکا صاف مطلب تھا کہ اس نے کلب جانا پھر سے شروع کر دیا تھا
یہ خیال آتے ہی عمر کی غصّے سے رگے تن گئی تھی ‘”
‘”اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عشل کو بازو سے پکڑ واپس لے آتا ..
‘”مگر وہ اب کلب نہیں جا سکتا تھا وجہ عباس تھی وہ اسکو دیکھ کر ضرور کچھ غلط کر دیتا مگر دراب نے اسکو ابھی روکا ہوا تھا “‘
“‘اور دوسرا عباس اسکے بارے میں جان چکا تھا مگر ایک بات کا اطمینان تھا اسکو کہ عباس اور حسن کو عشل اور اسکے رشتے کے بارے میں نہیں معلوم ہوا تھا ‘
‘”اس لیے وہ یہاں بیٹھا اپنا غصّہ ضبط کرتا اسکا انتظار کر رہا تھا ..
‘”اسکے واپس آتے ہی عمر کا غصّہ مزید بڑھا تھا
‘”میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے عشل
‘”اسکو خاموش دیکھ کر عمر پھر سے بولا تھا ..
‘”میں تمہاری کسی بھی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں …
‘”اس ایک ہفتے میں وہ اس سے پوری طرح بدگمان ہو چکی تھی
کتنا انتظار کیا تھا اس نے مگر اس نے تو پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا اسکو ..
‘”اور آج آیا بھی تو اس پر حقم چلا رہا تھا اپنی غلطی تو یاد ہی نہیں تھی اسکو ..
‘”بیوی ہو تم میری اور تم مجھے ہر بات کا جواب دینے کی پابند ہو ..
‘”میرے منع کرنے کے باوجود بھی تم گئی وہاں .
‘”عمر نے سختی سے عشل کا بازو اپنی گرفت میں لیکر ایک جھٹکے میں اسکو اپنے قریب کیا تھا ‘”
‘”تم نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا مجھ سے جب تم اپنی بات سے پیچھے ہٹ سکتے ہو تو میں کیوں نہیں ‘
‘”عشل کی آنکھوں میں آنسوں اسکی سخت پکڑ کی وجہ سے آۓ تھے یا اسکو اتنے دن بعد اپنے سامنے اور اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ سمجھ نہیں سکی تھی ‘”
‘”تم نہیں جانتی عشل کتنا کچھ ہو گیا تھا میری زندگی میں کیا کیا نہیں برداشت کیا ہے میں نے .
”عمر اسکا طنز اچھے سے سمجھ سکتا تھا اس لیے تھوڑا سا نرمی سے بولا تھا .
‘”کیونکہ وہ جانتا تھا اگر عشل کو پتہ ہوتا اسکے ساتھ کیا ہوا ہے تو وہ ایسے کبھی نہ بولتی ..
‘”اور میں نے کیا نہیں برداشت کیا عمر تم نہیں آۓ نہ تم نے مجھ سے بات کی جانتے ہو کس دکھ سے گزری ہوں میں
“” ان چند دنوں میں کتنا تڑپی ہوں تم اندازہ نہیں لگا سکتے میری حالت کا ..
‘”عشل کے آنسوں اسکے رخسار بھیگو رہے تھے
ساری ناراضگی ساری بدگمانی اسکو دیکھتے ہی جیسے ختم ہو گئی تھی …
‘”میں سمجھ سکتا ہوں عشل لیکن میں مجبور تھا اس دن جب میں یہاں سے گیا تو …..
‘”اور پھر عمر ایک ایک کر کے اسکو ساری بات بتانے لگا تھا ..
‘”اسکی بات پر عشل کی آنکھوں میں پھر سے آنسوں آ گیے تھے کتنا غلط سمجھا تھا اس نے اسکو
جبکہ وہ خود درد میں تھا “
“‘مجھے معاف کر دو عمر میں نے تمھیں غلط سمجھا جبکہ تم خود تقلیف میں تھے .
”عشل اسکے سینے سے لگی رو رہی تھی ساری ناراضگی پل میں ختم ہوئی تھی …
“‘اسکے رونے پر عمر نے اسکو اپنے حصار میں لے لیا تھا ‘”
💕💕💕
‘”ہر بار ہر بار وہ لڑکی میرے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ‘”
‘”صرف اور صرف تم لوگوں کی بےوقوفی کی وجہ سے ‘”
‘”عباس آج پھر اپنے لوگوں پر غصّہ اتار رہا تھا
اس دن کی نکامیابی کا غصّہ اب تک ختم نہیں ہوا تھا اسکا ‘”
‘”سر آپکو ان لوگوں کو یہ کام ہی نہیں دینا چاہئے تھا ان لوگوں سے تو ایک کام ٹھیک سے نہیں ہوتا ہے
‘”آپ مجھ سے کہتے تو آج وہ ابیہا ہماری قید میں ہوتی “
“‘کب سے خاموش کھڑا حسن عباس کی طرف دیکھ کر بولا تھا ‘”
“‘نہیں اگر تم ابیہا کے سامنے آ جاتے تو غلط ہو جاتا اسکے بعد یقینن وہ اس عشل یہ سب بتاتی
‘”اور پھر یہ عشل بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی
‘”ابھی تو وہ جب تک کلب میں ہے ہماری پکڑ میں ہے”
‘”عباس اپنے سامنے کھڑے حسن کی طرف دیکھ کر بولا تو حسن کو بھی اسکی بات صحیح لگی تھی ‘:
“: یہ تم نے بلکل ٹھیک کہا ہے عباس اور میری بات مانو تو کچھ دن خاموش ہی رہو ..
‘”ایک چوٹ تو ہم دے ہی چکے ہیں اس ڈی کے کو ‘”
“‘کب سے خاموش بیٹھا سلطان اپنے بیٹے کو دیکھ کر بولا تھا ..
‘”سر بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں .
ہمیں ابھی کچھ دن خاموش ہی رہنا چاہئے ..
‘حسن بھی سلطان کی بات پر متفق ہوا تھا ‘”
“تو کیا ڈیڈ ہم خاموش بیٹھ کر انتظار کریں کہ کب ڈی کے ہم پہ حملہ کرے .
‘”ویسے بھی وہ اب بلکل خاموش بیٹھنے والا نہیں ہے
‘”اسکے خاص کی جان لی ہے ہم نے
‘”آپکو کیا لگتا ہے وہ خاموش بیٹھا رہے گا
‘”نہیں ڈیڈ وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں
‘”اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرے ہم کچھ کرنا چاہئے
‘عباس کو اپنے باپ کی بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی اس لیے وہ پھر سے غصّے میں بولا تھا ‘:
‘”میں تمھیں ہمیشہ کے لیے خاموش رہنے کے لیے نہیں بول رہا ہوں بس ایک دو دن رک جاؤ ہماری ڈیل ہو جائے اسکے بعد جو چاہے کر لینا ‘”
“‘ویسے بھی اس ڈی کے کی ساری معلومات ہمیں مل چکی ہے تو اب کوئی فکر نہیں ہے ہمیں ..
اب اسکی کمزوری ہمارے ہاتھ میں ہے ..
‘”انکو دراب کے بارے میں سب تو معلوم ہو چکا تھا مگر سلطان ابھی بھی اس بات سے انجان تھا کہ دراب داؤد خان کا بیٹا ہے ‘”
‘”سلطان کے ہونٹھوں پر شاتر مسکراہٹ تھی
اسکی بات سن کر عباس نے خاموشی سے سر ہلا دیا تھا ‘”
💕💕💕
‘”ساری پیکنگ ہو گئی تمہاری ?
‘”اگر چاہو تو میں ہیلپ کر دیتا ہوں ”
‘”دراب کمرے میں داخل ہوتے ہی کوئی چیز تلاش کرتی ابیہا سے مخاطب ہوا تھا ..
‘”اس دن کے بعد سے دراب نے سوچ لیا تھا کہ اب ابیہا کا یہاں رہنا سیف نہیں ہے “
‘”اس لیے اس نے ابیہا کو اپنے دوسرے گھر لے جانے کے بارے میں سوچا تھا جو شہر میں تھا اور وہ خود ابیہا کے ملنے سے پہلے وہیں رہتا تھا …
‘”نہیں سب ہو گیا ہے بس ایک دو چیز رہ گئی ہیں ‘
‘”ابیہا مصروف سے انداز میں اسکو جواب دیتی وارڈراب کی طرف بڑھی تھی ‘”
“‘اسکے نرم سے انداز پر دراب اسکو مسکراتی نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا ..
‘”آمنہ بیگم کے انتقال کے بعد سے وہ اس سے کوئی تلخ بات نہیں کرتی تھی بلکہ اسکے رویہ میں بہت ہی تبدیلی آئی تھی “
“‘شاید آمنہ خالہ نے اپنے آخری لمحوں میں اسکے دل سے انکے لئے جو غلط فہمی تھی وہ نکال دی تھی
‘”یہ دراب کی سوچ تھی اور اسکی سوچ بلکل ٹھیک بھی تھی ‘”
“‘آپکو کچھ چاہئے تھا ?
“‘اسکی خود پر جمی نظروں سے وہ پزل ہوئی تھی”
‘”اس لیے اسکا دھیان خود پر سے ہٹانے کے لیے پوچھ بیٹھی تھی ..
‘”ہاں تمہاری محبت چاہئے ..
‘”دراب اسکو گہری نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا اور آہستہ سے قدم بڑھاتا اسکی طرف بڑھا تھا ‘”
‘”اسکے اپنی طرف بڑھتے قدم اور بولتی گہری نگاہوں سے ابیہا کی دھڑکنے یکدم تیز ہوئی تھی
ماتھے پر پسینے کی بوندے جما ہوئی تھی
اس نے بےساختہ اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھاۓ تھے”
“‘ جبکہ دراب اسکی حالت سے انجوۓ کرتا مزید اسکے قریب ہوا تھا ..
‘”کیا تھی یہ لڑکی غصّے میں اسکو کتنا کچھ بول جاتی ہے مگر اسکی تھوڑی سے قربت اور اسکی بولتی نگاہوں کی تپیش سے اسکی بولتی بند ہو جاتی تھی “‘
“‘ دراب….وہ ..وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی
میرا مطلب آپسے کچھ کہنا تھا ..
‘”اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنی بات کس طرح شروع کرے ..
‘”ہاں بولو میں سن رہا ہوں …
‘”وہ اسکے گھبراۓ ہوئے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ‘”
‘”اس وقت دونوں کے بیچ فاصلہ بہت کم بچا تھا ..
‘” وہ مجھے آپ سے معافی مانگنی تھی
مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میری آپسے نفرت بےوجہ تھی ..
‘” بولتے ہوئے ابیہا کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے ‘”
“‘کتنا غلط سوچتی تھی وہ اسکو جبکہ اس نے تو ہر وقت اسکی حفاظت کی تھی..
‘”دراب اسکو عباس کے بارے میں بھی سب بتا چکا تھا ‘”
“‘تھوڑا پاس آکر بولو نہ اتنی دور سے مجھے سنائی نہیں دے رہا ہے ..
‘”دراب نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا تھا ‘”
“‘ ابیہا اس حملے کے لیے بلکل تیار نہیں تھی دراب کے ایسا کرنے پر سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی ..
‘”وہ اب اپنا رونا بھول چکی تھی چہرے پر اب شرم و گھبراہٹ نے جگہ لے لی تھی ..
‘” اب بولو میں تم سے بہت کچھ سننے کا منتظر ہوں
دراب نے اپنا ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسکو اپنے حصار میں قید کر لیا تھا ..
‘”اپنی نظروں میں تپیش لیے وہ اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا
وہ اس وقت اس سے کچھ اور سننا چاہتا تھا ‘”
‘”دراب آپ مجھے ..
ابھی اس نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ درا ب نے جھک کر اسکے لبوں کو قید کر لیا تھا'”
‘”دراب کی اس گستاخی پر ابیہا نے اپنی آنکھیں بند کی تھی اور دراب کی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں دبوچا تھا ..
‘”جبکہ دراب نے ابیہا کی کمر پر اپنی پکڑ مزید سخت کی تھی اور اتنی شدت سے اس پر محبت لوٹا رہا تھا”‘
‘”اس بار ابیہا نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا ..
‘”چند لمحوں بعد دراب نے اپنا چہرہ اٹھا کر ابیہا کی طرف دیکھ جو آنکھیں بند کیے اپنی سانسیں درست کر رہی تھی ..
‘” اسکی حالت دیکھ کر دراب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی .
اس نے جھک کر ابیہا کی بند آنکھوں کو باری باری چوما تھا ‘”
“‘میں تمہارے ان لبوں سے اپنے لیے صرف محبت بھرے لفظ سننا چاہتا ہوں ..
‘”وہ لفظ جن میں میرے لیے صرف محبت ہو
‘”دراب اسکو لبوں کو نرمی سے اپنی انگلی سے چھو رہا تھا ..
‘”اسکی بات پر ابیہا نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا تھا .
‘”اور مجھے اس پل کا شدت سے انتظار ہے جب تم اپنی محبت کا اظھار کروگی ..
‘”دراب پھر سے اس پر جھکا تھا .
‘”اسکو خود پر پھر سے جھکتا دیکھ ابیہا نے اپنی آنکھیں بند کی تھی ..
”اسکے اس طرح آنکھیں بند کرنے پر دراب مسکرایا اور اسکے گال پر پیار کرتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا …
‘”اسکے جانے کے بعد ابیہا شرم سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ مسکرا دی تھی “‘
💕💕💕
“””””””””(جاری ہے )””””””””
