73.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

”عباس میری تو سمجھ سے باہر ہو رہا ہے آخر تم کر کیا رہے ہو ?
“ایک ایک کرکے وہ ہمارے پارٹنر کو ہمارے خلاف کر رہا ہے .
“ہر بار ہمیں اسکی وجہ سے نکسان اٹھانا پڑتا ہے .
“اور تم ھر بار یوں ہی میرے سامنے خاموشی سے کھڑے رہتے ہو ..
“جیسے تمھیں کوئی فرک ہی نہیں پڑ رہا ہے ..
‘تمہاری یہ خاموشی میری سمجھ سے باہر ہے .
”سلطان کھڑا اس بار عباس پڑ گرج رہا تھا
‘ڈیلیور ٹائم پر نا دینے کی وجہ سے اب انکے پارٹنر ن ان لوگوں کی ساتھ پارٹنرشپ ختم کر دی تھی ..
”دوسرا انکے مال کے ساتھ ساتح انکے تین آدمی بھی ختم ہو چکے تھے ..
”وہ خود کو جتنا ہوشیار سمجھتے تھے اس کام میں ڈی کے وں سے چار قدم آگے تھا ‘
”میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں ڈیڈ مگر یہ ڈی کے ہر جگہ ٹپک پڑتا ہے ..
”اب تو مجھے لگنے لگا ہے کہ کوئی تو ہے ہمارے بیچ جو اسکو ہمارے ہر قدم کے بارے میں معلوم ہو جاتا ہے ..
”عباس پرسوچ انداز میں بولا تو سلطان کو کہیں نہ کہیں اسکی بات ٹھیک لگی تھی ..
”کوئی بندہ ایسا ہے تمہارے آس پاس جس پر تمھیں شق ہو ..
‘کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سلطان اپنے بیٹے سے بولا تھا ..
”یہاں تو مجھے ایسا کوئی نہیں لگتا پر مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے کلب…
”سر حسن آپ سے ملنا چاہتا ہے بہت ضروری بات کرنی ہے اسکو اپنے اس نے ”
”اس سے پہلے کے عباس اپنی بات پوری کرتا جبھی انکے پاس ایک آدمی ن آکر حسن کا پیغام دیا تھا ..
”ٹھیک ہے آنے دو اسکو …
”عباس اسکو آنے کی اجازت دیتا اسکا انتظار کرنے لگا تھا ..
”’آؤ حسن مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس کوئی اچھی ہی خبر ہوگی کیونکہ تم دو دن کا وعدہ کر کے گیے تھے اور آج پورے ایک ہفتے بعد واپس آۓ ہو ..
”عباس کے ساتھ ساتھ اب سلطان بھی اسکی طرف متوجہ ہوا ۔
“جی سر دن زیادہ لگے ہیں مگر جو معلومات میں حاصل کر کے آیا ہوں اسکو سن کر آپکو بہت ہی خوشی ہونے والی ہے ..
”حسن چالاکی سے مسکرایا تھا ..
”اب جلدی بولو تمہاری معلومات سن کر میں فیصلہ کروں گا کہ مجھے خوش ہونا چاہئے یا نہیں ..
”عباس بیزاری سے بولا تھا کیونکہ اسکا موڈ پہلے ہی بہت خراب ہوا وا تھا ..
”آپ ڈی کے کی کمزوری تلاش کرنا چاہتے تھے نہ تو ہمیں اسکی کمزوری مل گئی ہے ..
”حسن ان دونوں کی شکل دیکھ کر ایک پل کے لیے خاموش ہوا تھا جو منتظر تھے اسکے اگلے جملے کے
”’ابیہا “”
”ڈی کے کی بیوی ‘
”حسن نے جیسے عباس کے سر پر بم پھوڑا تھا جبکہ سلطان بھی اتنی ہی حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
”مجھے امید ہے کہ تم کوئی بکواس نہیں کر رہے ہو’
‘عباس اپنی جگہ سے اٹھ کر غصّے میں اسکی طرف بڑھا تھا کیونکہ یہ یقین کرنا اسکے لیے مشکل تھا ”
”نہیں سر یہ کوئی بکواس نہیں ہے سچ ہے سب ‘
”پھر حسن سب کچھ اسکو بتاتا چلا گیا تھا .
”اب ہمیں بس ابیہا تک پھنچنا ہے اور تم اچھے سے جانتے ہو کہ آگے کیا کرنا ہے تمھیں …
.
”پوری بات سن لینے کے بعد اب عباس اور سلطان کے ہونٹھوں پر مسکراہٹ تھی ‘
‘آخر انکو اپنے دشمن کی کمزوری جو مل گئی تھی”
اور ابیہا تک پھنچنے کی سیڑهی تھی عشل جو اب پھر سے کلب میں واپس آ چکی تھی ”
💕💕💕
وہ اس وقت دراب کے روم میں کھڑی گلاس وال کے پاس کھڑی باہر کے نظروں میں کھوئی ہوئی تھی ”
”کل ہی تو دراب نے اسکا سارا سامان اپنے اوپر والے کمرے میں شفٹ کیا تھا ..
‘وہ انکار کر دینا چاہتی تھی مگر وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی کہ اسکے انکار کی کس کو پرواہ نہیں تھی.
”ویسے بھی وہ اوپر رہتی یا نیچے کیا فرک پڑتا تھا کیونکہ دراب تو اس روم میں سوتا تھا جس میں وہ ہوتی تھی .
”وہ اسکی موجودگی سے پریشان تو رہتی تھی مگر سکون بھی تھا کیونکہ دراب نے پھر سے کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی اسکی طرف ”
”اسکے روم سے باہر کا نظارہ اور وہ جنگل جتنا خوبصورت لگتا تھا مگر قریب سے اتنا ہی خوفناک تھا.
”ابیہا کو یکدم سے جنگل والی بات یاد آ گئی تھی کہ کیسے وہ اس خوفناک جگہ پر پھنس گئی تھی …
”پھر یکدم سے دراب کا خیال آیا تھا کہ کیسے اس نے اسکی جان بچائی تھی یہ جاننے کے باوجود بھی کہ وہ اس سے کتنی نفرت کرتی ہے ..
”دل میں کہیں نہ کہیں وہ دراب کی احسانمند ہوئی تھی …
”اور واپس آنے کے بعد اس شخص نے کیا کیا تمہارے ساتھ ..
‘سزا دی تمہیں گھر سے بھاگنے کی .
‘تبھی اسکے دماغ نے دراب ظلم یاد دلایا تھا اسکو .
”دماغ کی بات پر دل بیچارہ خاموش ہوا تھا جو کچھ دیر پہلے اسکی حمایت کر رہا تھا ”
”دراب کا ظلم یاد آتے ہی اسکے لیے نفرت پھر سے بڑھی تھی ..
”بیگم ”پھر سے یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے کیا ?
”دراب اسکی پشت پر کھڑا اس سے سوال کر رہا تھا..
”درست فرمایا …
”میرا ارادہ ابھی بھی وہی ہیں ‘
‘وہ اسکی طرف پلٹی تھی آنکھوں میں بےپناہ نفرت لیے ”
”تو پھر میرے ارادے بھی تمھیں پتہ ہی ہو گے .
‘وہ آنکھوں میں تپیش لیے آہستہ آہستہ سے اسکی طرف بڑھا رہا تھا
اسکے خود کی طرف بڑھتے قدم دیکھ کر ابیہا بھی دو قدم پیچھے ہوئی تھی مگر پھر سے اس شیشے کی دیوار نے اسکے قدموں کو مزید پیچھے بڑھنے سے روکا تھا ”
”اس سے پہلے کہ ابیہا سائیڈ سے نکلتی دراب نے اسکے ارد گرد ہاتھ رکھ کر اسکی اس کی کوشش کو ناکام بنایا تھا ..
”میرے ارادے پختہ ہیں جو تمہارے ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں ..
”دراب اپنی بات کہہ کر اس پر تھوڑا سا جھکا تھا اس وقت دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت نزدیک تھے ..
”غلط فہمی ہے تمہاری اور بہت جلد تمہاری یہ غلط فہمی میں دور کر دوں گی ”
”دیکھ لینا تم ”
”اسکی قربت پر ابیہا کی دھڑکن تیز ہوئی تھی حلق یکدم سے خشک ہوا تھا ..
‘مگر وہ اپنا حلق تر کرتی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی ”
وہ بلکل بھی اسکے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ”
”دیکھ ہی تو رہا ہوں ‘
اور مزید دیکھنے کا خوائش مند بھی ہوں …
دراب نے جیسے اسکی بات کا مذاق بنایا تھا ”
”اسکی مسکراہٹ اور دو معنیٰ بات پر ابیہا پوری طرح سے جل گئی تھی .
‘اس نے غصّے میں اسکو خود سے دور کیا تھا مگر دراب ایسے ہی اسکو اپنے حصار میں لیے کھڑا رہا تھا ”
”ابیہا کا غصّے سے لال چہرہ اسکو کوئی گھستاخی کرنے پر اکسا رہا تھا ..
”اور اپنے دل کی بات پر وہ اس پر جھکا تھا مگر ابیہا اتنی ہی تیزی سے نیچے جھک کر اسکے حصار سے نکلی اور دروازے کی طرف بڑھی تھی ”
‘سنو ”
”تم چاہے تو اپنی دوست سے بات کر سکتی ہو ‘
اسکا نمبر موجود ہے اس موبائل میں .
”اسکو روم سے باہر جاتا دیکھ دراب اس سے مخاطب ہوا تھا ‘
‘اور اپنا موبائل بیڈ پر ڈال کر اسکو اٹھانے کا اشارہ کیا تھا ”
”اسکی بات پر ابیہا حیران نظروں سے کبھی تو اسکو تو کبھی بیڈ پر پڑے موبائل کو دیکھ رہی تھی “
“اسکو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ جو اسنے سنا ہے وہ سچ ہے یا نہیں …
”بات کر کے موبائل نیچے لے آنا میں انتظار کر رہا ہوں ”
‘دراب اسکو حیران سا وہاں چھوڑ کر کمرے سے چلا گیا تھا ”
”ابیہا کے لیے یقین کرنا مشکل ہو گیا تھا ”
‘پھر یکدم سے عشل کا خیال آتے ہی وہ جلدی سے موبائل کی طرف بڑھی تھی ”
💕💕💕
” دراب تم اچھے سے بال کراؤ نہ میں کھیل نہیں پا رہا ہوں
‘دراب مسلسل اسکو تیز بولنگ کر رہا تھا جس وجہ سے عمر بؤل کو ہٹ نہیں کر پا رہا تھا ..
”اب وہ بلکل ہی پریشان ہوکر منہ بناکر بول پڑا تھا
”جب تک تم کوشش نہیں کروگے تو کیسے مار پاؤ گے .
‘چلو شاباش پھر سے کوشش کرو دیکھ نہ اس بار تم کر لوگے ”
‘دراب اسکو سمجھاتا ہوا بولا اور پھر سے اسکو بؤل کرانے لگا ..
”دراب پلز تم آہستہ سے کرو بولنگ پھر دیکھنا میں کتنی زور سے ہٹ کرتا ہوں ”
”عمر پرجوش انداز میں بولا اور پھر سے اپنی پوزیشن میں کھڑا ہوا تھا ”
”دراب سے پانچ سال چھوٹا ہونے کے بعد بھی وہ دراب کا نام لیکر ہی اسکو مخاطب کرتا تھا
جس وجہ سے اس پر آمنہ بیگم ہمیشہ غصّہ کرتی تھیں
“مگر ہر بار دراب اور داؤد صاحب انکو یہ کہہ کر خاموش کرا دیتے تھے کہ انکو برا نہیں لگتا ہے اور ویسے بھی جو اسکا دل کرے اسکو کرنے دو
”انکی باتیں سن کر آمنہ بیگم خاموش ہو کر رہ جاتی تھیں
“مجھے بھی کھلا لیں اپنے ساتھ میں بھی کھیلنا چاہتی ہوں ”
‘دراب جو بولنگ کرانے ہی والا تھا اس آواز پر اسکے بڑھتے قدم رکے تھے ..
”اس نے مڑ کر دیکھا وہ ہی ڈول جیسی لڑکی اس سے کھڑی اجازت مانگ رہی رہی تھی .
‘جبکہ ہاتھ میں وہ ہی ڈول لے رکھی تھی جو کل تھی
”نہیں تم نہیں کھیل سکتی یہ لڑکیوں کا گیم نہیں ہے
اس سے پہلے کہ دراب کچھ کہتا عمر اپنا بیٹ وہیں رکھ کر اسکے پاس آیا تھا ‘
”پر میں بھی کھیلنا چاہتی ہوں امی بھی میرے ساتھ نہیں کھیلتی اور نہ ہی مجھے باہر نکلنے دیتی ہے ..
”وہ معصوم سی پانچ سالہ بچی اپنا دکھ اسکو سنا رہی تھی ”
”جبکہ دراب کھڑا بس مسکراتے ہوئے اس ڈول جیسی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ”
‘بولتے ہوئے وہ اور زیادہ خوبصورت لگی تھی اسکو
”ارے ابیہا بیٹا آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں ..
‘اس سے پہلے کے دراب اسکو اپنے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیتا جو وہ کم ہی لوگوں کو دیتا ہے ..
‘احمد کی آواز پر رکا تھا جو ابیہا کو شاید تلاش کرتے ہوئے یہاں آۓ تھے .
”انکل ابیہا ہمارے ساتھ کھیلنا چاہتی ہے میں کھیلا لوں اسکو بھی .
‘اب وہ احمد سے مخاطب ہوا تھا جو ابیہا کو گود میں اٹھا چکا تھا ”
”نہیں بیٹا یہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور جو گیم آپ لوگ کھیل رہے ہو اس سے اسکو چوٹ بھی لگ سکتی ہے..
‘احمد دراب کی بات پر اسکو سمجھنانے لگا تھا ”
”چلو نہ دراب گیم پھر شروع کرتے ہیں اب تو انکل نے بھی اسکو کھیلنے سے منع کر دیا ہے “
”عمر اسکو خاموش کھڑا دیکھ کر بولا تھا ‘
”ہاں بیٹا آپ دونوں کھیلو ہم دونوں وہاں بیٹھ کر آپ لوگوں کو دیکھتے ہیں …
”احمد سائیڈ پر رکھی چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اور ابیہا کو وہاں لے جا کر خود بھی بیٹھ کر ان دونوں کو کھیلتا ہوا دیکھنے لگا تھا ”
”ابیہا خاموش بیٹھی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جب دراب زور سے ہٹ کرتا تو وہ خوش ہو جاتی تھی اور دراب بس اسکو مسکراتا ہوا دیکھتا رہتا ”
”اسکے چہرے پر خوشی دیکھ اسکو بھی خوشی ہوتی تھی ..
💕💕💕
”وہ آج پھر سے تھکی ہوئی اپنے گھر واپس آئی تھی
”لیکن اب اسکو یہ تھکن بھی اچھی لگ رہی تھی کیونکہ وہ عمر کی قید سے جو آزاد ہو چکی تھی
‘پہلے تو اسکو یقین نہیں آیا تھا جب عمر نے اسکو گھر چھوڑنے کی حامی بھری تھی
لیکن جب وہ اسکو چھوڑ کر چلا گیا تو اسکا خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا
”وہ پھر سے اپنی اسی زندگی میں لوٹ آئی تھی ”
اس نے حسن اور عباس سر سے اپنی غیر موجودگی کے بارے میں کتنے ہی جھوٹ بول کر انکو مطمعین کیا تھا ”
”اور آج تو اسکی ابیہا سے بہت دنوں بعد ہوئی تھی اور اس سے بات کر کے جیسے وہ اپنی تھکن ہی بھول گئی تھی …
”یہاں تک کہ اس نے اپنے نکاح کے بارے میں اسکو بتانا ضروری نہیں سمجھا تھا ”
”بہت ساری باتیں کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا تھا وہ مطمعین ہو گئی تھی ابیہا کی طرف سے ..
”وہ ابیہا کے بارے میں سوچتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی مگر جیسے ہی اسکی نظر بیڈ پر پڑی تو اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے ..
”تم یہاں میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ..
‘عمر کو اپنے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر وہ غصّے سے اسکی طرف بڑھی تھی ..
”مگر جیسے ہی وہ اسکے پاس پھنچی تو عمر سے بیڈ پر لیٹا اسی کا انتظار کر رہا تھا اسکے قریب آنے پر اس نے عشل کا بازو پکڑ کر بیڈ پر اپنے اپنے قریب گرایا تھا …
”جب بیوی شوہر کے گھر رہنا پسند نہیں کرتی تو میں نے سوچا کیوں نہ شوہر ہی بیوی کے گھر شفٹ ہو جائے …
”وہ اب اسکے اوپر جھکتے ہوئے بولا تھا ..
”کیہ بکواس کر رہے ہو ..تم یہاں بلکل بھی نہیں رہ سکتے ..
عشل اسکو خود سے دور کرتے ہوۓ بیڈ سے کھڑی ہوئی تھی ..
”تو پھر اپنے تمہارے دل میں تو رہ سکتا ہوں نہ
وہ بھی شرارت سے کہتا بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا ”
”تم جیسے انسان کو میں اپنے گھر میں تو رکھ نہیں تم دل کی بات کر رہے ہو ‘
‘عشل نے اسکی بات کا مذاق اڑایا تھا ”
”اسکی بات عمر کو بلکل اچھی نہیں لگی تھی اس نے غصّے سے عشل کا بازو سختی سے اپنی گرفت میں لیا ”
”اور حسن جیسے لڑکو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے .
‘ان سے تو بہت ہنس ہنس کے باتیں کرتی ہو تم ‘
”آج کا منظر جیسے پھر سے اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تھا
‘اس وقت اس نے اپنے غصّے پر کیسے کنٹرول کیا تھا یہ وہ ہی جانتا تھا ‘
”اگر اسکو حسن پر شق نہ ہوتا تو وہ کبھی عشل کو یہاں آنے نہ دیتا
‘ایک بار اسکا شق یقین میں بدل جائے آگے اسکو کیا کرنا تھا اس نے سوچ رکھا تھا ”
”اسکے بارے میں میرے تم سے زیادہ اچھے خیالات ہیں نہ وہ تمہاری طرح بدتمیز ہیں اور نہ ہی اس نے تمہاری طرح کوئی گری ہوئی حرکت کی ہے …
-” وہ تم سے لاکھ گنا بہتر ہے وہ ..
”عشل کو پہلی بار اسکی جلن سے مزہ آیا تھا اسکو مزید جلانے کے لیے وہ بہت کچھ بول گئی تھی
”اگر میں بدتمیز اور گرا ہوا ہوتا تو تم اس وقت میرے سامنے کھڑی اتنی بکواس نہ کر رہی ہوتی .
اسکی بات پر عمر کا غصّہ مزید بڑھا تھا ساتھ میں اسکے بازو پر پکڑ بھی سخت ہوئی تھی ..
”کتنے دن رات تم میرے گھر میں میری قید رہی تھی اگر میں اتنا ہی گرا ہوا انسان ہوتا تو تمہارے ساتھ گری ہوئی حرکت کرنے سے بھی نہ رکتا ..
”اور پتہ ہے کیوں نہیں کیا میں نے ایسا کچھ ..
‘عمر ایک پل کے لیے رکا اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جسکی آنکھیں نم ہوئی تھی اسکی سخت پکڑ سے ..
”کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں دوسرو کی طرح بلکل مت سمجھنا مجھے ..
‘عمر نے ایک جھٹکے میں اسکا بازو آزاد کیا اور بنا اسکی طرف دیکھ روم سے نکلتا چلا گیا تھا
”جبکہ عشل بس خاموش کھڑی اسکو جاتا دیکھتی رہی تھی
اسکا اظھار سن کر اسکے پاس جیسے لفظ ہی نہیں بچے تھے کہنے کے لیے ..
💕💕💕💕
“”””””””(جاری ہے )””””””