Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
از اقرا شیخ
💞💞💞
”کہاں جا رہی ہو عائشہ تم ?
‘سب کچھ یوں اس طرح چھوڑ کر
”عائشہ ایک ہاتھ میں بیگ لئے دوسرے ہاتھ سے ابیہا کا ہاتھ تھام کر اس بڑے سے گھر سے نکل رہی تھی
‘جب آمنہ اسکے پیچھے پیچھے آتے ہوئے بولی تھی
”میرے پاس اب بچا ہی کیا ہے آمنہ جو میں چھوڑ کر جاؤں گی ..
”سب کچھ تو چھین لیا یہاں کے لوگوں نے میرا
”عائشہ آمنہ کی آواز پر پلٹی اور بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی ..
”کل سے اب تک کتنا روئی تھی وہ رو رو کے اب آنکھیں بھی سرخ ہو چکی تھی اسکی
”یہاں کے لوگوں نے تم سے کچھ نہیں چھینا ہے عائشہ ..
”بلکی اب یہاں سب جو کچھ ہے وہ اب تمہارا ابیہا اور دراب کا ہی تو ہے .
”اور اس بچے کو بھی تمہاری ضرورت ہے عائشہ تمھیں اب یہیں رہنا چاہئے …
”آمنہ اسکو سمجھاتے ہوئے بولی تھی انکا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ یہاں سے نہ جائے ..
”یہیں کے لوگوں کی وجہ سے میں نے اپنا شوہر کھو دیا اسکو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے …
”اور میرا اور میری بیٹی کا یہاں کچھ نہیں ہے اور نہ ہمارا کوئی تعلق ہے اس گھر سے .
”عائشہ غصّے سے بولتی پھر سے آگے بڑھی تھی ..
”اس میں دراب کا کیا قصور ہے اس معصوم بچے نے بھی تو اپنا باپ کھویا ہے.
‘اسکے ساتھ تم ایسا کیوں کر رہی ہو ..
”آمنہ کو اسکی بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی اس وقت وہ انکو صرف ایک خود غرض عورت لگ رہی تھی جسکو صرف اپنے نکسان کا دکھ تھا دوسرے کے درد کی بلکل پرواہ نہیں تھی …
” اسکا قصور یہ ہے کہ وہ داؤد خان بیٹا ہے
اس شخص کا بیٹا ہے وہ جسکی وجہ سے میرے شوہر کی جان گئی ہے …
”نفرت ہے مجھے اس گھر سے اس گھر کے لوگوں سے آپسے بھی آمنہ ..
”وہ سامنے کھڑی آمنہ کی طرف اپنی انگلی کر کے بولی تھی ….
”تمھیں یہ تو دیکھ رہا ہے کہ داؤد صاحب کی وجہ سے تمہارے شوہر کی جان گئی ہے مگر ی نہیں دکھائی دیا کے اتمہارے شوہر کی جان بچانے کے لیے داؤد خان کی جان گئی ہے ..
تم اس وقت غصّے میں ہو تھوڑا آرام سے سوچوں پھر پتہ چل جائے گا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو بچانے کے لیے اپنی اپنی جان گوائی ہے …
”آمنہ کو اس وقت غصّہ تو بہت ایا تھا عائشہ پر مگر ضبط کر گئی تھی انکے غصّہ کرنے سے بات بگڑ سکتی تھی …
”مجھے کچھ نہیں سوچنا اور نہ ہی مجھے کچھ سننا ہے بہتر ہے آپ مجھے جانے دیں ..
”عائشہ انکو جواب دیتی پھر سے آگے بڑھی تھی مگر پھر یکدم سے پلٹی ..
”یہ جو آپ لوگوں نے زبردستی کہ رشتہ باندھا ہے نہ ان دونوں کے بیچ میں اس رشتے کو بلکل نہین مانتی میں اپنی بیٹی کو لیکر جا رہی ہوں اور آئندہ آپ لوگ ہمارے آس پاس بھی نظر نہ آنا ..
”عائشہ نفرت سے کہتی پلٹی اور پھر گھر سے باہر نکل گئی تھی آمنہ بس اسکو ڈور تک جاتا دیکھتی رہی تھی …
“عائشہ کے جانے کے بعد آمنہ تھکے قدموں سے اندر آئی تھی اور یک نظر سوتے ہوئے دراب کو دیکھا انہونے سوچ لیا تھا کہ وہ عائشہ کی یہ نفرت ختم کر کے ہی رہیں گے ..
”وقت گزرتا گیا آمنہ شروع سے ہی دراب کو ابیہا اور اسکے رشتے کے بارے میں اسکو سمجھاتی رہتی تھی ..
”انہونے دراب سے کچھ نہیں چھپایا تھا عائشہ کی نفرت سب کچھ بٹ رکھا تھا اسکو …
”اور وہ اتنا تو سمجھتی تھیں کہ ابیہا کے دماغ میں بھی عائشہ نے غلط باتیں ہی ڈال رکھی تھی …
‘اور انکی یہ بات سچ بھی ہوئی تھی.
”دراب کی زندگی کے بس دو مقصد تھے اپنے باپ اور انکل کا بدلہ ہر دوسرا ابیہا …
”اور دوسری طرف عائشہ نے شروع سے ہی ابیہا کے دل میں دراب اور اس رشتے کو لیکر ناپسندیدگی ڈالنا شروع کر دی تھی ..
”بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک ابیہا کے دل میں دراب کے لیے جو نفرت تھی اس میں اضافہ ہوتا رہا تھا ..
”اس نے اپنی ماں کے نظرئے سے ان لوگوں کو دیکھا تھا.
”اس رشتے کو لیکر اسکے دل کبھی کوئی احساسات نہیں جاگے تھے ..
“مگر اب اسکے ساتھ اسکے پاس رہ کر اسکے احساسات بدل گیے تھے ..
”وہ نفرت سے بچپن سے اب تک وہ اس سے کرتی آ رہی تھی کہیں کھو سی گئی تھی .
لیکن اس بات کو وہ ماننا نہیں چاہتی تھی ”
💕💕💕
”وہ لاؤنج کی طرف بڑھی تھی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آمنہ بیگم کس سے بات کر رہی ہیں ..
”مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران کھڑی رہ گئی تھی ..
”آمنہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا شخص اور کوئی نہیں عمر ہی تھا ..
”وہ کلب میں کتنی ہی بار اسکو دیکھ چکی تھی اور اسکا نام بھی اسکو وہیں سے معلوم ہوا تھا ..
”آمنہ بیگم جب اسکو اپنے بیٹے عمر کے بارے میں بتاتی تھی تو اسکے دماغ میں یہ بات بلکل ہی نہیں آئی تھی کہ وہ عمر یہ والا عمر بھی ہو سکتا ہے ..
”امی مجھے آپکو کسی خاص انسان سے ملوانا ہے
”عمر کی آواز پر وہ اپنی سوچ سے باہر نکلی تھی ..
”اچھا ..کون ہے وہ خاص انسان جسکے بارے میں تم نے مجھ سے ذکر تک نہیں کیا ہے .
‘آمنہ بیگم خفگی سی بولی تھی ..
”بس امی وقت ہی نہیں ملا
لیکن اس نے مل کر آپ خوش ہو جائے گی اس بات کی مجھے پوری امید ہے .
‘وہ اٹھ کر بیٹھا اور انکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر ماناتا ہوا بولا تھا …
”یہ تو اس خاص انسان سے ملنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ مجھے اس سے مل کر خوشی ہوئی ہے یا نہیں ..
”وہ اپنی ہنسی روکتی ہوئی بولی تھی جبکہ انکی نظر سامنے کھڑی ابیہا پر پڑی …
”ارے بیٹا ابیہا وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ نہ …
‘اسکو دروازے میں کھڑا دیکھ کر وہ اس سے مخاطب ہوئی اور اسکو اپنے پاس بلایا تھا ..
”ابیہا کے نام پر عمر نے چونک کر سامنے کھڑی ابیہا کو دیکھا جو آنکھوں میں حیرانی لیے اسکو دیکھ رہی تھی …
”دیکھو اس نالائق کو آج آئی ہے اپنی ماں کی یاد ..
”آمنہ بیگم اسکی حالت سے انجان بس بولتی جا رہیں تھیں اور وہ بس چپ چاپ بیٹھی انکو سن رہی تھی ..
”اچھا تم دونوں بیٹھ کر باتیں کرو میں تمہارے لیے ناشتہ تیار کر لیتی ہوں
”آمنہ بیگم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور ان دونوں کو وہاں چھوڑ کر کچن کی طرف بڑھی تھی ..
”انکے جانے کے بعد ابیہا خاموش بیٹھی تھی اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسکو اتفاق سمجھے یا کچھ اور ..
”میں تمہاری حیرانی کو اچھے سے سمجھ سکتا ہوں تم سوچ رہی ہو گی کہ یہ اتفاق ہے یا نہیں …
عمر نے اسکو خاموش دیکھ کر اپنی اپنی بات شروع کی تھی آج وہ آیا ہی تھا اس لیے کہ ابیہا اسکے بارے میں سب جان لے کیونکہ پھر اسکو عشل کو بھی تو سب سچ بتانا تھا …
” تمہاری یہاں موجودگی میرے لیے اتفاق نہیں ہے ابیہا کیونکہ میں پہلے سے ہی سب جانتا ہوں تمہارے بارے میں …
”ابیہا ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی.
اسکے اس طرح دیکھنے پر عمر مسکرایا اور پھر شروع سے اسکو سب بتاتا چلا گیا تھا …
اور ابیہا بس خاموشی سے اسکو سن رہی تھی اسکو عمر کا ایک ایک لفظ سچا لگ رہا تھا …
”تمہارا کڈنیپ کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ تم کون ہو ورنہ ہم تو جانتے ہی نہیں تھے کہ تم ہی ابیہا ہو …
”اپنی بات پوری کرکے عمر نے ابیہا کی طرف دیکھا جو اسکو ہی دیکھ رہی تھی ..
”آ جاؤ دونوں ناشتہ کر لو ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا میں دراب کو بھی اٹھا کر لاتی ہوں ..
”ابیہا اسکو جواب دینے ہی والی تھی کہ آمنہ بیگم کی بات پر خاموش ہو گئی تھی …
”چلو آؤ بعد میں بات پوری کر لے گے ہم عمر اٹھتا ہوا مسکرا کر بولا تو ابیہا بھی اسکی بات پر مسکرا کر اٹھی تھی ”’
💕💕💕
”اس نے آمنہ بیگم سے عمر کے بارے میں جو سنا تھا وہ بلکل ویسا ہی تھا
”وہ بہت ہی نرم طبیعت کا مالک تھا
وہ اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو زیادہ دیر چپ رہنے نہیں دے سکتا تھا ..
”اور ایسا ہی ابیہا کے ساتھ ہوا تھا
”وہ چند ہی گھنٹوں میں اسکے اور ابیہا کے بیچ اجنبیت کی دیوار گرا چکا تھا ..
”عمر سے بات کرتے وقت اسکو عشل کا بھی خیال آیا تھا
اس نے عمر کی آنکھوں میں عشل کے لیے جو دیکھا تھا وہ بھول نہیں پائی تھی ..
”مگر شاید وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا کیونکہ وہ اسکے اور آمنہ بیگم کے بیچ ہونے والی گفتگو سن چکی تھی ..
”کیا بات ہے تم آج کل خاموش رہنے لگی ہو کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہو گئی ہے ..
”وہ بیٹھی اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اسکو دراب میں روم میں آنے اور اسکے پاس آکر بیٹھے کی بھی خبر نہیں ہوئی تھی .
”اور تم آج کل بہت خوابوں میں رہنے لگے ہو میری مانو تو حقیقت کی دنیا میں واپس لوٹ آؤ …
”ابیہا اسکی بات کا جواب دیتی اٹھنے لگی تھی جب دراب نے اسکا بازو پکڑ کر اسکی کوشش کو ناکام بنایا تھا .
”میں حقیقت کی دنیا میں رہنے والا انسان ہوں تمہاری طرح خوابوں کو سہارا نہیں لیتا ..
”دراب اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اسی کے انداز میں بولا تھا .
”میں کیوں لینے لگی خوابوں کا سہارا ..
ابیہا اسکی پکڑ سے اپنا بازو آزاد کراتی ہوئی بولی تھی مگر دراب نے اپنی پکڑ اور مضبوط کی تھی
”اچھا تو پھر کل رات تو تم نیند میں اپنی محبت کا اظھار کر رہی تھی وہ کیا تھا …
”دراب نے تھوڑا سا جھوٹ بولا تھا ..
”اسکی بات پر ابیہا حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی اس نے ایسا کب بولا تھا …
”تم جھوٹ بول رہے ہو میں نیند میں بھی ایسا کچھ نہیں کہہ سکتی .
ابیہا کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا بولے اسکو یکدم سے اپنا خواب یاد آیا تھا جس میں وہ دراب کو پکار رہی تھی …
‘تم نے کہا ہے بلکہ کہنے کے ساتھ ساتھ تم نے اور بھی بہت کچھ کیا تھا ..
”دراب اسکی حالت سے مزا لیتا ہوا بول رہا تھا ..
‘جبکہ اسکی بات پر ابیہا کی پریشانی مزید بڑھی تھی وہ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرانا بھول کر بس ایک ٹک اسکو دیکھ رہی تھی …
”ک….کیا …کیا تھا میں نے
‘ابیہا اپنا خشک خشک حلق تر کرتی بولی تھی اسکو دراب کی بات پر یقین آیا تھا ..
”تم رات میرے اتنے قریب آئی تھی .
”اسکی بات پر دراب نے جھٹکے سے اسکو اپنے قریب کیا اور اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا
”ابیہا اسکی سانسیں اپنے کان اور گردن پر محسوس کر کے خود میں سمٹی تھی ..
”تمہارے یہ ہاتھ میرے چہرے کو چھو رہے تھے
دراب اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ہوئے بولا اور اسکی انگلیوں کو اپنے لبوں سے چوما تھا …
”’تم جھوٹ بول رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ..
‘ابیہا اپنی تیز ہوتی سانسوں کو درست کرتی اس سے اپنا ہاتھ آزاد کراتی ہوئی بولی تھی ..
”کیا ہوا ڈر کیوں گئی ابھی تو میں نے بتانا شروع ہی کیا ہے کہ کیا کیا تھا تم نے ..
”دراب اپنی مسکراہٹ چھپاتا سنجیدگی سے بولا تھا
مگر ابیہا اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے .
”نہیں سننا مجھے کچھ میرا ہاتھ چھوڑو ابیہا غصّے سے بولی تھی مگر اسکی بات پر اب دراب اسکو دونوں بازو سے تھام چکا تھا …
”مجھے تو اب تمہاری نیند کا انتظار رہتا ہے
کم از کم تم نیند میں تو میرے قریب آ ہی جاتی ہو وہ بھی خود سے ..
”وہ اسکی حالت سے انجوۓ کر رہا تھا …
”بہت برے ہو تم ..
جب وہ خود کو اسکی پکڑ سے آزاد نہ کرا سکی تو بےبسی سے بس اتنا ہی بول پائی تھی ..
”اس سے پہلے کہ وہ اسکی بات کا جواب دیتا اسکی پاکٹ میں موجود موبائل یکدم سے بجا تھا ..
‘دراب نے نرمی سے اسکے ہاتھوں کو آزاد کیا بیڈ سے اٹھ کر کال پک کی تھی …
”کیا بکواس کر رہے ہو ایسے کیسے ہو سکتا ہے
دوسری طرف کی بات سن کر وہ غصّے سے دہاڈا تھا
”اسکی دہاڈ سن کر یک پل کے لیے ابیہا ڈر گئی تھی
”وہیں رکو میں آ رہا ہوں
‘وہ فون کٹ کرتا تیزی سے روم سے نکلا تھا
اسکے چہرے پر ابیہا پریشانی آرام سے دیکھ سکتی تھی …
”دراب کی گاڑی جیسے ہی گھر سے نکلی تو ایک کار اسکے گھر کے آگے آکر رکی تھی …
”اپنا کام دھیان سے کرنا مجھے وہ لڑکی کسی بھی حال میں زندہ چاہئے ..
‘اگر کوئی راستے میں آۓ اسکو ختم کر دینا ..
”کار میں بیٹھا شخص اپنے آدمی کو ہدایت دیتا بولا اور اسکی بات پر وہ دونوں آدمی کار سے نکلے تھے
💕💕💕
”عمر تم نے کبھی اپنی فیملی کے بارے میں نہیں بتایا
“کون کون ہے تمہاری فیملی میں ?
”اچانک ہی کچھ یاد آتے ہی عشل نے اپنا سر عمر کے سینے سے اٹھا کر اس سے سوال کیا تھا
”آج پورا دن وہ عمر سے اسے بارے میں بات کرنے کا سوچ رہی اب یاد آتے ہی وہ پوچھ بیٹھی …
”میری فیملی میں تم ہو میں ہوں اور انشاللہ دو تین سال بعد دو تین بچے بھی ہو جائے گے ..
”عمر اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا بہت ہی آرام سے بولا تھا .
”مقصد صرف اسکو تنگ کرنا تھا ..
”میں تم سے تمہاری فیملی کے بارے میں پوچھ رہی ہوں ..
”وہ اسکا جواب سن کر چڑ کر بولی تھی ..
‘حد تھی اس بندے کی کوئی جواب ڈھنگ سے جو دے دیتا ہو ..
”میری جان میں بھی تو اپنی فیملی کے بارے میں بات کر رہا ہوں
آخر تم سے ہی تو شروع کرنی ہے مجھے اپنی فیملی عمر کہاں اتنی جلدی ماننے والا تھا مزید اسکو پریشان کرنے کے لیے بولا تھا ..
”تم سے تو بات کرنا ہی فضول
ہے جاؤ مجھے نہیں کرنی تم سے اب کوئی بھی بات .’عشل اسکا پھر سے وہ ہی جواب سن کر یکدم سے غصّے میں بیڈ سے اٹھی تھی …
”کہاں جا رہی ہو جو پوچھ رہی تھی اسکا جواب تو سنتی جاؤ ..
”اسکو بیڈ سے اٹھتا دیکھ عمر نے اسکو کمر سے پکڑ کڑ پھر سے اپنے قریب گرایا تھا ..
”نہیں مجھے نہیں سننا اب کچھ چھوڑو مجھے ..
”عشل اسکو خود پر سے ہٹاتی ہوئی بولی تھی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا تھا ..
”میری فیملی میں میری امی ہے ایک بڑا بھائی بھابی ہیں ..
”عمر بہت محبت سے اسکے چہرے پہ آۓ بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا تھا ..
”میں ہوں اور میری بیوی ہے جسکی ناک پر ہر وقت غصّہ رہتا ہے ..
”عمر نے جھک کر اسکی ناک چوما اور پھر اپنے دانتوں میں لیکر ہلکا سا دبایا تھا.
”اسکی اس حرکت پر عشل کے ہونٹھوں پر مسکراہٹ آئی تھی.
”تو پھر کب لیکر جا رہے ہو تم مجھے ان لوگوں کے پاس ..
اسکو مزید گستاخی پر آماده ہوتا دیکھ عشل اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تھوڑا فاصلہ بناتے ہوئے بولی تھی ..
”لے جاؤں گا لیکن اس پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو .
عشل کی بات پر عمر نے اپنا چہرہ اٹھا کر اس سے سوال کیا ..
”کیونکہ وہ جانتا تھا عشل اس نے ناراض ہوگی یہ جان کے کے وہ شروع سے ہی ابیہا کے بارے میں جنتا تھا کہ وہ کہاں اور اس نے اس سے یہ بات چھپا کر رکھی ہوئی تھی …
”بتاؤ نہ عمر کب لیکر جاؤ گے
اسکو خاموش دیکھ کر عشل پھر سے بولی تھی
‘بتاؤں گا پہلے وہ بتاؤ جو میں نے تم سے پوچھا ہے
عمر اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ..
”اور تمھیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں
”تم جیسے بدتمیز انسان سے کون محبت کرے گا ..
‘عشل بھی کہاں اتنی آسانی سے بتانے والی تھی جب وہ اسکو نہیں بتا رہا تھا تو وہ کیوں اسکی بات کا جواب دیتی ..
”اچھا جی تو تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے ..
”اسکی شرارت سمجھ کر عمر اسکو اب پوری طرح اپنے حصار میں لے چکا تھا ..
”ہاں …نہیں ہے اور تم جتنی جلدی ہو سکے اپنی یہ غلط فہمی دور کر لو ..
”عشل اسکو مزید تنگ کرتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس نے اپنی مسکراہٹ کو بہت مشکل سے روکا ہوا تھا ..
”اچھا جی ایسی بات ہے اب دیکھو تم میں تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتا ہوں کہ میں صرف بدتمیز نہی بہت بدتمیز ہوں ..
عمر اسکی مسکراہٹ دیکھ کر چڑ گیا تھا
اس نے اپنی پکڑ عشل پہ سخت کی اور جھک کر اسکے ہونٹھوں پر اتنی ہی سخت گستاخی کی تھی ..
”عمر کی اس حرکت پر عشل نے سختی سے اسکی شرٹ کو دبوچا تھا ..
”اب بتاؤ کتنا پیار کرتی ہو مجھ سے .
”اس سے جدا ہو کر وہ اسکی آنکھوں کو چومتا ہوا بولا تھا …
”تم بدتمیز نہیں جنگلی ہو پورے کے پورے .
عشل اسکے سینے پر زور سے مقا مارتی ہوئی بولی تھی آنکھوں میں خفگی تھی …
”چلو تمھیں اب اب یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ جنگلی کیسے کہتے ہیں .
‘عمر اپنی بات کہ کر پھر سے اس پر جھکا تھا مگر موبائل کی آواز پر وہ رکا تھا .
”عشل کو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا بیڈ سے اٹھا اور ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر دیکھ تو دراب کی کال تھی
اس وقت اسکی کال دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا ”
”عمر جلدی سے گھر جاؤ بنا سوال جواب کیے وقت کم ہے فورن نکلو .دراب نے اتنا کہہ کر فون کٹ کر دیا تھا .
”سنو مجھے ابھی بہت ضروری کام سے جانا ہے کل تم تیار رہنا تمھیں کل اپنے ساتھ اپنے گھر لیکر جاؤں گا اپنی فیملی کے پاس …
”دراب کی بات سن کر وہ بیڈ پر بیٹھی عشل کے پاس آیا تھا …
”اور ہاں جنگلی کیسے کہتے ہیں یہ کل بتاؤں گا تمھیں ..
”عمر جاتے جاتے پلٹ کر عشل کی طرف دیکھ کر بولا اور پھر تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا ..
”اسکی بات پر عشل مسکرا کر رہ گئی تھی ..
💕💕💕
Continue…
