Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“‘مطلب تم نے ابیہا کو سچ بتا دیا ہے کہ تم کون ہو ?
”عمر اپنے سامنے بیٹھے دراب سے سوال کر رہا تھا جو بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھ رہا تھا ”
”ہاں بتا دیا ہے اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے ?
”ایک نہ ایک دن تو اسکو بتانا ہی تھا کہ میں کون ہوں تو میں نے اب بتا دیا ”
”دراب لاپروہئی سے کندھے اچکا کر بولا تھا ”
”ہاں بات تو تمہاری بلکل ٹھیک ہیں مگر میں سوچ رہا تھا پہلے اسکے دل میں تمہارے لیے جو نفرت ہے اسے ختم کر دیتے اب تو وہ غلط سوچ رہی ہوگی تمہارے بارے میں ”
”عمر بولتے بولتے اک پل کے لیے رکا اور دراب کی طرف دیکھا جسکا دھیان اب مکمل اس پہ ہی تھا …
”صاف صاف بولو عمر تم کہنا کیا چاہتے ہو ”
”اسکو اپنی بات میں بیچ میں رکتا ہوا دیکھ کر وہ بولا تھا ”
”میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کی اب ابیہا تمہارے بارے میں اور غلط سوچے گی ..
‘کہ تم نے اسکو کڈنیپ کروا کر یہاں لاۓ ہو جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا تھا کہ وہ کون ہے ورنہ تم نے تو کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا ”
”عمر اسکی بات یاد کرواتا ہوا بولا تھا کیونکہ دراب نے کبھی اسکو یہاں زبردستی رکھنے کے بارے میں سوچا نہیں تھا ”
”تم ہی بتاؤ یہ جاننے کے بعد کہ وہ کس جگہ اور کن لوگوں کے بیچ کام کر رہی ہے تو میں کیسے اسکو وہاں رہنے دیتا ?
” اور ویسے بھی اسکو جو سوچنا ہے سوچنے دو عمر مجھے فرک نہیں پڑتا کیونکہ میں اپنی جگہ صحیح ہوں …
”اور رہی بات اسکی مجھے غلط سوچنے کی تو صحیح وقت آنے پہ اسکی ساری غلط فہمی بھی دور ہو جائے گی جب وہ میرے ساتھ رہے گی ”
”اپنی بات ختم کر کے وہ لیپ ٹاپ بند کرتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
”اسکی پوری بات سننے کے بعد عمر خاموش ہی رہا تھا وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا ”
”اگر اسکو بعد میں پتا چلتا تو وہ اور زیادہ بدغمان ہو جاتی انکے بارے میں اور غلط سوچتی ”
”اچھا یہ چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم کب آ رہے ہو اس سے ملنے ”
”اسکو خاموش دیکھ کر دراب پھر سے بولا تھا ..
ا’اسکو تمہارے بارے میں بھی تو پتہ چلنا چاہئے کہ تم کون ہو کیا ہو میرے لیے …اسکے لہجے میں عمر کے لئے محبت تھی.
”ابھی فلحال نہیں جب تک اسکا غصّہ کم نہیں ہو جاتا ورنہ اسکو لگے گا کہ میں اسکی جاسوسی کرنے جاتا تھا کلب …
”عمر اسکی بات پہ مسکرا کے بولا تھا کیونکہ اسکو پتہ تھا ابیہا اسکو دیکھ چکی ہے کلب میں بہت بار ”
”اسکو ڈر تھا کہ ابیہا دراب کا غصّہ اس پر بھی نہ نکال دے .
”ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی …دراب کو اسکی بات پہ ہنسی آئی تھی وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ ابیہا سے ملنے سے کیوں منع کر رہا ہے ””
💕💕💕💕
”وہ کب سے گلاس وال کے پاس کھڑی باہر کے نظروں کو دیکھ رہی تھی ‘
”اسکو ایسے ایسے کھڑے کھڑے کتنا وقت ہو گیا تھا اسکو کچھ خبر نہیں تھی ”
”کل سے وہ پھر سے اس کمرے میں بند ہوکر رہ گئی تھی اور دراب نے اسکو مزید تنگ کرنا بھی مناصب نہیں سمجھا تھا ..
” ابیہا رہ رہ کر بس اپنی قسمت پہ رونا آ رہا تھا ”
”کیا ستم کیا تھا قسمت نے اس پہ ‘
”جس شخص سے بچنے کے لیے وہ اپنا گھر اپنا نام تک بدل چکی تھی مگر کیا فائدہ ..
”وہ اس وقت اسی شخص کی قید میں تھی ‘
”اب اسکو یہ لگ رہا تھا کہ اسکی اس قید سے آزادی اب ممکن نہیں ہے ”
‘نہیں ”میں یہاں نہیں رہوں گی چلی جاؤں گی میں یہاں سے ”اسکا ارادہ اب بھی نہیں بدلا تھا بلکی اور پختہ ہو گیا تھا “
”اگر تمہارا سوگ منانا ختم ہو گیا ہو تو آ جاو باہر مجھے تمھیں کسی سے ملوانا ہیں ..
”دراب جب روم میں داخل ہوا تو اسکو گلاس وال کے پاس کھڑا دیکھ کر اسکے پیچھے کھڑا ہوکر اس نے مخاطب ہوا تھا ..
”ابیہا جو اپنی سوچوں میں گم کھڑی تھی اسکی آواز پہ ہوش میں آئی تھی لیکن وہ پلٹی نہیں تھی ایسے ہی کھڑی رہی تھی ..
”مجھے کسی سے نہیں ملنا ہے …نہ تو مجھے تم سے مطلب ہے اور نہ ہی م سے جڑے کسی بھی رشتے سے ..
”سو بہتر ہے تم یہاں کھڑے رہ کر اپنا اور میرا وقت برباد مت کرو …
”وہ ایسے ہی کھڑے کھڑے تلخ لہجے میں بولی تھی جبکہ آنکھیں ابھی بھی باہر کے نظاروں کو دیکھ رہی تھی …
”میں نے تم سے تمہاری مرضی نہیں پوچھی ہے ..آکر باہر چلنے کو کہا ہے تو باہر چلو ”
”ابیہا کا تلخ لہجہ محسوس کر کے دراب کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ..
‘اس نے سختی سے ابیہا کا بازو پکڑا اور تیزی سے اپنے ساتھ
کھینچتا ہوا روم سے باہر لے جانے لگا تھا …
”تمھیں میری بات سمجھ نہیں آتی مجھے نہیں ملنا ہے کسی سے ..
”ابیہا اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرانے کی ناقام کوشش کر رہی تھی مگر دراب تو جیسے اسکی سن ہی نہیں رہا تھا ..
”وہ اسکو ایسے ہی اپنے ساتھ لیے تیز تیز قدم اٹھاتا لاؤنج کی طرف بڑھ رہا تھا ..
”میں نے کہا نہ کہ مجھے نہیں جانا تو نہیں …
‘ابیہا اس سے پہلے کی اور کچھ کہتی سامنے صوفہ پہ بیٹھی حستی کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا”’
”یہ لیجئے مل لیں اپنی بہو سے ”لاؤنج میں رک کر دراب ان سے مخاطب ہوا تھا
”ابیہا ”’اسکی آواز سن کر انہونے گردن موڑ کے دیکھا تو دراب کے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھ کر وہ مسکراتی ہوئی اسکے پاس آئی تھی ”
”جبکہ ابیہا ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہی تھی آخر کون تھی جو اسکو جانتی تھی جبکہ اس نے تو شاید ان کو پہلی بار دیکھا تھا ”
”ماشاللہ ”تم بچپن میں جتنی خوبصورت تھی بڑے ہوکر اور بھی خوبصورت ہو گئی ہو ..انہونے اسکا چہرہ تھام کر اسکی پیشانی چومی تھی ..
”ابیہا کو انکے لمس سے پتا نہیں کیوں اک سکون سا محسوس ہوا تھا ..
”میں سمجھ سکتی ہوں تم مجھے پہچان نہیں پائی ہو کیونکہ جب تم یہاں آئی تھی تو بہت چھوٹی تھی اور میں یہ بات بھی اچھے سے سمجھتی ہوں کہ عائشہ نے کبھی تم سے میرا ضکر نہیں کیا ہوگا ”
” پھر نکاح کے بعد تم دوبارہ نہیں آئی اور نہ تمہاری ماں …
”انکے منہ سے اپنی ماں کے بارے میں سن کر ابیہا کی آنکھیں نم ہوئی تھی …
“وہ اسکو اپنے ساتھ صوفہ پہ لے کر بیٹھ گئی تھی اور ابیہا بس انکو سن رہی تھی اسکو نا جانے کیوں ان سے ایک اپناپن سا محسوس ہو رہا تھا ..
”دراب بھی وہیں سنگل صوفہ پہ بیٹھا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اسکو ابیہا کی بات بہت اچھی لگی تھی کہ اس نے انکے ساتھ کوئی تلخ بات نہیں کی تھی ”
”اسکو آمنہ بیگم کو یہاں لانے کا فیصلہ بلکل ٹھیک لگا تھا””
💕💕💕💕
“”کیا بات ہے عشل !
”میں کل سے دیکھ رہا ہوں کہ تم کچھ پریشان سی لگ رہی ہو?
”حسن نے عشل کی طرف دیکھ کر کہا جو نہ جانے ادھر ادھر دیکھتی کس کو تلاش کر رہی تھی ”
”عشل میں تم سے بات کر رہا ہوں دھیان کہاں ہے تمہارا ?
”اسکو اپنی طرف متوجہ نہ دیکھ کر حسن نے اسے پھر سے مخاطب کیا تھا ”
”ہاں ..ہاں ”وہ ..کیا کہہ رہے تھے تم ?
”سوری میں نے سنا نہیں ”
”حسن کے پھر سے مخاطب کرنے پہ عشل نے بوکھلا کر اسکی طرف دیکھا تھا ”
”میں یہ پوچھ رہا تھا کہ تم مجھے کل سے کچھ پریشان لگ رہی ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا ?
”حسن نے اپنا سوال پھر سے دوہرایا تھا ‘
”ارے …نہیں ..نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہیں ..تمھیں غلط لگا ہے !
”اس نے مسکرا کر بات کو ٹالنے والے انداز میں کہا تھا ‘
”اب وہ اسکو کیا بتاتی کہ اسکی پریشانی کی وجہ ہے
‘دو دن ہو گیے تھے اس بات واقع کو ہوۓ “
‘عشل کہیں نہ کہیں اس دن کے بعد سے عمر سے ڈرنے لگی تھی ”
اک ڈر سا تھا جو اسکے دل میں بیٹھ گیا تھا ‘لیکن جب بھی اسکی حرکت کو یاد کرتی تو عمر پہ غصّہ بھی اتنا ہی آتا تھا’
”عمر کی وجہ سے وہ اب حسن سے بات کرنے سے بھی ڈرنے لگی تھی ”
”کیونکہ اسکو کہیں نہ کہیں یہ ڈر بھی تھا کہ عمر حسن کو کچھ نکسان نہ پھوچا دے ”
”لیکن اس بیچ جو بات اسکے لیے سکون کی تھی وہ دو دن سے عمر کی کلب میں غیرموجودگی تھی ”
”اس لیے وہ اس وقت سکون سے حسن سے بات بھی کر رہی تھی ”
‘”عشل میں تمہارا دوست ہوں تم مجھے بتا سکتی ہو کی کیا پروبلم ہے تمھیں ‘
”شاید میں کچھ مدد کر سکوں ‘
‘حسن نے کہتے کے ساتھ ہی اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا ”
”نہیں ”حسن سچ میں ایسی کوئی بات نہیں ہیں ..
” عشل نے بہت ہی آرام سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر اسکو جواب دیا تھا ‘
”پتہ نہیں کیوں حسن جب سے واپس آیا تھا عشل کو اسکا رویہ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا..
اسکا بار بار چھونا عشل کو برا لگتا تھا مجبوری یہ تھی کہ وہ اسکو کہہ بھی نہیں سکتی تھی ”
”اچھا میں اب چلتی ہوں میری ڈیوٹی ختم ہی گئی ہے .
‘عشل وہاں سے اٹھتے ہوئے بولی تھی ..’
”اگر اج میری لیٹ ڈیوٹی نہ ہوتی تو میں ضرور تمھیں چھوڑنے جاتا ..
”حسن اسکو اٹھتا دیکھ کر بولا تھا ..
‘کوئی بات نہیں میں چلی جاؤں گی مجھے اب ڈر نہیں لگتا تم پریشان مت ہو ..
”عشل اسکی جواب دے کر باہر نکل گئی تھی …
“ابھی وہ کچھ قدم دور ہی چلی تھی کہ اچانک ہی کسی نے اسکے منھ پہ رومال رکھا تھا ..
” عشل اس سے پہلے کہ کچھ کرتی اسکا سر یکدم سے بہت بری طرح چکرایا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہوتی چلی گئی تھی..
💕💕💕💕💕
”وہ ابھی ابھی آمنہ بیگم کے روم سے اپنے روم میں آئی تھی..
”جو بھی تھا وہ ان سے کوئی تلخ بات یا برا رویہ نہیں رکھ سکی تھی ..
”بہت دنوں بعد اسکو اس گھر میں کچھ اچھا لگا تھا تو وہ تھی آمنہ بیگم کی موجودگی .
‘ان سے بات کر کے اسکو ایک سکون سا ملا تھا ..
”اسکو یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی تھی کہ آمنہ بیگم دراب کے گھر کی ملاذمہ تھی مگر جب دراب کی ماں کا انتقال ہوا تو انہونے ہی اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ دراب کو بھی پرورش کی تھی..
”اور یوں وہ دراب کے گھر میں ملاذمہ سے انکے گھر کی ہی اک فرد بن گئی تھی شوہر کا تو انکے پہلے ہی انتقال ہوا وہ تھا…
”وہ اپنے روم میں جا رہی تھی جب اسکی نظر اپر کی طرف جاتی سیڑھیوں پر پڑی کچھ سوچ کر اس نے اپر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے ”
”وہ پہلے ہی سب جگہ دیکھ چکی تھی مگر اسکو یہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملا تھا ابھی وہ اپر آئی تھی جب اسکی نظر ایک روم پر پڑی ..
”
یہ روم وہ دیکھ نہیں سکی تھی کیونکہ وہ پہلے بھی لاک تھا کچھ سوچ کر وہ پھر سے اس روم کے پاس گئی تھی اور جیسے ہی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی اس بار وہ کھل گیا تھا وہ حیران ہوتی اندر داخل ہوئی تھی ….
”اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا تو بس دیکھتی ہی رہ گئی یہ روم تو اسکے روم سے بھی بہت بڑا اور خوبصورت تھا جس میں وہ رہ رہی تھی ..
”اس روم میں بھی گلاس وال تھی جس سے نیچے لان نظر آ رہا تھا ..
”باہر کا نظارہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا وہ بس اسی میں کھو سی گئی تھی ”
”کیا بات ہے تمھیں تو بہت جلدی ہیں میرے روم میں آنے کی..
”وہ کھڑی باہر دیکھ رہی تھی جب دراب کی آواز سن کر چونک کر پلٹی تھی .
”دراب بڑے آرام سے اپنا ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے اسی کو دیکھ رہا تھا جبکہ آنکھیں بھی شرارت تھی …
”مجھے تو تمھیں جان سے مارنے کی بھی بہت جلدی ہے اگر کبھی موقع تو ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی …
”ابیہا اسے قہر آلوده نظروں سے گھور رہی تھی اسکے الفاظ سے غصّہ آیا تھا اسکو …
”جبکہ دراب کھڑا اسکی آنکھیں دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ نگاہوں سے مار سکتی تو یقینن دراب خان اس وقت تڑپ رہا ہوتا ..
”اپنی اسی سوچ پہ دراب کے ہونٹھوں پہ ہنسی آئی تھی …
”مجھے تم سے نفرت ہے دراب خان بےپناہ نفرت ..اسکی ہنسی دیکھ کر ابیہا کو لگا کہ وہ اسکا مذاق بنا رہا یکدم سے وہ غصّے سے چیلائی تھی …
“”احتیاط سے بیگم ‘
”بےپناہ نفرت اور بےپناہ محبت ایک ہی سیکے کے دو پہلو ہیں.
‘کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نفرت محبت میں بدل جائے ..
”اسکی بات ابیہا کو مزید غصّہ دلانے کے لئے کامیاب رہی تھی .
‘غلط فہمی ہے تمہاری …تم جیسے انسان سے صرف نفرت کی جا سکتی ہے وہ بھی بےانتہا..
‘وہ اسکی طرف انگلی اٹھا کر ایک ایک لفظ دانت کچکچاتے ہوئے کہہ رہی تھی …
”دراب نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا تھا جسے ابیہا نے چھوڑانے کی کوشش کی پر ناکام رہی تھی ..
”اور …..اگر ہو گیا تو ?
”تمھیں مجھ سے محبت ہو گئی جسکی کوئی حد نہ ہو جو بےحد ہو بےانتہا ..
‘تب کیا کروگی تم ?
”دراب خان ایسے ہی اسکا ہاتھ تھامے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا ..اسکی آنکھوں میں اک جنون تھا دیوانگی تھی ابیہا نے فورن سے اپنے نظریں دوسری طرف کر لی تھی..
”پتہ نہیں کیوں ووہ زیادہ دیر تک اسکی آنکھوں میں دیکھ نہ سکی تھی ..
‘اسکے اس طرح سے نظریں پھیر لینے پر دراب مسکرایا اور ابیہا کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے سامنے کر کے اسکی ہتھیلی پر اپنے لب رکھ دیے تھے …
”ہاتھ چھوڑی میرا تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ..
‘دراب کی حرکت پہ ابیہا کا چہرہ یکدم سے سرخ ہوا تھا اس نے دوسرے ہاتھ سے اسکو دور کرنا چاہا تھا پر دراب نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنی گرفت میں لے لیا تھا .
”اب وہ مکمل اسکی پکڑ میں تھی اور خود کو آزاد کرنے کی اپنی ناکام سی کوشش کر رہی تھی ..
”تم میری پکڑ میں مچلتی ہوئی کتنا اچھی لگتی ہو مجھے یہ میں تمھیں بتا نہیں سکتا ”
”کرتی رہو کوشش ”
”دراب اسکو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ابیہا کو اسکی مسکراہٹ زہر لگی تھی ..
”ابیہا کو جب لگا کہ اس طرح سے بات نہیں بں رہی ہے تو اس نے دراب کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑ دیے تھے ..
”جبکہ دراب پہ تو کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا تھا وہ بس خاموشی سے کھڑا اسکو محنت کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا ..
”پر پھر اسکو اس پہ ترس آ گیا تھا دراب نے پل میں اسکے ہاتھوں کو آزاد کیا تو وہ بنا اسکی طرف دیکھے دوڑتی ہوئی روم سے باہر نکلی تھی ”
‘اسکے جانے کے بعد دراب نے اپنا ہاتھ دیکھا جہاں سے اب ہلکا سا خون نکل رہا تھا اس نے اپنے لبوں سے اسکے دانتوں سے بنے نشان کو چھوا تھا اور خود ہی مسکرا دیا ””
💞💞💞💞💞💞
“”””””””(جاری ہے )””””””
