Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“”کوئی ہے ?
کوئی مجھے یہاں سے باہر نکالو میری مدد کرو پلز ..
“صبا کب سے چلائیں جا رہی تھی اپنی مدد کے لئے پکار رہی تھی مگر سب بی اثر کوئی وہاں ہوتا تو اسکی مدد کرتا
پر وہ اس وقت جہاں موجود تھی وہاں کوئی اسکی مدد کرنے والا نہیں
“عشل آ جاؤ پلز میری ہیلپ کرو مجھے یہاں سے باہر نکالو ..
“وہ ایک بار پھر سے بولی تھی
“ایک تو انجان جگہ اپر سے اندھیرے میں ڈوبا ہوا کمرہ اسکے خوف کو بڑھانے کے لیے کافی تھا
“اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے آ گئی تھی شام عشل کے جانے کے بعد کچھ دیر تو وہ ایسے ہی بیٹھی رہی تھی اور سوچتی رہی تھی کہ اب اسکو آگے کیا کرنا چاہئے
“پھر جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ تھک ہار کر پھر سے لیٹ گئی تھی ہر کچھ ہی دیر بعد نیند کی وادیوں میں بھی اتر گئی اسکو کچھ پتہ نہیں چلا تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے
“اور اب جب اسکو ہوش آیا تو خود کو ایک اندھیرے کمرے میں ایک کرسی پہ بیٹھا ہوا پایا تھا اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے باندھا گیا تھا
اسکے پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے جب دماغ پوری طرح بےدار ہوا تو خوف سے اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی
“اور بس جب سے وہ اپنی ہیلپ کے لیے آواز دے رہی تھی مگر کسی تک اسکی آواز شاید جا نہیں رہی تھی اسکی یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اسکو یہاں کیوں لایا گیا ہے
“کوئی مجھے بتاتا کیوں نہیں ہے کیوں لایا گیا ہے مجھے یہاں?
وہ ایک بار پھر سے چیخی تھی
تبھی روم کا دروازہ کھلا اور بند ہوا اور کوئی اندر داخل ہوا تھا ہلکی سی روشنی پورے کمرے میں پھیل کر ختم ہوئی تھی ..
“کوئی چلتا ہوا اس تک آ رہا تھا وہ اسکے قدموں کی آواز اس خاموشی میں آرام سے سن سکتی تھی
“کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو مجھ سے?
وہ ایک بار پھر ہمت کرتے ہوئے بولی آخر کون تھا اور کیوں لایا گیا ہے اسکو یہاں..
“مگر سامنے والے نے اسکی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا
“آخر تم مجھے بتاتے کیوں نہیں ہو کہ مجھے یہاں پر کیوں لایا گیا ہے …
“”اس بار وہ اپنے خوف اور گھبراہٹ پر قابو پاکر حلق کے بل چلاتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جسکی وہ صرف آنکھیں ہی دیکھ پا رہی تھی …
“”وہ اس وقت جس کمرے میں موجود تھی وہ کمرہ پورا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا پر کھڑکی سے آتی روشنی کی وجہ سے وہ اپنے سامنے موجود شخص کی آنکھیں دیکھ رہی تھی جسکی آنکھ سے اپر سے پیشانی تک ایک نشان تھا جو اسکی آنکھوں کو اور خطرناک بنا رہا تھا…
“اسکی بات سن کر وہ دو قدم آگے بڑھا تھا جس وجہ سے اسکا چہرہ اب مکمل اندھیرے میں چھپ گیا تھا..
“تمہیں سنائی نہیں دے رہا ہے میں کیا …..
“شش…مجھے عورتوں کا اونچی آواز میں بات کرنا بلکل پسند نہیں ہیں
..وہ اسکا جبڑا سختی سے پکڑتا ہوا بولا تھا جس سے اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا.
“اور رہی بات کہ تمھیں یہاں کیوں لایا گیا ہے تو بےفکر رہو جلد ہی معلوم ہو جائے گا یہ بھی ..
ڈی کے نے ایک جھٹکے سے اسکے چہرے کو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا ..
“سر بشر آپ سے ملنا چاہتا ہے بہت ضروری بات کرنی ہے اسکو آپ سے .
“وہ ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا جب دروازہ کھلا تھا اور اسکا آدمی اندر آیا ..
“اسکے دروازہ کھولنے سے ایک دم سے روشنی صبا کے چہرے پر پڑی تھی اور اب اسکا چہرہ ڈی کے سامنے تھا پر اسکی دروازے کی طرف پیٹہ ہونے کی وجہ سے صبا اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی.
جب سے وہ یہاں لائی گئی تھی ڈی کے نے پہلی بار اسکا چہرہ دیکھا تھا یا اس نے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی
اسکو عمر کی بات بلکل سچ لگی تھی وہ شکل سے بلکل بھی ایسی لڑکی نہیں لگتی تھی..
“ٹھیک ہے تم میرے آفس میں بھیج دو میں آ رہا ہوں ..
وہ ایک نظر صبا کے چہرے کو دیکھتا اپنے آدمی کی طرف مڑا تھا
اور اسکے جانے کے بعد وہ بھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا تھا..
“جبکہ اسکے جانے کے بعد وہ پھر سے چیختی رہ گئی تھی””
💞💞💞
“”مس عشل کیا میں جان سکتا ہوں کہ مس صبا ڈیوٹی پہ کیوں نہیں آ رہیں ہیں
“عباس عشل کو ایک سائیڈ پہ کھڑا دیکھ کر اسکے پاس جاکر صبا کے بارے میں پوچھ رہا تھا
“نہ ہی انہونے کل اپنے نہ آنے کے بارے میں بتایا تھا اور نہ ہی آج وہ مجھے نظر آ رہیں ہیں
اسکی خاموشی پہ عباس پھر سے بولا تھا جبکہ عشل کے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سر عباس کو کیا جواب دے
“کل جب وہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر واپس لوٹی تو صبا اسکی کہیں نظر نہیں آئی تھی اسکو گھر میں نہ دیکھ کر اسکی پریشانی بڑھی تھی
عشل نے اپنا چھوٹا سا گھر پورا تلاش کر لیا تھا پر صبا اسکی نہیں ملی اب صحیح میں اسکی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی
“اس نے سوچا کہ وہ شاید کچھ وقت کے لئے باہر گئی ہوگی تو وہ وہیں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی تھی
مگر رات سے صبح ہو گئی صبا نہ ہی واپس آئی نہ ہی اسکے بارے میں اسکو کچھ پتہ چلا تھا
“انکا اس شہر میں کوئی تھا بھی نہیں تو وہ کس سے پوچھتی جاکر
پورا دن اسی پریشانی میں گزر گیا تھا اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ صبا آخر جا کہاں سکتی ہے
“رات وہ کلب آئی تھی اس امید سے کہ شاید وہ یہاں ہوگی پر اسکو یہاں پر بھی موجود نہ دیکھ کر اسکی پریشانی اور فکر بڑھتی جا رہی تھی
“میں تم سے بات کر رہا ہوں مس عشل کہاں گم ہو تم ?
عباس اسکو کسی گہری سوچ میں گم دیکھ کر اس سے پھر سے مخاطب ہوا تھا
“سوری سر …وہ دراصل صبا کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہیں تو اس لئے وہ نہیں آ سکتی
عشل نے اس سے جھوٹ بولا تھا اب وہ اسکو سچ تو بتا نہیں سکتی تھی
“کیونکہ کہیں نہ کہیں اسکو عباس پہ بھی شق ہوا تھا کی اس نے قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا تو کہیں اس نے تو صبا کو پر اپنی سوچ کو جھٹک کر اللہ سے صبا کی حفاظت کی دعا کرنے لگی تھی کہ وہ جہاں بھی ہو سلامت ہو
“اسکا جواب سن کر عباس سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا تو اسکے جانے کے بعد عشل نے سکھ کا سانس لیا تھا””
💞💞
“کیا بکواس کر رہے ہو تم پتہ بھی ہے کیا بول رہے ہو ?
“ڈی کے غصّے سے دہاڈتا ہوا بولا تو اسکی دہاڈ سن کر ایک پل کے لیے ڈر گیا تھا
“نہیں سر بکواس نہیں کر رہا ہوں میں یہ سچ ہے کہ عائشہ میم کا پانچ مہینے پہلے انتقال ہو چکا ہے
“بشر ڈرتے ڈرتے بولا تھا اسکو ہمیشہ سے ہی ڈی کے کے غصّے سے خوف محسوس ہوتا تھا.
“میں تمہاری بات پر کیسے یقین کر لوں ابھی کچھ دن پہلے تو تمھیں کچھ معلوم نہیں تھا انکے بارے میں
بشر کی بات پہ وہ غصّے سے بولا تھا اسکا دل ہی نہیں مان رہا تھا اسکی بات پہ یقین کرنے کو ..
“سر میں آپکے کہنے پر پھر سے گاوں گیا تھا اور وہاں سے ہی مجھے معلوم ہوا ہے عائشہ بیگم کے بارے کہ پانچ مہینے پہلے انکا انتقال ہو چکا ہے
اور انکے انتقال کے اگلے دن ہی ابیہا میم گاوں چھوڑ کر چلی گئی تھی
یہ بات بھی انکے گھر کے سامنے رہنے والی فیملی سے معلوم ہوئی تھی
“بشر اسکے سامنے کھڑا تفصیل سے اسکو سب بتا رہا تھا
جبکہ عائشہ بیگم کے بارے میں سن کر اسکی بہت دکھ ہوا ایسا بھی ہو جائے گا اس نے سوچا نہیں تھا
“یہ سب معلومات ان لوگوں سے بڑی مشقل سے ملی ہے کیونکہ ابیہا میم نے جانے سے پہلے ان لوگوں کو سختی سے منع کیا تھا کہ اسکے اور اسکی ماں کے بارے میں کوئی پوچھنے آۓ تو وہ کسی کو کچھ نہ بتائے
اپنی بات ختم کر کے بشر اب خاموش کھڑے ڈی کے کو دیکھنے لگا تھا
“اسکو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ عائشہ بیگم اس دنیا سے چلی گئی ہے وہ وہ دن دن بھولا تھا جب پہلی بار ان سے ملنے انکے پاس گیا تھا
انکے پاس جانے کا اسکا مقصد صرف ی تھا کہ وہ انکو اس بات کا یقین دلانے گیا تھا کہ وہ اس رشتے کی قدر کرتا ہے جو بہت سال پہلے ان دونوں کے بیچ بند گیا تھا
“اور ویسے بھی ابیہا اسکی بچپن کی محبت تھی اسکی پہلی خوائش جو اسکے باپ اور ابیہا کے بابا نے ملکر پوری کی تھی ابیہا کو ہمیشہ کے لئے اسکا بنا کر
“یہ بات الگ تھی کہ بچپن کے بعد سے اس نے ابیہا کو دیکھا نہیں تھا کی وہ بڑے ہو کر کیسی ہو گئی ہے
اسکا ہمیشہ دل کرتا تھا کہ وہ جاکر اسکو ایک نظر دیکھ لے جسکی محبت اسکے دل میں بچپن سے تھی اور اب بڑے ہو کر اسکی ابیہا کے لیے محبت مزید بڑھ گئی تھی
پر وہ ایسا کر نہ سکا تھا کیونکہ ان گزرے سالوں میں اتنا کچھ ہو گیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی جا نہیں سکتا تھا اسکو پہلے اپنا بدلہ لینا تھا
اس لئے اس نے خود پہ ضبط کیا ہوا تھا اسکو صحیح وقت آنے کا انتظار تھا پر کبھی اپنی زمیداری نبھانا نہیں بھلا تھا
اور وہ یہ بات اچھے سے جانتا تھا کہ عائشہ اسکو کتنا نا پسند کرتی ہے مگر اسکو اس بات سے کوئی فرک نہیں پڑتا تھا
اسکو بس ابیہا چاہئے تھی ہر حال میں .
“اور ابیہا اسکا کچھ پتہ چلا تمھیں ..کچھ یاد آنے پر وہ پھر سے بولا..
“سر یہ سن کر آپکو خوشی ہوگی کہ ابیہا میم اسی شہر میں ہیں اور کہاں ہیں بہت جلد پتا چل جائے گا..
اس بار بشر کچھ جوش میں بولا تھا
اسکی بات سن کر دراب کی آنکھوں میں چمک آئی تھی ..
بہت جلد مطلب بہت جلد سمجھ گئے نہ …
ابکی بار وہ کچھ سخت لہجے میں بولا جس پہ بشر اپنا سر ہلا کر رہ گیا تھا “”
💞💞💞
“”وہ نہ جانے کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ آنسو اسکی آنکھوں سے مسلسل بہ رہے تھے
کوئی اپنا نہیں تھا اسکا جو اسکے ان بہتے آنسو کو صاف کر سکتا .
“آج وہ اس پوری دنیا میں اکیلی بلکل تنہا رہ گئی تھی ایک ماں کا سایہ تھا جو وہ بھی اس سے چھن چکا تھا اب وہ بلکل تنہا رہ گئی تھی اس بڑی دنیا میں
“ابھی کچھ دن پہلے وہ کتنی خوش تھی کہ وہ اب اپنی ماں کو لے کر اس گاوں سے ہمیشہ کے لئے چلی جائے گی جہاں دراب خان کبھی اسکو ڈھونڈھ نہیں پاۓ گا
اس نے ساری تیاری کر لی تھی جانے کی اور وہ ان سب تیاری میں اتنا بیزی ہو گئی تھی کہ اسکو عائشہ بیگم کی خراب ہوتی حالت نظر ہی نہیں آئی تھی وہ اس دن کے بعد بہت خاموش رہنے لگی تھی جس پہ اسکا دھیان ہی نہیں گیا تھا
“کل صبح انکو اس گاوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے جانا تھا وہ مطمعین ہو کر عائشہ بیگم کے پاس آکر لیٹ گئی تھی اس بات سے بےخبر کے کل کا دن اسکے لیے کیا لانے والا تھا
“عائشہ بیگم جو سوئی پھر اٹھی ہی نہیں تھی وہ ابیہا کو اس دن میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی
“ابیہا کے پیروں کے نیچے سے جیسے کسی نے زمین ہی کھینچ لی ہو
“وہ تو بلکل خاموش ہو گئی تھی اور سکت نظروں سے اپنی ماں کا بےجان وجود دیکھ رہی تھی
لوگ آۓ گئے اسکو کچھ خبر ہی نہیں تھی وہ بس ایک زندہ لاش کی طرح بیٹھی سب کو آتے جاتے دیکھ رہی تھی
“پورا ایک دن گزر گیا تھا اسکی ماں کو مارے ہوئے اسکو کسی بات کا ہوش ہی نہیں تھا ابھی بھی وہ بس ایسے ہی بیٹھی تھی جب اسکے گھر کا دروازہ بجا تھا
“دروازہ بجنے کی آواز پہ وہ سست قدم اٹھاتی دروازے تک گئی تھی اسکی لگا تھا کہ سامنے والی خالہ ہوگی کیونکہ کل سے وہ ہی اسکا خیال رکھ رہیں تھیں
“اس نے بےدلی سے دروازہ کھولا تھا مگر سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں پھر سے پانی بھر آیا تھا
“عشل”
“کانپتے ہونٹھوں سے بامشقل اسکے اس نے یہ ایک الفاظ ادا کیا تھا
“جبکہ دروازے میں کھڑی عشل کی آنکھوں میں بھی پانی آ گیا تھا ابیہا کی حالت دیکھ کر
وہ ایک دم سے آگے بڑھی اور روتی کانپتی ابیہا کو اپنی باہوں میں بھرا تھا “””
“”””””(جاری ہے )”””””
