Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“”تم جانتے بھی ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ?
”اگر یہ خبر جھوٹ ہوئی تو تم جانتے ہو نہ کہ میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتا ہوں !!
“عباس نے اپنے سامنے کھڑے اپنے خاص آدمی کی طرف غصّے سے دیکھ کر بولا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ”
‘”سر آپ جانتے ہیں میں نے کبھی اپنے کام میں کوئی غلطی نہیں کی ہے جیسا آپ نے بولا بلکل ایسا ہی کیا ہے آج تک ”
”میرے پاس کوئی ثبوت تو نہیں ہے لیکن یہ بات بلکل سچ ہے کہ جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں اصل میں وہ صبا نہیں ابیہا ہے..
کچھ مہینے پہلے ہی وہ اس شہر میں آئی تھی اپنی دوست عشل کے پاس ”
”اور اس کلب میں کام کرنے کے لیے اس نے اپنا نام بدلا تھا”
”وہ کھڑا اسکو تفصیل سے ساری بات بتا رہا تھا جو اس نے صبا کے بارے میں معلوم کی تھی ”
”اسکی بات سن کر عباس پھر سے سوچ میں پڑ گیا تھا ..
وہ اسکا خاص آدمی تھا اور آج تک اس نے کوئی بھی کام میں غلطی نہیں کی تھی ”
”عباس کو اسکی کہی ایک ایک بات پر یقین تھا ”
”وہ کچھ دنوں سے صبا کی کلب میں غیر موجودگی دیکھ رہا تھا عشل سے جب بھی پوچھتا اسکا ایک ہی جواب ہوتا تھا ہر بار عباس کو کچھ تو غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ”
”اور پھر اس نے اپنے آدمی سے صبا کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے بولا تھا …
”اسکے بعد اسکو پہلے صبا کے غایب ہونے اور اب اسکے اصلی نام کے بارے میں معلوم ہوا تھا ”
”اتنی ساری معلومات حاصل کر لینے کے بعد عباس حیران تھا آخر اس طرح اچانک وہ جا کہاں سکتی تھی ”
”
اسکو کچھ تو عجیب لگا تھا کچھ تو تھا اس ابیہا کے پیچھے جسکو جاننا اب اسکے لیے ضروری ہو گیا تھا ”
”سر اب آگے کیا کرنا ہے ?
”عباس کو خاموش دیکھ کر وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوا تھا ”
”تم اپنا کام جاری رکھو اور جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی اس ابیہا کے بارے میں مجھے اور معلومات چاہئے ”
”عباس نے اسکو اپنا اگلا حقم دیا تھا اور وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا ..
جسے سن کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا ”’
💕💕💕
” ”’ابھی خود کو جسکی بیوی بتا رہی تھی وہ شوہر ہوں میں”
”دراب نے جیسے ایک اور دھماکہ کیا تھا جبکہ ابھی کو لگا
کہ اسکے پیرو کے نیچے سے کسی نے زمین ہی ہٹا دی ہو .
‘وہ اپنے قدموں پہ لڑکھڑائی اس سے پہلے کے وہ زمین پہ گرتی دراب نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو گرنے سے بچایا تھا ”’
”کیا بکواس کر رہے ہو تم
اور دور رہو مجھ سے ہاتھ مت لگاؤ مجھے …
”اس نے ایک جھٹکے میں اس سے اپنا بازو آزاد کروایا اور اس سے دور ہوئی تھی ”
”میں کوئی بکواس نہیں کر رہا ہوں جو حقیقت ہے بس وہ ہی بتا رہا ہوں …
”’ابیہا دراب خان ”’
”اس وقت جو تمہارے سامنے کھڑا ہے نہ یہ وہ شخص ہے جس سے تمہارا نکاح ہوا ہے شوہر ہیں تمہارا …
”دراب خان ”
”وہ کھڑا بول رہا تھا جبکہ ابیہا کو لگ رہا تھا کہ یہ اسکے لفظ نہیں ہیں تیر ہیں..
جو اسکے پورے بدن میں لگ کر اسکو زخمی کر رہے ہیں”
”کیا ہوا یقین نہیں آ رہا ہیں نہ ?
”کہ جس شخص سے تم بھگ رہی تھی یہاں تک کہ اپنا نام تک بدل لیا اور آج وہ تمہارے سامنے کھڑا ہے ”
”وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بولا تھا جو جسکی آنکھوں میں اس وقت اسکے لیے ناپسندیدگی تھی ”
”نہیں ہو تم میرے کچھ اور نہ ہی میں تمھیں کچھ سمجھتی ہوں ”
”ابیہا کا ضبط ٹوٹا تھا وہ یکدم سے چیلا کر بولی تھی ”
”میں پہلے بھی بول چکا ہوں اور اب بھی بول رہا ہوں تمہارے انکار سے مجھے کوئی فرک نہیں پڑتا ہے ”
”وہ بڑے آرام سے بیڈ پہ بیٹھ کر دل جلانے والے انداز میں بولا تھا ..
”ابیہا کا بس نہیں چل رہا تھا کے اسکے اس روم سے ہی نکال دے .
‘^اس وقت اس سے اسکی شکل تک برداشت نہیں ہو رہی تھی..
”تمھیں فرک پڑے یا نہ پڑے مجھے پروہ نہیں ہیں ..
اور میں کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کروں گی اور تم میرے ساتھ زبردستی بھی نہیں کر سکتے ہو …
”ابیہا نے انگلی اٹھا کر جیسے اسکو وارن کیا تھا ..
”اسکے اس انداز پہ دراب کے ہونٹھوں پہ مسکراہٹ آئی تھی جسکو اس نے بڑی مشقل سے روکا تھا …
”میں تمہارے ساتھ اس رشتے کو لیکر کبھی زبردستی بھی نہیں کروں گا ..
”تم خود پورے دل کے ساتھ اس رشتے کو قبول کروگی ”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے پھر سے قریب آ کھڑا ہوا تھا ..
”ایسا کبھی نہیں ہوگا میں مر جاؤں گی لیکن کبھی تمھیں اپنا شوہر قبول نہیں کروں گی …
”اسکی بات پہ ابیہا طنزیہ ہنسی تھی ”
”آج تو تم نے یہ بکواس کر دی آئندہ میں تمہارے منہ سے یہ الفاظ نہ سنو ”
”دراب کو اسکی بات ناگوار گزری تھی اس بار اسکے لہجے میں سختی آئی تھی ”
”میرا خیال ہے تم تھک چکی ھو کافی تمھیں آرام کرنا چاہئے باتیں تو ہوتی رہیں گی آخر تم نے تو اب یہیں رہنا ہے …
”وہ اسکی پیٹھ کو دیکھ کر بولا تھا وہ جانتا تھا اچانک سچ سامنے آ جانے سے وہ پریشان ہوگی اس لیے اسکا مزید پریشان نہ کرنا کا ارادہ ترک کرتا وہ روم سے چلا گیا تھا …
”اسکے جانے کے بعد ابیہا گرنے کے انداز میں بیڈ پہ بیٹھی تھی قسمت کے اس کھیل پہ وہ دکھ کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی تھی “”
💕💕💕💕
”یہ لو آ گیا تمہارا گھر ….اب جلدی جاؤ اندر پھر مجھے بھی جانا ہے .
”حسن عشل کے گھر کے سامنے رکتا ہوا بولا تو اسکی بات پہ عشل مسکرا دی تھی ..
”حسن تمہارا بہت شکریہ ”تم میرے ساتھ یہاں تک آۓ …
”عشل نے مسکرا کر اسکا شکریہ ادا کیا تھا …
”کل کے بعد سے اسکو رات کو گھر واپس آنے میں ڈر محسوس ہو رہا تھا”
” وہ اسی پریشانی میں بیٹھی تھی جب حسن اسکے پاس آیا تھا اور جب اسنے عشل کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے اسکو پوری بات بتائی تھی بس عمر کے بارے میں اس نے اسکو کچھ نہیں بتایا تھا ”
”اسکی بات سن کر حسن نے روز اسکو گھر تک چھوڑنے کے بارے میں بولا تھا ..
عشل نے اسکو بہت منع کیا تھا مگر اس نے ی کہہ کر چپ کروا دیا کے ووہ اسکا دوست ہے اور اسکے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہے جس پہ عشل خاموش ہو گئی تھی..
”حسن کے جانے کے بعد وہ گھر میں داخل ہوئی تھی اپنا پرس لاؤنج میں ڈال کر وہ اپنے روم میں آئی تھی
”ابھی اس نے روم کی لائٹ ہی اون کی تھی کہ کسی نے پیچھے سے اسکا بازو پکڑ کے دیوار سے لگایا تھا ”
”عشل اس آفت کے لیے تیار نہ تھی یکدم سے اسکے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکلی تھی مگر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی چیخ کو بریک لگا تھا …
”تم یہاں ?
”عمر کو اپنے سامنے دیکھ کر اسکی آنکھوں میں حیرانی تھی..
‘مگر اسکو اس وقت اپنے گھر اور اسکی اس حرکت پہ اسکے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے …
”میں نے تم سے منع کیا تھا نہ کہ تم مجھے اس شخص کے آس پاس نظر نا آؤ مگر تم نے میری نہیں سنی …
”عمر اسکی بات نظر انداز کرتا اس سے اپنا سوال کر رہا تھا آنکھوں میں اس وقت غصّہ تھا ..
”تم ہوتے کون ہو مجھے یہ بتانے والے کے مجھے کس کے آس پاس رہنا ہے کس کے نہیں ..”
”عشل بھی اسی کے انداز میں بولی تھی کل وہ اسکے بارے میں کتنا اچھا سوچ رہی تھی مگر آج کی اسکی اس حرکت سے اسکی ناپسندیدگی مزید بڑھ گئی تھی …
”آنے دو وہ وقت بھی بتا دوں گا تمھیں اگر اب کے تم نے میری بات نہ سنی تو آگے جو ہوگا اسکی زمیدار تم خود ہونگی…
”عمر نے اسکے بازو پہ اپنی گرفت مزید سخت کی تھی اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا ..
”اسکی آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر عشل اک پل کے لیے ڈر گئی تھی …
”میرا بازو چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے ‘
…عشل کو اس بار اسکی سخت پکڑ سے غصّہ آیا تھا وہ اپنا چھپاتی تھوڑا غصّے سے بولی تھی..
‘”یہ آخری بار تھا عشل اگر تم نے میری بات نہ سنی تو انجام تم خود دیکھنا پھر ..
”عمر اسکا بازو آزاد کرتا بولا اور اک نظر اسکی طرف دیکھتا جیسے ایا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا ..
”اسکے جانے کے بعد عشل بہت دیر تک آج اسکے رویہ کے بارے میں سوچتی رہ گئی تھی اور ساتھ ساتھ غصّے تھا جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ”’
💕💕💕💕💕💕
“”””””(جاری ہے )”””””
