Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
”’صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اس نے سب سے پہلے گردن موڑ کر دیکھا تو بیڈ کی دوسری سائیڈ خالی تھی …
”عشل کو اپنی جگہ نہ دیکھ کر عمر کے ہونٹھوں پر ایک دلکش مسکراہٹ آئی تھی
”رات عشل کے شرماۓ گھبراۓ روپ نے اسکو بےخود کر دیا تھا ..
”عشل نے کوئی احتجاج کوئی مزاحمت نہی کی بلکی اس نے خود کو عمر کے سپرد کر دیا تھا .
”جسکا مطلب صاف تھا کہ وہ اسکا بھروسہ جیت چکا تھا وہ اس پر یقین کرنے لگی تھی ..
”بلکی یقین ہی نہیں عمر اپنی محبت کا یقین بھی اسکو دلانے میں کامیاب ہو گیا تھا ”
”عمر ایک بر پھر سے مسکرا دیا تھا اور مسکراتے ہوئے اسکی نظر بیڈ پر پڑے عشل کے دوپٹے پر پڑی تھی ..
”عمر نے ہاتھ بڑھا کر اسکے دوپٹہ کو اپنے چہرے پر رکھا اور یوں ہی لیٹے لیٹے عشل کی خوشبوں اپنے اندر اتارتا رہا تھا .
”جب بیگم پاس ہے تو خوشبوں سے کام کیوں چلانا .
”عمر یکدم سے مسکراتے ہوئے اٹھا اور ایسے ہی بغیر شرٹ کے روم سے نکلا تھا ‘
”جب وہ اسکو لاؤنج میں نہ ملی تو عمر کے قدم کچن کی طرف بڑھے تھے .
”کچن میں قدم رکھتے ہی اسکی نظر عشل پر پڑی تو تو ایک بار پھر وہ مسکرا دیا تھا ..
”عشل کی پشت عمر کی طرف تھی جبکہ گیلے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے .
”وہ شاید ناشتہ بنا رہی تھی اس لیے اسکا دھیان عمر کی موجودگی پر نہیں گیا تھا ”
”عمر آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا اور پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں قید کرکے اسکی گردن پر اپنے لب رکھ دئے تھے ..
”عشل جو بڑے آرام سے اپنا کام کر رہی تھی عمر کے اس طرح اچانک آ جانے پر وہ یکدم سے ڈری تھی
”مگر عمر کی گستاخی پر اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہوا تھا ”
”میں کل سے تمھیں کچھ کہہ نہیں رہی ہوں اسکا بلکل بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی ساری حد ہی پار کر دو ..
”عشل اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں پر قابو پاتی بولی تھی جو اسکی قربت سے مزید تیز ہوئی تھی …
”کل تو ساری حدیں پار ہو چکی ہیں بیگم اب حدوں کی بات فضول ہے..
”عمر نے عشل کی پشت پر بکھرے گیلے بالوں کو دوسری سائیڈ پر کیے اور اسکے کان کی لؤ کو اپنی ناک سے چھوتا ہوا بےخودی کے عالم میں بولا ”
” تم بہت بدتمیز ہو .
”عشل اسکی بات کا بس اتنا ہی جواب دے سکی تھی
”کیونکہ عمر کے ہاتھ اب اسکے پیٹ پر آ چکے تھے جبکہ وہ اسکے ہونٹھوں کا لمس اپنے کان اور گردن پر محسوس کر رہی تھی
”کہو تو تمھیں اور بدتمیز بن کر دکھا سکتا ہوں میں ..
‘عمر اسکا رخ اپنی طرف کرتا بولا اور عشل کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا ”
”جبکہ اسکو بغیر شرٹ کے دیکھ کر عشل کی شرم سے آنکھیں جھک گئی تھی
اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا ..
”عمر پلز ….مجھے ناشتہ بنانا ہے .
”اسکو پھر سے خود پر جھکتا دیکھ عشل بمشکل بول پائی تھی …
”اسکی بات پر عمر نے اسکی گردن سے اپنا چہرہ اٹھایا اور جھک کر عشل کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا ..
”تم میرے لیے ہی تو ناشتہ بنا رہی تھی نہ پر مجھے ناشتہ نہیں تم چاہئے ..
”عمر کچن سے باہر موجود ڈائننگ ٹیبل پر عشل کو بیٹھا کر اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھتا اسکو مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا …
”پر مجھے اپنے لیے تو بنانے دو ..
”عشل اسکو اپنے سامنے سے ہٹاتی ہوئی بولی مگر خود کو اسکے حصار سے آزاد نہیں کرا سکی تھی ..
”چلی جانا مگر میرے ناشتے کر لینے کے بعد ..
اس سے پہلے کہ عشل اسکی بات کا جواب دیتی عمر عشل کے اوپر جھکا اور اسکے لبوں کو قید کر چکا تھا ..
”عشل نے اپنے کانپتے ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر عمر کو دور کرنا چاہا مگر
عمر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لیکر اسکی کمر سے لگا چکا تھا
”کچھ لمحے یوں ہی خاموشی سے گزر گیے تھے عمر اس پر ایسے ہی جھکا اپنی محبت اس پر لوٹا رہا تھا …
”جب اس نے عشل کے لبوں کو آزادی بخشی تو عشل کا سانس بری طرح سے رک چکا تھا چہرہ شرم حیا سے لال پر چکا تھا ..
”عمر بس کھڑا اسکی حالت کو انجوۓ کر رہا تھا””
“”بلکل ٹھیک کہا تھا میں نے بہت ہی بدتمیز ہو تم .
”عشل اپنی سانسیں درست کرتی ٹیبل سے اتار کر پھر سے کچن میں گھسی …
“جبکہ اسکو اپنے پیچھے عمر کا قہقہا سنائی دیا تھا”’
💕💕💕
”نہیں میں ایسا بلکل نہیں ہونے دوں گی
سب کچھ جاننے کے باوجود تم اپنی بیٹی کی زندگی خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہو
”احمد کی بات پر عائشہ حلق کے بل چیختے ہوئے بولی تھی
آنکھوں میں اس وقت بےپناہ غصّہ تھا .
”کیا بکواس کر رہی ہو تم عائشہ اس میں خطرے والی کیا بات ہے ..
‘احمد کے چہرے پر عائشہ کی بات سے ناگواری آئی تھی ..
”اس نے جب عائشہ کو داؤد خان کی بات بتائی کہ وہ دراب کا نکاح ابیہا سے کرانا چاہتے ہیں تو یہ بات سن کر عائشہ کا غصّہ یکدم سے بڑھا تھا .
”جب وہ خود یہ گھر اور یہاں کے لوگوں کو ناپسند کرتی ہیں
تو وہ کیسے ایسے لوگوں میں اپنی بیٹی کی شادی کر دیتی جو صرف کسی کی جان لینا جانتے ہو
”احمد کب سے بس اسکو سمجھا رہا تھا مگر عائشہ تھی کہ اسکی سننے کو بلکل تیار نہیں تھی
”بکواس میں نہیں تم اور تمہارے خان کر رہے ہیں
میں یہ شادی کبھی نہیں ہونے دوں گی .
”اور مجھے تو تم پر حیرت ہو رہی ہے کہ تم راضی کیسے ہو گئے اس رشتے سے
”جسکا باپ لوگوں کی جان لیتا ہو اسکا بیٹا بھی تو بڑے ہوکر اپنے باپ جیسا ہی بنے گا نہ …
”عائشہ بس ایک سانس میں بولتی چلی جا رہی تھی جبکہ اسکی بات پر احمد کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے .
”احمد کو دراب کے لیے عائشہ کے یہ الفاظ سخت برے لگ رہے تھے ‘
وہ اپنا غصّہ ضبط کیے کھڑا عائشہ کو گھور رہا تھا
”تم یہ سب کیسے کہہ سکتی ہو دراب کے بارے میں وہ ابھی چھوٹا ہے
‘اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ بڑے ہو کر ہم جیسا بلکل نہیں بنے گا ..
”اور دوسری بات ہم کسی بےگناہ کی جان نہیں لیتے جو غلط ہو اسکو صحیح رہ پر لانا ہی ہمارا مقصد ہے
”احمد نے پھر سے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی تھی جو وہ انکے بارے میں غلط سوچ رکھتی تھی .
”تم چاہے جو بھی کہہ لو مجھے یہ رشتہ بلکل منظور نہیں ہے
ویسے بھی بیٹا باپ پر ہی جاتا ہے ..
عائشہ دو ٹک انداز میں بولی تھی ..
”اور میں نے بھی زبان دے دی ہے خان کو .
ابیہا کا نکاح دراب سے ہی ہوگا وہ بھی آج ‘
احمد بھی اسی کے انداز میں بولا تھا
”اوہ ۔۔میں اب سمجھی تم نے جان بوجھ کر ہمیں یہاں بلایا تھا تاقی یہ سب کر سکو مجھے بےبس اور کر سکو ..
”عائشہ طنزیہ لہجے میں بولی تھی ..
”تم اب بھی مجھے غلط سمجھ رہی ہو عائشہ میں نے اس ارادے سے تمھیں بلکل نہیں بلایا تھا .
”مگر جو میں کہہ رہا ہوں وہ ضرور کروں گا چاہے تم اس بات کے لیے راضی ہو یا نہیں ..
”احمد غصّے بھری نظر اس پر ڈال کر روم سے باہر نکل گیا تھا …
”’اور پھر کچھ گھنٹوں بعد اس نے وہ ہی کیا تھا جو وہ عائشہ سے کہہ کر گیا تھا ..
”ابیہا کو دراب کے نام کر چکا تھا ”
”عائشہ بےبسی سے سب ہوتا دیکھتی رہی تھی ..
”اور دراب کی خوشی سب سے الگ تھی اسکی ڈول اب ہمیشہ کے لیے اسکی جو بن چکی تھی ”’
💕💕💕
”عائشہ” عائشہ جلدی اٹھو
‘احمد نے سوتی ہوئی عائشہ کو پھر سے آواز دیکر اٹھانا چاہا تھا
”مگر وہ تو جیسے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی .اٹھو عائشہ جلدی کرو تمھیں یہاں سے نکلنا ہے ابھی اور اسی وقت ..
”ابکہ بار وہ نہ اٹھی تو احمد نے بازو سے پکڑ کر اسکو اٹھا کر بیٹھایا تھا ..
”عائشہ جو نیند میں تھی احمد کی بات سن کر حیرانی سے اسکو دیکھنے لگی تھی ..
” کہاں جانا ہے ?
اور تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو
وہ احمد کے چہرے پر پریشانی کی لکیرے دیکھ سکتی تھی ..
”جو کھڑکی سے پردہ ہٹا کر جانے کس کو دیکھ رہا
”سلطان کے لوگوں نے ہم پر حملہ کیا ہے ..
تم آمنہ اور سب بچو کو لیکر جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکلو ..
”احمد اپنی گن کو نکلتا ہوا بولا اور اسکو اپنی پینٹ کی پاکٹ میں رکھی تھی …
”احمد کی بات سن کر عائشہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی تھی
”یہ کیا کہہ رہے ہو تم احمد یہ سلطان کون ہے اور کیوں مارنا چاہتا ہے ہم لوگوں کو ..
”عائشہ کو اب خوف محسوس ہو رہا تھا کھڑے کھڑے ٹانگے کانپنے لگی تھی .
”وہ تم لوگوں کے لیے یہاں نہیں آۓ ہیں صرف خان اور میرے لیے مگر ..
تمھیں پھر سے جلد سے جلد یہاں سے نکلنا ہے ان لوگوں کا کچھ بھروسہ نہیں ہے
”آمنہ دراب اور عمر کو یہاں انیکسی میں لیکر آتی ہی ہوں گی ..
”تم لوگ فورن نکلو یہاں سے ..
”احمد عائشہ کو ہدایت دیتا دروازے کی طرف بڑھا تھا کیونکہ اس دوران دروازہ بج چکا تھا ”
یقینن آمنہ دراب اور عمر کو لیکر آ چکی تھی …
”نہیں احمد میں تمہارے بنا کہیں نہیں جاؤں گو تمھیں بھی ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ..
”عائشہ روتی ہوئی احمد کے پیچھے آئی تھی
”تمہارا دماغ خراب ہے عائشہ میں یہاں خان کو خطرے میں چھوڑ کر تمہارے ساتھ بلکل نہیں آ سکتا ..
”احمد نے روتی ہوئی عائشہ کو سخت لہجے میں جواب دیا فورن سے دروازہ کھولا تو آمنہ گود میں عمر کو لیے کھڑی تھی جبکہ دراب کا انہونے ہاتھ تھاما ہوا تھا …
”دونوں بچو کے چہرے پر خوف تھا ..
”آمنہ آپ عائشہ اور بچو کو لیکر فورن پیچھے کے راستے سے نکلو
‘احمد آمنہ کو ہدایت دیتا انیکسی سے باہر نکلا اور اندر گھر کی طرف بڑھا تھا ”
”جبکہ اسکے پیچھے پیچھے عائشہ بھی نکلی تھی ..
‘عائشہ مت جاؤ وہاں بہت خطرہ ہے رکو عائشہ ”
”عائشہ کے نکلتے ہی آمنہ اسکو روکتی رہ گئی تھی مگر وہ رکی نہیں تھی ..
”اسکے جانے کے بعد آمنہ نے دراب عمر کو اس روم میں بند کیا جہاں ابیہا سو رہی تھی ..
‘اور پھر سے عائشہ کے پیچھے پیچھے چل دی تھی اسکو روکنے کے لئے مگر وہ تھی کہ کسی کی سننے کو بلکل تیار نہیں تھی …
”آمنہ اسکو بلا رہیں تھی مگر عائشہ سن نہیں رہی تھی دونوں اس وقت لان میں سے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی جب دونوں کے کانوں میں گولی کی آواز گونجی تھی ..
”گولی کی آواز پر دونوں کے قدم یکدم سے رکے تھے اور دونوں نے ایک ساتھ اس کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں سے وہ گھر کے اندر آرام سے دیکھ سکتی تھی ..
”اندر کا منظر دیکھ کر عائشہ کے ساتھ ساتھ آمنہ کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی تھی ..
💕💕💕
”اسکی انگلیاں لیپ ٹاپ پر تیزی سے چل رہی تھی
وہ پچھلے دو گھنٹے سے بیٹھا اپنا آفس کاکام کر رہا تھا جو اسکو آج رات تک پورا کرنا تھا
”عباس اور سلطان کی وجہ سے وہ آج کل اپنی کمپنی کو وقت نہیں دے پا رہا تھا ”
اسکی کل بہت ہی ضروری میٹنگ تھی اور کل والی ڈیل اسکو ہی ملیگی اتنا تو اندازہ اسکو اس بات کا تھا ..
”اسکو کمپنی میں سب دراب خان کے نام سے ہی جانتے تھے
”جبکہ عباساور سلطان جیسے آدمیوں کے لیے وہ ڈی کے تھا ‘
”اسکی چلتی انگلیوں کو بریک تب لگا جب کمرے میں اسکو سسکی کی آواز سنائی دی تھی .
”دراب نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر سامنے بیڈ پر لیٹی ابیہا کی طرف دیکھا مگر اسکو گہری نیند میں سوتا دیکھ کر وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا تھا …
”ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ پھر سے اسکو سسکی کی آواز آئی تھی ..
”اسکا شق اب یقین میں بدلا تھا یہ ابیہا کی ہی آواز تھی جو شاید نیند میں رو رہی تھی ..
”دراب اسکے رونے کا سوچ کر پریشان سا صوفہ سے اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھا تھا ..
”ابیہا سو رہی تھی مگر اسکی بند آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ..
”ابیہا ..ابیہا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو
‘دراب اسکے برابر بیٹھ کر بہت ہی نرمی سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا بولا تھا ..
”نہیں …پلز ….مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے .
”ابیہا نیند میں بولی تھی اور دراب کا دوسرا ہاتھ تھام لیا تھا …
”میں یہیں ہوں …کہیں نہیں جا رہا ہوں …
”شاید وہ کوئی برا خواب دیکھ کر ڈر رہی تھی جس وجہ سے اسکی یہ حالت ہو رہی تھی ..
”میرا ہاتھ مت چھوڑنا …..ورنہ میں کھو جاؤں گی ..
”ابیہا نے اسکے ہاتھ پر اپنی پکڑ سخت کی تھی جیسے اگر اس نے ہاتھ چھوڑا تو وہ چلا جائے گا …
”نہیں چھوڑوں گا …اور نہ تمھیں کھونے دوں گا .
”دراب نے نرمی سے اسکے آنسوں صاف کیے اور جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے تھے ..
”پتہ نہیں خواب میں وہ کس سے مخاطب تھی مگر دراب کے دل میں یہ خوائش آئی تھی کہ اسکے خواب میں وہ ہو اسکے ساتھ .
”دراب تم اتنے برے کیوں ہو ?
”کتنا برا کیا تم نے میرے ساتھ مگر میں پھر بھی ..
”ابیہا بولتے بولتے یکدم سے چپ ہوئی تھی .
”دراب جو اب اسکے بالوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا ابیہا کے ادھورے جملے پر اسکی طرف دیکھنے لگا تھا .
”پھر کیا ابیہا ?
”دراب نے بہت ہی آہستہ آواز میں اس سے سوال کیا تھا ”
‘مگر وہ جانتا تھا کہ اب جواب نہیں ملے گا کیونکہ اب ابیہا کی بڑبڑاہٹ بند ہو چکی تھی جسکا مطلب وہ اب اسکا ڈر ختم ہو چکا تھا …
”مگر اسکو اس بات کی خوشی ہوئی تھی کہ اسکے ساتھ خواب میں کوئی اور نہیں وہ ہی تھا ..
”کچھ دیر تو وہ ایسے ہی اسکو دیکھتا رہا تھا پھر آہستہ سے اسکی سائیڈ پر جگہ بناتا ابیہا کے قریب ہی لیٹ گیا تھا .
”وہ خواب میں کسی سے ڈر کر اسکا ساتھ مانگ رہی تھی اسکی پناہ مانگ رہی تھی .
‘یہ بات اسکو خوش کرنے کے لئے کافی تھی ..
”دراب نے مسکراتے ہوئے بہت ہی آہستہ سے ابیہا کا سر اپنے سینے پر رکھ کر خود بھی آنکھیں بند کر گیا تھا ”
”وہ خواب میں اسکی پناہ مانگ رہی تھی مگر وہ حقیقت میں اسکو اپنی پناہوں میں لے چکا تھا ”
💕💕💕
”سورج کی روشنی گلاس وال سے ہوتی کمرے میں داخل ہو رہی تھی .
‘اور ساتھ ساتھ اسکے چہرے پر بھی پڑ رہی تھی ..
”اس نے تھوڑا سا کسمسا کر تھوڑی سی آنکھیں کھولی تھی
‘مگر دراب کو اپنے بہت قریب لیٹا دیکھ کر ابیہا کی آنکھیں پوری طرح سے کھلی تھی ..
”دراب اسکی طرف کروٹ کے بل لیٹا تھا اسکا ایک ہاتھ ابیہا کی کمر پر رکھا ہوا تھا جبکہ اسکے دوسرے بازو پر وہ اس وقت سر رکھے لیٹی تھی .
”دراب کو دیکھ کر اسکو یکدم رات والا خواب یاد آیا تھا کوئی اسکو ایک اندھیری جگہ پر زبردستی لے جا رہا تھا مگر وہ ڈر کے دراب کے پاس بھاگی تھی اور پھر دراب نے اسکو اس شخص سے بچایا تھا ..
”ابیہا نے بہت ہی آہستہ سے دراب کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا اور جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں گھس گئی تھی ..
”کچھ دیر بعد وہ واشروم سے نکلی تو ایک نظر دراب کی طرف دیکھا جو ابھی بھی ایسے ہی گہری نیند میں سو رہا تھا ..
”اسکو سوتا دیکھ کر جانے کیوں اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا ..
”وہ اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں سے گھبراتی جلدی سے روم سے نکلی اور نیچے آئی تھی ..
”اسکا رخ اب کچن کی طرف تھا یہاں اس وقت آمنہ بیگم یقینن ناشتہ تیار کر رہی ہو گی …
”آمنہ بیگم کا خیال آتے ہی اسکے ہونٹھوں پر مسکراہٹ آئی تھی
کتنا عزیز ہو گئی تھی وہ اسکے لیے ان چند دنوں میں
اسکا ہمیشہ خیال رکھتی تھی ..
”وہ کچن کی طرف جا ہی رہی تھی جب لاؤنج سے آتی آواز پر اسکے قدم رکے تھے …
”ایک آواز تو آمنہ بیگم کی تھی مگر دوسری آواز وہ پہچان نہیں پائی تھی .
”یہ آواز کس کی ہو سکتی ہے جہاں تک اسکو پتہ ہے گھر میں اسکے دراب اور آمنہ بیگم کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوتا تھا …
”یہ معلوم کرنے کے لیے وہ لاؤنج میں داخل کہ آمنہ بیگم کس سے باتیں کر رہیں ہیں …
”مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران کھڑی رہ گئی تھی
”کیونکہ آمنہ بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹا شخص کوئی اور نہیں عمر تھا ”
💕💕💕
“””””””””””(جاری ہے )””””””””
