Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“”میں نے تم سے کتنی بار کہا تھا کہ ہوشیار رہو…
”لیکن تم نے میری ایک نہ سنی …
”اب دیکھو تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے ہمیں کتنا بڑا نکسان ہو گیا ہے ”
”سلطان اپنے سامنے کھڑے عباس پہ اپنا غصّہ نکال رہا تھا.
‘جبکہ عباس خود اپنا غصّہ ضبط کیے کھڑا تھا ”
”کل انکا بہت بڑا نکسان ہوا تھا اور وہ دونوں یہ بات بہت اچھے سے جانتے تھے کہ یہ کام ڈی کے کے علاوہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا تھا ‘ ‘
”انکا مال ان تک پھوچنے سے پہلے پہلے ہی ڈی کے اسکو پوری طرح ختم کر چکا تھا …
”اور اس بار تو اس نے انکے آدمیوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا ”
”میری یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ڈی کے کو کیسے خبر ہوئی اس ڈیل کے بارے میں ..
”کیونکہ اس بار اس ڈیل کے بارے میں میرے علاوہ بس میرے ایک خاص آدمی کو ہی خبر تھی ”
”مگر یہ بات ڈی کے تک کیسے پھوچی یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے ‘
”عباس کچھ پریشانی سے بولا تھا ”
”ہمیں جلد ہی اس ڈی کے کا کچھ کرنا ہونگا ورنہ آگے چل کر وہ ہمارے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے ”
”سلطان پرسوچ انداز میں بولا تھا ”
”وہ لوگ ڈی کے نام اور اسکے کے علاوہ اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ”
” وہ بہت طاقتور تھا اور وہ لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے تھے ڈی کو روکنا انکے لیے مشقل تھا ”
”جی ڈیڈ آپ فکر نہ کرے اس کام کے لیے بہت پہلے میں نے اپنا آدمی لگایا ہوا ہے اور آپ دیکھنا اس بار ہم اسکو مات ضرور دینگے ”
”اپنی بات کہنے کے بعد عباس کے چہرے پہ اک شیطانی مسکراہٹ تھی جس پہ سلطان صرف اپنی گردن ہلا کے رہ گیا تھا “”
💕💕💕💕
“سورج کی روشنی گلاس وال کو پار کرتی اسکے چہرے پہ پڑ رہی تھی نیند میں اسکو یہ روشنی بلکل اچھی نہیں لگی تھی…
”اس نے فورن سے کروٹ بدلی تھی اس روشنی سے بچنے کے لیے ”
”ابھی بھی وہ ایسے ہی لیٹی رہتی اگر اسکا دماغ پوری طرح سے بیدار نہ ہوا ہوتا خود کو نرم بستر پہ محسوس کر کے اسنے ایک جھٹکے میں اپنی آنکھیں کھولی تھی ..
”ابھی اس نے آنکھیں ہی کھولی تھی کہ اپنے بلکل برابر میں اس شخص کو لیٹا دیکھ کر وہ اتنی ہی تیزی سے بیڈ سے اٹھی تھی ”
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے نزدیک آنے کی اور یھاں پہ لیٹنے کی ..
”وہ کھڑی ہوتی ہی بہت ہی تیز آواز میں بولی تھی غصّے کی وجہ سے اسکا چہرہ اکدم سرخ ہوا تھا ”
”اسکو بہت اچھے سے یاد تھا کہ وہ بیڈ پہ لیٹی ہی نہیں تھی وہ وہیں گلاس وال کے پاس بیٹھی ”
”اسکی بیڈ پہ موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ اس شخص نے پھر سے اسکو چھونے کی ہمت کی تھی ”
”جبکہ دراب بڑے آرام سے بیڈ پہ لیٹا اسکے تاثرات سے مزے لے رہا تھا ‘
”وہ صبح ہی اسکے روم میں آیا تھا اور اسکو سوتا دیکھ کر جان بوجھ کر اسکے پاس لیٹا تھا مقصد صرف اسکو اپنی حرکتوں سے تنگ کرنا تھا ”
”میں تم سے بات کر رہی ہوں تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری نیند کا فائدہ اٹھانے کی ”
”اسکو اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوئی تھی ”
”ابیہا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس شخص کی جان ہی لے لیتی ”
”شاید تم بھول رہی ہو تم اس وقت میری قید میں ہو میرے گھر اور میرے بیڈروم میں موجود ہو ”
”اسکا مطلب تو یہ ہی ہوا نہ کہ میں جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں اور تم مجھے روک بھی نہیں سکتی ہو ”
”وہ اپنی بات کہتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا تھا اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ ابیہا تھوڑا پیچھے ہوئی تھی …
”اور دوسری بات یہ کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاۓ”
”اور تمہارے قریب ہونے کے لیے مجھے تمہارے نیند میں ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ کام میں تمہارے جاگتے ہوئے بھی کر سکتا ہوں”
..اور تم مجھے روک بھی نہیں پاؤگی .
”وہ اسکو اپنی باتوں سے بہت کچھ جتا رہا تھا ”
”تم جیسے گھٹیا آدمی سے کسی بھی چیز کی امید کی جا سکتی ہے “”
”اسکی بات سن کر ابیہا کا غصّہ مزید بڑھا تھا اسکے لیے یہ سب اب برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا ”
”اسکی بات سن کر دراب غصّہ ہونے کے بجاۓ بجاۓ کھل کر مسکرایا تھا ”
”اچھی بات ہے !!
”اب تو تمھیں مجھ سے ہی امیدیں رکھنی چاہئے اور ہر طرح کی رکھو ..
‘اچھی بھی اور بری بھی ”
”وہ اسکے چہرے کو نرم نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا ”
”اسکی نظروں کی تپیش سے گھبرا کر ابیہا نے اپنا چہرہ ہی نہیں رخ بھی موڑ لیا تھا ”
”اسکے اس طرح سے کرنے پر دراب کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی تھی ”
”میں ناشتہ بھیجوا رہا ہوں کر لینا …ورنہ مجھے اس معملے میں بھی زبردستی کرنی آتی ہے ”
دراب پھر سے اسکے سامنے جاکر بولا تھا آنکھوں میں وارننگ تھی کی وہ جو کہہ رہا ہے اسکو کریگا بھی ..
”اور سنو ..
”آج سے تم اس کمرے میں قید نہیں رہو گی تمھیں آزادی دیتا ہوں اس گھر میں صرف گھر میں ”
”وہ روم سے جاتے جاتے یکدم مڑا تھا اور اپنی بات سے ابیہا کو حیران پریشان چھوڑتا روم سے نکل گیا تھا ”’
💕💕💕
”وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گھر واپس جا رہی تھی آج اسکی ڈیوٹی بھی کافی دیر سے ختم ہوئی تھی …
“پہلے جب اسکو دیر ہوتی تھی تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی کیونکہ ابیہا اسکے ساتھ ہوتی تھی ..
”پر اب وہ پھر سے اکیلی ہو گئی تھی اس لیے جلدی جلدی جا رہی تھی اسکا گھر کچھ ہی فاصلے پہ رہ گیا تھا ”
”چلتے چلتے یکدم اسکو لگا کہ کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے اس نے مڑ کر دیکھا تو اسکو کوئی نظر نہیں آیا تھا تو اس نے سر جھٹک کے پھر سے اپنے قدم بڑھاۓ تھے …
”ابھی وہ کچھ ہی قدم چلی تھی کہ کسی نے یکدم سے اسکا راستہ روکا تھا..
”کہاں چلی کچھ دیر ہمارے ساتھ بھی وقت گزار لو ”
”ایک لڑکا یکدم سے اسکے سامنے آکر بولا تھا عشل اسکی بات نظر انداز کرتی سائیڈ سے نکلی تھی.
”وہ چاہے کتنا بھی خود کو مضبوط ظاہر کرتی تھی تو اک لڑکی ہی …
”سنسان سڑک کوئی تھا بھی نہیں آس پاس کی کسی کو مدد کے لیے پکار لیتی ”’
وہ ابھی آگے بڑھی ہی تھی کہ اس لڑکے نے اسکی کلائی تھام لی تھی .
”عشل کے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا اسکی حرکت پہ ”
”اتنی بھی کیا جلدی ہے جان کچھ دیر تو رکو نہ ..وہ لوفر انداز میں بولا اور اسکی طرف ایک آنکھ دبائی تھی..
”اسکی بات سن کر عشل نے اپنے ڈر کو چپاتی غصّے سے اپنا دوسرا ہاتھ اسکو مارنے کے لیے اٹھایا تھا..
مگر اس لڑکے نے اسکا ارادہ بھانپ کر اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنی گرفت میں لے لیا تھا …
”میرا ہاتھ چھوڑو ورنہ تمہارا وہ حال بناؤگی کہ زندگی بھر یاد رکھوگے .
”عشل اپنا ڈر بھلا کر غصّے سے بولی تھی ”
”اففف ….اتنا غصّہ مار ڈالنے کا ارادہ ہے کیا میری جان
…وہ پھر سے اسکی بات کا مذاق بنا رہا تھا اس بار عشل کو شدت سے اپنے اکیلے ہونے کا احساس ہوا تھا ”
”اسکا ہاتھ چھوڑ ورنہ میری تیری جو حالت بناؤ گا وہ تو برداشت نہیں کر سکے گا …
”وہ لڑکا اس سے پہلے کی کچھ کرتا عمر نے اسکی پیچھے سے گردن دبوچی تھی اور اک ہی لمحے میں اسکو عشل سے دور کیا تھا ”
”وہ لڑکا اس اچانک پڑنے والی آفت پہ یکدم سے گھبرایا تھا اور اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا جو غصّے سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ..
”عمر کا غصّہ دیکھ کر اک لمحہ لگا تھا اس لڑکے کو وہاں سے بھاگنے میں …
”عشل کے لیے یہ سب کچھ اچانک ھوا تھا وہ کبھی اپنے سامنے عمر کو دیکھتی تو کبھی اس لڑکے کو جو بھاگتا ہوا دور جا رہا تھا…
”چلو اب یا یہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے …
اسکو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر عمر نے اسکو مخاطب کیا تھا”
”اسکی آواز سن کر عشل نے چونک کر عمر کی طرف دیکھا تھا جو آگے کھڑا اسکے چلنے کا انتظار کر رہا تھا..
”اسکے کہنے پہ عشل پھر سے تیزی سے بڑھی تھی اور پل میں عمر سے آگے نکل گئی تھی …آج پہلی بار اسکو عمر کا خود کو مخاطب کرنا برا نہیں لگا تھا اس میں اسکا شکریہ کرنے کی ہمت نہیں تھی …
”عمر آہستہ آہستہ سے اسکے پیچھے چلتا رہا تھا وہ روز ہی عشل کا اسکے گھر تک پیچھا کرتا تھا .
‘اور وہ اب سوچ رہا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو آج عشل کسی بڑی مشقل میں بھی پڑ سکتی تھی ”’
💕💕💕
”وہ ابھی واشروم سے فریش ہوکر نکلی تھی آج وہ خود کو تھوڑا فریش محسوس کر رہی تھی ..
”وہ اس شخص کے بارے میں سوچ رہی تھی جوں اسکو یہاں لیکر آیا تھا ”
”آج اسنے جو کہا تھا وہ کیا بھی تھا اسکو روم میں قید نہیں کیا تھا ”
”اور اس نے اسکے پورے گھر کو دیکھا تھا باہر کا تو پتہ نہیں لیکن اندر سے یہ گھر بہت عالیشان تھا ”
”اس نے اس گھر کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں سے فرار کی راہ بھی تلاش کی تھی مگر بدقسمتی سے اسکو کوئی راہ نہیں ملی تھی وہ بےدلی سے واپس اسی روم میں آ گئی تھی جہاں اس نے اسکو رکھا ہوا تھا ”
”مجھے اس بات کی پوری امید ہے کہ تم اس وقت میرے بارے میں ہی سوچ رہی ہونگی ”
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب اسکو اپنے پیچھے سے اسکی آواز سنائی دی تھی ”
”غلط فہمی ہے تمہاری ”میں اس قید سے آزاد ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہوں ”
”ابیہا اسکی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولی تھی ”
”اور تم یہ بات اچھے سے جانتی ہو کہ یہ ناممکن ہیں تمہارے لیے “
وہ بھی اسی کے انداز میں بولتا اسکے قریب ہوا تھا ”
میں نے تم سے کتنی بار بولا ہے کہ مجھ سے دور رہا کرو تم …اک بات سمجھ نہیں آتی تمہارے ”
اسکو پھر سے اپنے قریب آتا دیکھ کر وہ غصّے سے بولی تھی..
”نہیں آتی سمجھ تم سمجھا دو ….دراب اسکا اس وقت ضبط آزما رہا تھا ”
”جانتے کیا ہو تم میرے بارے میں جو تم مجھے یہاں لیکر آ گیے ہو ??بولو کیا جانتے ہو ??
”ابیہا نے اسکو اپنے بارے میں بتانے کا سوچا تھا شاید وہ اس بات سے انجان تھا اسکو لگا تھا کہ اسکا سچ سن کر شاید وہ اسکو چھوڑ دیتا ”’
”نہیں پتہ یہ بھی تم بتا دو …دراب اسکے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ..
”آج آخر وہ پل آنے ہی والا تھا جسکا اسکو انتظار تھا ”
”تم نے مجھے یہاں قید تو کر لیا ہے لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ میں کسی کی بیوی ہوں نکاح میں ہوں میں کسی کے ..
”ابیہا نے جیسے اپنی طرف سے دھماکہ کیا تھا اس پر مگر اس پہ تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا اسکی بات پہ …
”آج نا چاہتے ہوئے بھی قبول کیا تھا کہ وہ کسی کی بیوی ہے خود کو اس شخص کے ساتھ جوڑا تھا جس سے اسکو بےپناہ نفرت تھی ”
”یہ بات تو میں شروع سے جانتا ہوں “”ابیہا دراب خان ”
‘اس بار اس نے ابیہا کے سر پہ دھماکہ کیا تھا ”
”یہ سخص تو اسکے نام کے ساتھ اسکے اسکے شوہر کا نام تک جانتا تھا ‘
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ‘
”کو…کون ..ہو ..تم …ابیہا سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا خود کو اس وقت بڑی مشقل میں پھسا ہوا محسوس کر رہی تھی ”
””ابھی خود کو جسکی بیوی بتا رہی تھی وہ شوہر ہوں میں”
”دراب نے جیسے ایک اور دھماکہ کیا تھا جبکہ ابھی کو لگا
کہ اسکے پیرو کے نیچے سے کسی نے زمین ہی ہٹا دی ہو .
‘وہ اپنے قدموں پہ لڑکھڑائی اس سے پہلے کے وہ زمین پہ گرتی دراب نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو گرنے سے بچایا تھا ”’
💕💕💕💕💕
“”””””(جاری ہے )””””
