Be Inteha By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“”یار صبا آج ہم پھر سے تمہاری وجہ سے لیٹ ہو گئے ہیں..
“عشل کلب میں داخل ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی پر ایک نظر دیکھتی وہ صبا سے مخاطب ہوئی تھی
پر صبا کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کر اسکا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا.
“ہاں ..ہاں ہنس لو سر عباس تو تمہیں کچھ نہیں کہتے ہیں نہ اس لئے تمہیں تو فکر کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہیں .
“عشل منہ بناتی ہوئی بولی تھی
“یار تم سر عباس کو چھوڑو اور وہ دیکھو سامنے تمہارا دیوانہ تمہارا انتظار کر رہا ہے .
“صبا اسکی بات کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی اور اسکا سامنے کی طرف دھیان کیا تھا
“صبا کے کہنے پہ اس نے جیسے ہی سامنے کی طرف دیکھا تو اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا وہ شخص ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی خاص جگہ پہ بیٹھا ہوا تھا
“صبا میں نے تم سے کتنی بار بولا ہے کہ اسکے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کیا کرو زہر لگتا ہے وہ شخص مجھے جب سے یہاں آیا ہے میرا کام کرنا حرام کیا ہوا ہے اس نے
“عشل اسکی طرف دیکھتے ہوئے غصّے میں بول رہی تھی جو ادھر ادھر دیکھتا کسی کو تلاش کر رہا تھا
“اور عشل اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اسکو ہی تلاش کر رہا ہے
“یار عشل کیا پتا وہ سچ میں تمھیں پسند کرنے لگا ہو جبھی تو روز یہاں آ جاتا ہے اور ہماری ڈیوٹی ختم ہونے تک یہیں موجود رہتا ہیں
“صبا نے اپنے دل کی بات کہی تھی.
“جہاں ہم کام کرتے ہیں ہیں نہ وہاں پر لوگ ہم پر پیسا تو لٹا سکتے ہیں لیکن ہم سے محبت یا ہماری …..عزت .کبھی نہیں کر سکتے ہیں
“اور میرا تم سے بس یہ ہی کہنا ہیں کہ تم اس غلط فہمی کو جتنی جلدی ہو سکے تم اپنے دل سے نکال لو تو تمہارے لئے بھی اچھا ہوگا
“عشل تلخی سے بولتی اسکو حقیقت سے روبرو کر رہی تھی
“عشل کی بات پہ صبا نے اپنی اکلوتی دوست کو دیکھا جو کہ پچھلے تین سالوں سے اس کلب میں ویٹرکا کام کر رہی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اتنی ہی تلخ ہوتی جا رہی تھی
“نائٹ کلب میں کام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا پر وہ دونوں کرتی تھی
“انکا یہاں کام کرنا مجبوری تھی کیونکہ وہ دونوں ہی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور نوکری کے لئے ڈگری کی ضرورت تھی جو انکے پاس نہیں تھی
اور آج اس لئے وہ دونوں یہاں موجود تھی پیسے بھی کافی اچھے مل جاتے تھے جس سے دونوں کا اب تک اچھا گزارا چل رہا تھا”
“اس کے علاوہ ان پہ کوئی زبردستی نہیں کی جاتی تھی کوئی غلط کام کرنے کے لئے اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ دونوں داغدار نہیں تھی..
“”اب چلو گی بھی یا پھر یہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے.
“عشل صبا کو سوچوں میں گم دیکھ کر اسکا کندھا ہلا کر بولی تھی.
“ہاں یار چلو ویسے بھی پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے
“اسکے ہلانے پہ صبا ہوش میں آتے بولی اور دونوں ہی آگے کی طرف بڑھی تھیں
“کچھ ہی دیر میں دونوں اپنے کام میں بیزی ہو گئی تھی پر ہر روز کی طرح عشل کا موڈ خراب ہی رہا تھا
“وجہ اس شخص کی مسلسل اس پہ جمی نظریں جو اسکا غصّہ مزید بڑھاتی تھی پر وہ خود پہ ضبط کرتی لوگوں کو صرو کر رہی تھی
“دوسری طرف صبا اسکی حالت اچھے سے سمجھتے تھی اس نے اپنی مسکراہٹ کو مشقل سے روکا تھا””””
💞💞💞💞💞💞💞💞
“””””میں نے تم سے جب کہا تھا کہ جب تک تم اسکے بارے میں کچھ پتا نہیں لگا لو تب تک میرے سامنے مت آنا پھر بھی آج تم میرے سامنے کھڑے ہو …
“”وہ غصّے سے اسکا گلا اپنے ہاتھوں میں دبوچتا ہوا بولا تھا
غصّے میں اسکی رگے تک تنی ہوئی تھی اور آنکھیں ہمیشہ کی طرح سرخ تھی
“سامنے والو کو خوف میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھی ..
“ڈ..ی ….ڈی کے ….میں نے پوری کوشش کی ….پ…پر
“اسکی پکڑ اس آدمی کی گردن پہ اتنی سخت تھی کہ اس سے ٹھیک سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا.
“کیا صحیح سے بولا مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا.
“اس نے اپنی پکڑ مزید سخت کی تھی اور اس سے مخاطب ہوا جسکی آنکھیں اب باہر کو نکل چکی تھی.
“کوشش نہیں تمھیں اسکو کسی بھی حال میں ڈھونڈھ کر لانا ہیں ..
“وو اسکی گردن کو آزاد کرتا ہوا بولا
“جبکہ وہ شخص اپنی گردن آزاد ہونے پر بری طرح سانس لینے لگا تھا
” بشر میں نے تمھیں اسکی حفاظت کی زمیداری دی تھی اس پر ہر پل نظر رکھنے کے لئے کہا تھا
پر وہ تمہاری ہی نظروں کے سامنے سے کیسے غایب ہو سکتی ہے .
“اسکا غصّہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور یہ حال پچھلے کچھ مہینوں سے تھا
“بشر اسکا خاص آدمی تھا جس کو اس نے کسی کی زمیداری دی تھی حفاظت کے لئے
پر جب ایک دن بشر نے اسکو آکر بتایا کہ وہ اس جگہ سے کہیں چلی گئی ہے اور دن مہینوں میں بدل گئے تھے پر وہ اسکو اب تک نہیں ملی تھی .
“جب بھی بشر اسکے پاس آتا اور اپنی ناکامیابی کے بارے میں بتاتا تو ہر بار اسکو ڈی کے کے غصّے کا سامنا کرنا پڑتا تھا…
“میری ہر پل ہی اس پر اور انکے گھر پر نظر تھی ڈی کے پر میرا یقین کرو
“بشر اپنی صفائی پیش کر رہا تھا ہر بار کی طرح اور وہ خاموش نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا .
“مجھے لگتا ہے کہ شاید انکو شق ہو گیا تھا کہ ان پر نظر رکھی جا رہی ہے تبھی تو وہ یوں اچانک غایب ہو گئی ہیں ..
“بشر نے اپنا شق ظاہر کیا تھا
“انکو شق نہیں شروع سے ہی معلوم تھا اس بارے میں
اور میں بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ اس نے مجھ سے دور جانے کے لئے ایسا کیا ہے..
“جب آپکو پتا تھا تو پھر …بشر نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی..
“اس لئے تو تمھیں اس پہ نظر رکھنے کے لئے کہا تھا پر تم ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکے.
“اب جاؤ اور تب ہی میرے پاس آنا جب تم اسکے بارے میں کچھ معلوم ہو جائے ورنہ اپنے آخری دن گن نہ شروع کر دو ..
“وہ اسکو وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا جس پہ بشر خاموشی سے سر ہلاتا اسکے روم سے نکلا تھا..
“بھاگ لو مجھ سے جتنا بھاگنا ہے تمھیں
پر یاد رکھنا ڈی کے سے زیادہ دن تک تم بھگ نہیں سکتی اور وہ دن بھی دور نہیں جب تم میری پاس میری گرفت میں ہونگی بہت جلد ..
وہ کسی سے اپنے سوچوں میں مخاطب تھا “”””
💞💞💞💞💞💞💞💞
“””وہ ابھی اسکول سے لوٹی تھی اس نے اپنی
چادر اتار کر وہیں باہر رکھے تخت پہ رکھی تھی
“اس نے گھر کے چاروں طرف نظر دوڑائی اسکو گھر میں خاموشی کا احساس ہوا تھا وجہ عائشہ بیگم اسکو نظر نہیں آئی تھیں .
“اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جب بھی ورنہ جب بھی وہ اسکول سے واپس آتی تھی تو عائشہ بیگم اسی کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ملتی تھیں
“پر آج انکو تخت پہ بیٹھا ہوا نہ دیکھ کر اسکو حیرانی ہوئی تھی ..
“امی کہاں ہیں آپ ?
“وہ پریشانی میں انکو آواز دینے لگی تھی مگر کوئی جواب اسکو نہیں ملا..
“کچھ سوچ کر وہ کچن کی طرف بڑھی تھی پر وہ اسکو وہاں بھی نظر نہیں آئی تھی
“کچن کے کچھ فاصلے پہ بنے واشروم کی طرف گئی پر وہ وہاں بھی نہیں تھیں اسکی پریشانی ایک دم سے بڑھی تھی..
“بس اب ایک روم ہی بچا تھا تو وہ روم کی طرف بڑھی تھی
“انکا گھر کافی چھوٹا تھا پر ان دونوں ماں بیٹی کے لئے کافی تھا جس میں وہ دونوں مطمعین تھی اور خوشی ہر آرام سے اپنی زندگی گزار رہیں تھیں..
“امی آپ یہاں بیٹھی ہیں اور میں کب سے آپکو آواز دے رہی ہوں اور اپنے کوئی جواب بھی نہیں دیا.
“جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو عائشہ بیگم کو کمرے میں موجود کرسی پہ بیٹھا دیکھ کر پریشانی میں انکے قریب جاکر بولی تھی.
“جبکہ عائشہ بیگم نے اسکی آواز سنی ہی نہیں تھی وہ تو بس بیڈ پہ نظریں جمائے بیٹھی ہوئی تھی.
“ابیہا نے جب انکی نظر بیڈ پہ جمی دیکھی تو اس نے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا تھا
“بیڈ پہ نظر پڑتے ہی اس پہ موجود سامان کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے.
“وہ ایک جھٹکے میں وہاں سے اٹھ کر بیڈ تک آئی تھی اب اسکو عائشہ بیگم کی خاموشی اچھے سے سمجھ آ گئی تھی.
“میری سمجھ میں یہ نہیں آتا امی کہ آپ ان لوگوں کو منع کیوں نہیں کرتی ہیں
“وہ بیڈ پہ موجود سامان کو دیکھ کر نفرت سے بولی تھی
“میں نے کتنی بار منع کیا ہے بیٹا پر ان کے تو بات سمجھ میں ہی نہیں آتی ہیں ہر ماہ وہ لوگ آتے ہیں اور یہ سب رکھ کر چلے جاتے ہیں .
“اسکی بات پہ عائشہ بیگم پریشانی سے بولی تھی
“امی ان سے کہو کہ نہ ہمیں ان کی کوئی ضرورت ہیں اور نہ ہی انکی دی ہوئی کسی بھی چیز کی
“وہ بیڈ سے ایک ایک سامان اٹھاتی ہوئی بولی تھی اور عائشہ بیگم اچھے سے جانتی تھی کہ اسکا ارادہ ان سب چیزوں کو ایک پل بھی اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کا نہیں تھا
“امی اگر آئندہ وہ لوگ یہاں آۓ تو انکو گھر میں گھسنے ہی مت دینا آپ..
“وہ کیا سمجھتے ہیں یہ سب چیزے دے کر آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں وہ ..
“وہ ہر بار کی طرح آج بھی سب چیزوں کو باہر پھینک کر آتے ہوئے بولی تھی اس نے کبھی بھی یہ دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی کہ ان سب شاپر میں کیا ہوتا تھا ..
“تم تو جانتی ہی ہو میں کتنا منع کر لوں لیکن وہ لوگ زبردستی اندر آ کر رکھ کے چلے جاتے ہیں میں بوڑھی جان ان کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہوں..
عائشہ بیگم بیچارگی سے بولی تھی ابیہا کو ترس آیا تھا انکی شقل دیکھ کر.
“چلے آپ پریشان نہ ہو آگے سے میں خود دیکھ لوں گی ان سب کو.
وہ انکو ہر بار کی طرح تصلی دینے والے انداز میں بولی تھی پر ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ اسکی غیرموجودگی میں ہی آتے تھے اور اس بات سے اسکا غصّہ مزید بڑھتا تھا “
“چلے آپ یہاں بیٹھے میں آپکی دوائی لے کر آتی ہوں اور زیادہ ٹینشن لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہیں آپکو ..
“وہ انکو بیڈ پہ بیٹھاتی ہوئی بولی تھی اور روم سے باہر نکل گئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ کوئی بھی ٹینشن لے ورنہ انکی طبیعت خراب بھی ہو سکتی تھی اس لئے وہ کبھی بھی انکی سامنے کوئی ایسی بات نہیں کرتی تھی”””
💞💞💞💞💞💞💞💞
“”””کہاں چلی گئی ہو تم بولو نہ آخر کہاں چلی گئی ہو?
“وہ آج پھر اس فوٹو کو ہاتھ میں لئے بیٹھا اس سے بات کر رہا تھا ہمیشہ کی طرح
جیسے اس فوٹو میں موجود ہستی بلکل اسکے سامنے ہی بیٹھی ہو
“کیا مل رہا ہے تمہیں مجھے اس ترح سے تڑپا کر بولو ?
ایک اور سوال وہ اس سے پوچھ رہا تھا
“لیکن تم مجھے نہیں جانتی ہو
“تم چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں چلی جاؤ میں تمھیں پھر بھی ڈھونڈھ لوں گا.
“اس وقت اسکی آنکھوں میں ایک جنون تھا اور خود پر یقین .
“اور پھر میں تمھیں اپنی دنیا میں قید کر لوں گا پھر تم کتنی بھی کوشش کر لینا
لیکن تم میری اس قید سے کبھی آزادی حاصل نہیں کر پاؤ گی.
“اس بار اسکے مغرور چہرے پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی.
“اسکے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا محبت.. تڑپ.. دیوانگی… جو دروازے پہ کھڑا عمر بہت اچھے سے محسوس کر سکتا تھا .
“ایک دن وہ بھی آیگا جب تمھیں میری اس قید سے محبت ہو جائے گی اور پھر تم کبھی بھی اس قید سے آزادی نہیں چاہوگی ۔
“وہ اس تصویر کو دیکھتا ایک جذبے سے بول رہا
اور بولتا بھی کیوں نہ کیونکہ اسکو اس بات کا پورا یقین تھا کہ جیسا وہ بول رہا ہے ویسا ہوگا بھی
کیونکہ وہ ڈی کے تھا اور آج تک اس نے جو کہا ہے وہ کر کے بھی دکھایا تھا .
“جو تم بول رہے ہو اگر ایسا نہ ہوا ?
اور اس نے اس قید سے آزادی ہی مانگی تم سے تو کیا کروگے?
“اس بار عمر اسکی بات کاٹ کر بولتا ہوا روم میں داخل ہوا تھا..
“کل سے وہ اسکا فون نہیں اٹھا رہا تھا جس وجہ سے اب وہ یہاں موجود تھا ..
“عمر کی آواز اور بات سن کر اس نے گردن موڑ کر دیکھا جو کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا
“ایسا ہی ہوگا عمر ….ہوگا ایسا ہی تم دیکھ لینا ..
“وہ عمر کو جواب دیتا بیڈ سے اٹھا اور اس فوٹو کو بہت ہی نرمی سے دراز میں رکھا تھا.
“اسکی بات سن کر عمر خاموش ہی رہا تھا اسے اس وقت وہ ڈی کے نہیں ایک ضدی بچا لگ رہا تھا
“اچھا یہ سب چھوڑو مجھے اس کام کا بتاؤ جو تمھیں میں نے کرنے کے لئے بولا ہوا ہے..
“ڈی کے اس بات کو ختم کرتا ہوا اپنے کام کی بات پہ آیا تھا..
“آجکل میں تمہارے اسی کام میں بیزی ہوں بس ایک دو دن تک معلوم ہو جائے گا کی اسکی اگلی ڈیل کب کی ہے ..
“عمر تفصیل سے اسکو ساری معلومات بتا رہا تھا..
“ٹھیک ہے
“اور ہاں ذرا دھیان سے کسی کو شق نہیں ہونا چاہیے کی تم کون ہو ..
“اگر کسی کو ذرا بھی شق ہوا نہ تو تم جانتے ہی ہو نہ ..کی کیا ہو سکتا ہے
“وہ اس بار اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا
“ہاں میری پوری کوشش تو یہ ہی ہے ..
“اور میں اچھے سے جانتا ہوں کہ اگر کسی کو مجھ پہ شق ہو گیا تو میری جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے .پر تم فکر مت کرو میں نے بہت خیال رکھا ہوا ہے اس بات کا .
“عمر اسکو اپنی بات کا یقین دلا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسکے لئے فکر مند ہے بس کبھی ظاہر نہیں کرتا ہے ..
“اچھی بات ہے ..
“اس نے صرف ان تین لفظوں پہ اپنی بات ختم کی تھی جس پہ عمر ایک گہری سانس بھر کے رہ گیا تھا “”
(جاری ہے)
