258.6K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaaz Ishq (Episode - 6)

Awaaz Ishq By Isra Rao

وہ اوندھے منہ لیٹا گہری نیند میں تھا جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا اس کا فون چیخنے لگا۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔۔اور کال رسیو کر کان سے لگایا۔۔۔

“ہیلو۔۔۔” وہ آدھ کھلی آنکھوں سے پوچھنے لگا۔۔۔

“ہیلو حمدان۔۔۔حمدان شاہ”

اس کے کانوں میں باریک آواز پڑی۔۔۔

“یس۔۔۔ہوزز یو۔۔۔؟” اس نے سوال کیا۔۔۔

“میں سارہ۔۔۔آپ کو یاد ہوگا ہم پارٹی میں ملے تھے۔۔۔”

وہ کہنے لگی۔۔۔

“سارہ۔۔۔کاشف کی منگیتر۔۔۔۔۔رائٹ؟”

وہ نیند سے بیدار ہوا ۔۔

“اوہ کم آن ہماری کوئی منگنی نہیں ہوئی۔۔۔۔اور اگر ہوئی ہوتی تب بھی ناٹ آ بگ ڈیل۔۔۔۔ٹوٹ بھی سکتی ہے”

وہ سادہ سے لہجے میں گویا ہوئی

“واٹ۔۔۔۔؟” وہ چونکا۔۔۔

“اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ میں کاشف کو پسند نہیں کرتی۔۔۔میں آپ کو کرتی ہوں۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔

“مجھے؟ مگر۔۔۔”

وہ شاکڈ تھا اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔

“آپ سوچ لو۔۔۔کوئی جلدی نہیں۔۔۔آرام سے جواب دے دینا۔۔۔”

اتنا کہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔

اور وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“سر مے آ کم ان۔۔۔۔؟” وہ لوگ دروازے پر کھڑے اجازت مانگنے لگے

“ٹائم دیکھا ہے۔۔۔؟” سر صابر نے سنجیدگی سے پوچھا

“سر وہ اسائنمنٹ جمع کروانے گئے تھے۔۔۔دیر ہوگئی۔۔سوری سر”

طیبہ نے شرمندگی سے کہا۔۔۔

“اوکے کم ان۔۔۔” سر صابر پھر سے اپنا لیکچر شروع کرنے لگے۔۔

سامنے فرنٹ سیٹ پر اکیلی وہ بیٹھی کچھ لکھنے میں مصروف تھی کہ حنید بیگ رکھ اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔۔۔

“ہائے حریم۔۔” اس نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔

اور حریم خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔

“کیا ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگا

“نہیں کچھ نہیں۔۔۔” وہ خاموشی سے سامنے دیکھنے لگی۔۔۔

“بولو۔۔۔” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔

“سامنے دیکھو ۔۔۔سر دیکھ لیں گے تو دونوں کو کلاس سے نکال دیں گے حنید۔۔۔۔”

وہ بیچارگی سے کہنے لگی اور پھر سے سامنے دیکھنے لگی۔۔۔

وہ بھی خاموشی سے سر صابر کے لیکچر کو سننے لگا۔۔۔مگر وہ پڑھا تو آخر کیمسٹری رہے تھے۔۔۔جو اس کے سر پر سے گزرتی تھی۔۔۔

“تمہیں میرا یہاں بیٹھنا برا تو نہیں لگا حریم؟”

وہ آخر کو پھر سے مخاطب ہوا۔۔۔

اور اس بار شاید بورڈ پر کچھ لکھنے میں مصروف سر کے کانوں میں اس کی آواز پڑ ہی گئی۔۔۔

“ہے یو..اسٹینڈ اپ۔۔۔”

اس سے پہلے کہ حریم کچھ کہتی سر صابر کی زوردار آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔۔

“باتیں کرنے آتے ہو۔۔۔۔”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگے

” نہیں سر وہ۔۔۔ میں تو پین مانگ رہا تھا بس۔۔۔”

حنید نے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا۔۔۔

“اچھا۔۔۔پھر بتاؤ میں کیا سمجھا رہا تھا۔۔۔؟”

سر صابر تشویشناک انداز میں پوچھنے لگے۔۔۔

“وہ سر۔۔۔آپ نے اسٹرکچر بنایا ہے۔۔۔”

حنید نے فوراً جواب دیا۔۔۔

“اچھا کس کا اسٹرکچر بنایا ہے نام بتاؤ جلدی۔۔۔”

انہوں نے ابرو چکائی۔۔۔

اور اس بار حنید خاموش ہوگیا کیوں کہ اسے واقع معلوم نہیں تھا۔۔۔سچ تو یہ تھا کیمسٹری اس کے پلے کبھی پڑی ہی نہیں۔۔۔

“ہممم۔۔۔نہیں پتا۔۔۔چلو یہ بتا دو کہ اینائن اور کیٹائن میں فرق کیا ہے؟ یہ تو میں نے ایف ایس سی کا سوال کیا ہے” اس کی خاموشی دیکھ سر صابر نے آسان سوال کیا۔۔۔لیکن حنید کی بد قسمتی کہ اسے یہ بھی نہیں پتا تھا۔۔۔

اس نے بیچارگی سے حریم کو دیکھا۔۔۔

حریم نے فوراً سے پاس رکھے جنرل پر + اور – کا سائن بنایا۔۔۔

“پلس مائنس۔۔۔۔” وہ ناسمجھی میں بڑبڑایا۔۔۔

اس سے پہلے کہ جواب سن کر سر صابر مزید سوال کرتے بیل کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔۔ وہ کچھ کہے بنا کلاس سے باہر چلے گئے۔۔۔۔اور حنید نے سکون کا سانس لیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیا مجھے سارہ کے بارے میں میں کاشف کو بتانا چاہیے؟”

وہ ڈرائیونگ کرتے گہری سوچوں میں ڈوبا تھا۔ ۔

“لیکن اگر میں بتا بھی دوں۔۔۔اور کاشف نے یقین نا کیا تو۔۔۔؟”

وہ پھر سے سوچنے لگا۔۔۔

“لیکن کچھ نا کچھ تو کرنا ہوگا۔۔۔”

وہ دو انگلیوں کے پوروں سے پیشانی کو رگڑتے ہوئے خود کلامی کرنے لگا۔۔۔

تبھی اس کا فوں زوروں سے بجنے لگا۔۔۔

اس نے اسکرین پر دیکھا عنایہ کالنگ جھلملا رہا تھا۔۔۔

“ہیلو۔۔۔”اس نے کال رسیو کی۔۔۔

“ہنی کہاں ہو یار۔۔۔صبح سے نا کال نا میسج۔۔۔”

عنایہ نے گلہ کیا۔۔

“میں لیٹ اٹھا تھا۔۔۔رات کو کاشف کی پارٹی میں کافی دیر ہوگئی تھی۔۔۔”

اس نے وضاحت کی۔۔۔

“ابھی بھی سو رہے تھے۔۔۔؟” عنایہ نے سوال کیا۔۔۔

“نہیں۔۔۔کاشف کی طرف جارہا ہوں۔۔۔”

اس نے جواب دیا۔۔۔

“لیکن آج تو ریکارڈنگ ہے نا۔۔میں نے اسی لیے۔۔۔۔۔”

عنایہ بات کرتی کہ پہلے ہی اس نے بات کاٹ دی

“سوری یار۔۔موڈ نہیں آج تم منع کردینا۔۔۔۔”

اس نے فوراً کہا۔۔۔

“ہنی۔۔۔۔ایوریتھنگ از آلرائٹ؟”

وہ فکرمندی سے پوچھنے لگی۔۔۔

“ہاں۔۔۔ایم اوکے۔۔۔۔بائے۔۔۔”

اس نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ہرے ہرے گھاس پر بیٹھی کتاب ہاتھ میں لیے کچھ پڑھ رہی تھی کہ حنید اس کے پاس بیٹھا۔۔۔

“تھینک یو۔۔۔” حنید نے مسکرا کر کہا۔۔۔

“کس لیے؟” وہ کتاب بند کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“وہ سر کے سامنے بچا لیا نا تم نے۔۔۔”

حنید نے ہنس کر جواب دیا۔۔۔

اچھا۔۔۔میں نے نہیں بچایا۔۔۔بیل نے بچا لیا ٹائم پر بریک نا ہوتی تو مزید سوال ہوتے۔۔۔اور مجھے نہیں لگتا کہ تم جواب دے پاتے۔۔۔”

حریم نے ہنس کر کہا۔۔۔

“مزاق اڑا رہی ہو۔۔۔؟” حنید نے پوچھا۔۔۔

“۔نہیں۔۔۔” وہ ہنسی کنٹرول کرنے لگی۔۔۔

“یہ دنیا۔۔۔یہ محفل میرے کام کی نہیں۔۔۔

میرے کام کی نہیں۔۔۔”

وہ منہ بنا کر گنگنانے لگا۔۔۔

اور حریم کی کب سے کنٹرول کی ہوئی ہنسی نکل ہی پڑی۔۔۔

اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔

حنید کی نظر اسی پر ٹکی تھی۔۔۔۔

وہ پہلی بار اسے یوں بے غرض ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ورنہ وہ ہمیشہ چپ چپ ہی رہتی تھی۔۔۔

“حریم تمہیں پتا ہے۔۔۔تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔۔اور جب تم ہنستی ہو تو ان میں اور بھی خوبصورتی آجاتی ہے۔۔۔”

حنید اسے اپنی یک ٹک دیکھتا بولتا جارہا تھا۔۔۔

اور وہ یک دم سے خاموش۔۔۔اس کی بات سننے لگی۔۔۔

“میں بس بتا رہا تھا۔۔۔” حنید اس کے رکنے پر شرمندہ ہوا۔۔۔کہ شاید وہ زیادہ بول گیا۔۔۔

“تمہاری بھی آواز اچھی ہے۔۔۔۔گنگنایا کرو۔۔۔۔”

وہ مزے سے کہنے لگی۔۔۔

اور حنید ہنس دیا۔۔۔۔