Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 1)
Awaaz Ishq By Isra Rao
وہ یہاں وہاں دیکھتی قدم بڑھا رہی تھی۔۔۔
ہر طرف لڑکے لڑکیوں کی ریل پیل لگی تھی۔۔
آج کالج میں اس کا پہلا دن تھا۔۔۔وہ کاندھے پر بیگ لٹکائے۔۔ہاتھ میں کتابیں تھامے۔۔۔کنفیوز سی نظر آرہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ آگے بڑھتی۔۔۔کسی سے ٹکراتے بچی۔۔۔
اس نے معصومیت سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔۔۔
“سس۔۔۔سوری۔۔۔” وہ ہچکچاتے کہتی دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔۔
اس نے خود نظروں کی تپش محسوس کی۔۔۔اس نے فوراً جھکی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسےاپنی طرف متوجہ دیکھا تو ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
اور زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“آئی لو یو” یک دم ہی اس نے ہاتھ میں پکڑا گلاب اس کے سامنے کیا۔۔۔
آس پاس بہت سے اسٹوڈنٹس انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔
وہ گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔
اس کا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔
اس کی آنکھوں میں تیزی سے نمی امڈ آئی۔۔۔
جسے شاید زمین پر بیٹھا وہ شخص نوٹس کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“ہے۔۔بے بی پلیز ڈونٹ کرائ۔۔۔ایم جسٹ کڈنگ۔۔۔”
اس نے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔مگر وہ ہتھیلی کی پشت سے گال پر گرتے آنسوں صاف کرتی تیزی سے وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔۔
“تم لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے سب”
طیبہ نے چپس منہ میں رکھتے ہوئے لاپرواہی سے کہا
“میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔یہ۔۔یہ عمر نے پانچ ہزار کی شرط لگائی تھی۔۔۔کہ جو پہلی لڑکی گیٹ سے داخل ہوگی۔۔۔پروپوز کر کے دکھا۔۔۔تو میں نے کردیا۔۔”
اس نے عمر کو چپت لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
“اور تم پانچ ہزار کے بھوکے۔۔۔تم نے اپنا اسٹینڈرڈ اتنا گرا لیا کہ کسی بھی آئی گئی لڑکی کو پروپوز کردیا۔۔۔حد ہے ویسے”
وہ طنز کرنے لگی۔۔۔
“اور تم تو چپس کا ریپر بھی ٹھونسنے لگتی ہو۔۔میں پانچ ہزار پر بھی نا مروں۔۔۔” اس نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی بات پر سب ہی ہنس دیے۔۔۔
“مجھے چھوڑو اپنی سوچو۔۔۔روتی ہوئی بھاگی تھی وہ لڑکی۔۔۔اگر تمہاری کمپلینٹ کردی تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔”
طیبہ نے جل کر کہا۔۔۔
“تو کیا۔۔۔میں کہ دوں گا یہ سب عمر نے کروایا ہے۔۔۔میں اکیلا کیوں پھنسوں بھئی۔۔۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“ابے۔۔۔میں نے کیا کیا ہے۔۔۔پروپوز تو تونے کیا۔۔۔”
عمر نے فوراً سے خود کی دفاع کی۔۔۔
“تو تونے ہی ایسی شرط رکھی کوئی اور رکھ لیتا۔۔۔پانچ ہزار کا لالچ دے کر الٹے کام کرواتا ہے۔۔۔”
وہ تپ کر کہنے لگا۔۔۔
“تو تو نہیں آتا لالچ میں۔۔۔۔” وہ بھی تن کر کہنے لگا۔۔۔
“اب تو آگیا۔۔۔۔خیر تو میرے پیسے نکال۔۔۔۔اتنا ذلیل ہوا ہوں ان کے پیچھے۔۔۔”
وہ ہاتھ بڑھا کر کہنے لگا۔۔۔
“ہاں دے دوں گا ابھی کلاس کا ٹائم ہوگیا۔۔۔چلو۔۔چلو۔۔”
وہ بیگ کاندھے پر رکھتے ہی تیزی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔
“چوروں کو پڑ گئے مور۔۔۔” طیبہ نے ہنس کر کہا۔۔۔
جس سے وہ اور تپا۔۔۔۔
بیگ اٹھایا اور عمر کے پیچھے بھاگا۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔
اس کا کینٹین جانے کا بلکل بھی موڈ نہیں تھا۔۔۔
نا ہی اس نے کسی سے بات کرنے کی کوشش کی۔۔۔
وہ کتاب نکال کر کچھ پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔
تبھی اس کے مقابل کوئی آکر بیٹھ گئی۔۔۔
“اسلام علیکم۔۔۔ایم ماریہ۔۔۔ماریہ خان۔۔۔واٹس یوور گڈ نیم۔۔۔؟”
اس نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
وہ معصومیت سے دیکھنے لگی۔۔۔پھر ہاتھ بڑھا کر ملا لیا۔۔۔
اور پھر سے کتاب پر نظر جما لی۔۔۔
“نام نہیں بتایا تم نے؟” وہ پھر سے مخاطب تھی۔۔۔
“حریم ۔۔۔” اس نے جبرً مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
“میرا بھی آج پہلا دن ہے کالج میں۔۔۔میں نے تمہیں دیکھا تھا کلاس میں۔۔۔”
ماریہ نے کہا
بدلے میں وہ صرف مسکرائی۔۔۔
وہ لوگ کینٹین کی طرف جارہے تھے کہ یک دم عمر کی نظر سامنے سیڑھیوں پر بیٹھی لڑکی پر پڑی۔۔۔
“ابے رک رک۔۔۔۔وہ دیکھ وہی لڑکی” عمر نے اشارہ کیا
“تو میں کیا کروں؟” اس نے شانے اچکائے۔۔۔
“ابے معافی مانگ کر آ۔۔۔اس سے ہو سکتا ہے کمپلینٹ نہ کرے تیری۔۔” عمر نے سمجھایا۔۔۔
“رکو۔۔۔میں بات کرتی ہوں۔۔۔” طیبہ نے اسی سمت دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اور مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔۔۔
“ہے گرلز۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔؟” طیبہ نے قریب آکر کہا۔۔۔
حریم اور ماریہ نے اسے دیکھا پھر ایک دوسرے کی سمت دیکھنے لگے۔۔۔
“اصل میں آپ سے۔۔۔کیا نام ہے آپ کا؟”
طیبہ نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔۔
“حریم” حریم نے جواب دیا۔۔
“ہاں۔۔حریم میں آپ سے معزرت کرنے آئی ہوں۔۔۔آپ کو سوری بولنے آئی ہوں۔۔”
طیبہ نے سادگی سے کہا۔۔۔
جس پر حریم حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔
“سوری کس لیے؟” وہ پوچھنے لگی۔۔۔
“وہ وہاں۔۔۔میرا دوست ہے۔۔۔حنید۔۔اس نے صبح جو بدتمیزی کی آپ کے ساتھ۔۔۔وہ بہت شرمندہ ہے۔۔۔۔پلیز آپ اس کی کمپلینٹ مت کرنا۔۔۔”
طیبہ معصومیت کی حد پر تھی۔۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔” حریم نے ایک نظر تھوڑے فاصلے پر کھڑے اس شخص کو دیکھا۔۔۔جس کی وجہ سے اس کا پہلا دن ہی خراب ہوگیا تھا۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔” طیبہ نے خوش دلی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
حریم پھر سے اپنی کتابوں میں مگن ہوگئی۔۔۔
“مجھے تو یہ لڑکی بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی”
ماریہ نے اس کے حلیے کو نوٹس کیا تھا۔۔۔
حریم اس کی بات سن خاموش رہی۔۔۔
“خیر تم بتاؤ۔۔کون کون ہے تمہاری فیملی میں۔۔؟”
ماریہ نے سوال کیا۔۔
“میں اور تحریم آپی۔۔” حریم نے جواب دیا۔۔۔
“اور کوئی نہیں ہے؟” وہ حیران ہوئی۔۔
“نہیں۔۔۔ماما پاپا کی چار سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں death ہوگئی تھی۔۔۔تب سے ہم دونوں بہنیں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔۔۔۔” حریم نے بتایا۔۔۔
“اور کوئی رشتے دار وغیرہ نہیں ہیں۔۔۔؟”
ماریہ نے پھر پوچھا۔۔۔
“ہیں۔۔۔لیکن سب گاؤں میں ہیں۔۔۔میرے پاپا ہمیں پڑھانا چاہتے تھے۔۔۔اس لیے کافی سال پہلے ہی کراچی سیٹل ہوگئے تھے۔۔۔”
حریم نے وضاحت کی۔۔۔
“آپی کیا کرتی ہیں تمہاری۔۔؟” وہ پھر سے پوچھنے لگی۔۔۔
“وہ ٹیچر ہیں گورنمنٹ اسکول میں۔۔۔”
حریم نے کہا۔۔۔۔
“چلو کلاس کا ٹائم ہوگیا۔۔۔” ماری نے کہا۔۔۔اور دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
اس نے آتے ہی کتابیں اور بیگ صوفے پر پھینکا۔۔۔
اور خود صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔۔
“آپی۔۔۔آپی پانی لادیں۔۔۔” اس نے آواز لگائی۔۔
“حریم کیا ہوگیا ہے۔۔۔یہ بیگ اور کتابیں یہاں کیوں پھینکی۔۔۔” تحریم آپی اسے گلاس تھماتی کتابیں سمیٹنے لگی۔۔۔
“بہت تھک گئی ہوں آپی۔۔۔” اس نے بیزاری سے کہا۔۔۔
“اچھا پہلے دن ہی تھک گئی۔۔۔اچھا بتاؤ کیسا گزرا دن؟”
تحریم آپی نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
“اچھا تھا۔۔۔بس تھوڑا بور گزرا۔۔۔”
اس نے منہ بنایا۔۔۔
“اچھا اٹھو منہ ہاتھ دھو لو۔۔۔میں کھانا لگاتی ہوں۔۔”
تحریم آپی نے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
