Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 21)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 21)
Awaaz Ishq By Isra Rao
اس نے کھڑکی کا پردہ ہٹایا تو ٹھنڈی ہوا نےاس کا استقبال کیا۔۔۔
اس نے مسکرا کر آنکھیں بند کی۔۔۔
(تم بہت اچھا گنگناتی ہو)
اس کی سماعت سے جملہ ٹکرایا۔۔۔
اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔۔
وہ بہت خوش تھی۔۔۔
آنکھیں کھتے ہی پہلی نظر اس کی لان میں کھڑے حمدان پر پڑی۔۔۔
جو فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔
بکھرے بال۔۔۔جینس پر تیز رنگ کی ٹی شرٹ پہنے۔۔۔وہ بہت سادہ سا لگ رہا تھا۔۔۔
جبکہ حریم نے کبھی اس کی تصویروں میں ٹی وی پر۔۔۔اسے اس روپ میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔
حریم بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے اپنے دائیں ہاتھ سے اڑتے بالوں کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
کال بند کرتے ہی اس نے فون ٹیبل پر رکھا۔۔۔
اور دو انگلیوں کو پیشانی پر رکھ مسلنے لگا۔۔۔
جیسے بہت گہری سوچ میں ہو۔۔۔
حریم لبوں کو کھلائے اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
شاید یہ منظر اس کے لیے سب سے خوبصورت تھا۔۔۔
“حریم…یہ ڈریسز دیکھ لو۔۔۔تمہارےلیے منگوائے ہیں”
فائقہ کے بلانے پر جیسے ہی وہ آئی۔۔۔
انہوں نے اس کے سامنے ڈریسز رکھ دیے۔۔۔
“میرے لیے کیوں۔۔؟” حریم نے تجسس سے انہیں دیکھا۔۔۔
“ڈیڈ نے کہا تھا تمہیں دینے لیے۔۔۔کل حمدان تمہیں میوزک ڈائریکٹر سے ملوائے گا۔۔۔انہی میں سے کچھ پہن جانا۔۔”
فائقہ نے کہا۔۔۔
“مجھے؟…کیوں؟” وہ شاکڈ ہوئی۔۔۔
“اب یہ تو تم ڈیڈ سے یا حمدان سے ہی پوچھنا۔۔۔فلحال تو تم ڈریسز دیکھ لو جو ناپسند ہو بتا دینا میں چینج کروا دوں گی۔۔۔”
انہوں نے کہا اور اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
حریم نے ہاتھ بڑھا کر ایک ایک کر کے ڈریس دیکھے۔۔۔
وہ سب اسٹائلش اور مہنگے لباس تھے۔۔۔
وہ دیکھ ہی رہی تھی کہ اسے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی اس نے جھٹ سے نظر اٹھائی۔۔۔
“کیا کر رہی ہو؟” حمدان ہاتھ میں موبائل تھامے صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔
“جی۔۔۔وہ کل کے لیے ڈریس۔۔۔”
حریم نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہممم۔۔۔کوئی بھی پہن لو۔۔۔میں بتاؤں۔۔۔۔”
وہ اٹھ کر ڈریس دیکھنے لگا۔۔۔
حریم خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے ایک ڈریس اٹھا کر حریم کی طرف بڑھایا۔۔۔یہ پہن لینا۔۔۔۔
حریم نے مسکراتے ہوئے تھام لیا۔۔۔
“تم کتنی معصوم ہو یار”
حمدان نے اس کی جھکی نظروں کو بغور دیکھتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔۔
اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
(تم کتنی معصوم ہو یار)
خیال آتے ہی اس نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے شرما کر چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔
مسکراہٹ لبوں سے دور ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے ڈریس اٹھایا۔۔۔وہ ایک وائٹ کلر کا ساد سا کرتی ٹائپ ڈریس تھا۔۔۔
جو کافی حد تک اونچا تھا۔۔۔
جس پر کڑھائی سے نفیس کام ہوا تھا۔۔۔
حریم نے اسکی بازوں تلاش کی۔۔۔مگر وہ سلیو لیس تھا۔۔۔
حریم یک دم سنجیدہ ہوئی۔۔۔
اس نے کبھی ایسے کپڑے نہیں پہنے تھے۔۔۔۔
وہ ڈریس کو ہاتھ میں لیے سوچ رہی تھی۔۔۔
کہ اس کا فون بجنے لگا۔۔۔اس نے پاس رکھا موبائل اٹھایا۔۔۔اور کال رسیو کی۔۔۔
ہیلو۔۔۔” ماریہ کا نام دیکھتے ہی اس نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
“کیسی ہو؟” ماریہ نے حال پوچھا۔۔۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔آج کیسے یاد آگئی میری؟”
وہ شکوہ کرنے لگی۔۔۔
“مجھے تو یاد ہے سب۔۔۔تو بھول گئی مجھے۔۔۔”
ماریہ نے الٹ کہا۔۔۔
“نہیں یار۔۔۔میں بھلا تجھے بھول سکتی ہوں۔۔۔”
حریم نے پیار سے کہا۔۔۔
“اچھا۔۔۔چل بتا لائف کیسی گزر رہی ہے۔۔۔وہاں سب کیسے ہیں۔۔۔آئی مین سب ٹھیک ہے وہاں۔۔۔؟”
ماریہ نے سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔
“ہاں۔۔۔سب بہت اچھے ہیں۔۔۔پتا ہے ماریہ ڈاکٹر حامد سکندر شاہ کون ہے؟”
حریم نے خوشی سے کہا۔۔۔
“نہیں۔۔۔کیوں۔۔۔کون ہے؟” ماریہ نے پرسکونی سے پوچھا۔۔۔
“ڈاکٹر حامد سکندر شاہ۔۔۔سنگر حمدان شاہ کے والد ہیں۔۔۔۔”
حریم نے جلدی سے بتایا۔۔۔
“واٹ۔۔۔؟” وہ اچھلی۔۔۔
“ہاں سچی۔۔۔میں نے تو جب حمدان کو اپنے سامنے دیکھا مانو۔۔۔میں تو حواس ہی کھو بیٹھی۔۔۔۔میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔کہ میں اس کے ہی گھر میں ہوں۔۔۔”
حریم بولتی جارہی تھی۔۔۔
وہ ماریہ کو دل کی ساری بات بتا دینا چاہتی تھی۔۔۔
رات گئے تک دونوں بات کرتے رہے۔۔۔
ماریہ اسے خوش دیکھ بہت خوش تھی۔۔۔
آخر کو اس کی سہیلی مسکرانے لگی تھی۔۔۔
وہ خود پر پرفیوم چھڑکتا آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
بلیک بلیک جینس شرٹ میں بہت کھل رہا تھا۔۔۔
اس نے ٹیبل پر سے اپنی گھڑی اٹھائی۔۔۔اور پہننے لگا۔۔۔
تبھی اس کا فون شور مچانے لگا۔۔۔
اس نے اسکرین کو دیکھا۔۔۔
کاشف کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔ہاں بول “
وہ فون کان سے لگائے۔۔۔ہاتھ سے گھڑی کو باندھتا سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔
“ہاں ہاں مجھے یاد ہے۔۔۔ایک ہفتے بعد ہے نا پارٹی۔۔۔پہنچ جاؤں گا۔۔۔فکر نہیں کر۔۔۔”
کاندھے کی مدد سے فون کو گرنے سے روکتا۔۔۔۔باتیں کرتا آخری سیڑھی پر رکا۔۔۔۔
اس کی نظر سامنے کھڑی حریم پر پڑی۔۔۔جو ہلکے جامنی کلر کا سادہ سا سوٹ پہنے بالوں کو کیچر کی مدد سے قید کیے۔۔۔
سادگی کا ہر روپ جھلکا رہی تھی۔۔۔
حمدان نے خاموشی سے فون بند کر پینٹ کی جیب میں رکھا۔۔۔
حریم نظریں چراتی۔۔۔لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سموئے۔۔۔اس کے سامنے تیار کھڑی تھی۔۔۔
اسے بغور دیکھتے ہوئے وہ اس کے قریب آیا۔۔۔
اسے دیکھ حمدان کے چہرے پر ناگواری اتری۔۔۔
“جاہل ہو تم؟” وہ چبا کر کہنے لگا۔۔۔
حریم نے جھٹ سے اسے یکھا۔۔۔
“لگ بھی رہا ہے تمہاری ڈریسنگ سینس سے۔۔۔پہلے خود کو اپ ٹو ڈیٹ کرو پھر آگے چلنے کا سوچنا”
وہ تیکھی نظروں سے اسے گھورتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
حریم آنکھوں میں نمی لیے اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔۔
وہ پورا دن کمرے سے باہر نہیں نکلی۔۔۔
لنچ کے لیے بھی اس نے منع کردیا تھا۔۔۔
وہ کرسی پر بیٹھی اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
آج اسے اپنی آپی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔
آنسوں آنکھوں کو بھگو گئے۔۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔اور فائقہ اندر داخل ہوئی۔۔۔
” بھابھی آپ۔۔۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“ہاں تم صبح سے آئی ہی نہیں باہر۔۔۔کمرے میں قید ہو۔۔۔میں نے سوچا حال پوچھ لوں۔۔۔”
فائقہ نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
حریم مسکرا دی۔۔۔
“کوئی بات ہوئی ہے۔۔۔اپ سیٹ ہو؟”
فائقہ نے پیار سے پوچھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔”
حریم نے نظریں جھکائی۔۔۔
“اچھا گئی نہیں آج تم؟” کچھ یاد آنے پر وہ پوچھ بیٹھی۔۔۔
“کہاں؟” حریم انجان بنی۔۔۔
“حمدان کے ساتھ جانا تھا نا تمہیں آج”
فائقہ نے جیسے یاد کروایا۔۔۔
وہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلا گئی۔۔۔
“پھر گئی نہیں۔۔۔؟” انہوں نے سنجیدگی سے سوال کیا
“بھابھی۔۔۔میں سنگنگ نہیں کرنا چاہتی آپ پلیز ڈیڈ کو منع کردیں۔۔۔”
حریم نے فیصلہ سنایا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔” فائقہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔
آج بہت تھکا دینے والا دن تھا ویسے؟”حامد صاحب نے ڈنر کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“اب آپ نا ہاسپیٹل کو بائے بائے کہ دیں۔۔۔بیٹے ہیں نا سب زمہداری سمبھال لیں گے۔۔۔”
فائقہ نے کہا۔۔۔
“میں اب اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوا۔۔۔”انہوں نے چڑ کر کہا۔۔۔اور فائقہ ہنس دی۔۔۔
“اور برخوردار تم نے کیا سوچا شادی کے بارے میں؟”
وہ حمدان سے پوچھنے لگے
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔آپ شادی کرسکتے ہیں۔۔ویسے اس عمر اچھے تو نہیں لگیں گے آپ۔۔۔بٹ۔۔۔اٹس اوکے”
وہ شرارت سے کہنے لگا۔۔۔
اور ہنسی دباتا پلیٹ پر جھک گیا۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔میں اپنی نہیں تمہاری شادی کی بات کر رہا ہوں۔۔”
وہ کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگے۔۔
“کرلوں گا۔۔۔کرلوں گا۔۔۔” حمدان نے ہنس کر کہا۔۔۔
“آپ چھوڑ دیں اسے کہنا اب۔۔۔اس نے ماننی تو ہے نہیں بات”
فائقہ نے ہنس کر حامد صاحب کو کہا۔۔۔
“سہی کہ رہی ہو۔۔۔ویسے یہ حریم کہاں ہے آج ؟”
وہ حریم کو نا پاکر پوچھ بیٹھے۔۔۔
“پتا نہیں۔۔صبح سے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی۔۔۔میں پوچھنے بھی گئی۔۔۔مگر کچھ بتایا نہیں۔۔۔مجھے کچھ اپ سیٹ لگی۔۔۔”
فائقہ نے تفصیل دی۔۔۔
حمدان کی منہ میں جاتی چمچ رکی۔۔۔
اسے صبح ہونے والی بات فوراً یاد آگئی۔۔۔
(شاید وہ میری وجہ سے اپ سیٹ ہے۔۔۔
مجھے اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔)
وہ سوچنے لگا۔۔۔
