Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 23)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“بھابھی ایک بات پوچھوں؟”
حریم نے ایکسرسائز کرتی فائقہ کو دیکھا تو پاس آبیٹھی۔۔۔
“ہاں پوچھو۔۔۔” فائقہ نے مصروفیت سے کہا۔۔۔
“یزدان بھائی اور حمدان دونوں میں کوئی ناراضگی ہے؟”
حریم نے جھجھکتےہوئے پوچھا۔۔۔
وہ جو جھک کر پاؤں کے انگوٹھوں کو انگلیوں سے چھو رہی تھی۔۔۔اس کی بات سن سیدھی ہوئی۔۔۔
لمحہ بھر اسے دیکھا۔۔۔پھر رومال سے پسینہ صاف کرتی۔۔۔اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔
“یزدان اور حمدان دونوں بھائی ضرور ہیں مگر ان کی نیچر میں بہت فرق ہے۔۔۔یزدان بہت سمجھدار ہیں۔۔۔مگر وہ حمدان کے غصہ سے تنگ ہیں۔۔۔میری جب شادی ہوئی تھی۔۔۔حمدان بہت چھوٹا تھا۔۔۔وہ مجھ سے بہت اٹیچ رہا ہے۔۔۔”
فائقہ جیسے تفصیل دینے لگی۔۔۔
“حمدان کا غصہ میں برداشت کر لیتی ہوں۔۔۔ڈیڈ بھی کرلیتے ہیں۔۔۔مگر یزدان۔۔۔یزدان کو پتا نہیں کیا ہوجاتا ہے۔۔۔
وہ چاہتے ہیں کہ حمدان کا غصہ ختم ہوجائے۔۔۔اور وہ نارمل بیہیو کرے۔۔۔جب کہ ایسا ہونا مشکل ہے۔۔۔
حمدان کی طبیعت میں ہمیشہ سے ضد رہی ہے۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آجاتا ہے ۔۔۔”
فائقہ کا لہجہ بہت ٹھنڈا تھا۔۔۔
حریم خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھی۔۔۔
“پتا ہی نہیں چلتا کس بات پر اسے غصہ آجاتا ہے۔۔۔تھوڑی دیر بعد خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔۔۔دل کا بہت صاف ہے۔۔۔مگر اسے محبت ظاہر کرنی نہیں آتی۔۔۔و ہ محبت بھی نفرت کی طرح جتاتا ہے۔۔۔اور بس انہی عادتوں کی وجہ سے یزدان کو اس سے چڑ ہے۔۔۔بنتی نہیں دونوں بھائیوں میں۔۔۔”
فائقہ نے جیسے بات ختم کی۔۔۔
“ان کے غصہ کی کوئی وجہ ہے۔۔۔آئی مین کوئی لڑکی وغیرہ۔۔۔”
حریم نے تکہ لگایا۔۔۔
“نہیں وہ بچپن سے ہی ایسا ہے۔۔۔بس میں تو یہی دعا کرتی ہوں کہ اس کی لائف میں بھی کوئی ایسی لڑکی آئے جو اس کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکے۔۔اس کی طبیعت کو سمجھ سکے۔۔۔غصہ میں چھپے پیار کو دیکھ سکے۔۔۔”
فائقہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔ان کے چہرے پر حمدان کےلیے فکر تھی۔۔۔
جسے حریم نے دیکھ لیا تھا۔۔۔
“آنسوؤں سے لکھ دوں میں تجھ کو۔۔۔
کوئی میرے بن پڑھ ہی نا پائے۔۔۔”
حمدان نے خوبصورتی سے پاس بیٹھی حریم کو گنگنا کر دکھایا۔۔۔
اس کی آواز سن حریم کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔
“کیا ہوا مسکرا کیوں رہی ہو؟”
وہ اپنے اسے مسکراتا دیکھ رک کر پوچھنے لگا۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں ایسے ہی۔۔۔” حریم نے یک دم نظر چرائی۔۔۔
“چلو اب تم گاؤ۔۔۔” حمدان نے تنبیہ کہا۔۔
“کیا تجھے اب یہ دل بتائے۔۔
تجھ پہ کتنا مجھے پیار آئے۔۔۔”
حریم اس کی آنکھوں میں دیکھ گانے لگی۔۔۔
جانے اس کی آنکھوں میں کیا تھا حمدان ساکت بیٹھا بنا پلکیں جھپکائے اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں کھونے لگا۔۔۔
آواز تھی کہ اس کی آنکھوں کی خوبصورتی کی عکاسی کر رہی تھی۔۔۔
دونوں بغور ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“حمدان۔۔۔” پیچھے سے آتی آواز نے دونوں کے تسلسل کو توڑا۔۔۔
میوزک روم کے دروازے پر کھڑی لڑکی پر حریم کی نظر ٹھہری۔۔۔
وہ اس کے لیے انجان تھی۔۔۔
بلیک جینس پر تیز میرون کلر کا ٹاپ پہنے۔۔۔بالوں کو کرل کیے ہوئے تھی۔۔۔
اسے دیکھ حمدان اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
وہ پینسل ہیل اٹھاتی۔۔۔ایک انداز میں چلتی ان کے قریب آئی۔۔۔
حریم خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟” حمدان نے چہرے کے زاویے بدلے۔۔۔
“کین یو پلیز۔۔۔لیو اس الون۔۔۔؟” عنایہ نے پاس کھڑی حریم کو دیکھ سنجیدگی سے کہا۔۔۔
حریم نے حمدان کی طرف دیکھا۔۔۔پھر چپ چاپ تیزی سے روم سے نکل گئی۔۔۔
“کیوں آئی ہو تم یہاں۔۔۔؟” حمدان نے چبا کر کہا۔۔۔
“حمدان۔۔۔میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔۔۔اس دن مجھے بس غصہ آگیا تھا۔۔۔”
عنایہ نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
“معافی۔۔۔۔اوہ۔۔۔فار گاڈ سیک۔۔۔” حمدان نے اکتا کر کہا۔۔۔
“حمدان۔۔۔میں تمہیں منانے آئی ہوں۔۔۔اور تم۔۔۔۔جبکہ اس دن قصور تمہارا تھا۔۔۔”
عنایہ نے تپ کر کہا۔۔۔
“میرا قصور تھا؟….اوہ تھینکس۔۔۔ناؤ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔”
حمدان نے تھوڑا جھک کر چباتے ہوئے کہا۔۔۔
جو عنایہ کے غصہ کو ہوا دے گیا۔۔۔
“حمدان۔۔۔تمہارا یہی رویہ۔۔۔تمہیں ہمیشہ اکیلا رکھے گا ہمیشہ اکیلے ہی رہو گے تم۔۔۔”
عنایہ نے تلخ لہجے میں کہا اور پیر پٹختی باہر نکل گئی۔۔۔
شام کا وقت ہو چلا تھا۔۔۔ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔آسمان پر بادل چھائے تھے۔۔۔
موسم بارش آنے کی نشاندھی کر رہا تھا۔۔۔
“بھابھی آج یزدان بھائی نہیں آئے ابھی تک۔۔۔”
حریم کچن میں کھڑی فائقہ کے پاس آئی۔۔۔
“ہاں پتا نہیں…کال کرتی ہوں۔۔۔تم ایک کردو۔۔۔میرے اور حمدان کے لیے کافی بنادو۔۔۔” انہوں نے پیار سے کہا۔۔۔
“شور۔۔۔۔” حریم مسکرائی۔۔۔
“وہ لڑکی کون تھی ویسے۔۔۔؟”
وہ کافی بناتے بناتے سوچنے لگی۔۔۔
“گرل فرینڈ۔۔۔نہیں۔۔کوئی دوست بھی تو ہوسکتی ہے نا۔۔”
حریم نے خود ہی جواب دیا۔۔
“رافعہ باجی یہ کافی بھابھی کو دیں آئیں۔۔۔”
اس نے پاس کھڑی ملازمہ کو کافی کا کپ دیا۔۔۔
ملازمہ کے جانے کے بعد اس نے مسکراتے ہوئے دو کپ کافی ٹرے میں رکھے اور حمدان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
اس کا ارادہ حمدان کے ساتھ بیٹھ کر کافی پینے کا تھا۔۔۔
(حمدان۔۔۔تمہارا یہی رویہ۔۔۔تمہیں ہمیشہ اکیلا رکھے گا ہمیشہ اکیلے ہی رہو گے تم۔۔۔)
وہ ریلنگ پر ہاتھ جمائے باہر کی طرف نظریں گاڑھے کھڑا تھا۔۔۔
عنایہ کے الفاظ اسے سوئیوں کی طرح چبھ رہے تھے۔۔۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی حریم اندر داخل ہوئی۔۔۔
“کافی۔۔۔۔” حریم اس کے برابر کھڑی ہوئی۔۔۔اور اس کی جانب کپ بڑھایا۔۔۔
جسے اس نے خاموشی سے تھام لیا۔۔۔۔
“آج موسم بہت اچھا ہے نا؟”
حریم نے خاموشی کو توڑا۔۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیے باہر دیکھ رہا تھا۔۔۔
“کافی کیسی بنی ہے؟” حریم نے پھر بات کرنی چاہی۔۔۔
“ہمم۔۔۔ٹھیک ہے” اس نےاسی انداز میں جواب دیا۔۔
“وہ۔۔۔وہ لڑکی کون تھی۔۔۔؟” حریم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اس کی بات سن حمدان کا کپ ہونٹوں تک جاتا رکا۔۔۔۔
اس نے حریم کی طرف دیکھا۔۔۔
“کون ہو تم؟” حمدان نے سرخ آنکھوں سے پوچھا۔۔۔اس کے لہجے میں اجنبیت تھی۔۔۔
حریم اس کا سوال سن حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ پوچھنے والی؟”
وہ تیزی سے چلایا۔۔۔
حریم کے ہاتھوں سے کپ چھوٹ زمین پر گر کر بکھر گیا۔۔۔
حریم سہم کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔اس کی سرخ آنکھوں میں غصہ دیکھ حریم کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔۔۔
گالوں پر آنسوں لڑھک پڑے۔۔۔
حمدان گہری نظروں سے اس کے بھیگتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے باہر نکل گئی۔۔۔
ہتھیلی کی پشت سے گال رگڑتی بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔
جب باہر سے آتے یزدان کی نظر اس پر پڑی۔۔۔
“حریم۔۔۔۔” یزدان نے اسے پکارا۔۔۔
وہ آوازسن جلدی سے خود کو نارمل کرنے لگی۔۔۔
چہرہ رگڑ کر ہاتھوں سے صاف کیا۔۔۔اور پلٹ گئی۔۔۔
“یزدان بھائی۔۔۔آپ آگئے؟میں کافی لاتی ہوں آپ کے لیے”
وہ کہتی مڑ کر جانے لگی ۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔کیا ہوا ہے؟”
وہ قریب آئے۔۔۔
“کیا؟ کچھ نہیں ہوا” وہ نظریں چرائے پوچھنے۔۔۔
“رو کیوں رہی تھی؟” یزدان نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔نہیں بھائی۔۔۔میں تو نہیں رو۔۔۔۔” وہ بات کرتی اس سے پہلے ہی یزدان اس کی سرخ روئی روئی آنکھوں کو دیکھ سب سمجھ گیا۔۔۔۔
وہ اس کی بات سنے بغیر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر گیا۔۔۔
“یزدان بھائی۔۔۔۔” وہ پیچھے لپکی۔۔۔
(مگر تمہارے غصے کا نشانہ تو تم سے جڑا ہر شخص بنتا ہے)
حمدان کی سماعت سے جملہ ٹکرایا۔۔۔
وہ زمین پر ٹوٹے کپ کے بکھرے ٹکڑوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“یہ مجھے کیا ہوگیا۔۔میں نے عنایہ کی باتوں کا غصہ حریم پر نکال دیا۔۔۔”
حمدان کو احساس نے آگھیرا۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے حریم کا معصوم بھیگا چہرہ آگیا۔۔۔جس نے حمدان کوشرمندہ ہونے پر مجبور کیا۔۔۔
تبھی تیزی سے دروازہ کھلا اور یزدان اندر داخل ہوا۔۔۔
“بس بہت برداشت کرلیا ہم نے تجھے۔۔۔”
یزدان نے حمدان کو گریبان سے پکڑا۔۔۔
“غصہ ہے تو اپنے تک رکھ۔۔۔خبردار۔۔۔خبردار جو تونے حریم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا۔۔۔میں بھول جاؤں گا کہ تو میرا بھائی ہے”
یزدان نے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔۔
اور جانے کے لیے مڑا۔۔۔
“بھول تو آپ کب کے گئے ہیں یہ۔۔۔جاتے جاتے یہ بتاتے جائیں کہ جس کے پیچھے آپ نے میرا گریبان پکڑا ہے وہ آپ کی کیا لگتی ہے؟”
حمدان نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
دروازے پر کھڑی حریم یہ بات سن ساکت رہ گئی۔۔۔
یزدان نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔
جو غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
یزدان نے آؤ دیکھا نا تاؤ۔۔۔اس کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔۔
“یزدان بھائی۔۔۔۔” حریم نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں روکا۔۔۔
حریم کو دیکھ یزدان کو شرمندگی ہوئی۔۔۔وہ بنا نظر ملائے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
حریم نے پاس کھڑے حمدان کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا۔۔پھر بنا کچھ کہے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
“مجھے شرم آتی ہے اسے اپنا بھائی کہتے”
یزدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“حمدان کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔”
فائقہ نے بات سن ہاں ملائی۔۔۔
“تمہیں پتا ہے فائقہ میں حریم سے نظر نہیں ملا پا رہا تھا۔۔۔جوبھی ہے وہ بھائی تو میرا ہی ہے۔۔۔اس کی گھٹیا سوچ پر مجھے شرمندگی ہو رہی تھی۔۔۔”
انہیں رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔۔۔
“آپ غصہ مت کریں۔۔۔میں بات کروں گی حمدان سے۔۔۔” فائقہ نے بات کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔
٫تم کیا بات کرو گی۔۔۔وہ سدھرنے والا نہیں۔۔۔بہت برداشت کیا ہم نے اسے۔۔۔اب نہیں۔۔۔۔”
یزدان نے اٹل لہجے میں کہا۔۔۔
“اس میں عقل نہیں ہے۔۔۔میں سمجھاؤں گی۔۔۔بلکہ وہ آپ سے ایکسکیوز بھی کرے گا۔۔۔چھوٹا بھائی ہے آپ کا۔۔۔۔”
فائقہ نے سمجھانا چاہا۔۔۔
“مجھے نہیں چاہیے اس کی معافی۔۔۔اسے بس اپنی زبان میں سمجھا دینا دوبارہ اگر اس کی وجہ سے حریم کی آنکھوں میں آنسوں دکھے مجھے۔۔۔تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔”
یزدان نے وارننگ دی۔۔۔اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔
تیز بارش برس رہی تھی۔۔۔
وہ فل اسپیڈ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
اسے خود پر بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔
کیا وہ حریم کو ایسی لڑکی سمجھتا تھا؟
کیا وہ اپنے بھائی کونہیں جانتا تھا۔۔۔
“میں نے کیسے یہ بات کہ دی۔۔۔؟”
اسے شرمندگی اور پشیمانی نے گھیر لیا تھا۔۔۔
“لاکھ اختلافات سہی۔۔۔مگر کیا مجھے اپنے بھائی پر بھروسہ نہیں ؟”
وہ خود سے سوال کرنے لگا۔۔۔
“سہی تو کہا تھا عنایہ نے مجھ سے جڑا ہر رشتہ میرے غصے کا نشانہ بن جاتا ہے۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں کہنے لگا۔۔۔
“میں ایسا کیوں ہوں؟ آخر کیوں۔۔۔؟” وہ سرخ آنکھوں سے سوچنے لگا۔۔۔
