Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 29)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 29)
Awaaz Ishq By Isra Rao
وہ سیگریٹ ہاتھ میں لیے سوچوں میں گم تھا۔۔۔
راکنگ چیئر پر بیٹھا۔۔۔جھول رہا تھا۔۔۔
“حریم کی خوشی شاید اسی کے ساتھ ہے۔۔۔”
وہ کش لینے لگا۔۔۔
“مجھے بیچ میں نہیں آنا چاہیے۔۔۔ “
وہ دل میں کہنے لگا۔۔۔
تبھی پاس پڑا اس کا فون شور مچانے لگا۔۔۔
اس نے کال رسیو کی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔حمدان”
کاشف کی آواز ابھری۔۔۔
“ہاں۔۔۔”
حمدان نے جواب دیا۔۔
“حمدان۔۔۔میں تجھ سے اس دن کی بدتمیزی کے لیے معافی چاہتا ہوں۔۔۔میں باتوں میں آگیا تھا سارہ کی۔۔۔مگر حریم نے ساری سچائی میرے سامنے لا کھڑی کی۔۔۔میں نے سارہ کو چھوڑ دیا ہے۔۔۔سارے رشتے توڑ دیے۔۔۔”
کاشف مسلسل بتا جارہا تھا۔۔۔
جسے حمدان خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔
“تو سن رہا ہے نا؟”
کاشف نے پوچھا
“مجھے معاف کردے یار۔۔۔حریم کو میری طرف سے شکریہ کہنا۔۔۔اس نے میری وقت رہتے آنکھیں کھول دی۔۔۔تو بہت خوش نصیب ہے۔۔۔جو تیری زندگی میں حریم جیسی لائف پارٹنر ہے۔۔۔کردار کی مضبوط۔۔۔سچی۔۔۔محبت کرنے والی۔۔۔اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔”
کاشف بولتا چلا جارہا تھا۔۔۔
مگر شاید آگے اس کے کان سننا نہیں چاہتے تھے۔۔۔
اس نے فوراً کال کاٹ دی۔۔۔
(خبردار۔۔۔جو حمدان کے بارے میں ایک اور لفظ کہا۔۔۔)
اس نے موبائل کو مٹھی میں دبوچا۔۔۔
(پوری دنیا بھی اگرگواہی دے گی نا حمدان کے خلاف میں تب بھی یقین نہیں کروں گی۔۔۔جانتے ہو کیوں؟ کیوں کہ میرا یقین پختہ ہے۔۔۔)
حریم کے الفاظ اس کی سماعت سے ٹکرائے۔۔۔
اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔
وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا جب نیچے کھڑی حریم پر اس کی نظر پڑی۔۔۔
اس کے قدم آہستہ ہوئے۔۔۔
“حمدان۔۔۔” اس نے پکارا۔۔۔
“میرے اور تمہارے راستے اب الگ ہیں۔۔۔پلیز میرے راستے میں مت آؤ۔۔۔”
حمدان نے نیچے اتر کر مقابل کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“حمدان۔۔۔میں وضاحت کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
ریم نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“کیسی وضاحت؟ کوئی وضاحت نہیں چاہیے۔۔۔جو دیکھا اور سنا کافی تھا۔۔۔”
حمدان نے بے رخی سے کہا۔۔۔
“مجھے صفائی کا موقع تو دو۔۔۔۔”
حریم نے منت کی۔۔۔
“صفائی وہاں دی جاتی ہے جہاں دل کے رشتے ہو۔۔۔میرا اور تمہارا رشتہ بقول تمہارے۔۔۔تم پر تھوپا گیا تھا۔۔۔ایسے رشتے ناپائیدار ہوتے ہیں۔۔۔”
حمدان کا لہجہ ٹھنڈا تھا۔۔۔
“کیا تم مجھے معاف نہیں کرسکتے؟” حریم نے نم آنکھوں سے پوچھا۔۔۔
“میں معاف کرچکا۔۔۔” وہ کہتے ساتھ لمبے ڈنگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔
“وہ اتنی خوش باش نظر آنے والی لڑکی۔۔۔۔زندگی کی سختیوں کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہے”
یزدان بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔
فائقہ اس کی کی بات سن حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔۔
“کون؟ کس کی بات کر رہے ہیں؟” وہ پاس بیٹھ پوچھنے لگی۔۔۔
“حریم۔۔۔حریم نے زندگی میں بہت دکھ سہے ہیں۔۔۔اتنی سی عمر میں وہ لوگوں کے اصلی چہرے دیکھ چکی ہے۔۔۔”
یزدان نے افسردگی سے کہا۔۔۔
فائقہ خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔
“میں بس اب یہ چاہتا ہوں کہ حریم کو وہ ساری خوشیاں مل جائیں جن کی وہ حقدار ہے۔۔۔”
یزدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
فائقہ اس کے چہرے پر حریم کےلیے فکر دیکھ سکتی تھی۔۔۔
(میرے اور تمہارے راستے اب الگ ہیں۔۔۔پلیز میرے راستے میں مت آؤ۔۔۔)
حمدان کا جملہ اسے اندر تک سلگھا گیا۔۔۔
(صفائی وہاں دی جاتی ہے جہاں دل کے رشتے ہو۔۔۔)
حمدان کے الفاظ اس کے کانوں سے ٹکرائے۔۔۔
“میں تمہارے لائق نہیں ہوں حمدان” وہ بھری آواز میں خود کلامی کرنے لگی۔۔۔
پھر ٹیبل کے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھی۔۔۔
اور پین اٹھا کر پاس رکھے نوٹ بک کے صفحے پر کچھ لکھنے لگا۔۔۔
اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔
دو آنسوں گر کر صفحے پر جذب ہوئے۔۔۔
شاید الفاظ وہ دل سے لکھ رہی تھی۔۔۔
پھر کاغذ کو موڑ کر تہہ میں تبدیل کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
“عارفہ باجی۔۔۔” اس نے ملازمہ کو پکارا۔۔۔
“جی۔۔۔” وہ قریب آئی۔۔۔
“یہ رات میں جب حمدان آئیں۔۔۔انہیں دے دینا”
حریم نے کاغذ انہیں تھمایا۔۔
پھر باہر نکل گئی۔۔۔
(غلطیوں کا ازالہ ہوجاتا ہے مگر گناہوں کا نہیں۔۔۔)
وہ بکس کو ریک میں رکھ رہا تھا۔۔۔
مگر سوچ حریم کے الفاظوں میں گم تھی۔۔
تبھی دروازہ بجنے لگا۔۔۔اور اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔۔۔
وہ بک رکھ۔۔۔باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
جیسے ہی دروازہ کھا اس کے حوش رفو چکر ہوئے۔۔۔
شاید اسے اپنے غریب خانے پر اس کی آمد کی امید نہیں تھی۔۔۔
“آپ یہاں۔۔۔؟” وہ حیران ہوا۔۔۔
“ہاں۔۔۔کچھ بات کرنی تھی۔۔۔چلو میرے ساتھ”
حمدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“اندر آئیں۔۔۔” حنید نے آفر کی۔۔۔
“نہیں۔۔۔میں باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔” وہ کہ کر پلٹ گیا۔۔۔
“پیار کرتے ہو حریم سے؟”
حمدان ڈرائیونگ کرتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
حنید نے فوراً حمدان کو دیکھا۔۔۔جو ابھی بھی سامنے دیکھ ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
“بولو۔۔۔” پھر سے جواب مانگا گیا۔۔۔
اس کے لہجے میں برف سی ٹھنڈک تھی۔۔۔
“ہاں۔۔۔” حنید نے مختصر کہا۔۔۔
“کتنا؟” پھر سوال ہوا۔۔۔
“بہت۔۔۔” حنید نے کہا۔۔۔
“کیا کر سکتے ہو اس کےلیے؟” حمدان نے پھر سے سوال کیا۔۔۔
“کچھ بھی۔۔۔مر بھی سکتا ہوں۔۔۔” حنید نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
“تم اس کے لیے مر سکتے ہو۔۔۔۔مگر میں اس کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔۔۔” جھٹکے سے گاڑی رکی۔۔۔
حنید اسے حیرانی سے دیکھنے لگا۔۔۔
وہ دروازہ کھول باہر نکلا۔۔۔
حنید بھی باہر آیا۔۔۔
حمدان نے اپنے گھر کے سامنے گاڑی روکی تھی۔۔۔
“فکر مت کرو۔۔۔تمہاری محبت تمہیں لوٹانے لے کر آیا ہوں یہاں۔۔۔کم آن۔۔۔”
کہ کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
حنید ناسمجھی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔
“حریم کہاں ہے؟” حمدان نے اندر آتے ہی ملازمہ سے پوچھا۔۔۔
“جی وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔۔۔”
ملازمہ نے بتایا۔۔۔
“کیوں؟ کہاں گئی ہے؟ ” وہ چونکا۔۔۔کیوں کہ تھوڑی دیر پہلے وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر گیا تھا
“بتایا تو نہیں۔۔۔ہاں آپ کے لیے کچھ دے کر گئی تھی۔۔۔”
ملازمہ نے لاکر ایک کاغذ اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔
حنید بھی پاس کھڑا خاموش تھا۔۔۔
حمدان نے لمحہ نہیں لگایا اسے کھولنے میں۔۔۔
“حمدان۔۔۔تم ایک سچے اور صاف دل انسان ہو۔۔۔تمہیں تو استعمال شدہ چیزیں نہیں پسند۔۔۔تو میری استعمال شدہ محبت شاید تمہارے لائق نہیں۔۔۔۔تم سہی ہو اپنی جگہ۔۔۔۔میں وضاحت نہیں دوں گی کیوں کہ تم سننا نہیں چاہتے۔۔۔مگر ایک بات کہوں گی۔۔۔ماضی کی محبت میری بھول تھی۔۔۔مگر آج۔۔۔میں نے تم سے سیکھا محبت کیسے نبھائی جاتی ہے۔۔۔میں نے تم سے سچ چھپایا۔۔۔کیوں کہ میں تمہیں۔۔۔ڈیڈ کو، بھابھی کو، بھائی کو۔۔۔۔تم سب کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔حمدان۔۔ اگر محبت انتخاب ہے تو تم میری پسند ہو۔۔۔میرا بہترین انتخاب۔۔۔مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔بس تم کبھی مجھ سے نفرت مت کرنا۔۔۔میرے جانے کے بعد بھی نہیں۔۔۔”
حمدان نے نم آنکھوں سے کاغذ سے نظر اٹھائی۔۔۔
ہاتھوں سے کاغذ پھسل کر زمین پر گر گیا۔۔۔
“کتنی۔۔۔کتنی دیر پہلے نکلی ہے وہ۔۔۔۔؟” حمدان نے بدحواسی میں پوچھا۔۔۔
“ابھی تھوڑی دیر ہوئی بس۔۔۔”
ملازمہ نے جواب دیا۔۔۔
وہ سنتے ہی تیزی سے باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
حنید کی نظر زمین پر گرے کاغذ پر پڑی۔۔۔
اس نے جھک کر اٹھایا۔۔۔۔
وہ فل اسپیڈ میں گاڑی دوڑا رہا تھا۔۔۔
سڑکیں تیزی سے بھاگ رہی تھی۔۔۔
آنکھیں سرخ چمک رہی تھی۔۔۔اس کی نظریں حریم کو ڈھونڈ رہیں تھیں۔۔۔
گاڑی ریور برج کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
مگر حریم کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔۔۔
وہ پریشان تھا۔۔۔دماغ گھوم رہا تھا۔۔۔دل بے چین تھا۔۔۔
تبھی اس کی نظر نیچے ایک پتھر میں کسی کو کھڑے دیکھا۔۔۔
وہ گاڑی روک اترا۔۔۔۔اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ حریم ہی تھی۔۔۔ہاں وہ کودنے کو تیار تھی۔۔۔
“حریم۔۔۔۔” اس نے بےساختہ حلق پھاڑتے ہوئے چلا کر پکارا۔۔
مگر وہ دور تھی شاید آواز اس تک نہیں پہنچ سکی۔۔۔
“حریم۔۔۔۔پیچھے ہٹو۔۔۔فار گاڈ سیک۔۔۔حریم۔۔۔”
وہ مسلسل چیخ رہا تھا۔۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔
وہ لمحہ بھر رکا۔۔۔۔پھر تیزی سے بھاگنے لگا۔۔۔۔
وہ جلدی سے دوڑ کر اسے پکڑ لینا چاہتا تھا۔۔۔
سانسیں پھول رہی تھی۔۔۔مگر اس کے قدم رکنے کو تیار نہیں تھے۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے پہنچا۔۔۔مگر اس سے پہلے ہی حریم کود چکی تھی۔۔۔
