Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 11)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 11)
Awaaz Ishq By Isra Rao
وہ چپ چاپ بیٹھی کچھ پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔
کلاس میں کافی اسٹوڈنٹس موجود تھے۔۔۔ اس نے سامنے دیکھا تو بورڈ پر بڑا بڑا سوری لکھا تھا۔۔۔
اس کی نظر بورڈ کے برابر کھڑے حنید پر پڑی جو کانوں کو پکڑے۔۔۔معافی طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرادی۔۔۔
پھر مہارت سے مسکراہٹ چھپاتی اٹھ کھڑی ہوئی
اور اپنی کتابیں اٹھا کر کلاس سے باہر نکل گئی۔۔۔
حنید اس کے پیچھے لپکا۔۔۔
“حریم۔۔۔حریم بات سنو یار۔۔۔” وہ پیچھے سے پکارتا آیا۔۔۔
“کیا مسئلہ ہے؟” وہ تن کر پوچھنے لگی۔۔۔
“سوری یار۔۔۔تم جانتی ہو نا مجھے سنگر بننے کا کتنا شوق ہے۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔کیا میں نہیں جاتا کل۔۔۔۔؟”
وہ وضاحت کرنے لگا۔۔۔
“میں نے تو تمہیں کچھ نہیں کہا۔۔۔جاؤ چلے جاؤ۔۔۔اس نیہا کے ساتھ”
وہ منہ بنا کر کہنے لگی۔۔۔اور حنید زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔۔
“یہ ہنسنے کی بات تھی؟” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“تم جیلس ہو نیہا سے۔۔۔” وہ ہنسی روکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مجھے چھوڑ کر اس کے ساتھ جاؤ گے تو کیا کروں؟” وہ تلخ لہجے میں گویاہوئی۔۔
“تمہیں نہیں چھوڑوں گا کبھی۔۔۔اعتبار نہیں ہے؟”
وہ اس کی طرف طرف دیکھنے لگا۔۔۔
“نہیں اب تو نہیں رہا۔۔۔” حریم نے یک دم کہا۔۔۔
“ٹھیک ہے…ثابت بھی کردوں گا۔۔۔اور تمہارا اعتبار بھی جیت لوں گا”
وہ کہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اور حریم خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔۔
وہ کب سے نمبر ملا رہا تھا مگر مسلسل مصروف جا رہا تھا۔۔۔
وہ ہاتھ میں لیے کچھ سوچنے لگا۔۔۔
پھر فون کو سائڈ ٹیبل پر رکھ وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ نہا کر نکلا۔۔۔پھر آئینے میں خود کو دیکھتا بال بنانے لگا۔۔۔
تبھی فون کا شور اس کے کانوں میں پڑا۔۔۔
اس نے سائڈ ٹیبل سے فون اٹھایا تو سارہ کا نمبر جھلملا رہا تھا۔۔۔
وہ لمحہ بھر سوچنے لگا۔۔۔پھر کال کاٹ دی۔۔۔اور نمبر کو بلاک لسٹ میں ڈال گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
پھر روم سے باہر نکلا۔۔۔
” میں نے کہا ہے مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔” یزدان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔
“مگر ابھی تو تو آپنے کافی مانگی تھی۔۔۔۔” فائقہ بھابھی نے کہا۔۔۔
“ہاں مگر تم سے نہیں۔۔۔اور ہاں دوبارہ میرے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔اس حمدان کے لیے کرو۔۔۔جو میرے خلاف تمہیں بھڑکا رہا تھا۔۔۔اور تم خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں کہنے لگے۔۔۔
“یزدان۔۔۔آپ بلاوجہ ناراض ہورہے ہیں۔۔۔خیر لیو اٹ۔۔۔۔یہ کافی پی لیں۔۔۔” فائقہ بھابھی نے ان کی طرف کپ بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں چاہیے۔۔۔۔جسٹ گو اوے۔۔۔۔” انہوں نے چیختے ساتھ ہی کپ پر زوردار ہاتھ مارا اور کپ زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گیا۔۔۔
“واٹس یور پرابلم۔۔۔۔چاہتے کہا ہیں آپ۔۔۔؟”
وہ جو دور کھڑا ان کا جھگڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔
تیزی سے ان کے قریب آیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ فائقہ بھابھی کچھ کہتی۔۔۔حمدان نے انگلی دکھا کر انہیں روکا۔۔۔
“کس بات کا غصہ ہے آپ کو۔۔۔میرےبھڑکانے کا یا بھابھی کے چپ رہنے کا۔۔۔؟”
وہ غصہ سے سوال کرنے لگا۔۔۔
“حمدان۔۔۔چپ ہوجاؤ۔۔۔بڑے بھائی ہیں تمہارے کیسے بات کر رہے ہو۔۔۔”
فائقہ بھابھی نے ٹوکا۔۔
“تو یہ کیسے بات کر رہے ہیں آپ سے۔۔۔”
وہ الٹ کہنے لگا۔۔
“یو نو واٹ۔۔۔تمہارے منہ لگنا ہی فضول ہے۔۔۔”
وہ حمدان کی طرف دیکھتے کہنے لگے۔۔۔۔اور اپنے روم کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
“ایک دن دیکھنا۔۔۔تم سب سے بڑے سنگر بن جاؤ گے۔۔۔”
نیہا نے حنید کو دیکھتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔میرے لیے اتنا کچھ کرنے کے لیے”
حنید نے مسکرا کر کہا ۔۔
“ارے۔۔۔تم ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔اور اب تو ہم دونوں دوست ہیں۔۔۔تو تھینکس کی ضرورت نہیں۔۔۔آگے بھی مجھ سے جو ہوگا وہ میں کروں گی۔۔۔”
نیہا نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
تبھی وہاں حریم آئی۔۔۔ان دونوں کو یوں ساتھ باتیں کرتے دیکھ ٹھٹکی۔۔۔
مگر خاموش رہی۔۔۔۔
“ارے حریم تم۔۔۔آؤ بیٹھو۔۔۔” حنید نے کہا۔۔۔
وہ زبردستی مسکراتی۔۔۔چپ چاپ کرسی کھینچ بیٹھ گئی۔۔۔
“تم دونوں کو اکثر میں ساتھ دیکھا۔۔۔۔۔۔کوئی پرسنل ریلیشن۔۔۔” وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔وی آر گڈ فرینڈز۔۔۔” حنید نے صفائی سے جھوٹ بولا۔۔۔
اس کےلہجے میں کہیں بھی ظاہر نہیں تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔مگر پاس بیٹھی حریم کے تعصرات فوراً سے غصہ میں بدل گئے۔۔۔
یک دم ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“مجھے کچھ کام ہے بائے۔۔۔”
وہ تیکھی نظروں سے حنید کو دیکھتی وہاں سے نکل گئی۔۔۔
“شادی کب ہے تمہاری؟” وہ پاس بیٹھے کاشف سے پوچھنے لگا۔۔۔
“بس بہت جلد۔۔۔” کاشف نے ہنس کر کہا۔۔۔
“یار مائنڈ مت کرنا۔۔۔بٹ یہ سارہ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگی۔۔۔” حمدان نے سنجیدگی سے کہا
“کیا مطلب؟” وہ حیرانی سے دیکھنے لگا۔۔۔
“مطلب۔۔۔تیرے ساتھ۔۔۔مس میچ ہے۔۔۔۔یو نو۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں۔۔۔اچھی لڑکی ہے۔۔۔اب ہر انسان الگ نیچر کا ہوتا ہے۔۔۔۔”
کاشف نے وضاحت کی۔۔۔اور حمدان مسکرادیا۔۔۔
تبھی حمدان کافون بجنے لگا۔۔۔
اس نے اسکرین کو دیکھا۔۔۔عنایہ کی کال تھی۔۔۔وہ نظر انداز کرتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“پھر ملتے ہیں۔۔۔۔” وہ ہاتھ ملاتا۔۔۔باہر نکل گیا۔۔۔
فون بار بار بج رہا تھا۔۔۔
اس نے کار میں بیٹھتے ہی کال رسیو کی۔۔۔
“کب سے کال کر رہی ہوں۔۔۔کہاں بزی تھے۔۔۔؟” وہ شکوہ کرنے لگی۔۔۔
“جہاں کل سے تم مصروف تھی۔۔۔” حمدان نے کہا اور فون بند کر۔۔۔گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔
“حریم…ہوا کیا؟” وہ اس کا موڈ آف دیکھ پوچھنے لگا
“تمہیں اس سے کیا۔۔۔؟ تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔”
وہ تلخی سے کہنے لگی۔۔۔
“یار کیا ہوگیا ہے؟” وہ روہانسی ہوا
“یہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو۔۔۔؟ ہمارا رشتہ کیا اتنا غیر ضروری ہے جو تم لوگوں سے چھپا رہے ہو۔۔۔۔”
وہ غصہ سے کہنے لگی
“ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔” وہ صفائی دینے لگا
“تو کیسی بات ہے۔۔۔؟ یو نو واٹ۔۔۔مجھے لگتا ہے تم میرے ساتھ ٹائم پاس کر رہے ہو۔۔۔تبھی تم نے آج نیہا کو بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔”
وہ سرخ آنکھوں سے غصہ برسا رہی تھی
حنید کے چہرے پر غصہ کے تعصرات نمودار ہوئے۔۔۔
اور وہ اٹھ کھڑا ہوا
“اٹھو۔۔۔” اس نے حریم کا ہاتھ پکڑ اسے کھڑا کیا۔۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“کہاں۔۔۔؟” اس نے پوچھا۔۔۔
“بتاتا ہوں چلو۔۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑے گاڑی تک لایا۔۔۔اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔۔
پورے راستے وہ پوچھتی رہی۔۔۔مگر حنید خاموش رہا۔۔۔
پھر ایک جگہ اس نے گاڑی روک دی۔۔۔
وہ حیرانی سےیہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔
حنید گاڑی سے نکل کر کسی سے فون پر بات کرنے لگا۔۔۔
مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
