258.6K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaaz Ishq (Episode - 13)

Awaaz Ishq By Isra Rao

“یہ کیا ہے؟” وہ حیرانی سے ڈبی کی طرف دیکھنے لگی۔؟

“عموماً تو شادی کے بعد منہ دکھائی دی جاتی ہے ۔۔مگر یہ روز دیکھا ہوا منہ۔۔۔” وہ جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ ہنسی چھپاتا موبائل میں نظریں گاڑنے لگا۔۔۔

“کیا مطلب؟” اس کے تیور چڑھے۔۔۔

اور کب سے روکی ہنسی آخر حنید کے حلق سے نکل ہی گئی۔۔۔

“مزاق کر رہا ہوں۔۔۔سوری سوری۔۔۔” وہ ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔۔۔

“مجھے بات ہی نہیں کرنی بس۔۔۔۔” حریم منہ بناتی اٹھنے لگی۔۔۔

“ارے ارے بیٹھو۔۔۔” اس نے ہاتھ پکڑ اس کی اٹھنے کی کوشش کو ناکام کیا۔۔۔

“یہ ہم دونوں کے نکاح کی خوشی میں۔۔۔۔” اس نے ڈبی سے ایک خوبصورت بریسلیٹ نکال کر اس کی کلائی میں ڈالا۔۔۔

وہ خاموشی سےاپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

“کیسا لگا؟” وہ پوچھنے لگا۔۔۔

“بہت خوبصورت۔۔۔” وہ بریسلیٹ پر نظریں گاڑے خوشی سے کہنے لگی۔۔۔

“۔۔۔۔دنیا کی ہر خوبصورت چیز تم سے جڑ کر اور بھی خوبصورت ہوجاتی ہے۔۔۔” وہ اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔

اور وہ اس ایک لمحے کو محسوس کرتے دل سے مسکرا دی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات بھر وہ جاگتا رہا تھا۔۔۔آنکھیں اس کی رت جگے کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔

وہ سرخ آنکھیں لیے آئینے کے سامنے آیا۔۔۔۔ہاتھوں سے بالوں کو ترتیب دے کر اس نے ایک نظر خود کو دیکھا۔۔۔۔

پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی۔۔اور کمرےسے نکل گیا۔۔۔

تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کی سامنے کھڑی فائقہ بھابھی پرنظر پڑی۔۔۔

اس کے قدم لمحہ بھر آہستہ ہوئے۔۔۔

سرخ آنکھوں میں اپنے لیے خفگی وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی۔۔۔۔وہ تیزی سے باہرکی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“حمدان۔۔۔ناشتہ۔۔۔” پیچھے سے آتی ان کی آواز کو مکمل طور پرنظر انداز کرتا وہ گاڑی میں جاکر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تجھے پتا ہے نیہا کہ رہی تھی کہ اس کے انکل کو میری آوازبہت پسند آئی۔۔۔۔” وہ خوشی سے بتا رہا تھا۔۔۔

“حنید ویسے یہ نیہا ہے بڑے کام کی لڑکی۔۔۔” طیبہ نے ہنس کر کہا۔۔۔

“ہاں۔۔۔اچھی ہے۔۔۔۔بلکہ بہت اچھی ہے۔۔۔ورنہ بنا مطلب کون کسی کے کام آتا ہے”

حنید نے پر خلوص انداز میں کہا۔۔۔

“ہاں یہ تو ہے۔۔۔ یو نو واٹ؟ مجھے لگتا ہے وہ تمہیں پسند کرتی ہے”

طیبہ نے شرارت سے کہا۔۔۔

“اوہ شٹ اپ۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔” وہ یک بیگ کاندھے پر ڈالے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“اچھا فرض کرو اگر ایسا ہوا تو۔۔۔۔؟” طیبہ بھی بیگ اٹھائے ساتھ چلنے لگی۔۔۔

“جب ایساہے ہی نہیں تو میں فرض کیوں کروں۔۔۔”

حنید نے صاف گوئی سےجواب دیا۔۔۔۔

تبھی سامنے سے آتی نیہا کو دیکھ دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔

“ہائے گائز۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔؟” اس نے قریب آتے ہی کہا۔۔۔

“فائن۔۔۔” حنید نے مسکرا کر کہا۔۔۔

“کہاں جارہے تھے آپ لوگ” نیہا نے پوچھا۔۔۔

“ہم بس لائبریری کی طرف جارہے تھے۔۔۔”

طیبہ نے خوش دلی سےجواب دیا۔۔۔

“میں بھی چلوں؟” وہ سوالیاں نظروں سے پوچھنے لگی

“یا۔۔شور” حنید نے پر جوش لہجے میں نیہا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔اور کے لبوں پر بلا وجہ ہی مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔

جب کہ اس کی مسکراہٹ کو حنید بھانپ چکا تھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“دس منٹ میں باہر آؤ؟” اس نے فون کان سے لگاتے ہی حکم دیا۔۔۔اور مقابل کا جواب سنے بنا ہی فون بند کردیا۔۔۔

سرخ آنکھوں میں غصہ ابھی بھی چمک رہا تھا۔۔۔

وہ عنایہ کے گھر کے باہر اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

شاید وہ گھر کے اندر اس حالت میں جانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

یا پھر گھر کے اندر ناجانے کی وجہ غصہ تھی۔۔۔

جس کا کنٹرول خود اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔۔۔

“واٹس رونگ ود یو ہنی۔۔۔۔اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا ہے۔۔۔؟” وہ گاڑی کے پاس آتے ہی پوچھنے لگی۔۔۔

وہ گاڑی کا دروازہ کھول باہر نکلا۔۔۔

“کل کہاں تھی تم؟” وہ تلخ لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔

“کہاں تھی مطلب؟” وہ حیران ہوئی تھی اس کے سوال پر۔۔۔

“کہاں تھی۔۔۔تم خود بتاؤ گی یا میں بتاؤں؟” وہ روہانسی ہوا۔۔۔

“اچھا چلو تم ہی بتا دو۔۔۔کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”

وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ٹھنڈے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔

“ہمم.۔فائن۔۔۔کل رات کو تم کسی کے ساتھ ریسٹورنٹ سے نکلی تھی۔۔۔۔۔” اس نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے چبا کر کہا۔۔۔

“حمدان۔۔وہ۔۔۔۔”

“شش۔۔۔جھوٹ مت کہنا کیوں کہ میں نے تمہیں خود دیکھا ہے۔۔۔۔”

وہ کچھ کہتی مگر حمدان نے اس کے بولنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔۔۔۔۔۔

“وہ میرا کزن تھا حمدان۔۔۔۔” وہ صفائی دینے لگی۔۔۔

“ٹھیک ہے کزن تھا۔۔۔۔لیکن کیا تم نے مجھے بتایا؟”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔

“فار گاڈ سیک یار۔۔ہی از مائے کزن۔۔۔کل ہی وہ انگلینڈ سے آیا ہے۔۔۔تو میں ہی اسے کمپنی دوں گی نا۔۔۔۔۔۔۔میں اب ہر بات تم سے پوچھ کر کروں؟ “

وہ تلخ لہجے میں سمجھانے لگی۔۔

“تمہیں مجھ سے ہر بات پوچھنی ہوگی۔۔۔”

وہ یک دم اسے بازوں سے تھامے قریب ہوا۔۔۔ انگارہ پھینکتی نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔

“حمدان۔۔۔یو ہرٹنگ می۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔” وہ اپنے بازوؤں پر اس کا دباؤ محسوس کرتے ہوئے چلائی۔۔۔

“ہممم۔۔دوبارہ کسی کے ساتھ کہیں جانا ہو۔۔۔تو مجھ سے پوچھنا ضرور۔۔۔۔کیوں کہ حمدان شاہ کو استعمال شدہ چیزیں نہیں پسند۔۔۔۔” وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا گاڑی کا دروازہ کھول اندر بیٹھا۔۔۔

وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

حمدان نے بنا اسے دیکھے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔اور کچھ ہی لمحوں میں اس کی آنکھوں سے بوجھل ہوگیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یار تم لوگ یہاں بیٹھو۔۔۔میں یہ اسائمنٹ جمع کروا کر آتا ہوں۔۔” حنید نے کرسی کھسکا کر اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔

“ٹھیک ہے۔۔۔ہم یہیں ہیں۔۔۔” طیبہ نے جواب دیا۔۔۔

“تمہارا فیورٹ سبجیکٹ کون سا ہے؟” طیبہ نے حمدان کے جاتے ہی نیہا کو مخاطب کیا۔۔۔۔

“زولوجی۔۔۔۔کیوں کہ مجھے جانوروں سے بہت پیار ہے۔۔۔”

وہ ہنس کر کہنے لگی۔۔۔

“تمہیں تو انسانوں سے بھی بہت پیار ہے۔۔۔اب حنید کو ہی لے لو۔۔۔تم بنا مطلب اس کی کتنی ہیلپ کر رہی ہو۔۔۔”

طیبہ نے مسکراہٹ دبائے کہا۔۔۔

“بنا مطلب تو کوئی کسی کی ہیلپ نہیں کرتا طیبہ۔۔۔۔”

وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

“مطلب تم۔۔۔کہیں تمہیں جانوروں کے ساتھ ساتھ یہ حنید نامی گدھے سے محبت تو نہیں ہوگئی۔۔۔”

وہ شرارتی انداز میں کہنے لگی۔۔۔

“محبت۔۔۔پتا نہیں۔۔۔” وہ ناسمجھی سے طیبہ کو دیکھنے لگی۔۔۔

مگر طیبہ اپنے شک پر اب یقین کی مہر لگا چکی تھی۔۔۔