Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 10)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“گاؤ۔۔۔۔” حنید ہاتھ باندھے سامنے کھڑا تھا اور وہ کنفیوز سی ارد گرد دیکھنے لگی۔۔۔
سب کی نظر اسی پر تھی۔۔۔وہاں کافی اسٹوڈنٹس تھے ۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں۔۔۔مگر۔۔۔وہ۔۔۔” وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“گاؤ۔۔۔حریم۔۔۔” حنید نے کہا۔۔۔
“مجھ سے۔۔۔ نہیں ہوگا سوری۔۔۔” وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی
“یار تم اتنے سے لوگوں میں نہیں گا سکتی تو ایونٹ میں کیسے پرفارم کرو گی۔۔۔؟”
حنید نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں نے کہا بھی تھا مجھ میں کانفیڈینس نہیں ہے۔۔۔میں یوں سب کے سامنے نہیں گا سکتی۔۔۔۔”
وہ سر جھکائے کہنے لگی۔۔۔
تبھی طیبہ روم میں داخل ہوئی۔۔۔
“گائز۔۔۔ایک گڈ نیوز ہے۔۔۔” طیبہ نے خوشی سے کہا ۔۔
“کیا۔۔۔بتاؤ” حنید نے فوراً پوچھا
“ایونٹ پر گیسٹ پتا ہے کون ہے؟ حمدان شاہ۔۔۔۔حمدان شاہ ہمارے کالج آئیں گے۔۔۔۔”
وہ خوش ی سے بتا رہی تھی۔۔۔
اور تبھی سب اٹھ کر طیبہ کے پاس آگئے۔۔۔اور سب حیرت اور خوشی کے تعصرات ظاہر کر رہے تھے۔۔۔
مگر حریم کا زہن جیسے ساکت ہوگیا تھا۔۔۔
حمدان شاہ ایونٹ میں آئے گا۔۔۔جسے قریب سے کبھی اس نے دیکھا تک نہیں۔۔۔۔وہ اس کے کالج آئے گا اس کے سامنے۔۔۔
وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
وہ کب سے باسکٹ بال کھیل رہا تھا عمر کے ساتھ۔۔۔۔
اس نے رومال جیب سے نکالا اور منہ صاف کرتا بینچ پر آکربیٹھ گیا۔۔۔
“”پانی۔۔۔” تبھی کسی نے اس کیطرف پانی کی بوتل بڑھائی۔۔۔
اس نے چونک کر دیکھا۔۔۔
“آپ۔۔۔۔”وہ حیرت سے دیکھنے لگا۔۔۔
“کیوں میں پانی نہیں دے سکتی۔۔۔؟”
نیہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“ایسی بات نہیں۔۔۔۔تھینک یو” اس نے بوتل پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“ویسے آپ کھیلتے اچھا ہیں۔۔۔۔”
نیہا نے پاس بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“تھینک یو” اس نے مختصر کہا۔۔۔اور پانی منہ میں انڈیلنے لگا
“اور اس سے بھی اچھا گاتے ہیں آپ۔۔۔آپ کی آواز سیدھا دل میں اترتی ہے۔۔۔” نیہا نے تعریف کی۔۔۔
“آپ نے کب گاتے سنا مجھے۔۔؟” وہ مسکرا پوچھنے لگا۔۔۔
“کل جب ایک لڑکی کے ساتھ پریکٹس کر رہے تھے۔۔۔۔تبھی بس۔۔۔۔آپ کی آواز اچھی ہے۔۔۔آپ فیوچر میں ایک بیسٹ سنگر بن سکتے ہیں۔۔۔”
وہ دلچسپی سے کہنے لگی۔۔۔
اور حنید کھلکھلا کر ہنس دیا۔۔۔
“مجھے کون سنگر بنائے گا۔۔۔انفیکٹ۔۔۔کوئی میوزک ڈائریکٹر میری آواز تک نہیں سنے گا۔۔۔چانس دینا تو بہت دور کی بات ہے”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔میرے انکل ہیں افضل خان۔۔۔نام سنا ہوگا آپ نے۔۔۔بہت بڑے میوزک ڈائریکٹر ہیں۔۔۔”
نیہا نے پرجوش لہجے میں کہا۔۔
“افضل خان۔۔۔۔ہاں۔۔۔وہ آپ کے انکل ہیں؟” نید کو حیرانی ہوئی۔۔۔
“ہاں۔۔۔کچھ دنوں بعد وہ یہاں آئیں گے۔۔۔۔ایم شور وہ آپ کی آواز سن کر امپریس ہوں گے۔۔۔”
نیہا نے تسلی بخش لہجے میں کہا۔۔۔
“مگر وہ میری آواز سننے کے لیے تیار ہوں گے۔۔۔؟”
وہ خوشی سے پوچھنے لگا۔۔۔
“ہاں۔۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔میرا کہا کبھی نہیں ٹال سکتے۔۔۔۔ میری ضد پر وہ ضرور آپ کو موقع دیں گے۔۔۔”
وہ اترا کر کہنے لگی۔۔۔
اور حنید کو جیسے اس کی بات پر یقین نا آیا ہو۔۔۔۔
“حمدان۔۔۔” فائقہ بھابھی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے پکارا۔۔۔
“جی بھابھی۔۔۔” وہ کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا۔۔۔
“عنایہ اور تمہارا میٹر۔۔۔آئی مین سیریس ہو دونوں؟”
وہ سنجیدگی سے سوال پوچھ رہی تھی۔۔۔
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔۔۔؟” وہ مسکرایا۔۔۔
“کیوں کہ ہم نے تمہاری شادی بھی کرنی ہے۔۔۔۔اگر سیریس ہو تو بتاؤ۔۔۔میں ڈیڈ سے بات کرتی ہوں۔۔۔”
وہ شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔
“ارے میری پیاری بھابھی۔۔۔مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔جب کرنی ہوگی سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گا۔۔۔”
وہ پیار سے کہ رہا تھا۔۔۔
“مگر کیوں نہیں کرنی ابھی۔۔۔؟” وہ منہ بنا کر پوچھنے لگی۔۔۔
“کیوں کہ ابھی میرے پاس ٹائم نہیں بلکل بھی۔۔۔میں نہیں چاہتا پھر جھگڑا ہو۔۔۔وہ کہے گی مجھے ٹائم نہیں دیتے۔۔۔بزی رہتے ہو۔۔۔بلا بلا۔۔۔۔”
وہ اکتایا۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں۔۔۔” وہ یک دم بولی۔۔۔
“اب ہر کوئی آپ کی طرح صبر کرنے والی نہیں۔۔۔آپکے ہسبنڈ کبھی ملک سے باہر۔۔۔کبھی شہر سے باہر۔۔۔ہفتہ ہفتہ بعد شکل دکھاتے ہیں۔۔۔اور پھر بھی شکایت نہیں کرتی۔۔۔۔واؤ”
وہ سراہنے لگا۔۔۔
اس بات سے بے خبر کے پیچھے کھڑا شخص اس کی بات سن چکا۔۔۔
وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی کہ اس کا فون شور کرنے لگا۔۔۔
اس نے اسکرین کو دیکھا جہان حنید کی کال آرہی تھی۔۔۔
اس کے چہرے پر مزید غصہ جھلکا اور اس نے کال کاٹ دی۔۔۔
مگر تھوڑی ہی دیر میں پھر سے بجنے لگی۔۔۔
“مل گیا ٹائم آپ کو؟” اس بار اس نے رسیو کی۔۔۔۔
اور غصہ سے پوچھا۔۔۔
“سوری یار۔۔۔۔وہ میرے ذہن سے نکل گیا تھا کہ آج ہم نے ریسٹورنٹ جانا تھا۔۔۔۔”
حنید نے معزرت کی۔۔۔
“ہاں ہاں اب تو تم بھول گئےمجھے۔۔۔۔اور میں پاگل دو گھنٹے سے وہاں بیٹھی انتظار کر رہی تھی۔۔۔”
اس نے خفگی سے کہا۔۔۔
“سوری حریم۔۔۔۔پتا نہیں کیسے ذہن سے نکل گیا۔۔۔۔گیم کے بعد۔۔۔۔مجھے نیہا مل گئی تھی۔۔۔باتوں میں بس بھول ہی گیا۔۔۔گھر جانے کے بعد مجھے یاد آیا۔۔۔”
وہ وضاحت کرنے لگا۔۔۔
“تو۔۔۔تو پھر سے باتیں کرو مجھے کال کیوں کی۔۔۔بائے”
اس نے کہ کر فون بند کردیا۔۔۔
مگر اس کے ذہن میں نیہا نامی سوال رہ گیا۔۔۔
“یزدان۔۔۔۔” فائقہ کی نظر پیچھے کھڑے شخص پر پڑی تو گھبرائی۔۔۔
حمدان نے مڑ کر دیکھا۔۔۔پھر اگنور کرتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اور بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
یزدان نے پاس کھڑی فائقہ کو گھورا۔۔۔
اور چل کر اس کے قریب آیا۔۔۔
“وہ میری برائی کر رہا تھا۔۔۔۔اور تم۔۔۔تم کھڑی سن رہی تھی۔۔۔”
اس نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔
“یزدان آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔اس نے آپ کی برائی نہیں کی۔۔۔”
وہ سمجھانے لگی۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔میں بزی ہوتا ہوں۔۔۔ہفتہ ہفتہ گھر نہیں آتا۔۔۔مگر میں یہ سب۔۔۔کس کے لیے کر رہا ہوں۔۔۔؟ لیکن حمدان کی طرح تمہیں بھی میں برا لگتا ہوں۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں بولا۔۔۔
“یزدان ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔”
وہ صفائی دینے لگی۔۔۔
“ایسی ہی بات ہے۔۔۔ورنہ تم اسے جواب دیتی ۔۔۔۔اور وہ ہوتا کون ہے پوائنٹ کرنے والا۔۔۔اس کی پرابلم کیا ہے آخر۔۔۔”
وہ غصہ سے کہنے لگا۔۔۔
اور ہاتھ میں لیا کوٹ صوفے پر پھینکا۔۔۔۔
پھر اسے گھورتا۔۔۔اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“یزدان۔۔۔” انہوں نے پکارا۔۔۔مگر وہ بنا سنے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔
