Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 15)
Awaaz Ishq By Isra Rao
دو دن ہوگئے تھے۔۔۔دوبارہ عنایہ نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا ۔۔۔
اور اصل بات تو یہ تھی کہ وہ بھی غصہ میں تھا اس نے بھی اس سے بات کرنے کی۔۔۔یا منانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
شاید وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ دونوں اب ساتھ نہیں چل سکتے۔۔۔۔
اسی لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ دن کے لیے کہیں ایسی جگہ چلا جائے جہاں سکون ہو۔۔۔۔
وہ بیگ تھامے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔۔۔
“کہیں جا رہے ہو؟” فائقہ بھابھی نے اسے اترتے دیکھ پوچھا۔۔۔
“یہ بیگ اٹھا کر گاڑی میں رکھو۔۔۔”وہ بنا کوئی جواب دیے نوکر سے مخاطب ہوا۔۔۔
“ایسا تو کبھی نہیں ہوا حمدان۔۔۔کہ تم مجھے بنا بتائے کہیں جاؤ۔۔۔اور آج میرے پوچھنے پر بھی مجھے اگنور کر رہے ہو۔۔۔”
وہ دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
“اسلام آباد جارہا ہوں۔۔۔۔ڈیڈا کو بتا دیجیے گا۔۔۔”
وہ بے رخی سے کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ مزید حمدان کی ناراضگی برداشت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔
“کل حنید کی برتھ ڈے ہے یا میں کیا گفٹ دوں اسے۔۔۔۔؟”
وہ پاس بیٹھی ماریہ سے پوچھنے لگی۔۔۔
“میں کیا بتاؤں..جو تجھے ٹھیک لگے دے دے۔۔۔”
ماریہ نے سادگی سے کہا۔۔۔
ماریہ کو حنید کوئی خاص پسند نہیں تھا مگر اپنی دوست کی وجہ سے وہ کبھی منہ پھاڑ کر کہتی نہیں تھی۔۔۔
“یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔خیر میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔میں سرپرائز لنچ پلان کرتی ہوں۔۔۔ہمارے فیورٹ ریسٹورنٹ میں۔۔۔دیکھنا کتنا خوش ہوجائے گا۔۔۔”
وہ خوش باش لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
تبھی ماریہ کی نظر سامنے درخت کے پاس کھڑے حنید اور نیہا پر پڑی جو ہنس ہنس باتیں کر رہے تھے۔۔۔
“مگر مجھے کوئی گفٹ سمجھ نہیں آرہا کیا دوں۔۔۔جو اسے ہمیشہ میری یاد دلائے۔۔۔۔”
وہ بولتی جارہی تھی۔۔۔
“پہلے اسے اس نیہا نامی بلا سے تو دور رکھ لے۔۔۔باقی کچھ بعد میں سوچنا۔۔”
وہ جل کر کہنے لگی۔۔۔
وہ صرف دوست ہے اس کی۔۔۔اس کی ہیلپ کر رہی ہے۔۔۔اس کا انکل۔۔۔”
وہ تفصیل دینے لگی کہ ماریہ نے اس کی بات کاٹی۔۔۔
“کوئی دوستی کی بنا پر اتنی مدد نہیں کرتا۔۔۔اور اس نیہا کو دیکھ کر تو میں ڈیفنیٹلی۔۔۔کہ سکتی ہوں۔۔۔یہ بلا وجہ مدد نہیں کر رہی۔۔۔لائن دے رہی ہے سیدھی سیدھی۔۔دیکھو تو سہی کیسے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہے۔۔۔۔”
ماریہ نے اپنے زاویے لگائے۔۔۔
“ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔”
حریم نے سادگی سے کہا۔۔۔جبکہ سچ تو یہی تھا اسے بھی انہیں دیکھ دے کوئی خاص اچھا نہیں محسوس ہورہا تھا۔۔۔
“میرا کام تھا تجھے بتانا۔۔۔باقی احتیاط تیرے ہاتھ میں ہے”
ماریہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔اور وہ اس کی باتوں پر دماغ لگاتی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔۔۔
وہ آدھے گھنٹے سے نمبر ٹرائی کر رہی تھی۔۔۔ مگر مسلسل بزی جا رہا تھا۔۔۔
(کوئی دوستی کی بنا پر اتنی مدد نہیں کرتا)
ماریہ کا جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔۔۔
اس آدھے گھنٹے میں میں اس نے کئی میسیجز اور کال کی مگر نو ریسپانس۔۔۔۔
آخر کو اس نے غصہ میں موبائل آف کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔
مگر نیند کو آنکھوں سے اوجھل تھی۔۔۔
کافی دیر کروٹیں بدلتی رہی۔۔۔
مگر تنگ آکر اٹھ بیٹھی۔۔۔سامنے گھڑی کو دیکھا تو 11.45 کا وقت بتا رہی تھی۔۔۔
اس نے موبائل آن کیا۔۔۔اسے لگا کہ آن ہوتے ہی حنید کے سوری بھرے میسیجز لائن لگا دیں گے۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔حنید کا کوئی میسج نہیں تھا۔۔۔
ایک دکھ بھری آہ اس کے دل سے نکلی۔۔۔۔
اس نے دیکھا وہ آن لائن تھا۔۔۔
مگر اس نے خود سری کو سائیڈ پر رکھتے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر برتھ ڈے کا وائس نوٹ اس کے پاس سینڈ کردیا۔۔۔
مگر نا ہی تو میسیج سین ہوا اور نا ہی ریپلائے آیا۔۔۔
اس نے تھوڑے انتظار کے بعد کال ملائی۔۔۔مگر نمبر اب تک مصروف تھا۔۔۔
حریم کو بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔اس کی بے رخی پر اس کا دل چاہا کہ وہ رو دے۔۔۔مگر آنکھوں میں اترنے والے آنسوؤں کو اس نے پرے دھکیلا۔۔۔اور فون رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔۔
حنید کے بارے میں سوچتے سوچتے جانے کب وہ سوگئی۔۔۔اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
صبح وہ جلدی گھر سے نکل گئی تھی۔۔۔۔اس نے سررائز دینے کی ساری تیاری کی۔۔۔۔پھر کالج چلی گئی۔۔۔
حالانکہ وہ رات والی حنید کی حرکت پر ناراض ہونا چاہتی تھی۔۔۔مگر آج اس کی برتھ ڈے تھی۔۔۔
وہ سارے گلے شکوو کو جیسے پانی میں بہاتی۔۔۔۔نظر انداز کر گئی۔۔۔اور خوشی خوشی حنید کو ڈھونڈنے لگی۔۔۔
وہ سامنے کوریڈور میں کچھ دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
سامنے سے آتی حریم پر اس کی نظر پڑی۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔
“سوری یار میں کل تھوڑا بزی تھا۔۔۔بات نہیں کرسکا۔۔۔”
وہ اس کے قریب آکر کہنے لگا۔۔۔
“تم بتاؤ۔۔۔کیسی ہو؟”
بنا جواب سنے اگلا سوال داغا
“ہیپی برتھ ڈے حنید”
حریم نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“تھینک یو مائے لو۔۔۔۔۔ “اس نے حریم کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“اچھا۔۔کیا آج تم پورا دن میرے ساتھ گزار سکتے ہو؟”
حریم نے محبت سے پوچھا۔۔۔
“ہے برتھ ڈے بوائے۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا۔۔۔پیچھے سے آتی نیہا کی آواز پر مڑا۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے حنید۔۔۔۔۔تم جیو۔۔۔ہزاروں سال۔۔۔”
نیہا نے جوش بھرے لہجے میں ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔۔۔
“اوہ تھینک یو تھینک یو۔۔۔۔” حنید نے ہنستے ہوئے۔۔۔
“مگر میرے ساتھ۔۔ہا۔۔۔” وہ ہنس کر کہنے لگی۔۔۔اور حنید بھی اس کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔
حریم ان کے بیچ خاموش کھڑی۔۔۔۔جیسے وہ دونوں اسے جانتے ہی نہیں۔۔۔
“اچھا چلو نا میرے ساتھ۔۔۔۔”
وہ حنید کا ہاتھ پکڑتے کہنے لگی۔۔۔
“کہاں؟” وہ چونکا۔۔۔
“چلو تو۔۔۔۔بتاتی ہوں۔۔۔” وہ اسے کھینچتے لے جانے لگی۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔”وہ رکا پھر مڑ کر حریم کو دیکھا۔۔۔۔
“اوہ۔۔۔حریم۔۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔۔” نظر پڑتے ہی نیہا نے ہاتھ ملایا۔۔۔
“وہ بدلے میں بس مسکرا دی۔۔۔
“اب چلو بھی۔۔۔۔” وہ زبردستی کرنے لگی۔۔۔
“حریم میں بس ابھی آیا۔۔۔۔ورنہ یہ مجھے کھا جائے۔۔۔میں آتا ہوں۔۔ہاں۔۔اوکے۔۔۔” وہ جاتے جاتے کہنے لگا۔۔۔
اور وہ بنا کوئی جواب دیے اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے۔۔۔۔
جسے مہارت سے اس نے صاف کیے۔۔۔اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
