Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 4)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“گڈ مارننگ بھابھی…” وہ کہتا کرسی کھینچ کر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر سامنے بیٹھے شخص پر پڑی۔۔۔اور اس کے ہاتھ وہیں ٹھہر گئے۔۔۔
“کیا ہوا بیٹھو؟” فائقہ نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔مجھے سٹوڈیو جانا ہے۔۔۔وہیں کھا لوں گا۔۔۔”
حمدان نے سنجیدگی سے کہا
“یہ یہاں کیسے بیٹھ سکتا ہے فائقہ جہاں میں بیٹھا ہوں۔۔۔”
انہوں نے کرختگی سے کہا۔۔۔
“یزدان سٹاپ اٹ۔۔۔۔” فائقہ نے انہیں دیکھتے ہوئے ٹوکا۔۔۔
“رہنے دیں بھابھی۔۔۔۔ان کی پرانی عادت ہے یہ۔۔۔
مجھے دیر ہورہی شام میں ملتے ہیں۔۔۔ بائے۔۔”
وہ کہتا تیزی سے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“تھینک یو؟” حریم نے بنا نظر ملائے ہی سنجیدگی سے کہا
“نو اٹس اوکے۔۔۔ایک بات کہوں؟” اس نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“جی۔۔۔” وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“آپ جیسی لڑکی کو۔۔۔اکیلے اس وقت نہیں گھومنا چاہیے۔۔۔
مائنڈ نہیں کرنا مگر آپ ایک کانفیڈ لڑکی نہیں ہو۔۔۔
اور جنہیں ابھی میں نے بھگایا ہے۔۔۔ایسے لوگوں کا سامنا آپ نہیں کر سکتی۔۔۔۔”
حنید بولتا چلا جارہا تھا۔۔۔
حریم اس کی بات پر خاموشی سے گردن ہلا گئی۔۔
“دوبارہ کہیں جانے سے پہلے کسی کو ساتھ لینا۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔”وہ اسے مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔
“میں وہ۔۔۔۔۔حمدان شاہ کا نیا البم آیا ہے تو میں۔۔۔۔میں نے سوچا خرید لوں۔۔۔۔”
اس نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔چلو ساتھ خریدتے ہیں۔۔۔۔مجھے بھی میوزک میں انٹرسٹ ہے۔۔۔۔”
حنید بے تکلفانہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔
اور وہ مسکرا دی۔۔۔
“ایسا کب تک چلے گا حمدان؟”
فائقہ بھابھی نے اسے کافی تھماتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیسا؟” وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
“تمہارے اور یزدان کے بیچ جو چل رہا ہے۔۔۔آخر تم لوگ محبت سے کیوں ساتھ نہیں رہتے؟”
وہ پاس بیٹھ کر کہنے لگی۔۔
“بھابھی۔۔ہمارے بیچ محبت ہے ہی نہیں۔۔۔۔”
حمدان نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“جھوٹ۔۔۔محبت ہے بس تم دونوں ظاہر نہیں کرتے”
فائقہ نے کہا
“انہیں آخر مسئلہ کیا ہے مجھ سے۔۔۔؟”
وہ تنک کر کہنے لگا
“مسئلہ انہیں تم سے نہیں ہے۔۔۔تمہارے لائف اسٹائل سے ہے۔۔۔تمہارے غصہ سے ہے۔۔۔”
وہ سمجھانے لگی۔۔۔
“سوری بھابھی میں خود کو بدل نہیں سکتا۔۔۔”
وہ کپ ٹیبل پر رکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“گڈ نائٹ بھابھی۔۔۔”
وہ کہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“گھر کیسے جاؤ گی۔۔۔؟” حنید نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“وہ۔۔۔میں رکشہ وغیرہ لوں گی۔۔۔” وہ سڑک کے کنارے چلتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“اس ٹائم۔۔۔رات میں۔۔۔۔آئی مین۔۔۔۔تم میرے ساتھ چل سکتی ہو۔۔میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔”
حنید نے پرکشش انداز میں کہا۔۔۔
“نو اٹس اوکے میں چلی جاؤں گی۔۔۔” حریم روہانسی ہوئی
“ارے کوئی پرابلم نہیں۔۔۔رات ہونے لگی ہے۔۔۔تم بھروسہ کر سکتی ہو مجھ پر۔۔۔”
اس کے لہجے میں اپنائیت تھی۔۔۔
وہ بس گردن ہلا گئی۔۔
“تمہیں ویسے صرف میوزک سے پیار ہے یا سنگنگ بھی کرتی ہو؟” وہ گاڑی کے قریب آکر کہنے لگا۔۔۔
“کبھی کبھی بس گنگنا لیتی ہوں۔۔۔۔” حریم نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“ہمم۔۔۔بیٹھو۔۔۔” حنید نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔
“بھئی میں تو گاتا بھی ہوں اور گنگناتا بھی ہوں۔۔۔کیوں کہ مجھے میری آواز سے بہت محبت ہے”
حنید ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
بدلے میں وہ صرف مسکرا دی۔۔۔۔
“فرینڈز۔۔۔۔” اس نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
حریم کبھی اسے کبھی اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔
پھر نظر جھکائے کسی سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔
حنید کی نظر اس گہری ہنوز پلکوں پر ٹھہر گئی۔۔۔۔
یک دم ہی اس نے نظر اٹھا کر حنید کو دیکھا۔۔۔۔۔
وہ واقع خوبصورت آنکھوں کی مالک تھی۔۔۔۔
حنید نے فوراً سے نظر جھکائی۔۔۔۔پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔
جو شاید اس نے دوستی کے لیے بڑھایا تھا۔۔۔
اس نے خاموشی سے ہاتھ پیچھے کرلیا۔۔۔
اور ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔۔
“کروا لی انسلٹ اپنی؟” یزدان نے کمرے میں آتی فائقہ کو دیکھ کر کہا
“کوئی انسلٹ نہیں ہوئی۔۔کیا ہوگیا ہے یزدان۔۔۔چھوٹا بھائی ہے آپ کا۔۔اپنے دل کو صاف کریں۔۔۔اکڑ اور غصہ اپنوں کے بیچ کڑواہٹ پیدا کردیتا ہے”
فائقہ نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“یہی تو میں کہ رہا ہوں۔۔۔اس کی اکڑ اور غصہ کی وجہ سے ہم دونوں بھائیوں کے بیچ کڑواہٹ پیدا ہوئی ہے۔۔۔
میں اس کا بڑا بھائی ہوں اسے میری عزت کرنی چاہیے۔۔”یزدان نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
“آپ بھی تو ہر وقت طعنے طنز ہی کرتے ہیں نا۔۔۔کبھی پیار سے بات کی ہے اس سے؟ “
فائقہ نے گہری نظروں سے سوال کیا
“وہ پیار کے لائق نہیں۔۔۔” اس نے بے رخی سے کہا۔۔۔
“یہی تو بات ہے نہ آپ سمجھنے کو تیار۔۔نہ وہ۔۔۔”
فائقہ نے کمبل درست کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور وہ مزید کچھ کہتا وہ سونے کی غرض سے لیٹ گئی۔۔۔۔
اور وہ اسے بس دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
