Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 14)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 14)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“حمدان” وہ ہاتھ میں کپ تھامے ٹی وی پر نظریں گاڑھے صوفے پر پشت ٹکائے کچھ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔کہ پیچھے سے آتی آواز پر پلٹا۔۔۔
سامنے ہی وہ جنس پر پنک ٹاپ پہنے۔۔بالوں کو میسی بن میں قید کیے۔۔۔سادہ سے حلیے میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
وہ اسے دیکھ کپ ٹیبل پر رکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
پھر بنا تاثرات کے چہرہ لیے اس کے قریب آیا۔۔۔
“حمدان۔۔۔مجھے کچھ بات کرنی تھی تم سے” عنایہ نے فوراً کہا۔۔
“مجھے بھی تم سے کچھ کہنا ہے” حمدان نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“کیا بات؟” وہ اسی انداز میں پوچھنے لگی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔کل کے لیے۔۔۔” اس نے قریب آکر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔
“حمدان یہ صرف کل کی بات تو نہیں ہے۔۔۔تمہارے غصے کا نشانہ تو تم سے جڑا ہر شخص بنتا ہے۔۔۔”
عنایہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“لیکن میں نے کہا نا میرا موڈ خراب تھا۔۔۔۔۔”
“تمہارا موڈ خراب کب نہیں ہوتا حمدان۔۔۔ اگر ایسے ہی رہا تو ہر رشتے کو کھو دو گے ای کدن”
وہ وارننگ دینے لگی۔۔۔
“اوہ۔۔۔تو تم مجھے دھمکی دینے آئی ہو۔۔۔۔؟”
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
لمحہ بھر وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
پھر بنا کوئی جواب دیے پلٹی۔۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے ایک مضبوط گرفت نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
“تم مجھے چھوڑنے کی دھمکی دینے آئی ہو؟ حمدان شاہ کو چھوڑنے کی؟”
وہ اسے بازوؤں سے تھامے۔۔۔اس کی آنکھوں میں دیکھتا انگارے برسا رہا تھا۔۔۔
“عنایہ” اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی فائقہ بھابھی وہاں آ پہنچی۔۔۔
“گیٹ آؤٹ۔۔۔” پیچھے سے آتی آواز پر اس نے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔۔۔
اور وہ بنا کوئی جواب دیے ایک بری نظر اس پر ڈالتی باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
![]()
وہ آئینے میں کھڑی بالوں کی پونی بنانے میں مصروف تھی۔۔جب موبائل ایک بپ کے ساتھ اس کی توجہ مبذول کروا گیا۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا۔۔۔
“کہاں ہو؟” حنید کا میسج جگمگا رہا تھا۔۔۔
“آپ کے دل میں” وہ مسکراتے لبوں سے ٹائپنگ کرنے لگی۔۔۔
“مگر دل میں تو جگہ خالی نہیں۔۔۔ ” فوراً ریپلائے آیا۔۔۔
“ہم اپنی جگہ خود ہی بنا لیتے ہیں۔۔۔” حریم نے شرارتی انداز میں میسج کیا۔۔۔
“کرایہ دینا ہوگا پھر۔۔۔” جواب پڑھ اس کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آگئی۔۔۔
“حریم۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ کچھ ٹائپ کرتی۔۔۔تحریم آپی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
“جج۔۔۔جی آپی۔۔۔” وہ فوراً سے ہڑبڑائی اور فون تکیے کے نیچے چھپایا۔۔۔
“یہ لو تمہاری۔۔۔کل ہی جمع کروا دینا۔۔۔”
وہ اس کی طرف پیسے بڑھانے لگی جسے حریم نے چپ چاپ تھام لیے۔۔۔
“کیا ہوا اتنا مسکرا کیوں رہی ہو۔۔”
شاید اس کے چہرے کے رنگ تحریم آپی سے چھپ نہیں سکے۔۔۔
“نہیں۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔میں تو نہیں مسکرائی۔۔۔”
وہ بوکھلائی۔۔۔
وہ اپنے بیڈکی چادر صحیح کرتے ہوئے۔۔۔اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اچھا چلو۔۔۔پھر شاید میری نظریں کمزور ہوگئی۔۔۔بڑھاپا آگیا مجھ پر۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“آپی۔۔ایک بات پوچھوں۔۔۔” وہ سیریس ہوئی۔۔۔
“ہاں پوچھو۔۔۔کیا؟” وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے مصروف کن لہجے میں کہنے لگی۔۔
“آپ شادی کب کریں گی۔۔۔؟”
حریم کے سوال پراس نے یک دم اس کی طرف دیکھا۔۔۔
“یہ کیسا سوال ہے؟۔۔۔تم کیوں پوچھ رہی۔۔۔۔؟”
وہ سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگی
“ایسے ہی۔۔۔مطلب۔۔۔کبھی آ نے اپنے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔ہمیشی بس میرے بارے میں سوچتی ہیں۔۔۔کیا آپ نے کبھی محبت نہیں کی۔۔؟”
حریم نے تجسس سے پوچھا۔۔۔
“میں صرف تجھ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔تیرے سوا میری زندگی میں اتنا کوئی اہم نہیں۔۔۔”
وہ اس کے قریب آکر بیٹھی۔۔۔
“ماما بابا کے بعد اگر میری زندگی میں میں خوشی کا نام ہے تو وہ بس تو ہے۔۔۔تجھے پڑھانا۔۔۔کامیاب بنانا۔۔۔اور پھر اچھا سا لڑکا دیکھ تیری شادی کرنا۔۔۔فرض ہوگیا مجھ پر۔۔۔”
وہ اس کا گال تھپتھپاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔
“اور رہی بات شادی کی۔۔۔تو تیری زمہ داری کے بعد۔۔۔کوئی اندھا مجھ سے بھی شادی کر ہی لے گا۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
اور اپنے بیڈ پر چادر تان کر لیٹ گئی۔۔۔
حریم چپ چاپ انہیں نم آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
اسے کچھ دن پہلے کیے جانے والا نکاح یاد آیا جو اس نے ان کی مرضی کے خلاف کیا۔۔۔
“حمدان۔۔۔کس بات پر جھگڑا کیا ہے تم نے عنایہ سے۔۔۔؟”
فائقہ بھابھی نے پوچھا
اس نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔
پھر مڑ کر انہیں دیکھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔میں ہی برا ہوں۔۔۔میں سب سے جھگڑا کرتا ہوں۔۔۔آپ سے آپ کے شوہر سے عنایہ سے۔۔۔اور خود سے جڑے ہر رشتے سے۔۔۔مگر آپ فکر مت کریں۔۔۔دوبارہ آپ کو مجھ سے پوچھنے کی نوبت نہیں آئے گی۔۔۔کہ میں نے کیوں جھگڑا کیا۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں کہ کر تیزی سے سیڑھیاں چھڑھتا اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔
جو بھی تھا مگر وہ کبھی فائقہ بھابھی سے بدتمیزی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔اسی لیے اس نے غصہ ضبط کیا اور راہ فرار حاصل کی۔۔۔
“میں نے پہلے بھی تمہیں کہا تھا حنید کہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے”
طیبہ نے پاس بیٹھے حنید سے کہا۔۔۔
مگر میں تو نہیں کرتا۔۔۔”
اس نے صاف گوئی سے کہا۔۔۔
“تم نہیں کرتے۔۔۔مگر تم اسے بھی نہیں روک سکتے۔۔”
“میں روک سکتا ہوں۔۔۔میں ابھی جا کر اسے کہ دیتا ہوں کہ میں کسی اور کے ساتھ کمٹمینٹ کر چکا ہوں”
وہ بیگ کاندھے پر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“پاگل مت بنو۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو۔۔۔تم اسے یہ کہو گے تو کیا وہ تمہارا ساتھ دے گی۔۔۔”
طیبہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“یہ جو سنگر بننے کے خواب دیکھ رہے ہو نا۔۔۔سب پر پانی پھر جائے گا۔۔۔نیہا ہی وہ سیڑھی ہے جس کے ذریعے تم ایک بہترین سنگر بن سکتے ہو۔۔۔سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا۔۔۔”
طیبہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
اور وہ اس کی باتیں سن خاموش ہوگیا۔۔۔
