258.6K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaaz Ishq (Episode - 16)

Awaaz Ishq By Isra Rao

گاڑی ایک شاندار گھر کے سامنے آکر رک چکی تھی۔۔۔

نیہا فرنٹ ڈور کھول ڈرائیونگ سیٹ سے اتری۔۔۔۔

“چلو۔۔۔” وہ حنید سے مخاطب ہوئی جو گاڑی سے اتر کر اس کے قریب آیا۔۔۔

وہ اندر داخل ہوا سامنے ہی سیڑھیاں اترتی ایک خاتون سے ان کا سامنا ہوا۔۔۔

جو ہیئر کٹ۔۔۔اور ڈریسنگ سے ہی اپنی پرسنلٹی کی آپ مثال تھی۔۔۔

“ماما یہ حنید ہے۔۔۔۔میں نے بتایا تھا۔۔۔۔”

اس نے آگے بڑھ کر تعارف کروایا۔۔۔

“اسلام علیکم۔۔۔” حنید نے سلام کیا۔۔۔

“وعلیکم السلام۔۔۔بیٹھو” نہوں نے جواب کے ساتھ مسکرا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔

اور خود بھی سامنے صوفے پر براجمان ہوئی۔۔۔

“بہت زکر کرتی ہے۔۔میری بیٹی تمہارا۔۔۔سنا ہے تمہیں سنگر بننے کا بہت شوق ہے؟”

انہوں نے خوش دلی سے پوچھا ۔۔

“جی۔۔۔” حنید مختصر جواب دے کر مسکرایا۔۔۔

تھوڑی بہت یہاں وہاں کی باتیں ہوتی رہیں۔۔۔۔حنید بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے یہاں بہت آکورڈ فیل ہورہا تھا۔۔۔کچھ سوچ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“اچھا میں چلتا ہوں۔۔۔کچھ کام ہے۔۔۔” وہ بہانا بناتا اٹھا۔۔۔

“ارے ایسے کیسے۔۔۔ہم نے لنچ ساتھ کرنا۔۔۔آفٹرآل تمہاری برتھ ڈے ہے۔۔۔ایسے تو نہیں جانے دیں گے۔۔۔۔”

نیہا نے زبردستی اسے بٹھایا۔۔۔

“تمہارے لیے ایک سرپرائز بھی ہے۔۔۔ماما”

وہ خوش دلی سے کہتی اپنی ماں سے مخاطب ہوئی۔۔۔

انہوں نے بھی سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر کچھ پیپرز اس کے سامنے رکھے۔۔۔

“یہ کیا ہے؟” وہ ناسمجھی سے کبھی نیہا کو کبھی اس کی ماما کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ دونوں بھی چہرے پر مسکان لیے حنید کے تاروت نوٹس کر رہی تھی۔۔۔

“یہ کانٹریکٹ پیپر ہیں۔۔۔ٹھیک ایک ہفتے بعد تمہیں ریہرسل کے لیے تیار رہنا ہے۔۔۔اب تمہیں ایک اچھا سنگر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔”

نیہا نے والدہ نے جوش بھرے لہجے میں کہا۔۔۔

اور حنید کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ ساکت بیٹھا ان کی باتیں سن رہاتھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ پورا دن بیٹھی اس کا انتظار کرتی رہی مگر نا ہی تو وہ آیا نا ہی کوئی کال یا میسج۔۔۔

وہ ریسٹورنٹ کابل ادا کر کے سیدھی گھر چلی گئی تھی۔۔۔

آنسوں تھے کہ بہنے کو تیار تھے۔۔۔

مگر وہ رو نہیں سکتی تھی۔۔۔وہ چپ اپنے بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔

شام سے رات ہوگئی تھی مگر حنید نے اسے یاد تک نہیں کیا۔۔۔

اس کا دل پھٹنے کو تیار تھا۔۔۔کیا اس کی محبت بس اتنی کمزور تھی۔۔۔کیا اس کی پیار میں اتنی بھی کشش نہیں تھی کہ اسے ااس کی یاد بے چین کرتی۔۔۔

وہ سوچوں میں گم تھی کہ اس کا فون بجنے لگا۔۔۔

تحریم آپی کچن میں تھی۔۔۔

اس نے اسکرین کو دیکھا۔۔۔حنید کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔

اس نے فوراً رسیو کیا۔۔۔

“ہیلو۔۔۔” حریم نے بے رخی سے کہا۔۔۔

“ہیلو۔۔۔سوری یار آج میں تمہیں ٹائم نہیں دے سکا۔۔۔پتا ہے حریم آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔میرا دن واقع بہت اچھا گزرا۔۔۔”

وہ بولتاجارہا تھا۔۔۔

“پتا ہے حریم نیہا نے بہت اچھا سرپرائز دیا مجھے۔۔۔”

حنید نے خوش ہوکر کہا۔۔۔

“اور میرا۔۔۔میرا خیال نہیں آیا۔۔۔سرپرائز تو میں نے بھی پلان کیا تھا۔۔۔”

حریم نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔

“تم نے۔۔۔تم نے مجھے نہیں بتایا۔۔۔خیر کوئی بات نہیں کل۔۔۔”

وہ اپنی بات پوری کرتاکہ حریم نے بات کاٹی۔۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔کتنی آسانی سے تم نے کہ دیا کہ کوئی بات نہیں۔۔۔میں پاگلوں کی طرح تمہارا بھوکی پیاسی انتظار کرتی رہی کہ ہم آج کے دن لنچ ساتھ کریں گے۔۔۔”

وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔۔

“حریم۔۔۔سوری یار مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔”

وہ کچھ کہنے لگا۔۔۔

مگر حریم پھر سے پھٹ پڑی۔۔۔

“تمہیں کیسے پتا ہوگا۔۔میں تمہارے لیے گھڑی لے کر آئی تاکہ جب جب تم کلائی پر اسے دیکھو۔۔۔اس اس لمحے تمہیں میری یاد آئے۔۔۔مگر تمہارے پاس میرے لیے ٹائم ہی کہاں ہے۔۔۔۔تمہیں اس نیہا کے آگے کچھ دکھائی دے تب نا۔۔۔۔”

وہ سخت لہجے میں چلائی۔۔

“حریم۔۔۔نیہا اس سب میں مت گھسیٹو۔۔۔”

وہ سادہ سے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔

“اسے میں نے نہیں گھسیٹا۔۔۔اسے تم ہمارے بیچ لائے ہو۔۔۔میں اسے بلکل برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔رات رات بھر تم اس سے باتیں کرتے ہو۔۔۔کیا لگتی ہے تمہاری وہ۔۔۔”

حریم کا غصہ کنٹرول سے باہر ہورہاتھا۔۔۔

“وہ دوست ہے میری۔۔۔”

وہ سخت لہجے میں کہنے لگا۔۔۔

“مجھے تمہاری اس کے ساتھ دوستی پسند نہیں ہے۔۔۔”

حریم نے صاف گوئی کی۔۔۔

“لیکن مجھے پسند ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔تم نہیں جانتی وہ میرے لیے کیا کچھ نہیں کر رہی۔۔۔اور تم کہ رہی ہو بلا وجہ میں اس سے دوستی توڑ دوں۔۔۔۔واٹ ربش۔۔۔”

اس کے لہجے سے غصہ عیاں تھا۔۔۔

“اچھا مطلب مجھے چھوڑ سکتے ہو۔۔۔۔میرے لیے اس کو نہیں۔۔۔”

حریم نے آنسوؤں کو پرے دھکیلتے سوال داغا۔۔۔

“تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو۔۔۔”

وہ تلخ لہجے میں کہتا فون بند کر گیا۔۔۔

اور حریم ساکت بیٹھی رہی۔۔۔آنسوں آنکھوں سے مسلسل بہ رہے تھے۔۔۔

شاید اپنی بے قدری پر نکل رہے تھے۔۔۔یا پھر حنید کی بے رخی دیکھ مزید اب انہیں رکنا محال لگ رہا تھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ایک ہفتہ گزر چکا تھا مگر حنید نے دوبارا اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔۔۔

غصہ میں حریم نے بھی اس دن کے بعد بات نہیں کی۔۔۔کالج میں بھی کہیں مل جاتا تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ نظریں پھیر لیتے۔۔۔

حریم کو امید تھی کہ شاید وہ اسے منا لے گا۔۔۔

مگر ایسا ہوا نہیں۔۔۔وہ مکمل طور پر اسے نظر انداز کر رہا تھا۔۔۔

“کیا ہوا؟” وہ افسردہ سی بیٹھی تھی جب ماریہ بھی بیگ سیڑھیوں پر رکھ اس کے پاس وہیں بیٹھ گئی۔۔۔

“کچھ بھی نہیں۔۔۔” وہ اداسی کو چھپاتی کہنے لگی۔۔۔

“اس کا میسج نہیں آیا۔۔۔؟” وہ اس کے چہرے کی اداسی کو بھانپتی کہنے لگی۔۔۔

“نہیں۔۔کتنا مشکل ہوتا ہے نا ماریہ جب دل چیخ چیخ کر رونا چاہے۔۔۔مگر انسان رو نا سکے۔۔۔۔”

وہ نم آنکھوں سے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔

“رونے سے اچھا ہے اسے منا لے۔۔۔اگر وہ نہیں منا رہا تو۔۔تو منا لے۔۔۔” ماریہ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ جماتے ہوئے کہا۔۔۔

حریم نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔۔۔

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ بات ماریہ کہ رہی ہے۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ اسے حنید بلکل پسند نہیں۔۔۔مگر شاید وہ حریم کے دل سے واقف تھی تبھی وہ یہ مشورہ دے بیٹھی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شام کا وقت تھا ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔

وہ چھت پر بیٹھی گہری سوچوں میں ڈوبی تھی۔۔۔جب ماریہ کا جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔۔۔

(رونے سے اچھا ہے اسے منا لے۔۔۔اگر وہ نہیں منا رہا تو۔۔تو منا لے۔۔)

اس کے زہن نے جیسے انا کو سائیڈ پر رکھا اور کام کرنا شروع کیا۔۔۔

پھر اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر حنید کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔

“ہیلو۔۔” اگلی ہی بیل پر فون رسیو کرلیا گیا۔۔۔

“کیسے ہو؟”حریم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“ٹھیک ہوں۔۔۔کیسے فون کیا؟” اس کے سوال نے حریم کو چونکنے پر مجبور کیا۔۔۔

“سوری کہنے کے لیے۔۔۔اس دن مجھے غصہ آگیا تھا۔۔۔اصل میں تمہیں کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتی۔۔۔بس اسی لیے۔۔۔”

حریم بولتی جارہی تھی۔۔۔مگر اگلی طرف مکمل خاموشی تھی۔۔۔

“تم سن رہے ہو۔۔۔؟” وہ خاموشی دیکھ پوچھ بیٹھی۔۔۔

“ہاں۔۔۔سن رہا ہوں۔۔۔” وہی مختصر جواب۔۔

“تو کل آف ہے۔۔۔ہم مل سکتے ہیں نا۔۔۔؟”

وہ مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔وہ چاہتی تھی مل کر وہ اس کا موڈ ٹھیک کر دے اور سب کچھ پہلے جیساہوجائے۔۔۔

مگر جہاں دل ہی بھر جائے تو مل بیٹھ کر بھی پہلے جیسا نظریہ نہیں رہ پاتا۔۔۔

“میرے پاس ٹائم نہیں ہے کل۔۔۔پھر کبھی”

وہ بے رخی سے کہنے لگا۔۔۔

“پلیز۔۔۔تھوڑی دیر کے لیے بس۔۔۔”

حریم نے منت کی۔۔۔

“آجاؤں گا۔۔۔اوکے۔۔۔بائے”

وہی پھیکا سا جواب دے کر کال ڈسکنیکٹ۔۔۔

وہ اس کی بے رخی دیکھ دل کو اور آنکھوں کو سنبھالنے لگی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کافی دیر سے وہ حنید کا انتظار کر رہی تھی۔۔

مگر اس کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔

وہ کب سے بیٹھی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے جو مسکراہٹ لیے وہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔وہ کہیں غائب ہوچکی تھی۔۔۔

اب اس کے چہرے پر ناراضگی اور غصہ کے آثار ظاہر ہورہے تھے۔۔۔

تبھی وہ سامنے سے آتا دکھائی دیا۔۔۔

جو اپنے ہی انداز میں چلتا آرہا تھا۔۔۔

“ہائے۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔؟”

قریب آکر اس نے کرسی کھسکائی۔۔۔اور بیٹھ گیا۔۔۔

“میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔تمہیں کوئی احساس نہیں؟”

اس نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

“میں نے کہا تھا میرا انتظار کرو؟”

وہ موبائل ہاتھ میں لیے تیکھی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

بے رخی دیکھ۔۔۔اس کی آنکھوں میں آنسوں امڈ آئے۔۔۔

“میں نے تمہیں کہا تھا میرے پاس ٹائم نہیں ۔۔۔۔تم نے ضد کی ملنے کی۔۔۔”

اس نے پھر سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔۔کب سے ٹھہرے آنسوں گرتے اس سے پہلے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

“سوری۔۔۔تمہارا ٹائم خراب کیا میں نے۔۔۔”

وہ کہتے ساتھ ہی مڑ کر جانے لگی۔۔اور اپنے گرتے آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔

مگر پیچھے بیٹھے شخص نے اسے روکنے کے لیے ایک آواز بھی نہیں لگائی۔۔۔