Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 26)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 26)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“ہیپی برتھ ڈے میرا بچہ۔۔۔”
حامد صاحب نے گلے لگایا۔۔۔
“تھینک یو ڈیڈ۔۔۔لو یو۔۔۔”
وہ خوش دلی سے ملا۔۔۔
پھر فائقہ کی طرف بڑھا۔۔۔
“بھائی کہاں ہیں؟” حمدان نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی بات سن جتنی حیرانی فائقہ کو ہوئی۔۔۔اس سے کہیں زیادہ حامد صاحب کو ہوئی۔۔۔
دونوں نے چونک کر حمدان کو دیکھا۔۔۔
“کیا ہوا؟” اس نے پھر سوال کیا۔۔۔
“کمرے میں۔۔۔” فائقہ نے جواب دیا۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا ان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
حریم اسے دیکھ دل سے مسکرادی۔۔۔
وہ آئینے میں خود کو دیکھتا بال بنا رہا تھا۔۔۔جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
“کم ان۔۔۔” اس نے اسی انداز میں کہا۔۔۔
جواب ملتے ہی آہستگی سے دروازہ کھلا اور حمدان اندر داخل ہوا۔۔۔
آئینے میں اسے دیکھ یزدان کے بال بناتے ہاتھ رک گئے۔۔۔
وہ مڑ کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
جانے کتنے سالوں بعد آج حمدان خود چل کر اس کے پاس اس کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
حمدان چل کر اس کے قریب آیا۔۔۔
وہ دیکھنے سے پرہیز کر رہا تھا۔۔۔
ہاتھ پاؤں تھے کہ کپکپا رہے تھے۔۔۔ہمت نہیں ہوپارہی تھی کہ بات کرلے۔۔۔
سامنے کھڑا شخص اس کا ظرف آزما رہا تھا۔۔۔
“بھ۔۔۔بھائی۔۔۔۔” حمدان نے نظر اٹھا کر یزدان کی طرف دیکھا۔۔۔
یزدان کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نا آیا ہو۔۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔کہ حمدان آگے بڑھا اور اس کے گلے لگ گیا۔۔۔
یزدان ساکت کھڑا تھا۔۔۔اسے حمدان کے اس رویے پر جیسے یقین نہ آیا ہو۔۔۔
“مجھے معاف کردیں آپ۔۔۔معاف کردیں میری اس ہر غلطی ہر بدتمیزی کو جو میں نے جانتے بوجھتے کی۔۔۔”حمدان نے بھری آواز سے کہا۔۔۔
اس نے مظبوطی سے یزدان کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔جیسے دور ہونا نہیں چاہتا ہو اب۔۔۔
یزدان کی آنکھ سے دو آنسوں گرے۔۔۔
اور اس نے حمدان کے گرد بازوں حمائل کرتے۔۔۔اسی مظبوطی سے اسے گلے لگایا۔۔۔
دروازے پر کی سی دستک دی۔۔۔اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھول اندر داخل ہوئی۔۔۔
“آؤ بیٹا۔۔۔” حامد صاحب جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔۔۔اسے دیکھ سیدھے ہوئے۔۔۔
“آپ نے بلایا تھا مجھے۔۔۔” وہ قریب آئی۔۔۔
“ہاں بیٹھو۔۔۔” انہوں نے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“جی۔۔۔کوئی بات کرنی تھی؟” حریم نے پاس بیٹھ حیرانی سے پوچھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔” حامد صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“حکم کریں پھر۔۔۔” حریم نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
“حریم۔۔۔میں نے تمہیں اپنی بیٹی صرف سمجھا نہیں ہے دل سے مانا ہے۔۔۔”
حامد صاحب نے پیار سے کہا
“میں جانتی ہوں ڈیڈ۔۔۔۔” وہ مسکرائی۔۔۔
“تو ڈیڈ ہونے کی حیثیت سے تمہارے لیے اچھے برے فیصلے لینے کا بھی حق رکھتا ہوں نا؟” انہوں نے پوچھا۔۔۔
“بلکل رکھتے ہیں۔۔۔” حریم نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔
“میں نے سوچا ہے کہ میں تمہاری شادی حمدان سے کردوں۔۔۔تاکہ تم ہم سے دور بھی نا جاؤ۔۔۔اور ہمیشہ میری بیٹی بن کر اس گھر میں ایسے ہی رہو جیسے ابھی رہتی ہو۔۔۔”
انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
مگر یہ جملے حریم کو ساکت کرنے لیے کافی تھے۔۔۔
وہ خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھی۔۔۔
“تم سوچ کر جواب دے دینا مجھے کوئی جلدی نہیں۔۔۔میں نے بس باپ ہونے کے ناطے دل کی بات شیئر کی ہے”
انہوں نے پرامید لہجے میں کہا۔۔۔
اور حریم کو کشمکش میں ڈال دیا۔۔۔
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
برابر بیٹھی لڑکی شاید آہستہ آہستہ اس کے دل پر حکمرانی کر رہی تھی۔۔۔
“ویسے ڈیڈ کا خیال برا نہیں۔۔۔”اس نے ترچھی نگاہوں سے پاس بیٹھی حریم کو دیکھا جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔
گاڑی میں بلکل خاموشی چھائی تھی۔۔۔
“ایوری تھنگ از اوکے؟” حمدان نے خاموشی کو توڑا۔۔۔
“ہا۔۔ہاں۔۔” اس نے چونک کر جواب دیا۔۔۔۔
“پھر کن سوچوں میں گم ہو؟”
حمدان نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں بس وہ۔۔۔شو کے بارے ہی سوچ رہی تھی”
حریم مسکرائی۔۔۔
“ایک بات پوچھوں؟” حمدان نے پوچھا۔۔۔
“پوچھو۔۔۔”حریم نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“تم نے کبھی محبت کی ہے؟” حمدان نے سوال کیا۔۔۔
حریم اس کے سوال پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
تبھی حمدان کا فون بجنے لگا۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔” حمدان کہتا فون رسیو کرتا بات کرنے میں مصروف ہوگیا۔۔۔
اور حریم جس کے پاس جواب نہیں تھا اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
“سنو یہ ڈرنک وہاں۔۔۔۔حمدان شاہ کھڑا ہے نا اسے دے کر آؤ”
عنایہ نے گلاس اور پیسے ویٹر کے سامنے رکھے۔۔۔
“پیسوں کو دیکھ ویٹر کی آنکھوں میں چمک آگئی۔۔۔
اس مسکرا کر ہامی بھرلی اور پیسے اٹھا لیے۔۔۔۔
پھر ڈرنک لے جا کر حمدان کے سامنے کی۔۔۔
حمدان نے گلاس اٹھا لیا۔۔۔
اور پھر سے باتوں میں مصروف ہوگیا۔۔۔۔
دور کھڑی عنایہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تھوڑی ہی دیر میں لائو پرفارمینس ہوگی۔۔۔۔اور سنگر حمدان شاہ کا گلا خراب ہوگا۔۔۔تو وہ کیسے گائے گا۔۔۔۔سو سیڈ”
عنایہ نے افسردگی کا لبادہ اوڑھے خود کلامی کی۔۔۔
“مسٹر حمدان شاہ اب آئے گا مزہ۔۔۔۔”
عنایہ نے ہنس کر کہا۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔؟” حریم نے اسے چہرے پر شکن دیکھی۔۔۔
“پتا نہیں جب سے وہ ڈرنک پی ہے گلے میں عجیب۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رکا۔۔۔اس کے گلے میں ٹیس اٹھی۔۔۔
“حمدان آر یو اوکے؟” حریم اٹھ کر اس کے پاس آئی۔۔۔
“پتا نہیں۔۔۔گلے میں خراش سی۔۔۔۔” وہ کہتے ساتھ ہی ہلکے ہلکے کھانسنے لگا۔۔۔
“چلو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔کم آن”
حریم نے فکر مندی ظاہر کی۔۔۔
“نہیں لائو پرفارمینس ہے میری۔۔۔۔” حمدان نے کہا۔۔۔
“فار گاڈ سیک حمدان تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔کیسے گاؤ گے۔۔۔؟”
حریم نے سمجھانا چاہا۔۔۔
“مگر… پتا نہیں کتنے لوگ انتظار میں ہوں گے۔۔۔نیو کو سنگر کو ٹائم دیا تھا۔۔۔میرے ساتھ پرفارمینس ہے ان کی۔۔۔”
حمدان نے وجوہات بیان کی۔۔۔
“میں پرفارمینس دوں گی تمہاری جگہ۔۔۔”
حریم نے تسلی دی۔۔۔
اور حمدان اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
“آپ نے بات کی تھی؟” فائقہ نے حامد صاحب کی جانب چائے کا کپ بڑھایا۔۔۔
“ہاں کی تھی۔۔۔مگر اس نے کچھ کہا نہیں۔۔۔”
حامد صاحب نے سپ لیتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
“مگر آپ کو جواب تو مانگنا تھا نا۔۔۔”
پاس بیٹھے یزدان نے فوراً کہا۔۔۔
“نہیں میں نے نہیں مانگا۔۔۔میں اسے کچھ وقت دینا چاہتا ہوں۔۔۔”
حامد صاحب نے اطمینان سے کہا۔۔۔
“مگر ڈیڈ آپ جانتے ہیں۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ۔۔۔حمدان نے شادی سے انکار نہیں کیا۔۔۔”
فائقہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔مگر میں نہیں چاہتا کہ حریم سوچے ہم نے جو اسے اس گھر میں رکھا یا پیار محبت دی۔۔۔اس کا بدلہ مانگ رہے ہیں۔۔۔وہ یہ نہ سمجھے اس احسان کے بدلے ہم اس سے قربانی مانگ رہے ہیں۔۔۔”
حامد صاحب نے اندیشہ ظاہر کیا۔۔۔
“آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔۔۔اسے خود فیصلہ کرنا چاہیے۔۔۔”
یزدان نے بھی بات ملائی۔۔۔
“تقدیروں کی اس لڑائی میں۔۔۔
بیٹھے ہیں رشتے یہ ہارے ہوئے۔۔۔
بیچارے دل کو تو پوچھو کوئی۔۔
اس کی خوشی اس کو کیا چاہیے”
اسٹیج پر کھڑا شخص اپنی ہی دھن میں گا رہا تھا۔۔۔
حریم کے پاؤں جیسے ساکت ہوگئے۔۔۔وہ اس آواز کو نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔
اس نے پاس کھڑے حمدان کو دیکھا۔۔جو اسے اشارہ کر رہا تھا اسٹیج پر جانے کا۔۔۔
وہ خود کو مضبوط بناتی آگے بڑھ گئی۔۔۔
“رہتی تھی جہاں رونق اب گھر وہ سونا پڑا ہے
وہ جو خواب دیکھا تھا سوٹکڑوں میں ٹوٹا پڑا ہے”
حریم قدم بڑھاتی گنگناتی آرہی تھی۔۔۔
سامنے کھڑے شخص کی نظریں وہ خود پر محسوس کرسکتی تھی۔۔۔
مگر وہ انجان بنی اپنی پرفارمینس دے رہی تھی۔۔۔
حریم کی آواز پر لوگوں کا شور بڑھتا جارہا تھا۔۔۔
وہ ایک قابل سنگر بن چکی تھی۔۔۔
(میں نے سوچا ہے کہ میں تمہاری شادی حمدان سے کردوں۔۔۔)
حریم جب سے آئی تھی خود کو کمرے میں بند کیے بیٹھی تھی۔۔۔
“میں کیسے شادی کرسکتی ہوں میں تو پہلے ہی نکاح کرچکی ہوں۔۔۔”
وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔۔
ماضی کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔۔
جسے وہ چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔۔۔
“میں نکاح پر نکاح نہیں کرسکتی۔۔۔”
وہ غلطی جس پر وہ ہمیشہ پچھتائی۔۔۔
اسے سب یاد آگیا تھا۔۔۔
وہ فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور دروازہ کھول باہر نکل گئی ۔۔۔وہ فیصلہ کرچکی تھی۔۔۔
“ڈیڈ…” وہ باہر کی جانب بڑھ رہے تھے کہ حریم کے پیچھے سے پکارنے پر رک گئے۔۔۔
“ڈیڈ مجھے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔” حریم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ابھی تھوڑا جلدی میں ہوں۔۔۔آکر شام میں بات کرتے ہیں۔۔۔”
حامد صاحب نے مصروف کن لہجے میں کہا
“نہیں۔۔۔ابھی۔۔۔بس دو منٹ۔۔۔”
حریم نے منت کی۔۔۔
“اچھا کہو۔۔۔” انہوں نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں حمدان کے ساتھ شادی۔۔۔۔”
حریم رکی۔۔۔
“ہاں۔۔۔بولو۔۔۔”
وہ سنجیدہ ہوئے۔۔۔
“میں نہیں کرسکتی حمدان سے شادی۔۔۔ایم سوری ڈیڈ۔۔۔”
حریم نے کہا اور تیزی سے واپس چلی گئی۔۔۔
دور کھڑی فائقہ بھی جواب سن چکی تھی۔۔۔
“کیا بن رہا ہے آج بھابھی”
وہ کچن میں آتے ہی فائقہ سے مخاطب ہوا۔۔
“تم کیا کھاؤ گے۔۔۔وہی بنوا لینگے”
فائقہ نے بے تاثر لہجے میں کہا۔۔۔
“میں کچھ نہیں کہتا اب سدھر گیا ہوں نا”
حمدان نے شرارت سے کہا۔۔۔
“اوہ اچھا اور خود کو کیسے سدھار لیا آپ نے؟”
وہ بھی الٹ پوچھنے لگی۔۔۔
“میں نے کہاں۔۔۔حریم نے سدھار دیا مجھے۔۔۔اور آگے بھی اب گلے پڑنے والی ہے۔۔۔تو بھئی میں تو اب خاموش۔۔۔اس کے سامنے کہاں چلتی ہے میری۔۔۔”
حمدان نے ہنس کر کہا۔۔۔
“حمدان۔۔۔”فائقہ یک دم سیریس ہوئی۔۔۔
“جی۔۔۔” وہ پاس پڑی پلیٹ سے سلاد اٹھا کر کھاتے ہوئے بے دھیانی میں کہنے لگا۔۔۔
“اس نے انکار کردیا۔۔۔” فائقہ نے سنجیدگی سے آگاہ کیا۔۔۔
حمدان کے ہاتھ یک دم رکے۔۔۔وہ ساکت کھڑا فائقہ کو دیکھنے لگا۔۔۔
وہ سننا چاہتا تھا کہ کوئی کہ دے یہ مزاق تھا۔۔۔
مگر اسے فائقہ کے بہرے پر کہیں بھی شرارت نہیں دکھی۔۔۔
اس نے تھوک نگلا۔۔۔آنکھیں میں سرخی اتر آئی۔۔۔
پھر بنا کچھ کہے وہ تیزی سے کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔
