Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 5)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 5)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“یہ لے۔۔۔” کاشف نے اس کی طرف گلاس بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیا ہے یہ۔۔۔؟” حمدان نے میوزک کے شور کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیا مطلب؟ کیا ہے؟ سوفٹ ڈرنک”
اس نے شانے اچکائے
“آئی نو۔۔۔۔مگر میں یہاں۔۔۔تیری پارٹی میں سوفٹ ڈرنک پینے آیا ہوں؟ “
حمدان نے سنجیدگی سے کہا اور کاشف کا قہقہہ گونجا۔۔۔۔
“تو ڈرنک کم ہی کرتا ہے اسی لیے میں نے۔۔۔ویل ابھی منگواتا ہوں۔۔۔۔ویٹر۔۔۔۔” کاشف نے خوش دلی سے کہا۔۔۔اور پاس سے گزرتے ویٹر کو پکارا۔۔۔۔
معصوم چہرے کی کیا بات یار
ہم کو تو ہونے لگا ہے پیار
میوزک کی آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی
مگر کسی کی شکل اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔۔۔
تحریم جب کمرے میں آئی تو وہ بلا وجہ ہی مسکرا رہی تھی۔۔۔
“کیوں مسکرایا جا رہا ہے؟”
تحریم آپی نے پاس بیٹھتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔۔۔
“جی۔۔۔نہیں آپی میں تو نہیں مسکرائی”
وہ بوکھلائی
“تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو ویسے۔۔میں تمہاری آپی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوست بھی ہوں۔۔۔”
تحریم آپی نے اس کا گال تھپتھپایا
“نہیں کوئی بات ہی نہیں۔۔۔ ہوگی تو سب سے پہلے آپ ہی سے شیئر کروں گی۔۔۔”
حریم نے ان کے گلے لگتے ہوئےکہا
“پھر تو پکا تم اس سنگر حمدان شاہ کے خیالوں میں مسکرئی ہوگی۔۔۔۔میں تو بھول ہی گئی تھی میری بہن پاگل ہے”
تحریم نے ہنس کر کہا۔۔۔
اور حریم بھی کھلکھلا کر ہنس دی۔
“ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔”
پیچھے سے انجانی آواز پر وہ پلٹا
“حمدان شاہ۔۔۔۔رائٹ”
سامنے کھڑی لڑکی نے مسکرا کر کہا۔۔
“یس۔۔۔سوری میں نے پہچانا نہیں۔۔۔آپ جانتی ہیں مجھے ؟”
حمدان نے الجھے انداز میں کہا
“اوہ کم آن۔۔۔۔آپ کو کون نہیں جانتا۔۔۔۔”
اس لڑکی نے ہنس کر کہا۔۔۔
“ہاں۔۔۔یہ بھی ہے۔۔” حمدان نے کہا۔۔۔۔
تبھی وہاں کاشف آ پہنچا۔۔۔
“تم یہاں کھڑی ہو میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔”
کاشف نے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں میں بس ان سے ملنے آگئی تھی۔۔۔”
اس نے حمدان کی طرف اشارہ کیا
“اچھا۔۔۔حمدان میٹ مائے کزن سارہ۔۔۔پچھلے ہفتے ہی انگلینڈ سے آئی ہے۔۔۔۔اور بہت جلد ہم دونوں کی انگیجمنٹ ہونے والی ہے”
کاشف نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
“اوہ مبارک ہو۔۔۔۔”
حمدان نے مسکرا کر مبارک باد دی۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔۔مگر اب تجھے بھی شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔۔ڈھونڈ لے تو بھی ۔۔۔”
کاشف نے ہنس کر کہا
“ان سے تو کوئی بھی لڑکی شادی کے لیے تیار ہوجائے گی۔۔۔۔آخر اتنی لڑکیاں مرتی ہیں۔۔۔۔”
سارہ گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اور حمدان ہنس دیا۔۔۔
“میں نکل رہی ہوں حریم دروازہ ٹھیک سے لاک کر کے جانا”
تحریم آپی نے کاندھے پر پرس ڈالتے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
“جی جی آپی ٹھیک ہے” وہ بالوں میں کنگھا کرتی کالج جانے کے لیے تیار ہورہی تھی۔۔۔
“اچھا ہاں۔۔۔یہ لو تمہاری کتاب۔۔میں کل لے آئی تھی۔۔”
انہیں اچانک یاد آیا اور کتاب اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔۔۔
“مگر میں نے خرید لی تھی۔۔۔۔کل پیسے جو لیے تھے آپ سے”
حریم نے صفائی دی۔۔۔
“لیکن تم نے خود ہی کہا تھا مجھے۔۔۔۔تو میں بھی لے آئی۔۔”
تحریم نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
،”ہاں مجھے لگا آپ کے پاس وقت نہیں ہوگا تو میں خود لے آئی بس۔۔۔یہ واپس کروا دینا آپ”
حریم نے سنجیدگی سے کہا
“واپس تو مشکل ہی کرے گا وہ اسٹامپ لگ جانے کے بعد واپس نہیں کرتا کوئی۔۔۔۔تم رکھ لو کسی دوست کو ضرورت ہو تو دے دینا۔۔۔مجھے لیٹ ہورہی ہے اسکول کے لیے۔۔۔۔بائے۔۔۔”
وہ کہ کر تیزی سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
“مطلب کے اتنی خوبصورت آواز ہے کہ بس دل میں ہی اترتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔”
حریم نے پرجوش انداز میں مسکرا کے کہا۔۔۔
“تجھے حمدان شاہ کی آواز بہت پسند ہے نا؟”
ماریہ نے سوال کیا
“صرف پسند۔۔۔مجھے عشق ہے اس کی آواز سے۔۔۔
جب سنتی ہوں نا ایسا لگتا ہے جیسے دنیا ٹھہر سی گئی۔۔۔
اور۔۔۔۔۔” وہ اپنی بات پوری کرتی کہ ماریہ یک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“کیا ہوا کہاں جا رہی ہے؟” حریم نے اسے بیگ اٹھاتے دیکھ پوچھا۔۔
“پیچھے جا رہی ہوں۔۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔۔۔
“مگر کیوں۔۔۔۔؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“یار قسم سے کیمسٹری ذرا پلے نہیں پڑتی اور اوپر سے سر صابر بے عزتی اتنی کرتے ہیں۔۔۔۔سوری میں آگے نہیں بیٹھ سکتی اب۔۔۔”
وہ صفائی سے کہتی کتابیں ہاتھ میں لیے پیچھے چلی گئی۔۔۔
اور حریم بس دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
“میں تو سبجیکٹ چینج کروں گا یہ کیمسٹری مجھ سے نہیں پڑھی جاتی۔۔۔اورگینک کے چکر میں ہماری میموری لوس ہوجانی۔۔۔۔” حنید نے اکتا کر کہا۔۔۔
“تیرے پاس میموری ہے؟” طیبہ نے مزاق اڑاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“نہیں اب تو آدھی چلی گئی تیرے ساتھ رہ رہ کر”
حنید نے الٹ جواب دیا۔۔۔
“ہاں ہاں پتا ہے۔۔۔اوہ شٹ”
طیبہ نے بے دھیانی میں ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی تو بے ساختہ چلا اٹھی۔۔۔
“کیا ہوا؟” حنید نے پوچھا۔۔۔
“سر صابر کلاس میں آگئے ہوں گے۔۔۔۔جلدی چلو”
طیبہ نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
اور وہ دونوں بھاگتے ہوئے کلاس تک پہنچے۔۔۔۔
