Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 25)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 25)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“بولو۔۔۔کیوں میری اتنی ساری تصویریں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔۔۔؟”
حمدان ہاتھ تصویر تھامے قدم بڑھاتا اس کے قریب آیا۔۔۔
“ہاں۔۔۔تم ہو لڑکی باز۔۔۔ہر روز ایک نئی لڑکی۔۔۔۔ارے میں نے جس حمدان شاہ کو پسند کیا تھا وہ تم نہیں ہو۔۔۔”
حریم نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
حمدان خاموشی سے اسے سن رہا تھا۔۔۔
“میں نے جب یہ تصویریں جمع کی تھی نہ۔۔۔جب تمہاری آواز سے عشق کیا تھا۔۔۔تب میں تمہاری اصلیت نہیں جانتی تھی۔۔۔مگر اب پتا چل چکا ہے مجھے کہ تم ایک فلرٹ انسان ہو۔۔۔اور اب مجھے پچھتاوا ہے کہ میں تمہیں نہیں پہچان سکی۔۔۔”
حریم نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔حمدان اس کی آنکھوں میں پہلی بار خود کے لیے حقارت دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے خاموشی سے کمرے سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے پر کھڑے یزدان پر نظر پڑی۔۔۔جو ان دونوں کی باتیں سن چکا تھا۔۔۔
وہ چلتا ہوا ان کے قریب آیا۔۔۔
“میں نے سب سن لیا۔۔۔اورسننے کے بعد میں یہی کہوں گا۔۔۔کہ حریم۔۔۔تم نے جو دیکھا۔۔۔وہ جھوٹ ہے”
یزدان نے یقینی طور پر کہا۔۔۔
حمدان جو جانے والا تھا بات سن اس کے قدم ٹھہر گئے۔۔۔
اس نے یزدان کی طرف بے یقینی سے دیکھا۔۔۔
“حریم تم مجھ سے زیادہ حمدان کو نہیں جانتی۔۔۔اور میں جانتا ہوں۔۔۔یہ بھلے جیسا بھی ہو۔۔۔مگر کردار کی گواہی میں اس کی دے سکتا ہوں۔۔۔”
یزدان نے حریم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
حمدان کو یزدان کی بات سن حیرانی ہوئی۔۔۔
اسے اس بات کی امید یزدان سے نہیں تھی۔۔۔جو وہ آج کہ رہا تھا۔۔۔
وہ لمحہ بھر یزدان کو دیکھا۔۔۔پھر تیزی سے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
(ہاں۔۔۔تم ہو لڑکی باز۔۔۔ہر روز ایک نئی لڑکی۔۔۔۔ارے میں نے جس حمدان شاہ کو پسند کیا تھا وہ تم نہیں ہو)
وہ دیوار پر بازوں جمائے کھڑا تھا۔۔۔
اس کی سماعت سے حریم کے تلخ الفاظ ٹکرا رہے تھے۔۔۔
(میں نے جب یہ تصویریں جمع کی تھی نہ۔۔۔جب تمہاری آواز سے عشق کیا تھا۔۔۔تب میں تمہاری اصلیت نہیں جانتی تھی)
شاور سے نکلتا پانی تیزی سے اس پر گر رہا تھا۔۔۔
(تم نے جو دیکھا۔۔۔وہ جھوٹ ہے)
کاندھوں اور کمر پر پھسلتا پانی بوندوں کی مانند گھر کر رہا تھا۔۔۔
سوچوں سے جملہ ٹکرایا
(حریم تم مجھ سے زیادہ حمدان کو نہیں جانتی۔۔۔اور میں جانتا ہوں۔۔۔یہ بھلے جیسا بھی ہو۔۔۔مگر کردار کی گواہی میں اس کی دے سکتا ہوں۔۔۔)
دو آنسوں نکل کر پانی میں جذب ہوئے۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر شاور بند کیا اور اسٹینڈ سے ٹاول اٹھاتا باہر نکل گیا۔۔۔
“تمہارا نام نامینیٹ ہوا ہے۔۔۔اینڈ ایم شور کہ ایوارڈ تمہیں ملے گا۔۔۔پھر تم ایونٹ میں کیوں نہیں جارہی؟”
یزدان نے صوفے پر بیٹھی حریم کو دیکھ پوچھا۔۔۔
“یونہی۔۔۔بس۔۔۔” حریم کے پاس جواب نہیں تھا۔۔۔
“حریم تمہیں اگر حمدان کے بارے میں کچھ جاننا تھا تو تم میرے پاس آتی۔۔۔میں تمہیں بتاتا۔۔۔کہ وہ غصہ کا تیز ضرور ہے مگر اس کا دل آئینے کی طرح صاف ہے۔۔۔”
یزدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“اس کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے…نا ہی وہ کردار کا اتنا کمزور جتنا تم اسے سمجھ رہی ہو۔۔۔کیا اس نے تم پر کبھی غلط نظر ڈالی؟۔۔۔پھر تم نے کیسے اسے غلط سمجھ لیا۔۔۔؟”
یزدان کی بات سن حریم نے ان کی طرف دیکھا۔۔۔
“ہاں۔۔وہ تمہیں کبھی صفائی نہیں دے گا۔۔۔کیوں کہ اس کی نیچر ہی ایسی ہے۔۔۔کبھی کبھی جو آنکھیں دیکھتی ہیں وہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔۔۔”
یزدان نے سمجھانا چاہا۔۔۔
اور وہ خاموش بیٹھی ان کی باتوں پر غور کرنے لگی۔۔۔
اس نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔۔۔پھر اندر داخل ہوئی۔۔۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔
سامنے دیوار پر لگی تصویر پر حریم کی نظر پڑی۔۔۔
جس میں حمدان گیٹار لیے بیٹھا تھا۔۔۔
حریم اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔
“میں نے خوامخواہ اوور ریئیکٹ کیا۔۔۔”
وہ دل میں سوچنے لگی۔۔۔
تبھی سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا فون بجنے لگا۔۔۔
حریم چلتی سائیڈ ٹیبل تک آئی۔۔۔فون بجنا بند ہوگیا تھا۔۔۔
حریم اگنور کرتی پلٹی ہی تھی کہ پھر بپ کے ساتھ ایک میسج آیا۔۔۔جو اسکرین پر چمکنے لگا۔۔۔
حریم نے آہستگی سے ہاتھ بڑھایا۔۔۔اور فون اٹھایا۔۔۔مگر فون پر پاسورڈ تھا۔۔۔
” فنگر پرنٹ ہے۔۔۔لاؤ۔۔میں کھول دوں۔۔۔”وہ فون ہاتھ میں لیے کھڑی تھی کہ پیچھے سے آتی آواز نے اسے شرمندہ کیا۔۔
حریم نے فوراً سے بنا مڑے فون وہیں رکھ دیا۔۔۔
“سس۔۔سوری۔۔۔وہ فون بج رہا تھا تو۔۔۔۔”
حریم نے شرمندگی سے کہا۔۔۔
“میں نے صفائی نہیں مانگی۔۔۔” حمدان چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔پھر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر لاک کھولا اور حریم کی جانب بڑھایا۔۔۔
“ننن۔۔۔نہیں۔۔۔مجھےنہیں۔۔۔” حریم نے تیزی سے سر کو نفی میں ہلایا۔۔۔
“مگر میں چاہتا ہوں ایسا۔۔۔” حمدان کی آنکھوں میں پہلی بار اس نے غصہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔بلکہ کچھ اور تھا۔۔۔
حریم نے خاموشی سے فون کو پکڑ لیا۔۔۔
اور نظریں اسکرین پر جھکائی۔۔۔
“تو تم نے کاشف کو سب بتا دیا۔۔۔”
سارہ کے نام سے میسج تھا۔۔۔
حریم موبائل ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔۔۔کہ سارہ کالنگ پھر سے جگمگانے لگا۔۔۔
حریم نے فوراً حمدان کو دیکھا۔۔۔
“اٹھاؤ۔۔۔۔۔” حمدان نے اطمینان سے کہا۔۔۔
“کیا کمی ہے مجھ میں۔۔۔کیوں تم دور بھاگتے ہو مجھ سے؟…”
حریم نے جیسے ہی کال رسیو کی۔۔۔آواز کانوں میں پڑی۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر حمدان شاہ۔۔۔تم کاشف کو میری سچائی بتاؤ گے تو وہ تمہارا یقین کرلے گا۔۔۔وہ میرے جھوٹ پر یقین کرے گا۔۔۔دیکھنا تم۔۔۔”
حریم نے آگے سننا گوارہ نہیں کیا۔۔۔اور جھٹ کال ڈسکنیکٹ کردی۔۔۔
حمدان نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔حریم نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔اور چپ چاپ فون اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔
(ہاں۔۔۔تم ہو لڑکی باز۔۔۔ہر روز ایک نئی لڑکی۔۔۔۔ارے میں نے جس حمدان شاہ کو پسند کیا تھا وہ تم نہیں ہو)
اسے اپنے ہی الفاظ یاد آئے۔۔۔
پچھتاوے کی ایک لہر اس میں سرائیت کر گئی۔۔۔
اس نے بے ساختہ اپنے گال کو چھوا۔۔۔
جو گرتے آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا۔۔۔
وہ حیرانی سے اپنے بھیگے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔
وہ کیوں رو رہی ہے۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
شرمندگی کی وجہ سے۔۔۔حمدان کو غلط سمجھنے کی وجہ سے۔۔۔یا پھر وہ اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
بس کسک تھی تو اس بات کی۔۔۔کہ اس نے بنا سچائی جانے حمدان کو اتنا کچھ کہا۔۔۔
“آپ کےگانے نے اتنی شہرت حاصل کرلی ہے۔۔۔آج آپ کو سونگ آف دی ایئر کا ایوارڈ ملا ہے۔۔۔آپ کیسا فیل کر رہی ہیں۔۔۔”
بھیڑ سے کسی نے سوال کیا۔۔۔
حریم اس سوال پر مسکرا دی۔۔۔
“بہت اچھا۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔۔کیوں کہ میری ہر کامیابی کے پیچھے میرے سب سے اچھے دوست۔۔۔حمدان شاہ ہیں۔۔۔”
حریم نے پاس کھڑے حمدان کو دیکھا۔۔۔
“حمدان شاہ آپ خود ایک بہت بڑے سنگر ہیں۔۔۔آپ مس حریم کی آواز کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے…کیا آپ کی نظر میں واقع یہ اس ایوارڈ کا حق رکھتی تھی۔۔۔؟”
اس بار سوال حمدان سے ہوا۔۔۔
“یس۔۔۔آف کارس۔۔۔حریم ایک بہت ہی خوبصورت آواز کی مالک ہے۔۔۔شاید مجھ سے بھی زیادہ۔۔۔”
حمدان نے مسکرا کر حریم کی طرف دیکھا۔۔۔
“سر ہم مے سنا ہے کہ مس حریم کی کامیابی کے پیچھے آپ کا ہاتھ ہے۔۔۔اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آپ کی گرل فرینڈ بھی ہے۔۔۔کیا یہ سچ ہے۔۔۔”
اس سوال پر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرانی سے دیکھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔ہم دونوں بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔”
حمدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔اور حریم کو لے کر گاڑی میں گیا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی حریم کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی۔۔۔جو شاید اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
حمدان نے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔حریم کی نظر باہر ٹکی تھی۔۔گاڑی اس شخص کے برابر سے ہوکر گزر گئی۔۔۔
حریم کو اپنا جسم ٹھنڈا ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
اسے اپنی آنکھوں پر جیسے بھروسہ نہیں ہوا تھا۔۔۔
“تھینک یو ڈیڈ۔۔۔۔”گھر آتے ہی وہ حامد صاحب کے گلے لگی۔۔۔
مگر دماغ تو جیسے سن ہوگیا تھا۔۔۔
ماضی کی یادوں نے اسے گھیر لیا تھا۔۔۔
“بھابھی میں تھک گئی ہوں۔۔۔آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
حریم نے بہانا کیا۔۔۔اسے نہیں پتا تھا کہ وہ سب اس سے کیا بات کر رہے تھے۔۔۔
وہ بس اکیلی رہنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
“یہ سب کیا باتیں چل رہی ہیں میڈیا میں۔۔۔”
حامد صاحب نے پوچھا
“بس لوگوں کی تو عادت ہے۔۔۔آپ جانتے ہیں۔۔۔”
حمدان نے ہنس کر کہا۔۔۔
“ویسے اس میں کوئی برائی نہیں۔۔۔اگر تم چاہو تو۔۔۔۔”
حامد صاحب نے اپنے من کی بات سامنے رکھی۔۔۔
حمدان لمحہ بھر خاموش رہا۔۔۔
پھر انہیں دیکھ مسکرا دیا۔۔۔
حریم کسی تصویر کی مانند اس کی آنکھوں میں لہرا رہی تھی۔۔۔
(بہت اچھا۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔۔کیوں کہ میری ہر کامیابی کے پیچھے میرے سب سے اچھے دوست۔۔۔حمدان شاہ ہیں)
حمدان کے کانوں میں حریم کے جملے ٹکرانے لگے۔۔۔
“کیا حریم راضی ہوگی۔۔۔”
وہ کنفیوز ہوا۔۔۔
“کیا مجھے حریم سے بات کرنی چاہیے۔۔۔؟”
وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ڈیڈ کے بات کرنے سے پہلے مجھے حریم سے بات کرنی چاہیے۔۔۔اسے بتانا چاہیے۔۔۔کہ۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ مسکرایا۔۔۔
وہ راکنگ چیئر پر بیٹھی آنکھیں موندے۔۔۔جھول رہی تھی۔۔۔
بند آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔۔
ماضی کے پنے پھر سے کھلنے لگے۔۔۔
پھر سے اسے وہ ازیت محسوس ہونے لگی۔۔۔
جسے کچھ وقت کے لیے شاید وہ بھلا چکی تھی۔۔۔
“آپ کیوں چلی گئی آپی۔۔۔آئی مس یو۔۔۔”
وہ چھت کو گھورتی کہنے لگی۔۔۔
شاید وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
تکلیف میں سب سے پہلے وہی انسان یاد آتا ہے جسے ہم دنیا میں سب سے زیادہ چاہتے ہوں۔۔۔
وہ اوندھے منہ۔۔۔تکیے کو مضبوطی سے تھامے سو رہا تھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔
حریم دروازہ کھول اندر داخل ہوئی۔۔۔
“حمدان۔۔۔” اس نے اسے دیکھ پکارا۔۔۔
مگر وہ تو جیسے گہری نیند میں تھا۔۔۔
“اٹھو بھی کیا ہوگیا۔۔۔۔۔۔”
وہ کھڑکی کے پردے سائیڈ پر کرتی کہنے لگی۔۔۔
دھوپ کی کرنیں حمدان کے منہ پر پڑنے لگی۔۔۔جس کی وجہ سے اس کی نیند میں خلش پیدا ہوئی۔۔۔
اس نے غصہ سے یک دم آنکھیں کھولی۔۔۔
سامنے ہی مسٹرڈ کلر کے سادہ سے سوٹ میں بالوں کو کھلا چھوڑے۔۔۔ہاتھ میں پھولوں کا بکیٹ تھامے وہ مسکراتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
حمدان کا غصہ اور نیند رفو چکر ہوگئی تھی۔۔۔
وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے۔۔۔”
وہ اس کے قریب آئی۔۔۔
“تمہیں یاد تھا؟۔۔۔” وہ سر کھجاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“ہاں بلکل۔۔۔صرف پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس سب باہر ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔اور ہاں یزدان بھائی بھی ہیں۔۔۔”
حریم نے سادگی سے بتایا۔۔۔
مطلب صاف تھا کہ کوئی غصہ یا شور شرابا نا ہو۔۔۔
“تم کیا چاہتی ہو؟” حمدان نے سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھا۔۔۔
“حمدان۔۔۔یزدان بھائی بہت اچھے ہیں۔۔۔”
حریم نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“جانتا ہوں۔۔۔” حمدان مسکرایا۔۔۔
“آج اپنے اور ان کے درمیان کی ہر دوری مٹا دو۔۔۔انہیں منا لو ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
حریم نے پیار سے سمجھایا۔۔۔
حمدان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
خوشی کی ایک لہر حریم کے لبوں کو چھو گئی۔۔۔اور وہ خوشی خوشی جانے کے لیے پلٹی۔۔۔
“حریم۔۔۔” حمدان نے پکارا۔۔۔
“ہاں۔۔۔” اس نے مڑ کر حمدان کو دیکھا۔۔۔
“یہ کلر تم پر بہت اچھا لگ رہا ہے” حمدان نے لبوں پر مسکان سجائے تعریف کی۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔جلدی آجاؤ۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔اور وہ سر کھجاتا اسے جاتا دیکھنے لگا۔۔۔
