258.6K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaaz Ishq (Episode - 19)

Awaaz Ishq By Isra Rao

کب سے بجتا فون اس کی توجہ کھینچ رہا تھا۔۔

وہ دوستوں سے ایکسکیوز کرتا کلب سے باہر نکلا۔۔

“بولو۔۔۔کیوں فون کیا؟”” اس نے کال رسیو کی۔۔۔

“تم نے اچھا نہیں کیا حمدان”

عنایہ نے گلہ کیا۔۔۔

“کیوں۔۔۔کیا کیا ہے میں نے؟” وہ پوچھنے لگا۔۔۔جب کہ وہ سب جانتا تھا۔۔۔

“حمدان تم نے البم ڈراپ کر کے اچھا نہیں کیا”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگی۔۔۔

“اچھا تو اب تم مجھے بتاؤ گی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔۔؟”

وہ بے رخی سے پوچھنے لگا۔۔۔

“تمہیں احساس ہے مجھے کتنے لوگوں کو جواب دینا پڑے گا۔۔۔”

عنایہ نے شکایت کی۔۔۔

“یہ البم میں نے تمہارے فورس کرنے پر سائن کیا تھا۔۔۔اب جب تم سے میرا کوئی تعلق نہیں تو البم۔۔۔ناٹ امپارٹنٹ۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے لاتعلقی دکھا رہا تھا۔۔۔

“حمدان۔۔۔یہ البم بہت اچھا جارہا تھا۔۔۔تم ایسے ختم نہیں کر سکتے۔۔۔تمہیں پتا بھی ہے کتنا نقصان ہوگا۔۔۔؟”

وہ سمجھانے لگی۔۔۔

“نقصان اور فائدہ میں نہیں ڈھونڈتا۔۔۔ویل۔۔۔مجھے کام ہے بائے۔۔۔آئندہ کال مت کرنا۔۔۔”

وہ تلتی سے کہتا فون بند کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“فائقہ۔۔۔۔” وہ جو کچن سے نکلتی اپنے روم کی جانب بڑھ رہی تھی آواز پر پلٹی۔۔۔۔

سامنے ہی حامد صاحب کھڑے تھے۔۔۔اور ساتھ میں ایک نازک سی بیس سالہ لڑکی کھڑی تھی۔۔۔

سلکی بال جو کاندھوں پر لہرا رہے تھے۔۔۔جو کی گلابی۔۔سادہ سے شلوار قمیض بھی خوبصورتی کی مثال تھی۔۔۔

وہ اسے دیکھ چونکی نہیں بلکہ قریب آکر خوش دلی سے ملی۔۔

“اپنا ہی گھر سمجھو اسے”

ڈاکٹر حامد نے اسے بغور نوٹس کیا۔۔۔

“سر آپ مجھے یہاں۔۔۔ “

وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی ڈاکٹر حامد نے بات کاٹی۔۔۔

“تم نے ہی کہا تھا نا کہ تم میری بیٹیوں جیسی ہو۔۔۔تو جب بیٹی کہا ہے تو باپ بھی سمجھو۔۔۔”

ڈاکٹر حامد نے محبت سے کہا۔۔۔

اور وہ نم آنکھوں سے نظریں جھکا گئی۔۔۔

“آؤ۔۔میں روم دکھا دیتی ہوں۔۔۔آرام کرلو شام میں ملتے ہیں۔۔۔”

فائقہ بھابھی حال احوال کے بعد اسے روم دکھانے لے گئی۔۔

وہ ڈاکٹر حامد کے کہنے پر ساتھ آتو گئی تھی مگر اسے یہاں عجیب محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

مگر وہ جاتی بھی کہاں اس کے پاس تو کوئی ٹھکانہ بھی نہ تھا۔۔۔

مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ جلد ہی اپنا انتظام کہیں اور کرلے گی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی۔۔۔یہ گھر اور یہاں کے لوگ بلکل نئے تھے اس کےلیے۔۔۔

ڈاکٹر حامد ترس کھا کر اسے ساتھ لے آئے تھے۔۔مگر شاید وہ اب سی لائق تھی کہ اس پر ترس کھایا جائے۔۔۔اس سے ہمدردی کی جائے۔۔۔

وہ فریش ہوکر روم سے باہر آئی۔۔۔باہر اسے کوئی نظر نہیں آیا۔۔۔

ہاں البتہ کچن سے کچھ آواز آرہی تھی۔۔۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتی کچن میں آئی۔۔۔

وہاں ایک ہلکی سی عمر کی ملازمہ کام میں لگی تھی۔۔۔

“کچھ چاہیے تھا آپ کو؟” ملازمہ اسے دیکھ ادب سے پوچھنے لگی۔۔۔

اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

“ارے۔۔۔حریم تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔کچھ چاہیے تھا تو عارفہ کو آواز لگا دیتی۔۔۔”

تبھی پیچھے سے آتی فائقہ اسے کچن میں دیکھ چونکی۔۔۔

“نہیں۔۔۔کچھ چاہیے نہیں۔۔۔بس ویسے ہی بور ہورہی تھی تو ۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔

“بور ہورہی ہو تو آؤ۔۔۔ہم دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔۔۔میں بھی اکیلی بور ہی ہوتی ہوں۔۔۔”

فائقہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔اور حریم مسکرا کر ان کے ساتھ ہولی۔۔۔

وہ دونوں لان میں آکر بیٹھ گئے۔۔۔

“آپ اکیلی ہوتی ہیں گھر میں؟”

حریم نے سوال کیا۔۔۔

“ہاں۔۔۔یہی سمجھ لو۔۔۔ڈیڈ ہاسپیٹل ہوتے ہیں۔۔۔اور میرے ہسبنڈ بھی بزنس میں مصروف۔۔۔کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔۔۔

اور ایک میرا دیور ہے۔۔۔وہ بھی بس کبھی کبھی دکھتا ہے۔۔۔کہنے کو ہم گھر میں چار افراد ہیں مگر کسی کے پاس کسی کے لیے ٹائم نہیں۔۔۔”

ان کے چہرے اداسی ظاہر تھی۔۔۔

“تو آپ اکیلی گھر میں ہوتی ہیں؟”

حریم نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔

“ہاں۔۔۔پہلے میں ماڈلنگ کرتی تھی۔۔۔پھر شادی کے بعد چھوڑ دی۔۔۔آج کل بوتیک پر ہوتی ہوں۔۔۔دل کرتا ہے تو چلی جاتی ہوں۔۔۔”

فائقہ بھابھی نے تفصیل دی۔۔۔

“تم اپنے بارے میں بتاؤ؟”

انہوں نے پرجوش انداز میں پوچھا۔۔۔

“میرے بارے میں تو آپ جانتی ہیں سب۔۔۔بے سہارا ہوں۔۔۔

تبھی تو یہاں ہوں۔۔۔”

وہ شرمندگی سے کہنے لگی۔۔۔

“ارے۔۔۔غلط بات۔۔۔بے سہارا نہیں ہو تم۔۔۔آئندہ ایسا مت کہنا۔۔۔اور اس گھر کو اپنا ہی سمجھو۔۔۔”

انہوں نے پیار سے کہا۔۔۔

“ایک چیز مانگوں آپ سے؟”

حریم نے پلکیں جھکائی۔۔۔

“بنا گھبرائے اور شرمائے مانگ سکتی ہو۔۔۔”

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا

“کیا آپ مجھے اپنی بوتیک میں جاب دے سکتی ہیں۔۔۔؟”

حریم نے پر امید چہرہ لیے سوال کیا۔۔۔

“تمہیں جاب کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔کچھ چاہیے تو بتاؤ۔۔۔”

انہوں نے محبت سے کہا۔۔۔

“نہیں۔۔۔میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔۔۔پلیز۔۔۔ایسے میرا دل لگا رہے گا۔۔۔”

حریم نے انہیں بغور دیکھا۔۔۔وہ بھی اسے دیکھ مسکرا دی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“سنو نئی بریکنگ نیوز۔۔۔”

یزدان نے گھر میں آتے ہی صوفے پر ہاتھ میں پکڑا کوٹ پھینکا۔۔۔

“کیا ہوا؟”

فائقہ نے چونک کر پوچھا۔۔۔

“تمہارے پیارے دیور نے۔۔۔اتنا بڑا البم ڈراپ کر دیا۔۔۔

اور ڈیفینٹلی۔۔۔میوزک ڈائیریکٹر سے جھگڑا ہی ہوا ہوگا۔۔۔”

وہ صوفے پر اکڑ کر بیٹھے۔۔۔

“عنایہ سے ناراضگی ہے۔۔۔اور اس بار مجھے یہ ناراضگی ختم ہوتی نہیں دکھ رہی”

فائقہ نے فکرمندی سے کہا۔۔۔

“ناراضگی نہیں جھگڑا۔۔۔میں شورٹی دے سکتا ہوں۔۔۔اس کے ساتھ کوئی لڑکی نہیں چل سکتی۔۔۔عنایہ تو پھر بہت ڈیسینٹ لڑکی ہے۔۔۔”

انہوں نے طنز کیا۔۔۔

“اب ایسا بھی نہیں ہے۔۔۔ہوسکتا ہے قصور عنایہ کا ہو”

فائقہ نے چڑ کر کہا۔۔۔

“ہاں۔۔ہر بار قصور اس سے جڑے رشتوں کا ہی ہوتا ہے۔۔۔کیوں کہ ان صاحب نے تو کبھی سدھرنا نہیں۔۔۔”

وہ کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یزدان کہاں ہے؟” ناشتے کی ٹیبل پر آج بھی بس وہ دونوں تھے۔۔۔

“وہ تو صبح ہی نکل گئے تھے۔۔۔”

فائقہ نے بتایا۔۔۔

تبھی حریم وہاں آئی۔۔۔کرسی کھینچ کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔۔

“یہ لوگ فیملی کو پتا نہیں کب ٹائم دیں گے۔۔۔؟”

انہوں نے اکتا کر کہا۔۔۔

“اور وہ کب آئے گا واپس؟”

ڈاکٹر حامد نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔

“پتا نہیں ناراض ہوکر گیا ہے”فائقہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔

حریم خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔۔

“فون لگاؤ اسے…” انہوں نے حکم دیا۔۔۔

فائقہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلاتی۔۔۔کال ملانے لگی۔۔۔

“کہنا میری طبیعت خراب ہے۔۔۔اسے یاد کر رہا ہوں۔۔۔”

انہوں نے جیسے بیوقوف بنانے کا طریقہ بتایا۔۔۔

“ڈیڈ۔۔۔” فائقہ نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔۔

“کہو۔۔۔جلدی آجائے بس۔۔۔”

انہوں نے پھر ہنس کر کہا۔۔

حریم بھی مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔

ڈاکٹر حامد بہت اچھے انسان تھے وہ جانتی تھی۔۔۔مگر یوں ہنسی مزاق شرارتیں کرتے وہ انہیں پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔

اگلی ہی بیل پر فون رسیو ہوا۔۔۔

اور خمار آلود آواز میں جواب ملا۔۔۔

“تم کب آؤ گے؟” فائقہ نے پڑتے ہی پوچھا۔۔۔۔

“کیوں۔۔۔؟” وہ نیند میں تھا جیسے۔۔۔

“پتا بھی ہے ڈیڈ کی کتنی طبیعت خراب ہے۔۔۔تم دونوں بھائیوں کو ان کا ذرا خیال نہیں۔۔۔”

“کیا ہوا ہے ڈیڈ کو۔۔۔انہوں نے تو مجھے نہیں بتایا”

اس کی نیند رفو چکر ہوئی۔۔۔

“اچھا تو وہ خود تمہیں بتائیں گے کہ میری طبیعت خراب ہے آجاؤ…تمہیں خود آنا چاہیے۔۔۔کل بھی اتنا یاد کر رہے تھے تمہیں۔۔۔اب اس عمر میں تم لوگ انہیں ستا رہے ہو۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہے”

فائقہ کے لاسٹ جملے نے جیسے ان کی بے عزتی کی۔۔۔وہ فائقہ کو گھوری سے نوازنے لگے۔۔۔

حریم نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔۔۔

“ایسا بھی نہیں ہے اب۔۔۔میں کل ہی آجاؤں گا۔۔۔”

حمدان نے تسلی دی پھر فون بند کردیا۔۔۔

“ویسے فائقہ میری اب اتنی عمر بھی نہیں۔۔۔”

ڈاکٹر حامد خفا ہوئے۔۔۔

حریم اور فائقہ نے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔

اور پھر کھلکھلا کر ہنس دیے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“عارفہ۔۔۔کافی لاؤ”

وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے حکم صادر کر رہا تھا۔۔۔

چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔۔۔

عارفہ آج چھٹی پر تھی۔۔۔حریم جو کچن سے پانی لے کر نکل رہی تھی ان کا حکم سن وہیں رکی۔۔۔

پھر خاموشی سے کچن میں جا کر کافی تیار کرنے لگی۔۔۔

“عارفہ جلدی کرو۔۔۔۔۔کاف۔۔۔ی۔۔۔” وہ اپنی دھن میں آواز لگا ہی رہا تھا کہ سامنے کافی دیکھ ٹھٹکا۔۔وہ عارفہ کے ہاتھ نہیں تھے۔۔۔

اس نے جھٹ اوپر دیکھا۔۔۔

وہ سادگی سے مسکرائی۔۔۔

وہ حیرانی سے دیکھنے لگا۔۔۔

پھر خاموشی سے کافی کا مگ تھام لیا۔۔۔

“عارفہ کہاں ہے؟” وہ پوچھنے لگا۔۔۔

“وہ چھٹی پر ہیں۔۔۔”

حریم نے جواب دیا۔۔۔

“تھینک یو۔۔۔” وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔

“بہنوں کو تھینک یو نہیں کہا کرتے”

وہ خوش دلی سے کہتی دوبارہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

اور یزدان اس کی بات پر مسکرا دیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سورج ڈھلنے کو تھا۔۔۔ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔

وہ لان میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔۔

جانے کیوں آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی۔۔۔

اس کا پیار محبت۔۔۔رہ رہ کر اسے ستا رہا تھا۔۔۔

وہ ان بیتے لمحوں کو بھلا دینا چاہتی تھی۔۔۔

مگر اسے یہ کام دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔

وہ دل و دماغ بھٹکانے کی نیت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

اندر آئی تو سامنے سیڑھیوں پر نظر پڑی۔۔

اس نے آج تک اس گھر کو پورے طریقے سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔

وہ بہت بڑا اور خوبصورت گھر تھا۔۔۔

اس نے تو شاید ایسے گھر کبھی نہیں دیکھے تھے۔۔۔

وہ دیکھنے کی غرض سے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔

آہستہ قدم بڑھاتی وہ اوپر آئی۔۔۔

سامنے ہی برابر برابر بنے چار کمرے تھے۔۔۔

سیڑھیوں کے بلکل برابر کچھ فاصلے پر۔۔۔ایک وائٹ شیشے کے دروازوں کا کمرہ دکھا۔۔۔وہ قریب گئی تو۔۔۔تو باہر ہی کمرہ اپنی تعریف آپ تھا۔۔۔

اس کے دل میں یک دم لالسا ہوئی کہ اندر جاکر۔۔۔اس خوبصورت کمرے کو دیکھے۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا۔۔

کمرہ پورا سفید رنگ میں چمک رہا تھا۔۔۔

سامنے ہی دیوار کے ساتھ اسٹینڈ لگا تھا جس میں بہت سی بکس اور ایوارڈز رکھے تھے۔۔۔

رائٹ سائیڈ وال پر ونڈو تھی۔۔۔جس کے دونوں اطراف گٹار لگے تھے۔۔۔

برابر میں کمفرٹبل صوفے۔۔۔ترتیب سے لگے تھے۔۔۔

لیفٹ سائیڈ پر انسٹرومنٹ اپنی قدردانی پر اترا رہے تھے۔۔

سامنے ہی بڑا گرینڈ پیانو رکھا تھا۔۔جس پر نظر پڑتے ہی۔۔۔وہ قدم اس کی جانب بڑھا گئی۔۔۔

اس نے ہاتھ لگا کر اسے چھوا۔۔۔

اسے میوزک سے محبت تھی۔۔۔

گنگنانے کا شوق تھا۔۔۔اس کے لب مسکرا اٹھے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

باپ کی محبت میں ہر ناراضگی بھلا کر پہنچ گیا تھا۔۔۔

جو بھی تھا وہ اپنی فیملی سے بہت محبت کرتا تھا۔۔

گاڑی سے نکل کر وہ اندر کی جانب بڑھا۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا۔۔۔

اس کے قدم وہیں ٹھہر گئے۔۔۔

“ابھی تو کچھ کہا نہیں۔۔۔

ابھی توکچھ سنا نہیں۔۔۔

برا نا مانو بات کا۔۔۔

یہ پیار ہے۔۔۔گِلہ نہیں۔۔۔”

ایک سریلی انجانی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کیا۔۔۔

وہ آواز اس نے اپنے گھر میں پہلے نہیں سنی تھی۔۔۔

اس کے جوگرز نے جنبش کی۔۔۔اور وہ سیڑھیاں چڑھتا آواز تک پہنچنے کی سعی کرنے لگا۔۔۔

“یہ زندگی کی راہ میں۔۔۔

جواں دلو کی چاہ میں۔۔۔

کئی مقام آئیں گے

جو ہم کو آزمائیں گے۔۔۔”

پیانو کی مہارت کے ساتھ وہ آواز اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔

اس بات میں کوئی شک نہیں تھا۔۔۔

کہ یہ آواز اسی کے میوزک روم سے ابھر رہی تھی۔۔جہاں وہ دن بھر بیٹھ کر پریکٹس کرتا ہے۔۔۔

اس نے کھلے دروازے سے اندر جھانکا۔۔۔

جہاں فیروزی کلر کے سادہ سے سوٹ میں وہ بیٹھی۔۔۔پیانو پر انگلیاں چلاتی۔۔۔گنگنا رہی تھی۔۔۔

کمر پر سلکی بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔

اسے چہرہ تو نہیں دکھ پا رہا تھا۔۔۔

مگر اس کی آواز میں اسے خوبصورتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔

اور وہ ایسے پرسکون بیٹھی۔۔۔گارہی تھی۔۔۔جیسے یہ اسی کا روم ہے۔۔۔