Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 18)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 18)
Awaaz Ishq By Isra Rao
وہ گاڑی فل اسپیڈ سے بڑھا رہی تھی۔۔۔
دل تھا جو بہن کی سسکیوں سے کٹ کر رہ گیا تھا۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حریم کے سارے آنسوں چرا لیتی۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے وہ خوشی خوشی گاڑی لے کر گھر آئیتھی۔۔۔کہ حریم کو دکھائے گی تو وہ بہت خوش ہوجائےگی۔۔۔
مگر دروازے پر ہی اس نے حریم اور ماریہ کی بات سن لی تھی۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گئی۔۔۔ارادہ حنید کی طرف جانے کا تھا۔۔۔
وہ اس سے سوال کرنا چاہتی تھی۔۔۔کہ اس نے جو بھی کیا۔۔۔کیا اسے وہ سب کرنے کے لیے اس ہی کی بہن ملی تھی۔۔۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ جس کا دل وہ توڑ کر آیا ہے۔۔۔وہ اپنی آپی کے لیے کیا ہے۔۔۔
وہ ہر حال میں حریم کو اس کی خوشی دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ حنید سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔
اسے روک لینا چاہتی تھی۔۔۔مگر شاید قسمت کو یہ منظور نہیں تھا۔۔۔
(ماریہ اس نے مجھے چھوڑ دیا)
حریم کی سسکیاں اس کے کانوں سے بار بار ٹکرا رہی تھی۔۔۔
(کہتا تھا میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔)
کتنا دکھ اور درد تھا۔۔۔وہ اس کے جملے یاد کر نم آنکھوں سے ڈرائیونگ کر رہی تھی۔۔۔
تبھی آنسوؤں کا ایک غولہ اس کی آنکھوں میں اترا اور اسے سامنے سے آتا ٹرک دکھائی نا دیا۔۔۔اور جب دکھائی دیا۔۔۔تو وہ خود کو اور گاڑی کو سنمبھال نہ سکی۔۔۔
“حریم۔۔۔میں تو کہتی تھی وہ تیرے لائق نہیں تھا۔۔۔”
وہ اسے چپ کرواتی پانی پلانے لگی۔۔۔
حریم نے پانی پیا۔۔۔اور خود کو سنمبھالنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
“ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔وہ جاتا ہے جانے دے۔۔۔تو بھی اسے خوش رہ کر دکھا۔۔۔”
ماریہ نے تسلی دی۔۔۔
“بگڑ تو گیا ماریہ۔۔۔مجھ سے ایک غلطی ہوگئی۔۔۔”
وہ چہرہ صاف کرتے کہنے لگی۔۔۔
“کیسی غلطی؟۔۔۔” ماریہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
“میں۔۔۔میں اس سے نکاح کر چکی۔۔۔”
حریم نے نیچی نظروں سے کہا۔۔۔
“حریم۔۔۔تجھے پتا بھی ہے تو کہ کیا رہی ہے۔۔۔؟ نکاح کا مطلب بھی پتا ہے تجھے؟ اور تونے کسی کو کچھ بتانا تک گوارہ نہیں کیا۔۔۔اکیلے ہی اتنا بڑا فیصلہ کیا۔۔۔”
ماریہ نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
“ماریہ۔۔۔میں۔۔۔”
حریم نے نم آنکھوں سے کچھ کہنا چاہا۔۔۔جسے سنے بنا ماریہ نے اس پر چڑھائی کردی۔۔۔
“تونے مجھے تک بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ویسے تو مجھے دوست کہتی ہے۔۔۔کاش۔۔تو مجھے جیسے اب بتا رہی ہے پہلے بتا دیتی۔۔۔تو میں کبھی بھی یہ نہیں ہونے دیتی۔۔۔
تجھے پتا بھی ہے تحریم آپی کو پتا چلے گا تو انہیں کتنا دکھ ہوگا۔۔۔”
ماریہ نے غصہ سے کہا۔۔۔
“ماریہ۔۔۔میں۔۔۔کیا کروں۔۔۔میں آپی کا سامنا کیسے کروں گی۔۔۔یہ بات میں انہیں نہیں بتا سکتی۔۔۔”
حریم نے افسردگی سے کہا۔۔۔
تبھی اس کا فون تیز تیز بجنے لگا۔۔۔
حریم نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا۔۔۔۔
تحریم آپی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔
“تحریم آپی کی کال ہے”
اس نے اتنا کہ کر کال رسیو کی۔۔۔
“ہیلو آپی۔۔۔” اس نے فون کان سے لگایا۔۔۔
مخالف کی کسی مرد کی آواز سن اس کے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔۔
“جی۔۔۔آپ کون۔۔۔؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“کیا؟…کک۔۔۔کہاں۔۔۔۔کون۔۔کون سے ہاسپیٹل میں۔۔۔”
وہ بوکھلائے لہجے میں سوال کر رہی تھی۔۔۔
ماریہ کو یک دم اس کا چہرہ زرد پڑتا دکھائی دیا۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی آئی۔۔۔روم نمبر پوچھ کر۔۔وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر پہنچی۔۔۔
“میری آپی۔۔۔” اس نے باہر نکلتے ایک ڈاکٹر ے پوچھا۔۔۔
“دیکھیں سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے خود بہت بہ گیا ہے۔۔ہمیں فوری طور پر آپریشن کرنا ہوگا۔۔۔”
ڈاکٹر نے تفصیل سے کہا۔۔۔
“تو کریں نا۔۔۔لیکن کچھ بھی کر کے میری آپی کو بچا لیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“دیکھیں ڈاکٹر حامد سکندر شاہ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔۔۔ہم نے انہیں بلایا ہے۔۔۔وہ جیسے ہی پہنچتے ہیں ہم آپریشن شروع کردیں گے۔۔۔آپ بس دعا کریں۔۔۔”
ڈاکٹر تسلی دیتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ایک پینتالیس سالہ شخص آتا دکھائی دیا
بہت سے ڈاکٹرز اور نرسز اس کے پیچھے چلتے آرہے تھے
وہ آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھنے لگا کہ حریم ان کے پاس گئی۔۔۔
“سر پلیز میری آپی کو بچالیں۔۔۔میرے ان کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔”
حریم نے روتے ہوئے کہا۔۔۔
جسے لمحہ بھر وہ دیکھ کر اثبات میں سر ہلاتے تیزی سے اندر بڑھ گئے۔۔۔
کتنی ہی دیر آپریشن چلتا رہا۔۔۔اور وہ دعائیں مانگتی رہی۔۔۔
جانے کتنی دیر سے روتے روتے آنکھوں میں جلن ہونے لگی۔۔
آپریشن ختم ہوتے ہی ڈاکٹر باہر نکلے۔۔۔اور حریم لپک کر ان کے پاس گئی۔۔۔
“ایم سوری ہم انہیں بچا نہیں سکے۔۔۔”
ڈاکٹر نے افسردگی سے کہا۔۔اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
حریم کو مانو اپنے پاؤں تلے زمین نکلتی دکھائی دی۔۔۔
ان الفاظوں نے جیسے درودیوار ہلا دیے۔۔۔
“اتنے تو پیسے ابھی نہیں ہیں میرے پاس”
وہ سوجی آنکھوں سے نرس سے مخاطب تھی۔۔۔
“دیکھیے میم۔۔۔پیمنٹ تو آپ کو کرنی ہوگی۔۔۔اصولً تو آپ کو آپریشن سے پہلے کرنی تھی۔۔۔ایسے ہم آپ کو ڈیڈ باڈی نہیں دے سکتے۔۔۔یہ رول ہے میم۔۔”
نرس نے فیصلہ سنایا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
“تبھی اس کی نظر سامنے کھڑے ڈاکٹر حامد پر پڑی۔۔۔وہ لپک کر وہاں پہنچی۔۔۔
وہ کچھ لوگوں سے بات کرنے میں مصروف تھے۔۔۔
“سر۔۔۔ایکسکیوز می سر۔۔۔کیا میں دو منٹ بات کر سکتی ہوں آپ سے۔۔۔”
حریم نے گرتے آنسوں کے ساتھ کہا۔۔۔
“یس۔۔۔” وہ ان لوگوں سے ایکسکیوز کرتا حریم سے مخاطب ہوا۔۔۔
“سر وہ لوگ کہ رہے ہیں کہ میں آپی کو ساتھ نہیں لے جاسکتی۔۔۔سر مجھے صرف دو دن کی مہلت دے دیں میں پیمنٹ کردوں گی۔۔۔”
حریم نے منت کی۔۔۔
“دیکھیں پیمنٹ تو کرنی ہوگی۔۔۔یہ ہاسپیٹل کا رول ہے”
ڈاکٹر حامد نے تفصیل دی۔۔۔
“سر پلیز سر۔۔۔میرا اس دنیا میں آپی کے سوا کوئی نہیں۔۔۔میں انتظام کرلوں گی۔۔۔پلیز سر آپ کی بھی بیٹیاں ہوں گی۔۔۔میں بھی تو آپ کی بیٹی جیسی ہوں۔۔۔میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی ہوں۔۔۔”
حریم نے روتے روتے ہاتھ جوڑے۔۔۔
“نو۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔آپ میرے ساتھ آئیں۔۔۔”
ڈاکٹر حامد کو اس پر ترس آیا۔۔۔اور مدد کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔۔۔
تحریم آپی کی تدفین کے بعد وہ بلکل اکیلی ہوگئی تھی۔۔۔
پورا گھر سناٹے میں ڈوبا تھا۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔
تحریم آپی اس کے لیے سب کچھ تھی۔۔۔
ماں باپ کے بعد تو شاید وہ یتیم نہیں ہوئی تھی۔۔۔
مگر آج وہ سچ میں یتیم ہوگئی تھی۔۔۔
گھر میں ہر طرف اسے تحریم آپی کی خوشبو آرہی تھی۔۔۔
سر تھا کہ پھٹنے کو تیار تھا۔۔۔رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھی۔۔۔اب تو شاید اس میں رونے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔۔۔
“آپ مجھ سے پیار نہیں کرتی تھی آپی۔۔۔تبھی ملے بنا ہی چلی گئی۔۔۔آخری بار مجھے دیکھا تک نہیں۔۔۔”
وہ بھری آواز سے کہنے لگی۔۔۔
“مجھے معلوم ہے میری غلطی تھی۔۔۔تو کیا اتنی ناراض ہوگئی کہ ۔۔۔ایسے بنا بتائے منہ پھیر لیا۔۔۔آپ نے سوچا نہیں میں اکیلی کیسے رہوں گی۔۔۔؟”
وہ چھت کو گھورتی سوال کر رہی تھی۔۔۔
پانی گر گر کر اب آنکھوں میں جلن ہونے لگی تھی۔۔۔
مگر دکھ تھا ہی اتنا بڑا اسے صبر نہیں آرہا تھا۔۔۔
کچھ دن بعد وہ پیسے لے کر ہاسپیٹل پہنچی۔۔۔
ریسیپشن پر پتا لگا کہ پیمنٹ ہوچکی۔۔۔
“ڈاکٹر حامد نے آپ کا بل کلیئر کیا ہے۔۔۔”
ریسیپشن پر بیٹھی خاتون نے اطلاع دی۔۔۔
“کیا آپ بتا سکتی ہیں وہ کہاں ملیں گے ابھی۔۔۔؟”
حریم نے پوچھا۔۔۔
“یا۔۔۔میم۔۔.وہ آپ کو شاید نیورولوجی ڈپارٹمنٹ میں مل سکتے ہیں۔۔۔وہ نیورو سرجن ہیں۔۔۔تو موسٹلی۔۔۔وہیں ہوتے ہیں۔۔۔آپ چیک کرلیجیے”
خاتون نے ادبی طریقے سے بتایا۔۔اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔
تھینکس۔۔۔” وہ کہتی نیورو ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
سامنے ہی وہ کسی روم سے نکل رہے تھے۔۔۔کہ حریم کی ان پر نظر پڑی۔۔۔
“ایکسکیوز می سر۔۔۔” حریم نے پیچھے سے پکارا۔۔۔
وہ اس کی آواز پر پلٹے۔۔۔
“سر یہ۔۔۔آپ کے پیسے۔۔۔بہت شکریہ آپ نے اس دن میری ہیلپ کی۔۔۔”
حریم نے خوش اخلاقی سے کہا۔۔۔
“اوہ۔۔۔تو کیا نام بتایا تھا آپ نے اپنا۔۔؟” وہ۔۔الگ ہی سوال کر بیٹھے۔۔
“حریم۔۔۔” حریم نے مختصر کہا۔۔۔
“یا۔۔۔مس حریم۔۔۔پیسے کہاں سے لائی ہو۔۔۔؟”
ان کے سوال پر حریم نے چونک کر انہیں دیکھا۔۔۔
“آئی۔۔مین۔۔کہ کہاں سے انتظام کیا۔۔۔؟”
انہوں نے جانچتی نظروں سے پھر سوال کیا۔۔۔
“جی۔۔۔وہ گھر۔۔۔” وہ نظریں جھکائے کہتی کہتی رکی۔۔۔
“رہو گی کہاں۔۔۔اگر گھر ہی بیچ دو گی تو۔۔۔؟”
وہ پھر خاموش ہوگئی۔۔۔
کیوں کہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جائے گی اب۔۔۔
