Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 17)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 17)
Awaaz Ishq By Isra Rao
اس نے اسلام آباد جاتے ہی۔۔۔البم ڈراپ کردیا تھا۔۔۔جو خاصہ مشہور ہورہا تھا۔۔۔
مگر یہ البم اس نے عنایہ کے کہنے پر سائن کیا تھا۔۔
اور اب غصہ کو خاطر میں لاتے ہوئے اس نے نقصان کی پرواہ نا کرتے ہوئے نہ صرف ریکارڈنگ سے انکار کر دیا تھا۔۔۔بلکہ البم کو بیچ میں ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔۔۔
مزید کوئی اسے تنگ نا کرے یہ سوچ کر اس نے فون کو سوئچ آف کیا اور آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔۔۔
کافی دیر جاگتا رہا۔۔۔مگر نیند آنکھوں سے اوجھل تھی۔۔۔
شاید جن سے وہ محبت کرتا تھا ان رشتوں سے اسے امید تک وہ کام وہ کر گزرے۔۔۔…
وہ بچپن سے ہی ضدی۔۔۔سرکش۔۔۔اور من مانی کرنے والا تھا۔۔۔وہ چاہتا تھا سب اس کی مرضی کے مطابق ہو۔۔۔
اور جو مرضی کے خلاف ہوتا تھا۔۔۔وہ سہن نہیں کرپاتا تھا۔۔۔
مگر اس کے برعکس وہ دل کا بہت صاف تھا۔۔۔
شاید غصہ کرنے پر وہ خود بھی مجبور تھا۔۔۔
شام کو جب اس کی آنکھ کھلی۔۔۔تو وہ فریش ہوکر باہر آیا۔۔۔
“صاحب کوئی ملنے آیا ہے آپ سے”
نوکر نے اطلاع دی۔۔۔
“کون ہے؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں اسلام آباد میں کون اس سے ملنے آگیا جب کہ وہ کسی کو بتا کر بھی نہیں آیا تھا۔۔۔
“کوئی لڑکی ہے۔۔۔سارہ نام بتا رہی ہے”
اس جواب پر وہ پہچان گیا تھا۔۔۔
“انہیں کہو۔۔۔صاحب ملنا نہیں چاہتے۔۔۔وہ جا سکتی ہیں۔۔۔”
وہ بات مکمل کر دوبارہ روم میں چلا گیا۔۔۔۔
“حریم۔۔۔حریم۔۔۔” تحریم آپی آواز لگاتی چھت پر آئی۔۔جہاں وہ افسردہ سی بیٹھی۔۔۔ڈھلتے سورج کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
“یہاں کیا کر رہی ہے؟” تحریم آپی نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ایسے ہی ہوا کھانے۔۔۔” وہ جبراً مسکرائی۔۔۔
“اچھا۔۔۔خیر میں یہ بتا رہی تھی کہ میری دوست ہے نا عارفہ۔۔۔وہ اپنی گاڑی بیچنا چاہتی ہے۔۔۔تو میں سوچ رہی ہوں میں لے لوں۔۔۔ڈرائیونگ تو مجھے آتی ہی ہے۔۔۔
اوپر سے استعمال شدہ ہے تو کم قیمت میں مل جائے گی۔۔۔”
تحریم آپی نے مشورہ مانگتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“پیسے ہیں اتنے آپ کے پاس؟” وہ پوچھنے لگی۔۔
“ہاں۔۔۔اتنے تو ہیں۔۔۔تھوڑے بہت کم پڑے تو میں انتظام کرلوں گی۔۔۔تو فکر مت کر۔۔۔تجھے بھی سہولت ہوجائے گی۔۔۔کالج وغیرہ جانے کے لیے بس اور وین کے دھکے نہیں کھانے ہوں گے۔۔۔”
وہ اس کے گال سہلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“آپ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہیں نا۔۔۔مگر شاید میں اس پیار کے قابل نہیں ہوں۔۔۔مجھے پلیز معاف کردیں۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ ہی ان کے گلے لگ آنسوں بہانے لگی۔۔۔
جانے ایسا کیا تھا ان کے گلے لگ آج کب سے روکے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔
ایک وہی تو تھی جو بے غرض۔۔بے شمار محبت کرتی تھی اس سے۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک کسی چیز کی کمی محسوس تک نہیں ہونے دی۔۔۔
“کس بات کی معافی؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“ایسے ہی تنگ کرتی ہوں نا آپ کو بہت۔۔۔” وہ اپنی ہتھیلی سے آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔
“پاگل ہے۔۔۔تو تنگ نہیں کرتی۔۔۔تجھ میں تو جان بستی ہے میری۔۔۔ساری دنیا ایک طرف میری بہن ایک طرف”
وہ اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں سموئے پیار سے کہنے لگی۔۔۔
اور وہ اپنے سارے دکھ دردبھول ان کے پیار کو تولنے لگی ۔۔
“کل اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے ہمیں۔۔۔وہاں ہمیں انکل سے ملنا ہے۔۔۔کچھ دن کی ریہرسل کے بعد تمہاری ریکارڈنگ اسٹارٹ ہوجائےگی۔۔۔”
نیہا نے اسے بتایا۔۔۔
اور وہ مانوں خوشی سے جھوم اٹھا۔۔۔
اس کا برسوں کا سپنا پورا ہونے جارہا تھا۔۔۔
“تھینک یو نیہا۔۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ممکن تھا۔۔۔
تم نے میرا بہت ساتھ دیا۔۔۔تمہارا بڑا احسان ہے مجھ پر”
حنید نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
“یپار کو احسان کا نام مت دو” نیہا نے فوراً کہا۔۔۔
اور حنید نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کہ گئی تھی۔۔۔
“پیار؟” وہ چونکا۔۔۔
“ہاں۔۔۔کیوں۔۔۔تم کسی اور سے پیار کرتے ہو۔۔۔؟”
نیہا نے بتا جھجھکے پوچھا۔۔۔
تبھی سامنے سے چلتی ہوئی حریم آتی دکھائی دی اسے۔۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیےاٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“ایکسکیوز می۔۔۔” وہ کہ تحریم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
وہ ماریہ کے ساتھ ہاتھ میں بکس تھامے چلتی جارہی تھی۔۔۔
جب حنید سامنے آکر کھڑا ہوا۔۔۔
وہ اسے دیکھ رک گئی۔۔۔جانے کیا کشش تھی اس شخص۔۔۔دل کا کا غبار نکالنا بھی مشکل لگنے لگا۔۔۔
ناراض ہونا بھی دوبھر لگ رہا تھا۔۔۔
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے حریم۔۔۔اکیلے میں”
وہ حریم کو دیکھتے ہوئےسادہ سے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“حریم اٹس اوکے۔۔۔کل ملتے ہیں۔۔۔”
ماریہ نے ایکسکیوز کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔
“کہو..کیا کہنا ہے؟”حریم نے کہا۔۔۔
“حریم۔۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔مگر۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا۔۔۔
جتنا سکون اسے اس جملے نے دیا تھا۔۔۔اتنا ہی دکھ بھرا یہ “مگر” تھا۔۔۔جس کا مفہوم وہ جاننا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
مگر وہ خاموش اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔جو نظریں چرا رہا تھا۔۔۔
“مگر۔۔۔انسان کی زندگی میں کچھ خواہشات ایسی ہوتی ہیں جن کا گلا گھونٹ دینا ہی موقع کی نزاکت ہوتی ہے۔۔۔
انسان نہ چاہتے ہوئے بھی وہ فیصلہ کرتا ہے جس کا اسے پتا ہوتا ہے اسے تکلیف دے گا۔۔۔مگر بہتر مستقبل اور خوابوں کو پورا کرنے کے لیے۔۔۔بہت سی من چاہی چیزوں کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔۔۔”
وہ بولتا جارہا تھا۔۔۔
مگر وہ خاموش کھڑی اسےدیکھ رہی تھی۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے چپ کروادے۔۔۔
مگر وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔
“میں۔۔۔مجھے کچھ کام ہے حنید۔۔۔میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”
وہ بہانا بناتی جانے لگی۔۔۔
مگر حنید نے اس کا ہاتھ تھام اسے روکا۔۔۔
“حریم میں۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتا کہ حریم نے بات کاٹی۔۔۔
“بس بھی کرو حنید۔۔۔میں نے کہا نا مجھے کچھ کام ہے۔۔۔۔”
وہ بھری آواز میں کہنے لگی۔۔۔
آنسوں متواتر آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔
شاید اس کی بات سننے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔۔۔
“تمہیں میری بات سننی ہوگی حریم۔۔۔۔” وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں سموئے اس کا رخ اپنی طرف کرتا اس کی نم آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔
“مجھے نہیں سننی تمہاری کوئی بات۔۔۔حنید ۔۔۔دیکھو۔۔میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔”
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔۔مگر الفاظ زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔
وہ سرخ ہوتی ناک اور آنکھوں کو ہتھیلی کی پشت سے رگڑتی خود کو نارمل کرنے لگی۔۔۔
“میں تمہیں بتانے آیا ہوں کہ میں تمہارے ساتھ آگے نہیں چل سکتا ہوں۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں چلایا۔۔۔
جسے سن کر وہ ساکت ہوگئی۔۔۔
“تم بہت اچھی ہو۔۔۔میں برا ہوں۔۔۔لیکن میں کیا کروں میں مجبور ہوں۔۔۔ہوسکے تو مجھے معاف کردینا۔۔۔”
حنید نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔
اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور۔۔۔بنا کچھ سوچے سمجھے پوری قوت سے اس کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔۔
“یہ مجبوری محبت کرنے سے پہلے سے تھی نا۔۔۔تو کیوں کی محبت؟ کیوں مجھے یہاں تک لا کر تمہیں مجبوریاں یاد آئی۔۔ کیوں۔۔۔؟” وہ روتے ہوئے اس کا گریبان تھامے سوال کر رہی تھی۔۔۔
دو آنسوں تھے جو حنید کی آنکھ سے گرے۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔” وہ اس کے ہاتھوں کی گرفت سے خود کو آزاد کرواتا۔۔۔تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
اور بت بنی بھیگی پلکوں سے۔۔۔اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
ساری رات اس نے جاگ کر گزاری۔۔۔بنا آواز آنسوں بہاتی رہی تھی۔۔۔
وہ اپنا دکھ کسی کو بتا سکتی تھی۔۔۔کہتی بھی تو کیا۔۔۔جس سے اس قدر محبت کی اس نے جان چھڑوالی۔۔۔جو کل تک اس پر مرنے کا عویدار تھا۔۔۔آج اسی نے نظریں چرالی۔۔۔
حریم کا دل پھٹنے کو تیار تھا۔۔۔
مگر وہ اندھیرے میں بستر پر لیٹی آنسوں بتاتی رہی۔۔۔بیتے لمحوں کو یاد کرتی۔۔۔سسکتی رہی۔۔۔
کتنا مشکل ہوتا ہے نا۔۔۔بنا آواز رونا۔۔۔دنیا لٹ جانے کے بعد آنسوؤں کو چھپانا۔۔۔رات کی تاریکی میں ناکام محبت کو یا خود کو کوسنا۔۔۔اعتبار اور دل ٹوٹنے پر خود ہی خود کودلاسہ دینا۔۔۔
رات سے کب صبح ہوگئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
وہ اٹھی اور نماز پڑھ کر سیدھی کچن میں چلی گئی۔۔۔
ناشتہ تیار کرنے لگی۔۔۔۔
“ارے آج تو کمال ہوگیا۔۔۔تم کچن میں جلدی اٹھ کر ناشتہ تیار کر رہی ہو۔۔۔کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔۔”
تحریم آپی نے حیرانی سے کہا۔۔۔
اور بدلے میں حریم ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
“ہوگیا ہے تیار۔۔۔آپ تیاری کریں نکلنے کی۔۔۔”
وہ مصروف لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
“یہاں دیکھ۔۔۔تو روئی ہے؟” وہ اس کی سوجی آنکھوں کو نوٹس کرتی کہنے لگی۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں۔۔۔میں کیوں رونے لگی۔۔۔جس کی اتنی اچھی اور پیار کرنے وی آپی ہو۔۔۔وہ کیوں روئے بھلا۔۔۔وہ تو آنکھوں میں الرجی ہوگئی رات سے خارش ہے۔۔۔بس اسی لیے۔۔۔آپ لیٹ ہورہی ہیں۔۔۔”
وہ جیسے بہانا بناتی ٹوکنے لگی۔۔۔۔
“تجھے نہیں جانا آج کالج؟” وہ ناشتہ کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔
“نہیں۔۔۔آنکھوں میں تکلیف ہے آج نہیں جاؤں گی۔۔۔”
حریم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“چل ٹھیک ہے۔۔۔میں آجاؤں پھر ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔۔۔”
وہ بیگ اٹھاتی کہنے لگی۔۔۔
“اس کی ضرورت نہیں میں ٹھیک ہوجاؤں گی خود ہی”
وہ سادے سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
“ایسے کیسے۔۔۔تجھے تکلیف میں۔۔ میں دیکھ سکتی ہوں بھلا۔۔۔تیری ساری تکلیفیں میری۔۔۔بس تو ٹھیک رہے ۔۔۔ہنستی مسکراتی۔۔۔”
وہ اسے پیار کرتی کہنے لگی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔فکر نہیں کریں آپ۔۔۔جائیں۔۔۔”
حریم نے مسکرا کر کہا۔۔اور تحریم آپی خدا حافظ کہتی نکل گئی۔۔۔
کالج نا آنے وجہ پوچھنے۔۔۔ماریہ کالج سے سیدھی اس کے گھر گئی۔۔۔
ہر طرف خاموشی تھی۔۔۔
“حریم۔۔۔” ماریہ نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔۔۔۔۔۔
جواب نا پر وہ دروازہ کھول اندر داخل ہوئی۔۔۔
سامنے ہی اسے حریم دکھائی دی۔۔۔
جو کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔۔مطلب کہ تحریم آپی ابھی تک گھر نہیں آئی تھی۔۔۔اور گھر پر اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔
“حریم۔۔۔تم ٹھیک ہو؟”وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔۔
ماریہ نے اس کے شانے پر تسلی بخش ہاتھ رکھا۔۔۔
وہ جو زمین پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔۔
ماریہ کی آواز سنتے ہی جھٹ سے اس کے گلے لگ گئی۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
“حریم۔۔۔” ماریہ نے اسے چپ کروانا چاہا مگر اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔۔۔
“اس نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔ماریہ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
اس کا رونا دیکھ ماریہ کا دل پھٹنے لگا۔۔۔
وہ اپنی جان سے پیاری سہیلی کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
“حریم۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔میری طرف دیکھو۔۔۔کچھ نہیں ہوا ہے۔۔”
ماریہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں سمویا۔۔۔
“وہ تمہارے لائق ہی نہیں تھا۔۔۔تمہارے اندر کوئی کمی نہیں ہے۔۔اس کے جانے کا کیا غم جو تمہارا تھا ہی نہیں۔۔۔”
ماریہ نے اس کے آنسوں صاف کیے۔۔۔
“ماریہ وہ۔۔۔وہ کہتا تھا۔۔۔میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔چاہے جو بھی ہوجائے۔۔۔مگر اس نے چھوڑ دیا مجھے۔۔۔میں نے اسے نہیں چھوڑا۔۔اس نے ہی مجھے چھوڑ دیا۔۔۔”
اس نے بھری آواز میں کہا۔۔اور ماریہ کی آنکھوں میں تیزی سے نمی امڈ آئی۔۔۔
